working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دینی مدارس کا مسئلہ

خصوصی گوشہ ۔۔مدارس کا مسئلہ

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دینی مدارس کا مسئلہ

 

کب کیا ہوا ؟

16 دسمبر 2014ء ۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے حملے میں 145 افراد جن میں 132 طلباء بھی شامل تھے کو شہید کر دیا گیا۔

24دسمبر2014ء وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے سیاسی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد قوم سے خطاب میں 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان کا اعلان کیا،جس کا دسواں نکتہ تھا کہ دینی مدارس کو رجسٹر کر کے انھیں ضابطوں میں لایا جائے گا۔

30دسمبر2014ء ۔پانچوں سرکردہ مدارس کے بورڈ نے وفاقی وزیر تعلیم وعملی تربیت بلیغ الرحمٰن کے ساتھ ملاقات میں اس بات سے اتفاق کیا کہ و ہ اپنے نصابِ تعلیم کوعہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانے اور اصلاحات میں حکومتی کوششوں کا ساتھ دیں گے۔

3جنوری 2015ء 150وفاقی وزیر داخلہ چوپدری نثار نے عسکریت پسندی میں ملوث مدارس کے خلاف سخت ایکشن لینے کا عندیہ دیا۔

13جنوری2015ء۔وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت اعلی ٰ سطحی اجلاس،مدارس کی غیر ملکی فنڈنگ پر تحفظات کا اظہار۔

13جنوری2015ء 150وفاقی وزیر داخلہ کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں 160 سے زائد دینی مدارس غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے ہیں۔

14جنوری2015ء۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی سعودی سفارتی حکام کے ساتھ ملاقات مساجد اور مدرسوں کو سعودی عرب کے عوام کی جانب سے دیئے جانے والے عطیات کے معاملے پر تبادلہ خیال۔

28جنوری2015ء۔پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کو بتایا گیا کہ پاکستان بھر میں 80 مدارس کو بیرونی ممالک سے عطیات ملے جن کی مالیت 30 کروڑ روپے ہے۔

یکم فروری 2015ء۔وفاق المدارس نے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک مدارس کو رجسٹرڈ نہیں کرائیں گے جب تک وفاقی وزارتِ مذہبی امور ان کے تحفظات کو دور نہیں کرتی۔

13فروری2015ء 150وفاقی حکومت نے ایک حکم نامے کے تحت بیرونی ممالک کے طلباء کودینی مدارس میں داخلے سے روک دیا۔

14فروری2015ء۔دیو بندی مدارس کے بورڈ نے غیر ملکی طلباء کے داخلے پر حکومتی پابندی کو مسترد کر دیا۔

19فروری2015ء 150بلوچستان حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ صوبے میں 234مدارس ایسے ہیں جنہیں دیگر مسلم ممالک سے عطیات مل رہے ہیں۔

25فروری2015ء ۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ صوبے کے مدارس میں چار سو غیر ملکی طلباء ایسے ہیں جن کے پاس پاکستان میں تعلیم کے حصول کے لئے مطلوبہ دستاویزات نہیں ہیں۔

4 مارچ2015ء۔آئی جی پنجاب نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کی ایک خصوصی کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب کے 147مدارس کو دوسرے ممالک سے عطیات مل رہے ہیں۔

11مارچ 2015ء۔حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ وہ مدارس جو کہ پانچوں مدارس کے بورڈ میں رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے تحت رجسٹریشن کروائیں۔

12مارچ 2015ء۔پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں 11ہزار دینی مدارس کی جیو ٹیگنگ مکمل کر لی۔

22مارچ2015ء۔وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ دس فیصد مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

31مارچ2015ء پنجاب کے وزیر داخلہ نے بتایاکہ صوبے میں موجود 16ہزار سے زائد دینی مدارس میں سے 14500کو رجسٹرڈ کر لیا گیا ہے۔

13اپریل 2015ء ۔سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبے میں 83غیر رجسٹرڈ مدارس کو سیل کر دیا گیا ہے۔

8مئی2015ء ۔وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مدارس کو انگریز کا تحفہ اور جہالت کی یونیورسٹیاں قرار دیا۔

13مئی 2015ء ۔مفتی نعیم نے پرویز رشید کے بارے میں کہا کہ انھوں نے دین کا تمسخر اڑایا وہ دین اسلام سے خارج ہو چکے۔

