working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دینی مدارس کا مسئلہ

فکرونظر

اسلامی قانون میں ’سیاست‘ کا اصول

ڈاکٹر خالد مسعود

ڈاکٹر خالد مسعود کی بطور سکالر شہرت چہار دانگِ عالم میں ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔آپ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے ممبر بھی ہیں۔آپ نے کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔آپ اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل اور ہالینڈ میں لائیڈن کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف اسلام کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ کئی کتابوں کی مصنف ہیں۔ان کا یہ مضمون اپنے موضوع کی تمام تر نزاکتوں کو لئے ہوئے ہے۔ اس مقالے کا ابتدائی مسودہ ہالینڈ کی لائیڈن یونیورسٹی میں مشرق وسطی کے شعبہ میں ۶۲ مئی ۰۰۰۲ کومنعقد سالانہ کانفرنس میں کلیدی خطبہ کے طور پر پیش کیا گیا۔

اسلامی قانون پر حالیہ علمی تحقیقات میں’’سیاست‘‘ ( السیاسہ ) اور شریعت ( الشریعہ)(1)کو عام طور پر ایک دوسرے سے الگ اور باہم متضاد تصورات پر مبنی اصطلاحات بتایا جاتا ہے۔ مثلاً اس دوری کی وضاحت کرتے ہوے جوزف شاخٹ لکھتے ہیں کہ شریعت نظری ہے اور السیاسۃ عملی (2)۔اس طرز فکر سے مسلمانوں کی اکثریت بھی متفق نظر آتی ہے۔ شریعت کو نظری یا دینی اور سیاست کو عملی یا غیر دینی یا دنیاوی قوانین بیان کرتے ہوے ان کے درمیان جتنی دوری کا ذکر کیا جاتا ہے وہ حقیقت میں اتنی نہیں۔ اس طرز فکرنے جہاں اسلامی قانون کی تاریخ میں ابہام پیدا کردیا ہے اوریہ خیال عام ہو گیا ہے کہ اسلامی قانون کے تصور اور عمل میں بہت دوری پائی جاتی ہے وہاں مقصد شریعت سے توجہ بھی ہٹ گئی ہے۔ اس باب میں ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسلامی قانون میں شریعت اور سیاست دونو ں کا مقصد انسانی فلاح ہے۔ ان میں دوری اس نقطہ نظر سے پیدا ہوئی ہے جو دین اور دنیا میں تفریق کا قائل ہے اور انسانی فلاح کو مقصد شریعت نہیں سمجھتا۔ ہم نے اس باب کو دو حصوں میں تقسیم کیاہے۔ پہلے حصے میں ان ابہامات پر بحث کی گئی ہے جو اسلامی قانون کے حوالے سے السیاستہ کے اصول کا مطالعہ کرنے میں پیش آتے ہیں۔ دوسرے حصے میں اسلامی قانون میں السیاستہ کے اصول کی تشکیل کی تاریخ کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
ابہامات
اسلامی قانون کی تاریخ بہت وسیع او رگہرے مطالعے کی متقاضی ہے۔ اسے نظریے اور عمل کی تقسیم کے ذریعے آسان بنانے کی کوشش میں اسلامی قانون کے بہت سے اہم پہلووں کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے کہ شریعت کو قانون کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ اس طرح دونوں کی وقعت کم ہوگئی ہے۔ ہم اس ضمن میں پانچ نکات کی طرف توجہ چاہیں گے۔
اول تو نظریے اور عمل کی کی دوئی کا زاویہ نگاہ اسلامی قانون میں عدالتوں اور حکومت کے کردار کو اصول سے دور اور متضاد بتا تا ہے اور یوں اس قانون کے اطلاقی پہلو کی اہمیت کم کر دیتا ہے۔پھر یہ کہ ایک طرف تو اسلامی قانون کے لئے فقہی فروع اور فقہا کی لکھی کتابوں پر انحصاراور فقہی مذاہب کی تاریخ تک محدود کردیا گیا ہے اور دوسری جانب یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ اسلامی قانو ن یعنی فقہ صحیح معنوں میں قانون نہیں ہے۔ یہ محض فقہا کی تحریریں ہیں۔(3) ظاہر ہے اگر صحیح قانون بادشاہوں کے احکام اور عدالتی فیصلوں کا نام ہے تو انہی کا مطالعہ کرنا چاہیے لیکن انہیں شریعت سے دور سمجھ کرقابل مطالعہ نہیں سمجھا جاتا۔ اسلامی قانون کا مظہر اور مصدر صرف فقہ کی کتابوں کو سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی قانون کے اطلاقی پہلووں کی اہمیت کو اب جاکر محسوس کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اصول سیا ست کا مطالعہ ضروری ہو جاتا ہے۔ اسلامی قانون کے بارے میں تصنیفات اور تحقیقات میں اب فتاوی،(4) قضایا(5)اور اصول السیاستہ(6)کو بھی شامل کیا جانے لگا ہے۔تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ مطبوعات میں السیاستہ کے اصول کا مطالعہ اصول فقہ یا قانونی اصول کی بجائے سیاسی فلسفے یا سیاسیات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
دوم السیاسۃ اور شریعت کی دوئی کے تناظر میں صرف دو طرح کی عدالتوں کاحوالہ دیا جاتا ہے یعنی قاضی عدالتیں جو فقہ پر انحصار کرتی ہیں اور مظالم جو السیاستہ کے اصول کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔(7) قاضی عمومی عدالتیں ہیں اور مظالم خصوصی۔ حقیقت یہ ہے کہ اول توانصاف اور تنازعات کے حل کے لئے ان کے علاوہ بھی ادارے موجود تھے جنہیں قاضی کے اختیارات حاصل تھے، مثلاً حسبہ ( بازار میں ناپ تول اور معاشرے میں اخلاقی اقدار کی نگرانی کاادارہ)، احداث، شرطہ، کوتوال (پولیس ) اور دیوان (محصولات اور ٹیکس کی وصولی کے ادارے)۔ ان اداروں کی حیثیت عدالتوں کی تھی البتہ ان کے اختیارات، قانونی کاروائی کا طریق کار، گواہی اور ثبوت کے ضابطے مختلف تھے۔ ان کے علاوہ تنازعات کے فیصلوں کے لئے قبیلوں اور گاؤں میں الگ قسم کی عدالتیں اور پیشہ ورانہ ادارے تھے۔مغلیہ عہد میں دیہی آبادی پنچایت کے مقامی قوانین کے تحت انصاف حاصل کرتی تھی۔ اکثر اوقات گاؤں کا مکھیا ہی فیصلے کرتا تھا۔(8) بعض اوقات مسلمانوں کے جھگڑے بھی ہندو پنچ ہی کرتے تھے۔ جون سٹار نے عثمانی خلافت میں بھی ایسی ہی صورت حال کا تذکرہ کیا ہے۔(9)
یورگے فش کا کہنا ہے کہ ’’ غالباً ایسی اسلامی ریاست کبھی بھی نہیں رہی جو جرائم کے مقدمات کے فیصلوں میں صرف شریعت کی پابند ہو۔عدالتی طریق کار زیادہ تر دوسرے ایسے قوانین کا پابند تھا جو مقامی رسم و رواج پر مبنی تھے، یا حکمران کے فیصلے پر جاری ہوتے۔ عدالتیں حکومت کے جاری کردہ قوانین کی بھی پابندی کرتیں حالانکہ اصولی طورپر اسلامی فقہ حکومت کو قانون سازی کی اجازت نہیں دیتی۔(10)
یہاں یہ سوال بہت اہم ہے کہ فقہ کی متداول کتابوں میں سیاسی اور اقتصادی موضوعات کیوں شامل نہیں؟۔ ان قوانین پر فقہا نے الگ سے رسالے اور کتابچے تولکھے ہیں لیکن ان کو فقہ کا مستقل موضوع نہیں بنایا۔ ان الگ سے لکھی کتا بوں سے پتا چلتا ہے کہ اسلامی قانون ان مختلف اداروں پر کیسے نظر انداز ہوتا تھا اور ان اداروں کو اسلامی قانون سے کیسے مربوط رکھتا تھا۔ اس ارتباط میں السیاستہ کے اصول کا کردار بہت بنیادی تھا۔
سوم، اسلامی قانون میں نظریے اور عمل میں دوئی کے حوالے سے اکثر کہا جاتا ہے کہ فقہ انتہائی جامع اور تفصیلی قانون کی مثال ہے جس میں ہر طرح کے قوانین شامل ہیں۔ چنانچہ اسلامی قانون کے حد سے زیادہ جامع اورمکمل ہونے کی وجہ سے بھی اس پر پوری طرح عمل ممکن نہیں رہا۔ ہمارے خیال میں مغربی محققین نے ’’ جامع ‘‘ کی اصطلاح عبادات کے حوالے سے استعمال کی ہے۔ یہ منفی معنوں میں استعمال ہے کیونکہ ان کے لئے عبادت کو قانون میں شامل کرنا نا قابل فہم ہے۔تاہم اس منفی استعمال کی وجہ سے اسلامی قانون کی یہ تعریف ابہام کا سبب بن گئی۔
فقہ کے متعلق فقہا کا بھی یہی دعویٰ رہا کہ یہ تفصیلی علم ہے۔ لیکن در حقیقت جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا فقہ کی متداوّل کتابوں میں قانون کے بہت سے اہم موضوعات شامل نہیں۔مثلاً الامامہ یعنی حکمران، امام یا خلیفہ کا وجوب علم الکلام کا موضوع تھا۔ اس کی اہلیت، اس کے تقرر اور فرائض کی بحث فقہ کی کتابوں کی بجائے عقائد کی کتابوں میں ملتی ہے۔ فقہا نے ان مسائل پر لکھا بھی تو متداوّل کتابوں سے ہٹ کر الگ مستقل رسالوں کی شکل میں(11)۔ اسی طرح انتظامی اور اقتصادی قوانین پر بھی جو کتابیں لکھی گئیں وہ مروجہ فقہی متون کا حصہ نہیں تھیں(12)۔ اسلامی قانون پر جدید تحقیقات بھی اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ فقہ میں جرائم اور فوجداری قوانین (حدود) کا حصہ تفصیلی نہیں۔ جرائم کی فہرست نا مکمل اور سزاؤں کا ذکر بھی مجمل ہے۔ سزاؤں کی دو قسمیں بتائی گئی ہیں ایک حدود اور دوسری تعزیرات۔ صرف حدود کے جرائم اور سزاؤں پر بحث کی گئی ہے،تعزیرات پر نہیں۔ حدود کے حوالے سے بھی صرف ان چھ جرائم کو شامل کیا گیا ہے جن کی سزاؤں کا قرآن و سنت میں تعین ہے۔ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ جرم و سزا کو فقہ کی بجائے حکومت کا دائرہ کار سمجھتے ہوے قاضی اور حاکم کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا اور حدود کے علاوہ باقی تمام جرائم کے لئے تعزیرات کی اصطلاح استعمال کرتے ہوے اسے فقہ کے دائرہ کار سے باہر رکھا گیا۔ ایک لحاظ سے یہ شریعت اور سیاست میں تفریق سے بڑھ کر فقہا اور حکمرانوں کے درمیان اختیارات کی حد بندی تھی۔تعزیرات کی اصطلاح فقہ میں جرائم کی تفصیلات میں موجود خلا کو پر کرنے کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔
چہارم، السیاستہ اور شریعت میں تفریق کا ایک سبب اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ السیاستہ کے مقابلے میں شریعت کو غیر متبدل سمجھا جاتا ہے اور السیاستہ کے قوانین کو قابل تغیر اور لچک دار بتا یا جاتا ہے۔ در حقیقت شریعت اور السیاستہ دونوں مختلف قانونی اور سماجی اداروں سے جڑے رہے ہیں اور ایک دوسرے پر مسلسل اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ فقہ مقامی رسوم ورواج اور عرف سے کیسے باہم متاثر ہوے اس کی بہت واضح مثالیں نکاح ، طلاق وغیرہ ابواب میں ملتی ہیں۔ نفقہ، مہر، جہیز، ازدواجی گھر ( بیت اطاعت)، ازدوا جی حقوق اور فرائض، ازدوا جی جائداد، حضانت ( بچوں کی تحویل) وغیرہ مسائل میں مقامی رسوم و رواج فقہی قوانین کا حصہ بن گئے۔ کفو یعنی شادی کے وقت دلہا اور دلہن کی سماجی حیثیت میں برابری نکاح کے قانونی جواز کی شرط بنی تو یہ اصل میں اس بات کا ثبوت ہے کہ رسوم و رواج اور سماجی تحفظات اسلامی قانون پر بھی اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔
پنجم، السیاستہ کو شریعت سے الگ کرکے اکیلے فقہ کوشریعت قرار دینے سے اسلام میں قانون کے تصور کی وسعت محدود ہو جاتی ہے۔ یہ سوال کہ اچھا مسلمان کیسے زندگی گذارے ؟اسلامی تاریخ میں کئی جواب سامنے آئے۔ ان میں قانون کے علاوہ اخلاقیات، فلسفہ اور تصوف وغیرہ بہت سے زاویے تجویز کئے گئے۔ اسی طرح اس سوال کے کہ اچھی حکمرانی کیا ہے بہت سے جواب آئے۔ صرف سیاسہ ہی اس کا جواب نہیں رہا بلکہ السیاستہ کے بہت سے مفہوم پیش کئے گئے۔ فقہا کے علاوہ فلسفیوں، ادیبوں، اور نظم و نسق کے ماہرین نے السیاستہ پر اظہار خیال کیا ہے(13)۔فطری بات ہے کہ شریعت کی طرح السیاستہ کے بارے میں بھی متنوع آرا کا اظہار ملتا ہے۔
اب تک ہم نے جو گفتگو کی اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کہنا محل نظر ہے کہ اسلامی قانون کا تصور کچھ اور ہے اور عمل کچھ اور۔ اسلامی قانون کے نظری اور عملی پہلو میں تضاد کو اس کی بنیادی خصوصیت سمجھ کر کا مطالعہ کرنا متنازعہ طرز تحقیق ہے۔ اسلامی قانون کی صحیح فہم کے لئے عدالتی فیصلوں، شاہی فرامین کے علاوہ ان قانونی مباحث اور قانونی اصولوں اور تصورات کا مطالعہ بھی ضروری ہے جو فقہی متون کے علاوہ کتابوں میں موجود ہیں۔
فقہا اور دیگر مسلم دانشور ماضی میں بھی ان موضوعات پر باہم گفتگو کرتے رہے ہیں اس لئے ان تمام موضوعات کا مطالعہ بہت مفید ہو سکتا ہے۔یورگے فش استعماری دور میں جرائم کے قوانین کے تفصیلی مطالعہ کے بعد شاخٹ کے اسلامی قانون کے نظریے اور عمل میں تفاوت کے نتیجے سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ مذہبی قانون عملی قانون کا حصہ تھا(14)۔
اسلامی قانون میں اصول’’ السیاستہ‘‘
اسلامی علوم میں السیاستہ کے معانی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔عربی زبان کی لغات میں اس لفظ کے گھوڑے کے سدھانے سے لے کر جرم کی سزا تک متعدد معانی بیان کئے گئے ہیں(15)۔ اس پس منظر میں’’فن حکمرانی‘‘ یا ’’ ا صول حکمرانی‘‘ کے لئے السیاستہ کی اصطلاح بہت معنی خیز ہے، کیونکہ اسلامی فقہ میں حکمرانی کا تعلق عام طور پر ’سدھانے‘، ’تادیب‘ اور ’سزا‘ سے ہی بتا یا جاتا رہا۔ تاہم اسلامی سیاسی فکر میں اس کا مطلب بالعموم قانون اور فقہی احکام میں حکمران کی صوابدید کا اصول ہی سمجھا گیا (16)۔اسلامی کتب کے عمومی مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ السیاستہ کی اصطلاح زیادہ وسیع معنوں میں بھی استعمال ہوتی ہے:۔ سیاست کا مطلب عوامی مفاد کی حکمت عملی، بنیادی اصول اور ایسا جامع کلیہ ہے جس نے مسلم حکومتوں میں قوانین کی کثرت اور اختلاف میں ربط قائم رکھا۔ اس نے ان مختلف قوانین میں جو خلا تھے ان کو بھی پْر کیا اور ان کی ناہمواری، شدت اور بے ہنگم پن کو دور کرکے ایک نظام سے مربوط کیا۔
ہم اس نکتے کی مزید وضاحت کے لئے اسلامی قانون کی تاریخ پر جدید بحث کے حوالے سے السیاستہ کے اصول کے ارتقا کی تاریخ کا عمومی جائزہ پیش کریں گے۔ اس جائزے میں ایک بہت ہی اہم بات سامنے آتی ہے کہ تاریخ اسلامی میں اس اصول کا حوالہ عام طور سیاسی بحران کے موقعے پر سامنے آیا ہے۔
امام الشافعی (م 820 ): سیاست حکمران کی صوابدید ہے
السیاستہ کے اصول کی اہمیت آٹھویں صدی کے اواخر میں شروع ہوئی۔ غالباًً اس لئے کہ عباسی خلفا اپنے اموی پیش رووں سے امتیاز کے لئے خود کو اسلامی سیاست کے بانی بتانا چاہتے تھے۔ ابن سعد (م845)لکھتے ہیں کہ دوسرے عباسی خلیفہ منصور (754۔775) نے الموطا کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جو مالکی مذہب کے بانی امام مالک بن انس (م 796) کی تدوین تھی۔ اس عہد کی تاریخ اور سوانح کی اکثر کتابوں کے مطابق فقہا نے اس اقدام کی مخالفت کی(17)۔ کیا اس مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ فقہ یا شریعت دینی امور ہیں اور وہ حکمران کی مداخلت فی الدین کے خلاف تھے؟ یا اس لئے کہ فقہا قوانین میں کثرت کے قائل تھے؟ اس کے بارے میں اختلاف بعد میں سامنے آیا۔

شاخٹ نے منصور کی الموطا کو نافذ کرنے کی خواہش کے واقعے کو جھوٹ کہہ کر رد کردیا۔ تاہم اس نے یہ تسلیم کیا کہ عباسی خلافت کا ابتدائی دور ’’ دینی قانون کی تحسین اور ترویج کا عہد تھا‘‘ اور یہ کہ فقہا کی آرا میں بہت زیادہ اختلاف کی بنا پر’’ ان کو واقعی ’ ہموار راستے‘ (الموطا کے لغوی معنی) کی تلاش میں دلچسپی تھی ‘‘(18)۔ غالباًً دینی قانون کی بات مناسب نہیں لگتی۔ نہ تو خلیفہ کو اس میں دلچسپی تھی کہ فقہ کو خلافت کا قانون بنا ئے اور نہ ہی فقہی متوں اس ارادے سے لکھے جا رہے تھے کہ خلیفہ انہیں نافذ کرے گا۔ فقہا تو یہ کتا بیں قاضیوں کی مدد کے لئے لکھ رہے تھے کہ وہ انہیں ماخذ کے طور پر استعمال کریں۔ ان کے سرکاری نفاذ کا تصور ان کے ذہن میں نہیں تھا۔یہ قاضی کا اختیار تھا کہ وہ ان کتابوں میں درج آرا کو قبول کرے، ان میں سے بعض کو قبول کرے یا ان کی تنقیح کرے۔فقہی مذاہب میں اختلاف رائے ضرب المثل بن چکا تھا اور فقہی کتابیں ان کا اسی طرح تحفظ کرتی تھیں۔
خلیفہ منصور کے سیکرٹری ابن المقفع (م 756) نے بھی تجویز کیاتھا کہ خلافت میں یکساں قانون ہو۔ اسے قاضیوں کے فیصلوں میں اختلافات پر سخت تشویش تھی۔ اس کے خیال میں یہ اختلاف فتنہ اور انتشار کا باعث ہو رہا تھا۔ اس نے خلیفہ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں دخل دے کیونکہ امام کی حیثیت سے قانون سازی اس کی ذمہ داری تھی۔ابن المقفع کی عبارت میں السیاستہ سے مراد کامیاب حکمرانی تھا۔ اس نے یہ بھی تجویز دی کہ خلیفہ اپنی’ رائے‘ (صوابدید) سے کام لے۔ اس زمانے میں رائے انہی معنوں میں استعمال ہوتی تھی جو بعد میں اجتہاد کی تعریف بن گئے۔
ابن المقفع نے اپنے رسالے میں اس موقع پر دو انتہائی زاویہ ہائے نگاہ کا ذکر کیا ہے۔ایک یہ تھا کہ خلیفہ کا حکم خلاف شریعت بھی ہو تب بھی خلیفہ کی اطاعت فرض ہے۔ دوسرا یہ تھا کہ اگر خلیفہ کا حکم شریعت کے خلاف ہو تو اس کی اطاعت نہ کی جائے۔ ابن المقفع کا کہنا تھا کہ رائے پر عمل صرف اس صورت میں لازم ہے جب شریعت کی واضح نص موجود نہ ہو۔اختلاف کی صورت میں صرف امام کو رائے کا اختیار حاصل تھا(19)۔
اس بحث کو پورے طریقے سے سمجھنے کے لئے ہمیں ابن المقفع کے نقظہ نظر کا ابن قتیبہ (م889)کے مؤقف سے موازنہ کرنا چاہیے۔ ابن قتیبہ بھی ابن المقفع کی طرح غیر عرب تھا اور عباسی خلیفہ کا سیکرٹری تھا۔ البتہ ابن المقفع کے برعکس ابن قتیبہ رائے کا سخت مخالف اور حدیث کی تحریک میں پیش پیش تھا۔ ابن قتیبہ رائے کو اسلامی سیاست کے لئے خطرہ سمجھتا تھا۔ یہ عباسی خلفا پررائے کا اثر تھا کہ معتزلہ کو عروج ملا۔ مسلم متکلمین کے اس گروہ کے نزدیک اسلام کے بنیادی اصولوں میں توحید باری کے بعدعقل اور عدل کا درجہ تھا۔ حدیث کی تحریک معتزلہ کوعجمی ثقافت ( شعوبیت ، یا ثقافتی تعصب) کا حملہ قرار دے کر اس کی شدت سے مخالفت کرتی تھی۔اشعری متکلمین جو معتزلہ سے الگ ہونے کے بعد ان کے سخت مخالف تھے، زیادہ تر امام شافعی کے پیروکار فقہا اور حنبلی حدیث تحریک تینوں معتزلہ کیخلاف اکٹھے ہو گئے اوران کی متفقہ کوششوں کے نتیجے میں عقل اور رائے کی تحریک کا خاتمہ ہوگیا۔ ابن قتیبہ اس فتح کے علمبردار تھے۔ انہوں نے حدیث(20) کی حمایت اور شعوبیت (21)کے رد میں اور صدر اسلام کی سیاسی تاریخ(22) پر کتابیں لکھیں جن میں عجمی اثرات کی نشان دہی کی۔ اسی زمانے میں امام الشافعی نے فقہی علم الکلام پر کتابیں لکھیں جو بعد میں اصول فقہ کی حیثیت اختیار کر گئیں۔امام الشافعی نے یہ نظریہ پیش کیا کہ امت قرآن اور حکمت کی پابند ہے۔ حکمت سے ان کی مراد سنت نبوی (23)ہے۔ بقول ابن قیم امام الشافعی نے سیاست کے ایسے ہر تصور کو رد کر دیا جو قرآن اور سنت سے مطابقت نہ رکھتا ہو(24)۔ ابن قیم حنبلی فقیہ ہیں۔ ہم آگے بتائیں گے کہ اس نظریے پر حنبلی اور شافعی فقہا کے مابین کیسے بحث چلی۔
امام الشافعی کے اصول فقہ نے رائے کو صوابدید اور اور بے بنیاد خیال دونوں معنوں میں رد کر دیا۔ اس کی بجائے انہوں نے قیاس کا طریقہ اس صورت میں تجویز کیا جب صریح نص موجود نہ ہو تو اس طریق سے استنباط کیا جائے۔ کتاب الام میں امام نے فقہا میں اختلاف رائے پر شدید تنقید کی اور ثابت کیا کہ ان کی آرا سنت نبوی کی مخالف ہیں۔چنانچہ امام کے نزدیک ولی الامر خلیفہ کا حق اطاعت قیاس کی بنیاد پر اور بھی محدود ہو گیا۔ بالواسطہ انہوں نے فقہا کو اہل حل و عقد کا مقام دے دیا۔الشافعی نے امام کو ان مقدمات کے فیصلے سے بھی منع کردیا جو حقوق اللہ مثلاً زنا اور چوری سے تعلق رکھتے تھے۔ قطع الطریق یعنی ڈاکہ جس میں چوری اور قتل شامل ہوں خلیفہ کو صوابدید ی اختیار تھا کہ وہ قتل کے لئے موت کی سزا دے لیکن محض چوری کے مقدمے میں اسے مداخلت کا حق نہیں تھا(25)۔ فقہی قانون میں چوری حقوق اللہ اور قتل کا جرم حقوق العباد سے تعلق رکھتا ہے۔
یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ صدر اسلام میں فقہا میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے تعین میں بہت اختلاف تھا اور اس پہلو سے حکمران کی صوابدید کے بارے میں ان کی آرا بھی مختلف تھیں۔ اصول سیاست کی تشکیل میں اس اختلاف کا اثر بہت اہم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جوں جوں حکمرانوں کا سیاسی اقتدار زیادہ طاقت پکڑتا گیا فقہی کتابوں میں اس اصول میں فقہا کی نظر زیادہ دقیق ہوتی گئی۔
الماوردی (م 1058)، الغزالی (م1111 ) اور ابن عقیل (1119 ) :
سیاسہ عوام کی فلاح و مصلحہ کا نام ہے
دوسرا سیاسی بحران گیارہویں اور بارہویں صدی میں پیش آیا جب آل بویہ (945۔ 1053 ) اور سلجوقوں ( 1054۔ 1194 ) نے خلیفہ کے علاوہ سلطان کا منصب متعارف کرایا۔ اس دور میں صحیح معنوں میں اختیار اور اقتدار خلیفہ کی بجائے سلطان کے منصب سے وابستہ تھا۔ سلطان کا اقتدار مطلق طاقت پر مبنی تھا۔الماوردی اور الغزالی جیسے نامور شافعی فقہا نے اقتدار کی اس قسم کے لئے استیلاء اور قہر کی اصطلاح استعمال کی ہے اور اس کو سیاسی اقتدارکا جائز اصول بتایا ہے۔سلجوق سلاطین اسماعیلی فاطمی خلفا اور اثنا عشری آل بویہ سلاطین کے خلاف سنی مذاہب کی سرپرستی کرتے تھے اور امت مسلمہ کی وحدت کے داعی تھے اس لئے سنی فقہا کے لئے ان کی حمایت لازمی تھی۔ اختیار یا ا نتخاب کا اصول اب تک حصول اقتدار کا واحد ذریعہ مانا جاتا تھا اب فتنہ اور امت میں سیاسی انتشار کے خطرے کی وجہ سے اس کی جگہ نظریہ ضرورت اور مصلحت کے تحت استیلاء کے اصول نے لے لی۔
ابوالحسن علی الماوردی عباسی خلفا القادر باللہ (991۔1031 ) اور القائم باللہ ( 1031۔ 1074) کے عہد میں قاضی تھے۔ ان خلفا نے آل بویہ کی مخالفت میں جو شیعہ سلطان تھے سنی مذہب کی بحالی کی کوشش کی۔ دونوں خلفا نے الماوردی کو سفیر بنا کر سلجوق سلاطین کے پاس بھیجا تھا۔ الماوردی نے اپنی کتاب الاحکام السلطانیہ میں اسلامی قانون کی رو سے سیاسی اقتدار کے احکام بیان کئے۔اس کتاب میں اس دور کے انتظامی امور اور ریاستی قوانین کو فقہی احکام میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ کتاب ریاست کو مذہب کے دائرے میں لانے کی کوشش لگتی ہے۔ الماوردی السیاستہ کو امام کی ایسی ذمہ داری (وظیفہ) بیان کرتے ہیں جو اللہ نے اسے سونپا ہے(26)۔ امام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ نبی کا خلیفہ ہے اور دنیوی امور کا انتظام ( السیاستہ) اور دینی امور کی حفاظت اس کے فرائض میں شامل ہیں۔ اگرچہ دینی اور دنیوی دونوں امور امام کی ذمہ داری ہیں تاہم جہاں دنیوی امور میں اسے مکمل اختیار حاصل ہے دینی امور میں اس کا فریضہ فقط ان کی حفاظت یا زیادہ سے زیادہ ان کو موجودہ حالت میں برقرار رکھنا ہے۔ الماوردی امام کے فرائض بیان کرنے کے لئے دو اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں : سیاستہ الامہ اور حراستہ الملہ۔ امت سے مراد سیاسی اور دنیوی امور اور ملت سے مراد دینی اور مذہبی امور ہیں۔ فرائض کی نوعیت میں فرق کے لئے دنیوی امور کے لئے سیاست اور دینی امور کے لئے حفاظت کی اصطلاح استعمال کی ہے۔
اس فرق کے ڈانڈے امام شافعی کی اس بحث سے ملتے ہیں جو انہوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں فرق کے سیاسی مفہوم پر کی ہے۔ امام نے خلیفہ کو حقوق اللہ کے مقدمات میں قضا کی اجازت نہیں دی۔اس کے بر عکس الماوردی نے نہ صرف خلیفہ کو یہ مقدمات سننے کا اختیار دیا بلکہ ان امور میں قاضیوں کے اختیارات میں کمی بیشی کا حق بھی دیا۔ الما وردی کے نزدیک یہ صوابدیدی اختیار در اصل قوانین سیاست کا تقاضا تھا۔ ان کا تعلق لازمی طور پر امت کی حفاظت سے تھا جو امام کا بنیادی فریضہ ہے۔الماوردی نے عدالتی طریق کا ر میں بھی دو قسم کے ضابطوں میں فرق کیا۔ نظر القاضی عام مقدمات میں قانونی کا رروائی کاعدالتی طریق کار تھا اور نظر المظالم اس طریق کار کا نام تھا جو ریاست کے کارندوں کے خلاف شکایات کے مقدموں میں مروج تھا اس میں شہادتوں اور تفتیش میں اذیت جیسے غیر معمولی ذرائع جائز سمجھے جاتے تھے(27)۔
الغزالی کے ہاں السیاستہ عملی پہلو کا نام تھا۔ وہ السیاستہ کی تعریف میں مسلم فلاسفہ کی پیروی کرتے ہوے ارسطو کے سیاست کے تصور کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے بقول سیاست کا معنی اقتصادی وسائل اور ان پر تسلط کے حوالے سے سما ج کی تنظیم اور تعاون ہے(28)۔ الغزالی جانتے ہیں کہ سیاست کے مختلف میدان ہیں، ان میں علما اور فقہا حکمرانوں کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہ علما کی سیاست کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں (29)۔کہتے ہیں کہ یہ پہلے درجے کی سیاست نہیں لیکن یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو دین کے تکمیلی امور کا حصہ ہے(30)۔
مذکورہ بالا شافعی فقہا کی طرح حنبلی فقیہ ابن عقیل (م 1119) بھی اسلام کے قانون میں السیاستہ کے کردار کے قائل تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا آیا شریعت سے الگ رہ کر بھی سیاست ممکن ہے؟ وہ اپنے ہم عصر فقہا میں تین رجحانات کا ذکر کرتے ہیں۔ الہیات کے فلسفی (متکلمین فلاسفہ) ایسی صورت میں شریعت کی بجائے حکمت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ فطین اور ذہین لوگ (فقہا) عقل کو شریعت کے تابع رکھتے ہیں اور دنیوی امور میں حتی کہ ایسے مسائل میں بھی جہاں کوئی شرعی نص موجود نہ ہو عقل کو اختیار نہیں دیتے(31)۔ابن عقیل کہتے ہیں کہ حکمرانی کے امور میں سیاست شرعیہ کو ہمیشہ جواز حاصل ہے۔ سیاست شرعیہ سے مراد احتیاط اور اختیار ہے اور حکمران کو ان امور میں صوابدید کا اختیار لازمی ہے۔ امام شافعی کی اس رائے کے حوالے سے کہ السیاستہ کا اصول صرف اس صورت میں کار فرما ہوگا جب وہ شریعت کے مطابق ہو، ابن عقیل نے کہا کہ سیاست کا مقصد در حقیقت مفاد عامہ ہے۔ السیاستہ کا اصول اگرچہ بعینہ کسی قول رسول پر مبنی نہیں اور نص اور وحی کا حصہ بھی نہیں لیکن اس اصول نے عوام کو فساد اور انتشار سے محفوظ رکھا ہے۔ ابن عقیل کا استدلال تھا کہ امام شافعی کی یہ بات بالکل درست ہے کہ سیاست کو شریعت کے مطابق ہونا لازم ہے کیونکہ ان کی مراد یہ تھی کہ یہ شریعت کے احکام کے متجاد نہ ہو۔لیکن اس سے یہ مراد لینا غلط ہو گا کہ سیاست کا شریعت کے صریح احکام کے مطابق ہونا لازمی ہے۔ اس طرح صحابہ کرام کا عمومی عمل غلط قرار پائے گا۔خلفائے راشدین نے قتل اور نیابت کے مقدمات میں جہاں صریح سنت رسول موجود نہ تھی اپنی صوابدید سے فیصلے کئے۔ ماہرین حدیث اور سنت نے بھی خلفا کے ان فیصلوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا(32)۔حضرت عثمانؓ نے قرآن کریم کا ایک سرکاری نسخہ مرتب کیا اور حکم دیا کہ باقی سب نسخے جلا دئے جائیں۔ سنت نبوی میں ایسا کوئی حکم یا نظیر موجود نہیں تھی جس سے مصحف کو جلانے کا جواز نکلتا لیکن تمام صحابہ نے خلیفہ کی تائید کی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ اقدام امت کے بہترین مفاد میں تھا(33)۔الماوردی نے سیاست کو مصلحت سے وابستہ کر کے بعد کے فقہا کے لئے راہ ہموار کردی اور اس طرح سیا ست شریعت کا حصہ بن گئی۔
ابن تیمیہ (م 1328) اور ابن قیم (م 1350 ): سیاست ایک نظام ہے
تیسرا بحران اس وقت درپیش ہوا جب منگولوں کے حملوں سے اسلامی سیاسی نظام اور معاشرت تباہ ہو کر رہ گئی۔ اس عہد کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ اس عہد کے حکمرانی کے مسائل میں امن و امان سب سے بنیادی سوال تھا۔ اس دور کے نامور مورخ اور سیاستدان ابن الطقطقہ (م 1626) نے ریاستی امور اور تاریخ کے بارے لکھی اپنی کتاب میں سیاست کی یوں تشریح کی ہے کہ ’’ سیاست بادشاہ کا سب سے اہم وسیلہ ہے جس کی مدد سے وہ فتنہ و فساد روکتا ہے، لوگوں کی عزت و آبرو کو بچاتا ہے، برائیوں کا سد باب کرتا ہے، مجرموں کی سرکوبی کرتا ہے اور ایسی بد اعمالیوں کو روک تھام کرتا ہے جو بغاوت اور فساد کا پیش خیمہ بنتی ہیں(34)۔
مصر کے مالکی فقیہ شہاب الدین القرافی (م1258) بھی اپنی کتاب الاحکام فی التمییز الفتاوی عن الاحکام و تصرفات القاضی والامام (35)میں اس بات پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ قاضی، امام اور مفتی کے مناصب، فرائض اور دائرہ کار میں فرق قائم رکھنا ضروری ہے۔ ان کے دائرہ کار میں تمیز کے لئے وہ دینی اور قانونی امور میں فرق قائم کرتے ہیں اور اس کی بنیاد یہ سوال ہے کہ کون سے امور عدالت کے اختیار میں آتے ہیں۔ فتوی (مفتی کی رائے) اور حکم (قاضی کا فیصلہ) دونوں اطاعت لزومی کے متقاضی ہیں لیکن مختلف معنوں میں۔قرافی کے نزدیک عدالت اور قانون کا دائرہ کار دنیوی امور تک محدود ہے۔ عبادات اور ایسے معاملات جن پر اجماع ہے ان میں قاضی اور امام کو صوابدید ی فیصلے کا اختیار نہیں۔ امام کو صرف ان امور میں اختیار ہے جن میں فقہا میں اختلاف رائے پایا جائے اور اتفاق رائے موجود نہ ہو۔ قاضی امام کو جوابدہ ہے (36)لیکن مفتی صرف خدا کو جوابدہ ہے۔اس طرح قرافی نے حکمران کو قاضیوں میں اختلاف رائے روکنے کا تو اختیار دیا لیکن مفتی کے مقابلے میں قاضی کے اختیارات کو کم کر کے قاضی کے دائرہ کار کو بھی محدود کر دیا۔
حنبلی فقیہ ابن تیمیہ نے سیاست کو نظم و ضبط کا معاملہ بتا کر اس پر بحث کا دروازہ پھر سے کھول دیا۔ ان کو یقین تھا کہ یہ نظم و ضبط سیاست اور شریعت کے امتزاج سے زیادہ بہتر طریقے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ ابن تیمیہ نے السیاستہ الشرعیہ کی تشکیل نو کی۔ اس کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے اس کا تاریخی پس منظر یعنی ابن تیمیہ کے عہد کی سیاسی سماجی صورت حال کا مطالعہ بہت ضروری ہے جو ان کے فتاوی میں بہت واضح طور پر جھلکتا ہے۔