17مئی2015ء ۔اتحاد تنظیم المدارس کے رہنماؤں کی وزیر داخلہ سے ملاقات میں مدارس کی رجسٹریشن کے موجود طریق کار پر اتفاق،تاہم مدارس میں اصلاحات کے لئے کمیٹی بنانے پر اتفاق، کمیٹی اپنی سفارشات وزارت مذہبی امور اور چاروں صوبائی حکومتوں کو دے گی۔

19مئی 2015۔وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے مدارس کے بیان پر معافی مانگ لی اور کہا کہ ان کے بیان کا غلط مطلب لیا گیا۔

26مئی2015ء ۔پنجاب میں عسکریت پسندی کے الزام پر 13 مدارس پر چھاپے،43مشتبہ افراد گرفتار۔

27مئی2015ء ۔وفاقی وزیرمذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرز پر اسلامک ایجوکیشن کمیشن بنایا جائے گا جو کہ مدارس کی ڈگریو ں کی تصدیق کرے گا۔

20جون2015ء ۔وزارتِ داخلہ نے اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شہر میں غیر قانونی مساجد و مدارس کو املاک پر قبضوں سے روکا جائے،انتظامیہ کے بقول شہر میں 492مساجد میں سے 233غیر قانونی ہیں جن کے ساتھ مدرسے بھی قائم ہیں۔

27جون 2015ء۔پاکستان پیس کولیکٹو کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ پاکستانی سالانہ 650 ارب روپے کے عطیات مساجد،مدارس،ہسپتالوں اور دیگر خیراتی اداروں کو دیتے ہیں۔

12جولائی 2015ء ۔سندھ اپیکس کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبے میں 40مدارس کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط ہیں جن میں سے 24 مدارس کراچی میں قائم ہیں۔

16جولائی2015ء ۔اخبار میں آیا کہ کراچی کے 579غیر رجسٹرڈ مدارس میں سے کسی ایک کو بھی ابھی تک بند نہیں کیا گیا۔

6اگست2015ء ۔پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے کئی مدارس پر چھاپے متعدد افراد گرفتار۔

9اگست2015ء ۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ 30 مدارس کو مشتبہ سرگرمیوں کی بنا ء پر بند کر دیا گیا ہے۔

14اگست2015ء ۔وزارتِ داخلہ نے مدارس کو نیا رجسٹریشن فارم دیاجس پر پانچوں مدارس کے بورڈ نے اتفاق کر لیا۔

25اگست 2015ء۔پنجاب کے وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے جن 20 مدارس کے ماضی میں عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطے تھے اب وہ رابطے نہیں رہے۔

26اگست2015ء ۔ حکومت کی جانب سے فاٹا میں قائم 703غیر رجسٹرڈ مدارس کو بلیک لسٹ کرنے کا عندیہ

28اگست2015ء ۔وفاق المدارس العربیہ کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ حکومتی ایجنسیاں صرف دیو بندی مدارس پر چھاپے مار رہی ہیں۔

7ستمبر 2015ء ۔وزیر اعظم نواز شریف سے پانچوں مدارس کے بورڈ کے رہنماؤں کی ملاقات،جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی موجود تھے،مدارس کی رجسٹریشن،اصلاحات اور سالانہ آڈٹ پر بھی اتفاق۔

19اکتوبر2015ء ۔پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کا 180 دینی مدارس کو مانیٹر کرنے کافیصلہ، لسٹ میں سب سے زیادہ مدارس کاتعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔

20اکتوبر 2015ء ۔ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی پابندیوں اور غیر معیاری تعلیم کی وجہ سے پاکستانی مدارس میں غیر ملکی طلباء کی تعداد میں 70 فیصد کمی ہو گئی ہے۔2005۔06ء میں غیر ملکی طلباء کی تعداد 10،117تھی جو کہ اب 2،673رہ گئی ہے۔اکثریت کا تعلق افغانستان سے ہے جن کی تعداد 1،273،دوسرے نمبر پر تھائی لینڈ کے 97،انڈونیشیاء کے 60،قزاقستان کے 44،فلپائن کے 32،کرغزستان کے 24،تاجکستان کے 16،ملائشیاء کے 13اور چین کے 12 طلبا ء شامل ہیں۔

12 نومبر2015ء ۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ملک بھر میں 102 مدارس کو انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی بنا پر بند کر دیا گیا ہے جن میں سے 87 کاتعلق سندھ،13 کا خیبر پی کے اور 2 کا پنجاب سے ہے۔

22نومبر2015ء ۔وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے کسی خاص مسلک کے ساتھ کوئی تفریق روا نہیں رکھی جا رہی۔

27نومبر2015ء ۔پنجاب میں مدارس کی درجہ بندی، 150 مدارس تحریک طالبان کے حامی، 60کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔

16دسمبر 2015ء ۔وزارت داخلہ کی جانب سے پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ 300 مدارس کو 10 ممالک سے امداد ملتی ہے جن میں سعودی عرب، قطر،عرب امارات، کویت، ایران، ترکی، امریکہ، برطانیہ اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ان مدارس میں 147 پنجاب، 95 گلگت بلتستان، 30 بلوچستان۔ 12 خیبر پی کے اور ایک سندھ میں ہے۔اکثریت کا تعلق دیو بندی مکتب فکر سے ہے۔

7جنوری 2016ء ۔قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں 180 مدارس کو بند کیا جا چکا ہے۔

15جنوری 2016ء ۔ پنجاب کے وزیر قانون نے کہا کہ پٹھان کوٹ واقعہ کے پیش نظر جیش محمد سے وابستہ مدارس کو بند کر دیا گیا ہے۔

18 جنوری2016ء ۔قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ عسکریت پسندوں سے رابطوں کے الزام میں پنجاب میں ایک،سندھ میں 167،خیبر پی کے میں 13 مدارس بند کر دیئے گئے۔پنجاب نے 13،782 مدارس کا ڈیٹا اکھٹا کر لیا جبکہ بلوچستان اور سندھ میں ابھی صرف 60 فیصد ڈیٹا اکھٹا کیا جا سکا ہے۔پنجاب میں بریلوی مکتب فکر کے مدارس کی تعداد 6،606جبکہ دیو بندی مدارس کی تعداد 6،106 ہے۔اہل تشیع کے 230اور اہلحدیث کے 840 مدارس ہیں۔

20جنوری2016ء ۔گلگت بلتستان کے 30 مدارس کے اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا گیا۔

24 فروری2016ء ۔قومی اسمبلی کو ایک بار پھر بتایا گیا کہ ملک بھر میں وہ مدارس جو کہ انتہا پسندی میں ملوث ہیں ان کی تعداد 254ہے۔۔پنجاب اور اسلام آباد میں مدارس کی جیو ٹیگنگ 100فیصد،سندھ میں 80 فیصد، خیبر پی کے میں 75فیصداور بلوچستان میں 60 فیصد مکمل کر لی گئی ہے۔ملک بھر میں دوسرے ممالک سے عطیات لینے والے مدارس کی تعداد 190ہے جن میں سے 147پنجاب، 30 بلوچستان اور سات خیبر پی کے اور سندھ میں ہیں۔

14مارچ2016ء ۔مدارس کی رجسٹریشن کا نیا فارم تیار کر لیا گیا،جس میں طلباء کی تعداد، اکاؤنٹس وغیر کی تفصیلات شامل ہیں۔نئے فارم پر اتحاد تنظیم المدارس کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔

16مارچ 2016ء 150وفاقی حکومت نے ملک بھر میں مدارس کی جیو میپنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جس میں ان کی تعداد،رجسٹریشن سمیت تمام ضروری معلومات دستیاب ہوں گی۔

18مارچ2016ء ۔وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات نے ایک پریس کانفرنس میں بتایاکہ ابھی تک صرف 634مدارس نے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ساتھ اپنا الحاق کیا ہے۔انھوں نے مدارس کی رجسٹریشن میں ایک سال کے لئے فیس کی معافی کا اعلان بھی کیا۔

20مارچ 2016ء ۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملک بھر میں 254 غیر رجسٹرڈ اور مشکوک مدارس کو بند کردیا گیا جبکہ بیرون ممالک سے فنڈنگ لینے والے 190مدارس کی فنڈنگ کی مانیٹرنگ کا کام ایف آئی اے کو سونپ دیا گیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ملک بھر میں مدارس کا ریکارڈ جمع کرنے کا کام پنجاب اور اسلام آباد میں مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ سندھ میں 80 فیصد‘ خیبرپختونخوا میں 75فیصد اور بلوچستان میں 60 فیصد مدارس کا ڈیٹا جمع کرنے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔

(ان معلومات کا ماخذ قومی اخبارات ہیں )

(ترتیب:سجاداظہر)