اس زمانے کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ ایسے مفسدین کو کیا سزا دی جائے جوامن عامہ کو تباہ کرنے کے مرتکب تو ہوئے لیکن انہوں نے کسی کو قتل نہیں کیا۔ ایسے واقعات میں فقہا کی رائے میں موت کی سزا صرف قتل کے ارتکاب کی صورت میں دی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب ابن تیمیہ کی رائے میں حکمران کوفساد کے دوران اعونہ (جرم میں شریک)، ظلمہ (بد عنوان)، سعاۃ (سازش، افواہیں پھیلا نے والوں ) کو موت کی سزا دینے کا اختیار حاصل تھا۔ کیونکہ یہ سب لوگ امن و امان خراب کرنے ( فساد فی الارض ) کی کوشش میں فتنہ پردازی اور سازشوں میں شامل تھے۔ابن تیمیہ کا اصرار تھا کہ سیاست شریعت کے تابع ہونا چاہئے۔ ان کی رائے میں ریاست کا قیام دین کا تقاضا ہے کیونکہ جہاد، حج، جمعہ، عیدین اور حدود کے نفاذکے لئے ریاست کی قوت درکار ہے۔ ریاست کے اختیار کے بغیر عدل و انصاف کا قیام ممکن نہیں(38)۔ ان کے نزدیک ریاست اور شریعت میں تفریق ممکن نہیں کیونکہ ان دونوں کے بغیر لوگوں کے حالات بہتر نہیں ہوسکتے(39)۔
یہ بات قابل غور ہے کہ دوسرے فقہا کے مقابلے میں کہ ا بن تیمیہ کی السیاستہ الشرعیہ میں حکمران کو زیادہ اختیارات دئے گئے ہیں۔ ابن تیمیہ انصاف اور شریعت پر مبنی سیاست میں حکمران کو شریعت کی مقرر کردہ سزاؤں کے علاوہ زیادہ وسیع اختیارات دینے کے قائل تھے۔ انہوں نے بہت وضاحت سے لکھا کہ ’’ اگر کوئی سزا شریعت نے مقرر نہ کی ہو حکمران اسے تعزیر کے ظور پر دے سکتا ہے۔ ایسے امور میں حکمران کو اجتہاد کا حق ہے۔ مثال کے طور پرحکمران قرض نا دہندہ کو قید کی سزا دے سکتا ہے او جب تک وہ قرض ادا نہ کرے اسے بدنی سزا کا حکم دے سکتا ہے(40)۔
باغیوں اور دہشت گردوں (قطاع الطریق ) کے بارے میں شافعی، حنبلی اور حنفی فقہا کی رائے میں اگر باغیوں نے قتل اور ڈاکہ ڈالنے کے جرائم کا ارتکاب بھی کیا ہو تو انہیں سولی کی سزا دی جاسکتی ہے۔اگر قتل کیا لیکن ڈاکہ نہیں ڈالا تو ان فقہا کے نزدیک موت کی سزا دی جائے۔ اگر قتل نہیں کیا صرف ڈاکہ ڈالا اور قتل نہیں کیا تو ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالنے کی سزا اور اگرنہ قتل کیا اور نہ ڈاکہ ڈالا، صرف خوف اور ہراس پھیلایا تو جلا وطنی کی سزا دی جائے گی۔ ابن تیمیہ نے فقہا کی ان آرا میں یہ اضافہ کیا کہ اس معاملے میں حکمران کو اجتہاد کا حق ہے۔حکمران مصلحہ عامہ کی رو سے کسی مجرم کو جس نے قتل نہ بھی کیا ہو موت کی سزا بھی دے سکتا ہے(41)۔
ایسے جرائم کی صورت میں جہاں سزا مقرر نہ ہو وہاں حکمران تعزیر، تادیب اور حفظ ما تقدم کے اصولوں کے تحت سزائیں دے سکتا ہے۔بار بار جرم کرنے پر حکمران سزا کی نوعیت میں اضافہ کر سکتا ہے(42)۔ فقہا کی اکثریت ایسے حکمران کے اجتہاد کے حق کی قائل نہیں جو قرآن اور سنت کا علم نہ رکھتا ہو۔ ان کے برعکس ابن تیمیہ کے نزدیک حکمران کے لئے قرآن اور سنت کا علم لازمی تھا۔تاہم اگر حکمران کے پاس مطالعے کا وقت نہ ہو یا اس میں اس کی اہلیت نہ ہو تو اس کے لئے لازمی ہے کہ وہ ایسے اشخاص پر انحصار کرے جن کے علم اور تقوی ٰپر اسے اعتماد ہو(43)۔ ابن تیمیہ مختلف عدالتوں کے اختیارات میں فرق کو نہیں مانتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا آیا کہ مجرم کو بدنی سزا ( السیاستہ) یا قید کی سزا دینا شریعت کے مطابق ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ عدالتوں میں قاضیوں کے اختیارات میں اختلاف سے جرائم کی نوعیت اور مقدمات پر اثر نہیں پڑتا۔قاضی ، والی احداث، اور والی مظالم صرف مختلف اصطلاحیں ہیں(44)۔السیاستہ الشرعیہ کے اصول کی بنیاد پر ابن تیمیہ حکمران کے لئے سیاست کے حق کے جواز میں اپنے پیش رو دوسرے فقہا سے آگے بڑھ گئے۔ ابن تیمیہ کی رائے میں حکمران کو یہ صوابدیدی اختیار تھا کہ شاتم رسول کو ( نبیﷺکی توہین ) انتہائی یعنی موت کی سزا دے۔ یہ سزا سیاست کے اصول کے تحت قتل کا فیصلہ کہلائی(45)۔
ابن قیم نے اکثر معاملات میں ابن تیمیہ کی تائید کی ہے لیکن جہاں تک ابن عقیل کی آرا کی بات ہے انہوں نے کوشش کی کہ ابن عقیل اور ابن تیمیہ کی آرا میں متفق نکات تلاش کریں۔ابن قیم ابن عقیل کی اس رائے سے متفق تھے کہ سیاست شریعت کی پابند نہ ہو۔ ان کا استدلال تھا کہ سیاست عادلانہ بھی ہو سکتی ہے اور غیر عادل بھی(46)۔ سیاست کے معاملے میں ریاستی امور میں شریعت کے دائرہ کار کے حوالے سے حکمرانو ں نے کبھی افراط اور کبھی تفریط سے کام لیا ہے۔ کبھی انہوں نے شرعی سزاؤں کو محدود کیا (47)جس کی وجہ سے شریعت کے معنوں میں اور ان کے عملی نفاذ کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ جب حکمرانوں نے دیکھا کہ شریعت کے عوامی مفہوم میں کچھ اضافہ کئے بغیر ان کا نفاذ ممکن نہیں تو انہوں نے مفاد عامہ کی حفاظت کے لئے السیاستہ کے نام سے قوانین بنائے لیکن اس کے برے نتائج ہی نکلے(48)۔ ابن تیمیہ سے اتفاق کرتے ہوے ابن قیم کہتے ہیں کہ سیاست عادلہ شریعت کی تکمیل کے لئے ہے بلکہ یہ شریعت ہی ہے۔ یہ صرف اصطلاحات کا فرق ہے۔ ابن قیم کے استدلال سے حکمران عدل اور شریعت کے نام پر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کر سکتا تھا۔ اس سے حقوق اللہ ، حقوق العباد اور حکمرانوں کے اختیارات کے تعین کا تصور متاثر ہوا۔
ابن نجیم (م ۲۶۵۱): سیاست توازن کا نام ہے
بحران کا چوتھا دور سلطنتو ں یا شہنشا ہیت کا دور تھا۔ ان سلطنتوں کے نظام میں حکمران پچھلے ادوار کے سلطانو ں اور خلفا سے زیادہ اختیارات کے مالک تھے۔ سلطنتوں کے حکمران اپنے احکام جاری کرتے تھے، جنہیں سلطنت عثمانیہ میں قانون اور مغلیہ سلطنت میں آئین اور فرمان کہا جاتا تھا۔ یہ شریعت سے الگ اور بعض اوقات اس کے متضاد ہوتے تھے۔ فقہ احوال شخصیہ یا مذہبی امور تک محدود ہو گئی۔ جرائم اور تعزیر، دربار یا حکمران اور اس کے خاندان اور مقربین کے ضوابط، اقتصادی امور اور انتطامی معاملات اور عدالتی امور شاہی قانون یا آئین کے دائرہ کار میں آتے تھے ۔ ان قوانین اور شریعت میں فرق رکھنے کے لئے انہیں عرف یا سیاست کہا جاتا۔ اس دور میں سیاست کا معنی سرکاری حکمت عملی ہو گیا جس کا مقصد مختلف قانونی نظامات اور حکمرانی کے اختیارات میں توازن رکھنا تھا۔
تقی الدین المقریزی (م1441 (کے نزدیک سیاست کے اس نئے مفہوم کے ڈانڈے یاسا کے نا م اور عرف سے ملتے تھے جو منگولوں نے متعارف کرایا(50)۔ ’ السیاستہ کے ضوابط‘ کے نام سے ایک باب میں المقریزی وضاحت کرتے ہیں کہ مصر میں ترکوں کی حکومت قائم ہو جانے کے بعد دو قسم کے قانون رائج ہو گئے تھے: شریعہ اور قانون۔ شریعہ کے تحت مذہبی امور مثلاً نماز، حج، ر وزے اور دیگر عبادات وغیرہ کے قوانین اور سیاست کے تحت مفاد عامہ کے امور، اور مال اور جائداد سے متعلق امور آتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں مقریزی کے بقول قانون السیاستہ کا حصہ بن گیا۔المقریزی کا کہنا ہے کہ منگولوں نے اپنے رواجات (یاسا ) مصر اور شام میں رائج کر دیئے۔ مملوک سلطنت میں ۵۴۳۱ میں قاضی القضا? کے متوازی حاجب کا عہدہ قائم کیا گیا۔قاضی کے اختیارات کا دائرہ کار میاں بیوی کے درمیان تنازعہ اور اوقاف کی جائداد جیسے شخصی اور مذہبی امور تک محدود کردیا گیا۔ حاجب لین دین کے جھگڑے، ٹیکس اور دیگر متعلقہ امور نبٹاتا۔ بازار میں تاجروں کے تنازعات جو اس وقت تک قاضی کے دائرہ اختیار میں تھے حاجب کو منتقل کردئے گئے۔ المقریزی اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ تاجروں نے قاضی القضا? جمال الدین عبداللہ ترکمانی کے خلاف سلطان کو شکایت کی تھی کہ وہ رشوت لے کر فیصلے کرتا ہے۔ چنانچہ سلطان نے یہ امور بھی حاجب کے دائرہ کار میں شامل کر د یئے۔
مغل ہندوستان میں بھی قاضی کے متوازی میر عدل کا منصب متعارف کرایا گیا۔مغل بادشاہوں کو یہ احساس تھا کہ فقہا میں کم و بیش ہر قانونی مسئلے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔سلطنت میں قانون کی یکسانی کے لئے قانونی اختیارات شہنشاہ کے پاس ہونا چاہئیں۔شہنشاہ اکبر ( 1556۔ 1605 ) نے اپنے دربار کے علما سے ایک محضر تیا ر کرنے کو کہا کہ بادشاہ کو اسلامی قانون کی ترویج میں صوابدید کا اختیار ہونا چاہئے۔ علما کی مخالفت کی وجہ سے اکبر کامیاب نہ ہو سکا(51)۔ بعد میں اورنگ زیب عالمگیر (1618۔ 1707 ) نے حنفی فقہ میں اختلاف رائے کے قانونی مسئلے کو حل کرنے کے لئے فتاویٰ عالمگیری مرتب کروائی۔ ہم اس پر بعد میں بات کریں گے۔ ہم المقریز ی نے السیاستہ کے نظریے کا جو تجزیہ کیا اس پر بات مکمل کر لیں۔
المقریزی السیاستہ کا معنی بیان کرتے ہوے کہتے ہیں: ’’ عربی زبان میں السیاستہ کے لفظ کا مادہ س۔ی۔س ہے جس کے لغوی معنی کسی چیز کی فطرت اور مزاج یا اس کانظم و نسق قائم کرنا۔ اصطلاح کے طور پر السیاستہ کا مطلب ہے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اس راستے کی طرف ان کی راہنمائی کرنا جس پرچلتے ہوئے وہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ نبی کریم ﷺکی سیاست ہر اعلیٰ اور ادنی ٰشخص کے لئے تھی اور دین اور دنیا دونوں کی بھلائی اس کا مقصود تھی۔ حکمرانوں اور علماکی سیاست کے دائرہ کار مختلف ہیں۔حکمران کی سیاست کا مقصودہر شخص کی دنیوی بھلائی اور علما کی سیاست کا مقصد صرف دینی امور میں بھلائی ہے۔ لیکن اس میں ہر شخص کی بھلائی شامل نہیں‘ ‘(52)۔ اس کے بعد وہ سیاست کی مختلف قسموں کا تجزیہ کرنے کے بعد اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ سیاست ظالم بھی ہو سکتی ہے لیکن یہ وضاحت کرتے ہیں ظالم سیاست ہمیشہ شریعت کے متضاد ہوتی ہے(53)۔
المقریزی کی اس رائے سے اختلاف ہو سکتا ہے کہ سیاست کا لفظ اور اصطلاح کا تعلق یاسا سے ہے لیکن انہوں نے اس اصطلاح کی جو تعریف کی ہے اور اس کا جو تجزیہ ہیش کیا ہے اس نے فقہی سوچ پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ بعد کے اکثر لغت نویس اور فقہا المقریزی کی عبارت ہی نقل کرتے ہیں۔بسا اوقات وہ ان کا نام بھی نہیں لیتے(54)۔
ابن نجیم (م1526 ) سلطنت عثما نیہ میں مصر کے حنفی فقیہ تھے۔ انہوں نے المقریزی کی عبارات من و عن نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ السیاستہ کی اصطلاح کی تعریف حنفی فقہ کی کتابوں میں نہیں ملتی(55)۔ ان کی رائے میں یہ بات واضح ہے کہ فقہا کی نظر میں السیاستہ ایسا اقدام ہے جو حکمران مفاد عامہ کی بنیاد پر اٹھائے اور جس کی تائید میں وہ کوئی نص پیش نہ کرسکے(56)۔ ابن نجیم نے حدود کے بعض مسائل کی بحث میں یہی استدلال پیش کیا ہے۔

فقہی کتب میں قتل اور زخم کو عام طور پر قصاص کے جرائم کے طور پر حقوق العباد میں شمار کیا جاتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ یہ مقتول کے اولیا کا حق ہے کہ وہ مجرم کو سزا دیں، دیت لینے پر رضامند ہو جائیں یا مجرم کو معاف کر دیں۔ ابن نجیم کی رائے میں قتل قصاص اور حد دونوں زمروں میں شمار ہونا چاہیئے۔ ابن نجیم کا فتوی تھا کہ کسی معصوم شخص کے قتل کی صورت میں اگر مقتول کے اولیا قاتل کو معاف کردیں تب بھی حکمران کو صوابدیدی اختیار تھا کہ قاتل کو موت کی سزا دے۔ یہ سزا حد کے طور پر دی جائے گی(57)۔ وہ اس ضمن میں اپنے سے پہلے کے حنفی فقہا کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔ مثلاً اگر ایک شخص تلوار لہرا کر بار بار لوگوں میں دہشت پھیلاتا ہے تو نسفی ( م1310) کی رائے میں حکمران اسے موت کی سزا دے سکتا ہے۔ ملا مسکین ہروی (م 1408 ) وضاحت کرتے ہیں کہ چونکہ یہ شخص امن عامہ کو خراب کرنے کا مرتکب ہوا ہے اس کی برائی موت کی سزا سے ہی ختم ہو سکتی ہے۔ابن نجیم اس بحث کا خلاصہ بیان کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ ان غیر معمولی اقدا مات کو السیاستہ کے اصول کی تائید حاصل ہے۔ یہی اصول اس طرح کے باقی جرائم پر بھی لاگو ہو سکتا ہے(58)۔
ابن نجیم زنا کے جرم میں بھی السیاستہ کے اصول کا یہی کردار بتاتے ہیں۔ اصولی طور پرحنفی فقہ میں اس جرم کی سزا سو کوڑے اور سنگساری سے موت ہے۔ ابن نجیم لکھتے ہیں کہ بعد کے فقہا کی نظر میں حکمران کو یہ اختیارہے کہ بعض استثنائی صورتوں میں مفاد عامہ کے تحت وہ مجرم کو جلا وطنی کی سزا دے۔ یہ اختیار تعزیر اور السیاستہ کے اصول پر مبنی تھا۔وہ یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ یہ اختیار صرف حکمران کو حاصل ہے۔ وہ بعد کے دور کے حنفی فقیہ صغناقی (م 1300) کا جنہوں نے المرغینانی (م 1197) کی الھدایہ پر شرح لکھی یہ قول نقل کرتے ہیں کہ جلاوطنی کی بجائے قید کی سزا زیادہ مناسب ہے۔ ابن نجیم کی رائے میں مفاد عامہ کے تحت حکمران کے اقدام کے لئے فقہا السیاستہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں(59)۔
مغلیہ عہد کے بر صغیر میں شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر (1618۔1707 ) کی سرپرستی میں حنفی فقہ کا ایک مجموعہ تیار ہوا جو فتاویٰ ہندیہ یا فتاوی عالمگیری کے نام سے معروف ہے۔ اس مجموعے کے جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے دو مقاصد تھے۔ ایک تو یہ مجموعہ مفتی اور قاضی حضرات کے لئے تدوین کیا گیا تھا۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ حنفی مذہب کے فقہا میں اختلاف رائے کو کسی ضابطے کا پابند کیاجائے۔ اس مجموعے میں حنفی فقہا کے مشہور اور بہتر اقوال جمع کئے گئے اور بادشاہ کی سربراہی میں قائم فقہا کی مجلس نے ان کی توثیق کی۔واضح رہے کہ اس پر آج کی اصطلاح سلطنت کے قوانین کا ضابطہ یا کوڈ کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے ایک اور مقالے میں تفصیلی وضاحت پیش کی ہے کہ مختلف جرائم کے بارے میں شہنشاہ عالمگیر نے جو فرامین جاری کئے ان میں فتاویٰ عالمگیری کی عبارات سے مطابقت نہیں پائی جاتی(60)۔فتاویٰ عالمگیری کو شہنشاہ کی جانب سے حنفی فقہ میں اختلاف میں توازن پیدا کرنے کی کوشش تو کہا جا سکتا ہے۔لیکن نہ قاضیوں نے اس کی پابندی کی اور نہ ہی شاہی فرمان اس کے پابند نظر آتے ہیں۔
فتاوی ٰعالمگیری میں توازن کی اس کوشش کی کئی واضح مثالیں ملتی ہیں۔ اس مجموعے میں شریعت اورمقامی رسوم و رواج میں مطابقت کی ضرورت بھی دکھائی دیتی ہے۔ مثلاًً فتاویٰ عالمگیری میں شاہی آداب کی رعایت سے بادشاہ کو تعظیمی سجدہ جائز بتایا گیا ہے۔ اسی طرح تعزیری سزاؤں میں مجرم کی سماجی حیثیت کے لحاظ سے چار درجے مقرر کئے گئے ہیں۔امرا، علما اور سادات کے لئے ان کے جرم کو مشتہر کرنا ہی سزا کے لئے کافی ہے۔ سرکاری عہدے داروں اور زمینداروں کے جرم کا اعلامیہ، اور ان کو عدالت میں گھسیٹ کر لانے کی ذلت ہی سزا ہے۔ درمیانہ طبقے کے لئے ان کی علانیہ مذمت اور قید کی سزا کافی ہے۔ چوتھا درجہ خسیس اور کمین لوگوں کا ہے۔ ان کے لئے مذکورہ سزائیں کافی نہیں۔ ان سزاؤں کے علاوہ ان کو بدنی سزا دینا بھی لازم ہے(61)۔
فتاویٰ عالمگیری میں تعزیر کی جو تعریف کی گئی ہے وہ بجائے خود اہم ہے۔ تعزیر سے مراد جرائم کے قوانین میں باقی ماندہ تمام اختیارات حکمران کے لئے ہیں۔ تعزیر کا اطلاق ہر اس سزا پر ہوتا ہے جو حدود کی سزاؤں میں شامل نہیں۔ان سزاؤں کا تعین حکمران کرتا ہے۔فتاوی ٰکے مطابق تعزیری جرائم میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔آسان لفظوں میں حقوق اللہ کی خلاف ورزی سے مراد مفاد عامہ کی خلاف ورزی اور حقوق العباد کا مطلب انفرادی مفاد ہے۔تعزیر کی پہلی قسم کو حکمران کے فرائض اور دوسری کو اس کے حقوق کہا جا سکتا ہے۔ اس فرق کو کتاب میں یوں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ دونوں قسمیں حکمران کے اختیارات میں شامل ہیں تاہم دوسری قسم کے جرائم کا فیصلہ حکمران کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاًً پہلی قسم کے جرائم میں ڈکیتی، غصب، ظلم اور دہشت گردی وغیرہ میں کوئی شخص بھی مجرم کو قتل کی سزا دے سکتا ہے(62)۔
حدود کے جرائم میں بھی فتاویٰ عالمگیری حکمران کو صوابدید کا اختیار دیتا ہے۔اگر کسی شخص پر چوری کا الزام ہو اور وہ انکار کرے اور حاکم کو یقین ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو ملزم پر تشدد کرکے سچ اگلوانا جائز ہے(63)۔ اس عبارت میں السیاستہ کی اصطلاح کا ذکر نہیں اور نہ ہی المقریزی کی عبارت کا حوالہ دیا گیا ہے۔تاہم ابن نجیم کی طرح جنہوں نے ڈکیتی کے معاملے میں حاکم کو صوابدید کا اختیار دیا تھا یہاں بھی اسی اختیار کا ذکر ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے کہ اگرڈاکو نے کسی کو قتل کر دیا تو خواہ اس نے مقتول کی کوئی چیز نہ چھینی ہو اور مقتول کے ورثا اسے معاف بھی کر دیں حکمران کو اسے موت کی سزا دینا ضروری ہے(64)۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ استدلال اس بحث سے بہت ملتا ہے جو بر صغیر میں برطانوی حکومت کے ابتدائی دور میں حنفی قوانین میں اصلاح کے دوران شروع ہوئی کہ کیا فوجداری قوانین میں تبدیلی کے لئے حکمران السیاستہ کا حنفی اصول اپنا سکتے ہیں۔ہم اس صورت حال کا جائزہ اگلی فصل میں لیں گے۔
جدید مباحث: سیا ست اور سیاسی امور
جدید دور میں اسلامی فقہ کو نئے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی فقہ کے اصول السیاستہ کو اٹھارہویں صدی میں نئی صورت حال اس وقت پیش آئی جب برطانوی گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز (1771۔1758 ) نے بنگال میں شریعت کے قوانین میں اصلاحات کے جواز کے لئے السیاستہ کے اصول کا حوالہ دینا شروع کیا۔وہ جرائم کے معاملے میں اسلامی سزاؤں کو نا کافی سمجھتا تھا۔ اس کے خیال میں باغیوں کی خاطر خوا ہ سرکوبی کے لئے یہ سزائیں بہت نرم تھیں۔لیکن اسے یہ سوال در پیش تھا کہ وہ ان قوانین میں اصلاحات کیسے کرے اور ان کے لئے کیا جواز پیش کرے۔
بینر جی (65)لکھتے ہیں کہ برطانوی حکومت کا قانونی اختیار دہری بنیادوں پر استوار تھا: تاج برطانیہ اور مغل سلطنت۔تاج برطانیہ کو بر صغیر میں حکومت کا اختیار صرف بمبئی میں حاصل تھا جو انہیں پرتگال کے بادشاہ نے دیا تھا۔ بکسر کی1765ء کی جنگ میں شکست کے بعد بنگال پر مغلوں کا اختیار بھی ختم ہو گیا تھا۔ اب مغل بادشاہ شاہ عالم برطانیہ کا باج گذاربن چکا تھا۔ تاہم1772ء تک شاہ عالم کے فرمان کے مطابق برطانوی حکام کو صرف دیوانی معاملات میں اختیارحاصل تھا۔ قوانین میں دیوانی اور فوجداری کی تقسیم غالباً اسی لئے پیش آئی۔بنگال کے دیوانی امور برطانوی عملداری میں آتے تھے لیکن فوجداری معاملات میں انہیں عمل دخل کا اختیار نہیں تھا۔اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے برطانوی حکمرانوں نے عدالتی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دیا۔ ہیسٹنگز چاہتا تھا کہ ڈاکووں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ جارج دوم کے فرمان 1753ء کے تحت ہندوستان کے باشندوں پر ان کے اپنے قوانین ہی لاگو ہو سکتے تھے۔ ہیسٹنگز کے ریگو لیٹنگ ایکٹ1772ء میں بھی مقامی قوانین کی حفاظت کی ضمانت دی گئی تھی(66)۔ اس کی دوسری توجیہ بھی ممکن ہے کہ اس زمانے میں مفتوح اقوام کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ ان پر فاتح قوم کا قانون لاگو کر کے ان کو فاتح قوم کے برابر کادرجہ دیا جائے۔
وارن ہیسٹنگز نے اب ضروری سمجھا کہ اس مسئلے کا حل اسلامی قوانین میں ڈھونڈا جائے۔ 1772ء میں اس نے اپنے لئے نواب گورنر جنرل ہیسٹنگز کا لقب منتخب کیا اور یوں مسلم حکمران کے نائب کی حیثیت سے اسے اسلامی قانون میں موجود نظریہ السیاستہ کے اختیارات حاصل ہو گئے(67)۔ یہ اقدام اس وقت کے ہندوستان کی امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر بہت ضروری تھا۔ہیسٹنگز برطانوی حکومت کے مخالفین اور باغیوں سے سختی سے نبٹنا چاہتا تھا۔ انہیں سخت سزائیں دینے کے لئے انہیں فسادی اور ڈاکو قرار دیا جاتا تھا۔قاضی جو حنفی قانون کے پابند تھے گورنر کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ہیسٹنگز نے تاج برطانیہ کو جولائی ۷۷۷۱ میں ایک خط لکھا کہ ’’ عدالتیں محمدی قانون کی پابند ی میں ڈاکووں کو موت کی سزا دینے سے انکاری ہیں الا یہ کہ انہوں نے ڈکیتی کے ساتھ قتل کا بھی ارتکاب کیا ہو‘‘۔اس نے حوالہ دیا کہ مقامی رواج حاکم کے اس حق کو مانتا ہے کہ قانون کی تقویت کے لئے وہ خاص صورت حال میں السیاستہ کا اختیار استعمال کر سکتا ہے۔ اس نے تجویز دی کہ ناظم سے ایک قانون عام یا خصوصی اختیار حاصل کیا جائے جس کی رو سے اقبالی اور بدنام زمانہ ڈاکووں کو1772ء کے قانون میں مذکور سزائیں دی جا سکیں(68)۔
ہیسٹنگز ہنگامی بنیادوں پر ان اصلاحات کو جائز سمجھتا تھا۔اسے تسلیم تھا کہ اس کی تجویز کردہ سزائیں برطانیہ کے آئین کی روح کے مطابق نہیں تھیں۔ لیکن بنگال ابھی اس درجہ کمال کو نہیں پہنچا جو برطانوی عوام کو حاصل ہے۔(69) ہیسٹنگز نے نظریہ السیاستہ یعنی حکمران کے حق مداخلت کا سہارا لیا اور اسلامی ریاست میں مروجہ ہنگامی انصاف کا طریقہ اختیار کیا(70)۔ خاص طورپر ہیسٹنگز چاہتا تھا کہ اسلامی قانون میں قتل کے مقدمات میں آلہ قتل، خون معاف کرنے کے حق اور قصاص کی بنیا د پر حکمران اور اولیا کے قاتل کو سزا دینے کے حق میں جو تفریق کی جاتی تھی اسے ختم کر دے۔ مسلم قاضیوں نے ڈاکووں کو موت کی سزا سے انکار کیا۔ یہ سزا صرف اس صورت میں دی جاسکتی تھی جب ڈکیتی میں قتل بھی شامل ہو(71)۔ گورنر کی حمایت میں قاضیوں کے تذبذب کی وجہ بیان کرتے ہوے پیٹر ہیرنگٹن نے لکھا کہ’’ محمدی قانون انتہائی نرم اصولوں اور خونریزی سے گھن پر مبنی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکمران اکثر مداخلت پر مجبور ہو جاتا ہے اور اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوے سزا میں اس کمزوری کی اصلاح کرے تاکہ گنہگار سزا سے نہ بچیں اور جہاں تک قانون کی پہنچ ہے اس بد امنی کی بیخ کنی کی جا سکے‘‘(72)۔
جارج رینکن کا کہنا ہے کہ کہ وارن ہیسٹنگز کے بعد بھی فوجداری قانون کے عمل درآمد پر السیاستہ کے نظریے کے اثرات باقی رہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’ ریگولیشنز کے تحت السیاستہ کے نظریے کا کردار مزید بڑھ گیا۔جوناتھن ڈنکن کی رائے میں یہ کردار ’’ تصحیح یا ضمیمہ‘‘ کے نظریے کا تھا۔ بنگال کی عدالتوں میں یہ نظریہ مقبول اور معروف تھا اور یہ تسلیم کیا جاتا تھا کہ سلطان حاکم یا وقت کے حکمران کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی ظالمانہ جرم کے ارتکاب پر قانونی طریقے سے یا حسب معمول السیاستہ کے اصول کی بنیادپر مجرم کو موت کی سزا دے سکتا ہے۔ یا اپنی صوابدیدی قاہرانہ اختیار کو استعمال کرتے ہوے جو اسے مفاد عامہ کی حفاظت کے پیش نظر حاصل ہے مناسب سمجھے تو حکم دے سکتا ہے‘‘(73)۔
رینکن یہ بھی کہتا ہے کہ ’’ ظالمانہ سزاؤں کے جواز کی وجہ سے ظاہر ہوتاہے کہ محمدی قانون غالباً بے حد سخت ہے۔ لیکن سرکاری طور پر یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ بطور نظام محمدی فوجداری قانون نرم ہے۔کیونکہ بعض اصول جن کو یہ قانون جائز قرار دیتا ہے وحشیانہ اور ظالمانہ ہیں لیکن نہ صرف یہ کہ ان کو نافذ کرنا مجسٹریٹ کے لئے شاز و نادر ہی لازم ہوتا ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ قانون اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس میں ضروری شہادت کی بنیاد پر جرم ثابت کرنے یا مناسب سزا دینے کی بجائے سزا سے بچانے پر زیادہ توجہ دی گئی ہے(74)۔رینکن کے بقول اسلامی قانون میں ’’ مفاد عامہ کے تحفظ کے لئے حکمران کو السیاستہ کا حق یا عبرتناک سزا دینے کا اختیار ہے۔یہ سزا قبیح اور مخصوص قسم کے جرائم کی صورت میں قصاص یا حد کی مقررہ سزا کے مساوی یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے‘‘(75)۔
نظریہ السیاستہ کے اثرات1807ء کے ضابطہ53میں بھی نظر آتے ہیں۔’’اس قانون میں تعزیر کی تین قسمیں کی گئی ہیں: (الف) وہ جرم جو حد یا قصاص کی تعریف نہیں آتا، (ب) وہ جرائم جو اس زمرے میں تو آتے ہیں لیکن ثبوت تکنیکی لحاظ سے ناکافی ہیں یا کوئی خاص استثنا یا کوئی شبہ پایا جاتا ہے (ج) جرم اتنا گھناونا ہے کہ مفاد عامہ کے تحفظ (سیاست) کی بنا پر حکمران کی صوابدید عبرتناک سزا کا تقاضا کرتی ہے((76۔
یورگے فش کہتے ہیں کہ یہ ضابطہ عدالتی اختیار کو مربوط کرنے کے لئے ان تینوں قسموں کو یکجا کر دیتا ہے اور یہ ’’ظاہر کرتا ہے کہ اقتدار اعلیٰ کے نمائندے کی حیثیت سے السیاستہ کا اختیار عدالت کو تفویض ہو گیا ہے‘‘۔ یہ اختیارتفویض تو ہو سکتا ہے لیکن جج کے غیر معمولی اختیار کے طور پر نہیں۔ برطانوی حکومت نے السیاستہ کو عدالت کی معمول کی تعزیر کی کاروائی میں شامل کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ روایتی فرق اب قانونی طور پر مؤثر نہیں رہا(77)۔
نظریہ السیاستہ کو اب قانونی اصلاحات کی قانونی بنیاد کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اقتدار کے حق کی استعماری جستجو اب دوسرے میدان تلاش کرنے لگی۔ان میں ہندوستان کی فتح سب سے اہم قانونی جواز بن گیا۔1813ء کے چارٹر بل میں تاج برطانیہ کے اقتدار اعلیٰ کا اعلان کردیا گیا۔ اسلامی قانون کے حوالے سے برطانیہ حکومت کے لئے جرائم یافوجداری قانون ابھی بھی مسئلہ تھا۔1825ء میں نظامت عدالت کے افسروں نے فتویٰ دریافت کیا آیا قتل ثابت نہ ہونے پر بھی موت کی سزا دی جا سکتی ہے؟ مفتی حضرات کا جواب تھا:منقولہ مصادر کے مطابق جن کی بنیاد پر فتوی ٰدیا جاتا ہے السیاستہ کی بنا پر موت کی سزا صرف قاتل کو دی جاسکتی ہے۔ اگرچہ بعض مستند مصادر میں حکومت کے مطلق اختیار ات کی بحث میں مفسدین کے قلع قمع کے حق کا ذکر موجود ہے(78)۔
برطانوی اہلکاروں کا اصرار تھا کہ ہندوستان میں انگریزی قانون لاگو کیا جا سکتا ہے۔ ولیم ہنٹر (1861 ) کی دلیل یہ تھی کہ مسلمانوں کی نظر میں ہندوستان دار الحربن چکا ہے جہاں حنفی مذہب کے مطابق اب مسلمانوں پر اسلامی احکام پر عمل لازمی نہیں رہا تھا۔ اس نے چند فتاویٰ بھی جمع کر لئے تھے جن میں مفتیوں نے ہندوستان کو دار الحرب قرار دے دیا تھا۔ (79)ہالہیڈ نے رومن قانون کی مثال دی جس میں مفتوحہ غیر ملکی رعایا کے ایسے مذہبی امور کو باقی رکھنے کی اجازت تھی جو فاتح کے مفادات کے قانون سے نہ ٹکراتے ہوں(80)۔ گیلو وے نے دلیل دی کہ مسلمانوں نے بھی فاتح کا حق استعمال کرتے ہوے شریعت کا قانون نافذ کیا تھا۔ یہی جواز انگریزی قانون کے نفاذ کے لئے موجود ہے(81)۔ ان بحثوں کے نتیجے میں ہندوستان کے لئے جرائم کے ایک نئے قانون کی تدوین شروع ہو گئی۔ اب السیاستہ کے نظریے پر انحصار کی ضرورت نہ رہی۔
جرائم کے قانون کی اس سیکولر پیش رفت میں شریعت بہت تیزی سے شخصی قانون کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس صورت حال نے السیاستہ کے تصور کو بے حد متاثر کیا۔ عربی لفظ السیاسہ کا املا اب عثمانی ترکی، فارسی اور اردو میں سیاست میں بدل گیا۔ اب چونکہ اس کا رشتہ جرائم کے قانون سے نہیں رہا اس لئے اس کے معانی میں بھی سزا کا مفہوم باقی نہیں رہا۔ اب اس کا مرکزی مفہوم مفاد عامہ، انتظامی حکمت عملی اور سیاسی امور بن گیا اور یہ اصطلاح اکثر سیاسیات کے مفہوم میں استعمال ہونے لگی۔ جدید علما مثلاً رفاعہ الطحطاوی (م 1873) نے فرانس کے1830 آئین کا عربی میں ترجمہ کرتے ہوے فرانسیسی اصطلاح ’’لوآ ‘‘ اور ’’غیگلماں‘‘کا ترجمہ سیاسہ ہی کیا(82)۔
حالیہ دور میں سیاست کے بارے میں بہت لکھا گیا ہے۔مسلم قانون دانوں نے بھی نظری سیاست کے مختلف مفاہیم کی جانب توجہ دی ہے۔ بعض نے سیاست اور شریعت کے متضاد مفہوم سے متاثر ہو کر اسے شریعت اور سیاست میں تفریق کا اصول بنا یا۔ روایتی علما نے اسی استدلال کی بنیاد پر سیاست کو دنیوی قرار دیا اور سیاسی سرگرمیوں سے اجتناب کا فتویٰ دیا۔ انہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور سیاسی پارٹیاں بھی تشکیل دیں لیکن اس میں بہت عرصہ لگا۔انیسویں صدی میں سیاسی سرگرمیوں کی نوعیت زیادہ تر سیکولر رہی۔بعد میں جب کچھ مذہبی گروہ سیاست میں آئے تو اس دلیل کے ساتھ کہ اسلام میں مذہب اور سیاست میں تفریق نہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے اکثر ابن تیمیہ کی السیاستہ الشرعیہ کا حوالہ دیا۔
استعمار سے آزادی کے بعد مسلمان حکومتوں نے مسلم شخصی قوانین میں مزید اصلاحات کیں تو روایتی طبقات نے ان کے خلاف احتجاج کیا۔ان بحثوں میں نظریہ السیاستہ واپس آگیا۔ جو اصلاحات کے حق میں تھے انہوں نے اجتہاد اور السیاسہ کے حوالے سے دلیل دی کہ ریاست کو قانون سازی کا حق ہے۔ جو مخالف تھے انہوں نے ابن تیمیہ کاحوالہ دے کر السیاستہ الشرعیہ کا مطالبہ کیا۔ اس بحث میں نظریہ السیاستہ کے مفاہیم میں اجتہاد اور مصالح کے نئے مفہوم سامنے آئے۔ اس گفتگو میں ایک اور تفریق بھی سامنے آئی۔ فقہ کو فقہا کی آرا سے مخصوص قرار دے کر شریعت کو مجرد اور کلی مفہوم میں استعمال کیا جانے لگا۔ مصر کے فقیہ عبد الوہاب خلاف نے سیاست کی نئی تعریف متعارف کرائی: ’’ سیاست سے مراد اسلامی ریاست میں عوام کے معاملات کا ایسا نظم و نسق ہے جس کا مقصد مفاد عامہ کا حصول اور مفسدات کا اس طرح سے ازالہ ہے کہ شریعت کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ ہو اور اس کے کلیات کی مخالفت نہ ہو۔ البتہ اس میں ائمہ مجتہدین کی آراء اور اقوال کی مکمل مطابقت لازمی نہیں(83)۔
ایک اور مصری فقیہ احمدفتحی البہنسی کی نظر میں سیاسہ تعزیر کے مترادف مفہوم میں ہے۔ وہ السیا سہ الشرعیہ کی قدیم تعریف کو پیش نظر رکھتے ہوئیے اسے حکمرانوں کے لئے اجازت کا اصول بتاتے ہیں تاکہ وہ ایسے اقدامات عمل میں لا سکیں جو مفاد عامہ کا تقاضا ہوں بشرطیکہ دین کے اصولوں کے خلاف نہ ہوں اورکوئی مخصوص دلیل دستیاب نہ ہو ‘(84)۔الجزائر کے فقیہ ابو عبد الفتاح علی ا بن حاج سیاست کے عام اور السیاستہ الشرعیہ کے مخصوص مفہوم میں فرق کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ سیاسہ شرعیہ کے لئے شریعت کے مطابق ہونا لازمی ہے۔ ان کی سیاسہ شرعیہ کی بحث کا تعلق زیادہ تر سیاسی امور یعنی الحکم و الامامہ سے ہے۔ اس فرق کے لئے وہ قرافی کا حوالہ دیتے ہیں۔ السیاستہ الشرعیہ کا آغاز چونکہ نبی اکرم ﷺسے ہوا اس لئے سیاسہ کے دو نوں پہلو یعنی تبلیغ و دعوت اور امامت و حکومت ان کی ذات میں جمع تھے۔ تبلیغ و دعوت سے متعلق سیاست کے قوانین کلی اور ناقابل تنسیخ ہیں۔ اس کے بر عکس امامت و حکومت کے قوانین تبدیل ہو سکتے ہیں(85)۔فقہا میں اختلاف کا سبب دراصل پیغمبر کے حکم کے سمجھنے میں اختلاف سے پیدا ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکم تبلیغ سے تعلق رکھتا ہے یا سیاسہ شرعیہ سے؟ مثلاًً جہاد کا حکم تبلیغ کے عمل سے نکلا ہے۔ اس کو نہ تبدیل کیا جا سکتا ہے نہ منسوخ۔ امن اور معاہدہ سیاست کے احکام ہیں۔ یہ زمانے اور حالات کے حساب سے بدل سکتے ہیں۔ابو عبدا لفتاح کے لئے نظریہ سیاست میں اضافیت میں قاعدہ دریافت کرنا مشکل تھا۔ ان کے نزدیک اس کا ایک ہی حل تھا کہ امام کا دین سے تعلق پختہ ہو، دین کا علم رکھتا ہو اور مخلص ہو(86) ۔
اسامی قانون میں نظریہ السیاستہ کی بنیاد پر حکمران کو بہت طاقتور اختیار حاصل ہوا لیکن اسے ایک ادارے کی شکل نہ دی جاسکی۔ جدید قومی ریاست کے تصور نے حکمرانی کے انفرادی اور ذاتی تصور کی جگہ ریاست کی شکل میں قوم کے مکمل اقتدار اعلی ٰکے ادارے کا تصور دیا۔ اس تصور نے باقی دنیا میں تو آسانیا ں پیدا کیں لیکن مسلم دنیا میں اس صورت حال نے نظریہ السیاستہ کے لئے مزید نئے سوالات پیدا کر دئے۔ اقتدار اعلیٰ کس کے پاس ہے؟ اسلامی ریاست کے حامیوں نے عوام کی حاکمیت کے تصور کو رد کردیا۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اقتدار اعلیٰ یا حاکمیت صرف خدا کی ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ عوام کا مفاد طے کرنے کا صوابدیدی اختیار کس کے پاس ہے۔عام طور پر اس معمے کا حل یہی تجویز کیا جاتا تھا کہ ریاست کو ان امور میں قانون سازی کا حق ہے جہاں شریعت خاموش ہے۔اس بحث کے نتیجے میں شریعت کا دائرہ کار بہت وسیع ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سیاست شرعیہ کا بھی۔
نتیجہ بحث
اسلامی قانون میں نظریہ السیاستہ کے ارتقا کی تاریخ کا یہ مختصر اور سرسری جائزہ بتلاتا ہے کہ السیاستہ اور شریعت کے درمیان اختلاف کو نظریے اور عمل کے مابین فرق کا تناؤ کہنا مبالغے پر مبنی ہے۔یہ تناؤ اسلامی تاریخ کے ابتدا میں نظر آتا ہے لیکن بتدریج مسلم فقہا نے سیاسہ کو اسلامی قانون میں شامل کرکے اس کا جز بنا لیا۔حالیہ تحقیقات میں اکثر مصنفین چونکہ اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور تک ہی محدود رہتے ہیں جہا ں یہ فرق تناؤ کی شکل میں نظر آتا ہے اس لئے انہوں نے اسے اسلامی قانون کی بنیادی خصوصیت سمجھ لیا۔
دوسرے مصنفین نے اس نظریے کا مطالعہ سزاؤں اور جرائم کے قوانین تک محدود رکھا۔ اس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ اسلامی قانون کی کتا بوں میں سیاسہ کی بحث زیادو تر سزاؤں کے حوالے سے ہوتی ہے۔ اگر زیادہ گہرائی میں مطالعہ کریں تو یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اصل مسئلہ حکمران کے قانون سازی کے اختیار کا ہے۔ حکمران کا صوابدیدی اختیار صرف مفاد عامہ کی بنیاد پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس تعلق سے سیاسہ اور مصلحہ کا باہمی رشتہ واضح ہوا اور اس کی وجہ سے اسلامی قانون میں عقلی استدلال کی اندرونی قوت محرکہ بھی سامنے آئی۔
میں بات ختم کرتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا کہ نظریہ سیاست دوئی کی بجائے ایک طرح کی تکثیریت کے اصول کا پتا دیتا ہے جس نے توازن کے قاعدے کی حیثیت میں مختلف نظاموں کے مابین رکاوٹ کے بغیر تعامل کو ممکن بنایا۔
(تلخیص و ترجمہ :انجینئر مالک اشتر)
حوالہ جات
1۔ اردو میں ان الفاظ کا املا سیاست اور شریعت ہے۔فقہ اسلامی میں السیاسہ کا ذکر فقہ کے اصول اور نظریے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اس مضمون میں سیاست عام معنوں میں السیاسہ اصطلا حی معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں سنین عیسوی کیلنڈر کے حساب سے دئے گئے ہیں۔ ہجری سنین کے ساتھ ھ لکھ دیا گیا ہے۔
2- Joseph Schacht, Introduction to Islamic Law (Oxford: Clarendon, 1966), pp. 76 ff.
3۔ ایضاً
4- See for instance, Muhammad Khalid Masud, Brinkley Messick and David Powers (eds), Islamic Legal Interpretation: The Muftis and their Fatwas (Harvard, Cambridge, Mass., 1996); P.S. van Koningsveld and M. Tahtah, Leven als moslim in Europa: de Fatwa's van Khalil El-Moumni, imam van de Nasr-moskee in Rotterdam (Gent: Centrum voor Islam in Europa (C.LE.), 1998); Nico Kaptein, The Muhimmat al-nafa'is: a bilingual Meccan fatwa collection for Indonesian Muslims from the end of the nineteenth century (Jakarta: INIS, 1997); Aly Abd el-Gaphar Fatoum, Der Einfluss des islamischen Rechtsgutachtens (Fatwa} auf die aegyptische Rechtspraxis: am Beispiel des Musikhoerens (Frankfurt am Main (etc.): Peter Lang, 1994); George Makdisi, "The Shari'a Court Records of Ottoman Cairo and Other Resources for the Study of Islamic Law," in American Research Center in Egypt Newsletter No 114, (1981), pp. 3-10; Henry Toledano, Judicial Practice and Family Law in Morocco: the chapter on marriage from Sijilmasi's al- 'Amal al-Mtalaq (Boulder, CO: Columbia University Press, 1981); June Starr, Law as Metaphor, From Islamic Courts to the Palace of Justice (Albany, N.Y.: State University of New York Press, 1992); J.S. Nielsen, Secular Justice in an Islamic State, Mazalim under the Bahri Mamluks (Istanbul: Nederlands Historisch-Archaeologisch Instituut, 1985), pp. 104-109.
5- Muhammad Khalid Masud, Ruud peters, and David Powers, Dispensing Justice:in Islam, Qadis and their Judgments (Leiden: Brill, 2005); George Makdisi, "The Shari'a Court Records of Ottoman Cairo and Other Resources for the Study of Islamic Law," in American Research Center in Egypt Newsletter No 114, (1981), pp. 3-10; Henry Toledano, Judicial Practice and Family Law in Morocco: the chapter on marriage from Sijilmasi's ai- 'Amal al-Mtalaq (Boulder, CO: Columbia University Press, 1981); June Starr, Law as Metaphor, From Islamic Courts to the Palace of Justice (Albany, N.Y.: State University of New York Press, 1992); J.S. Nielsen, Secular Justice in an Islamic State, Mazalim under the Bahri Mamluks (Istanbul: Nederlands Historisch-Archaeologisch Instituut, 1985), pp. 104-109.
6- Bernard Lewis, "Siyasa," in A.H. Green (ed.), In Quest of an Islamic Humanism. Arabic and Islamic Studies in Memory of Mohamed al-Nowaihi (Cairo: American University in Cairo Press, 1984), pp. 3-14; Fawzi M. Najjar, "Siyasa in Islamic political philosophy", in M.E. Marmura (ed.), Islamic Theology and Philosophy, Studies in honor of George F. Hourani (Albany: State University of New York Press, 1984), pp. 92-110; Aziz al-Azmeh, Islams and Modernities (London: Verso, 1996).
7- Emile Tyan, "Judicial Organization" in Majid Khadduri (ed.), Law in the Middle East, 1, )Washington: Middle East Institute, 1955(, pp. 198-207.
8- M. P. Jain, Outlines of Indian Legal History (available to me in Urdu translation? Anwar al-Yaqin: Hindustan ki qanui tarikh (New Delhi: Taraqqi Urdu Bureau, 1982).
9- June Starr, Law as Metaphor, From Islamic Courts to the Palace of Justice (Albany, N.Y.: State University of New York Press, 1992).
10- Jorg Fisch, Cheap Lives and Dear Limbs, The British Transformation of the Bengal Criminal law, 1769-1817 (Wiesbaden: F. Steiner, 1983), p. 19.
11- The following well-known books, for instance, were written by jurists as independent treatises on the subject:الغزالی، نصیحۃ الملوک al-Ghazali's Book of Counsel for Kings, transl. F.R.C. Bagley, (London: Oxford University Press, 1964).
ابو الحسن الماوردی، الاحکام السلطانیہ ( قاہرہ: وطن، 1298 ھ )؛ محمد ابو یعلی ابن الحسین الحنبلی الفراء (م458ھ) ، الاحکام السلطانیہ (قاہرہ: مطبعہ عیسی البابی الحلبی، 1938 )،
al-Ghazali's Book of Counsel for Kings, transl. F.R.C. Bagley, (London: Oxford University Press, 1964).
12- See for instance, Abu Yusuf's Kitab al-Kharaj, translated and provided with an introduction and notes by A. Ben Shemesh (Leiden: Brill, 1969), & ابو عبید القاسم ابن سلام الھروی، کتاب الاموال(بیروت:دارالشروق،۱۹۸۹ء)
13۔ مثلاً محمد ابن المقدسی، السیاستہ العظیمہ المرضیہ؛ لسان الدین ابن الخطیب، السیاسۃ المدنیہ؛ ابو دلف قاسم بن عیسی البغدادی الوزیر( م 841 ھ)، سیاسہ الملوک بحوالہ
Fuat Sezgin, Geschichte des arabischen Schriftums, vol. 2, (Leiden: Brill, 1975), p. 632).
تاج الدین محمد عبد اللہ بن عمر السرخسی (م 740 ھ )، السیاسہ الملوکیہ؛ ابن تیمیہ، السیاسہ الشرعیہ فی اصلاح الراعی و الرعیہ ( قاہرہ: الشعب1971)، ابو نصر الفرد (م 339 ھ)، السیاسۃ المدنیہ؛ شمس الدین محمد بن ابی طالب الدمشقی (م 737ھ)، السیاسہ فی علم الفرا سہ (قاہرہ، 1914)
14- Fisch 1983, p. 20, n. 45.
15۔ بطرس البستانی محیط المحیط، قاموس للغتہ العربیہ (بیروت مکتبہ لبنانیہ، 1933 ، جلد ۱، ص1026) میں سیاسہ کی اصطلاح کے معنی یوں بیان کرتے ہیں: ’’ معاملات میں بہتری کے حصول میں کامیابی کے راستوں کی جانب لوگوں کی رہنماء‘‘۔ سیاسہ مدنیہ عملی فلسفہ کی ایک قسم ہے جسے علم السیاسہ، سیاستہ الملوک یا الحکمتہ المدنیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے معنی ہیں: ’’ عدل و انصا ف کے اصولوں پر مبنی معیشت کی عمومی تنظیم‘‘۔
16۔ ابن نجیم (م1563) سیاسہ کے معنی میں لکھتے ہیں: السیاستہ حکمران کے ایسے اقدام کو کہتے ہیں جو وہ کسی معاملے میں مصلحت عامہ کے لئے اٹھائے۔ اگرچہ اس اقدام کی تائید میں کوئی منصوص دلیل موجود نہ ہو‘‘ ( البحرالرائق، قاہرہ: دار الکتب العربیہ الکبری، ت۔ن۔)
17۔ جوزف شاخٹ کے خیال میں یہ روایت اور اس سے ملتی جلتی طبری اور سیوطی کی روایات جھوٹی ہیں۔ ملاحظہ ہو: ضوزف شاخٹ،’’مالک بن انس‘‘، انسائیکلو پیڈیا اسلام، دوسرا ایڈیشن ( لائیڈن: برل 1991)، ج6، ص 262۔ شاخٹ کا یہ خیال اس لئے قابل اعتبار نہیں کہ وہ اکثر ایسی روایات اور شاہد کو جھوٹا کہ کر رد کر دیتے تھے جو ان کے’’ نتائج‘‘ کی تائید نہ کرتے ہوں۔
18۔ ایضاً ص ۲۶۲۔۵۶۲۔
19- K. S. Ann, State and Government in Medieval Islam (Oxford: Oxford University Press, 1981), p. 52.
20- G. Lecomte, "Ibn Kutayba", E.I.2, vol. 3 (Leiden: Brill, 1986), pp.844-847.
21۔ ابن قتیبہ، کتاب العرب و رد علی الشعوبیہ، کرد علی، رسائل البلغا ء(قاہرہ: لجنتہ التالیف و الترجمہ۔ 1954 )، ص 344۔377۔
22۔ ابن تیمیہ، الامامہ و السیاسہ ( الجزیرہ: الار القومیہ، ت۔ن۔)
23۔ الشافعی، کتاب الام ( قاہرہ: الدار المصریہ، ت۔ن۔)، ج۱، ص 7۔
24۔ ابن قیم، الطرق الحکمیہ (قاہرہ: المطبعہ المحمدیہ،1953 )، ص13۔ ابن قیم اپنی دوسری تصنیف اعلام الموقعین (قاہرہ: مطبعہ الکلیات الازہریہ، 1968) ج 4ص372پر امام شافعی کا یہ قول ان کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔ البتہ یہ الفاظ ہمیں کتاب الام میں نہیں ملے۔
25۔ الشافعی، کتاب الام (قاہرہ: الھیتہ المصریہ العامہ، 1987)، ج6، ص51۔
26۔ الماوردی، الاحکام السلطانیہ، ص3۔
27۔ ایضاًً ، ص 31
28۔ الغزالی، احیا علوم الدین ( قاہرہ: مکتبہ و مطبع? المشھد الحسینی، 1970 )، ج1، ص10۔11۔
29۔ ایضاًً، ص11
30۔ ایضاًً، ص 51۔
31۔ ابن عقیل، کتاب الفنون، (بیروت : دار المشرق،1970 )، ج 1، ص289۔
32۔ ابن قیم نے ابن عقیل کی یہ بحث نقل کرتے ہوے امام شافعی کا حوالہ نہیں دیا ( اعلام الموقعین، فصل: اختلاف العلماء فی العمل بالسیاسہ ، 1968 ج 4، ص 372 )
33۔ ابن قیم نے (1953 ،13) خلفائے راشدین کے تین احکام کی مثالیں دی ہیں جن میں سنت کا حوالہ نہیں۔ حضرت عمرؓنے نصر بن حجاج کو جلا وطن کیا، حضرت عثمانؓ نے مصھف کے جلانے کا حکم دیا اورحضرت علیؓ نے زنادقہ کو زندہ جلانے کا حکم دیا۔
34- Al-Fakhri; ed. Derenbourg, 30, English transl. Whitting, 20, cited in I. R. Netton, "Siyasa"; in E.I.2 (Leiden: Brill, 1997), vol. 9, p. 694.
35۔ شہاب الدین القرافی، الاحکام فی التمییز الفتاوی عن الاحکام و تصرفات القاضی والامام ( حلب: المطبوعات الاسلامیہ، 1967 )
36- Muhammad KhaIid Masud, Shatibi's Philosophy of Islamic Law (Islamabad: Islamic research Institute, 1995), p. 57.
37۔ احمد فتحی البہنسی، السیاستہ الجنائیہ فی الشریعہ الاسلامیہ (بیروت: دار الشونیق 1983)، ص83بحوالہ النسفی ، رسالہ احکام السیاسہ۔
38۔ ابن تیمیہ، السیاستہ الشرعیہ، 1971ص 184۔
39۔ ایضاً ، ص189۔
40۔ ایضاً، ص 57۔
41۔ ایضاً ، ص93۔
42۔ ایضاً، ص132۔
43۔ ایضاً، ص 182۔
44۔ ابن قیم، 1953، ص 92۔
45۔ البہنسی1983 ، ص82 بحوالہ ابن تیمیہ، الصارم المسلول۔
46۔ ابن قیم1953 ص5۔
47۔ ابن قیم 1953 ، ص 372
48۔ ایضاً
49۔ ایضاً، ص 14۔
50۔ المقریزی، المواعظ و الاعتبار فی ذ کر الخطط وا الآثار (قاہرہ 1934)، ج2 ، ص220۔
51- See Muhammad Khalid Masud, "Official Recognition of the Hanafite School of Law in the Indian Sub-continent", paper presented at the Third International Conference on Islamic Legal Studies: The Madhhab (Harvard University, Boston, 5 May 2000).
52۔ المقریزی، المواعظ ، ج 2، ص 220۔
53۔ ایضاً
54۔ مثلاً مندرجہ ذیل کتابوں میں المقریزی کی تعریف اور تجزیہ نقل کیا گیاہے: محیط المحیط، کلیات ابو البقا، جامع الرموز کشف اصطلاحات الفنون (تہران، 1967) ج1، ص 664۔ حاجی خلیفہ، کشف الظنون (مکہ ؛ الفیصلیہ، ت۔ن۔ ) ج1، ص14۔
55۔ ابن نجیم، البحر الرائق (قاہرہ: دار الکتب العربیہ الکبری، ت۔ن۔ ) ج 5 ، ص 70۔
56۔ ابن نجیم، البحر الرائق ،ج 5 ، ص70۔
57۔ ابن نجیم، البحر الرائق، ص67۔
58۔ ایضاً ص 69
59۔ ایضاً ص10
60- See Muhammad Khalid Masud, "Official Recognition 133" above note 52.
61۔ فتاوی عالمگیری، اردو ترجمہ امیر علی ( دہلی: حامد اینڈ کمپنی، ت۔ن )۔ طبع ثانی ( لکھنؤ: نولکشور ت۔ ن) ج3، ص 298۔
62۔ ایضاً ، ص297۔
63۔ ایضاً، ص 307
64۔ ایضاً، ج 3، ص 330۔فتاوی عالمگیری کے مترجم سید امیر علی نے یہاں سیا سہ کے لئے حد کی اصطلاح ( قتل بطور جائز حد ) استعمال کی ہے۔ ایک اور جگہ اسی کتاب میں السیاستہ کے طور پر قتل کے الفاظ لکھے ہیں۔
65- A.C. Banerje, English Law in India (Delhi: Abinav, 1984).
66- Standish Grove Grady, A Manual of the Mahommedan Law of inheritance and contract, comprising the doctrines of the Soonee and Sheea schools, and based upon the text of Sir W. H. Macnaghten's Principles and precedent together with the decisions of the Privy Council and high courts of the presidencies in India (London: W. H. Allen, 1869), p. xxxiii
67- Jain 1982
68- Parliament Papers, 1831-2, vol. xii, p. 696, cited in George Claus Rankin, Background to Indian Law (Cambridge: The University Press, 1946), p. 169.
69- Fisch 1983, p. 33.
70- Harington? 1:302 ff., cited in Fisch 1983, p. 34.
71- Harington? 1:305 ff., cited in Fisch 1983, p. 35.
72- Ibid.
73- Observations", para 64, cited by George Claus Rankin, Background to Indian Law (Cambridge: The University Press, 1946)
74- Parliament Papers, 1831-2, vol., xii, p. 696 cited by Rankin 1946, p. 166.
75- Rankin 1946, p. 166.
76- Rankin 1946, p. 177.
77- Fisch 1983, p. 67.
78- 1825 Chundoo Kundoo p. 418f., Fisch 1983, 112. See Peacock CJ judgement in R. v. Khyroollah, 1866, 6 W.R. 21, 23 (Cr. R.) expressing doubt whether futwa of death by siyasat could be pronounced on anyone not a murderer, cf. Beaufort's Digest, p. 155, para 849.
79- See Muhammad Khalid Masud, "The World of Shah Abdul Aziz (1746-1824)", in Jamal Malik (ed.), Perspectives of Mutual Encounters in South Asian History 1760-1860 (Leiden: Brill, 2000), pp. 298-314
80- Nathaniel Brassey Halhed, A Code of Gentoo Laws, or Ordinations of the Pundits, from a Persian Translation (London: 1776), Preface.
81- Preface to James Fitzjames Stephen, A Digest of the Criminal Law (Indictable Offences) (London: Sweet & Maxwell etc., 1947).
82- Netton, 1997, p. 694.
83۔ ابو عبد الفتاح علی بن الحاج، الارشاد و النصح فی بیان احکام الردہ و الصلح (الجزیرہ: الجبھہ الاسلامیہ للانقاذ،1995)، ص 126
84۔ البہنسی1983، ص۔25
85۔ ابو عبد الفتاح، ص127۔128۔
86۔ ایضاً ، ص127۔