working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دینی مدارس کا مسئلہ

عالم اسلام

اُردو زبان کے فوری نفاذ کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ:اطلاقات اور تحدیات

قبلہ ایاز (پی ایچ ڈی، ایڈنبرا)
سابق وائس چانسلر، پشاور یونیورسٹی

ڈاکٹر قبلہ ایاز نامور سکالر ہیں ،درس و تدریس میں اعلٰی ترین عہدوں پر رہے ۔کئی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ پاکستان اور پاکستان سے باہر کانفرنسوں میں تحقیقی مکالے پڑھ چکے ہیں ۔پاکستان کی سیاسی اور اسلامی تحریکوں پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔نفاذ اردو کے بارے میں عدالت عظمٰی کا فیصلہ اس کی روشنی میں سامنے آنے والے مسائل کا بڑی باریک بینی سے جائزہ اس مضمون کا خاصا ہے ۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (اب سابق) محترم جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 8 ستمبر2015 کو حکم صادر کیا گیا ہے کہ 1975 کے آئین کی شق (آرٹیکل) 251 پر عمل در آمد کے فوری نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ آئین کا یہ آرٹیکل تین ذیلی دفعات پر مشتمل ہے۔ ذیل میں اس کی عبارت من و عن درج کی جاتی ہے، تاکہ اصل متن کی روشنی میں اس کی تفہیم میں آسانی ہو:

(1) ’’قومی زبان: 251 (1) پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور آغاز سے پندرہ سال کے اندر اندر یہ انتظام کیا جائے گا کہ اس کو سرکاری اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے اندر رہتے ہوئے انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری زبان کے طورپر استعمال کی جاسکے گی جب تک اس کے انتظامات نہیں کیے جاتے کہ اس کی جگہ اردو لے لے۔

(3) قومی زبان کے مرتبہ پر اثرانداز ہوئے بغیر ایک صوبائی اسمبلی بذریعہ قانون ایسے اقدامات کرسکتی ہے جس کے ذریعہ صوبائی زبان کے فروغ، تدریس اور قومی زبان کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال کا بھی بندوبست کیا جاسکے‘‘۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کی عبارت بھی ذیل میں فراہم کی جاتی ہے تاکہ اس کے اطلاقات اور تحدیات کے بارے میں عمومی بحث کو صحیح تناظر میں مطالعہ کرنے میں آسانی ہو۔ فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 5 کا بھی ذکر ہے، جس کے تحت ہر شہری پابند ہے کہ وہ آئین کی ہر دفعہ پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

’’(19) ان دستوری احکامات کے پیش نظر، جو آرٹیکل5 اور آرٹیکل 51 میں بیان کیے گئے ہیں اور جن کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے، اور اس امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ دستور کا لازمی تقاضا ایسی بات نہیں ہے جس سے صرف نظر کیا جاسکے اور پھر عشروں پر پھیلی ہوئی حکومتوں کی بے عملی اور ناکامی کو سامنے رکھتے ہوئے، ہمارے سامنے سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ ہم مندرجہ ذیل ہدایات اور حکم جاری کریں:

(1) آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلاغیرضروری تاخیر فوراً نافذ کیا جائے۔

(2) جو میعاد (مذکورہ بالا مراسلہ مؤرخہ 6 جولائی 2015) میں مقررکی گئی ہے

اور جو خود حکومت نے مقرر کی ہے اس کی ہر حال میں پابندی کی جائے جیساکہ اس عدالت کے روبرو عہد کیا گیا ہے۔

(3) قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔

(4) تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ کرلیا جائے۔

(5) بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں۔

(6) وفاقی سطح پر مقابلہ کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی اداروں کی مندرجہ بالا سفارشات پر عمل کیا جائے۔

(7) ان عدالتی فیصلوں کا، جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں یا جو آرٹیکل 189 کے تحت اصولِ قانون کی وضاحت کرتے ہوں، لازماً اردو میں ترجمہ کروایا جائے۔

(8) عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتی الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہوسکیں کہ وہ مؤثر طریقے سے اپنے قانونی حقوق نافذ کرواسکیں۔

(9) اس فیصلے کے اجراء کے بعد، اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔

(20) اس فیصلے کی نقل تمام وفاقی اور صوبائی معتمدین کو بھیجی جائے تاکہ وہ آرٹیکل 5 کی روشنی میں آرٹیکل 251 پر عمل در آمد کے لئے فوری اقدام اٹھائیں۔ وفاق اور صوبوں کی جانب سے اس ہدایت پر عمل در آمد کی رپورٹ تین ماہ کے اندر تیار ہوکر عدالت میں پیش کی جائے‘‘۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک بار پھر اخبارات و جرائد میں انگریزی، اردو اور قومی و علاقائی زبانوں کے سوال پر ایک صحت مندانہ علمی مباحثے کا موضوع بنا ، اردو و انگریزی کے حق اور مخالفت میں مضبوط دلائل سامنے آئے۔ ذرائع ابلاغ کی تقسیم بڑی واضح رہی۔ اردو اخبارات اور رسائل میں اردو کے حق میں جبکہ انگریزی ذرائع ابلاغ میں انگریزی کے حق میں کالم اور مضامین چھپے۔ اردو کے حق میں دلائل زیادہ تر جاپان، روس، چین اور کوریا کی ترقی کی مثالیں لئے ہوئے تھے، جنہوں نے اپنی قومی زبان کو اپناکر علوم اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی حاصل کی جب کہ انگریزی کے حق میں دلائل کا مرکزی نکتہ عالمگیریت کے حقیقی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا رہا۔

اس پوری بحث کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جانبین پاکستانی تناظر میں مختلف زبانوں بالخصوص انگریزی اور اردو کو ایک دوسرے کی رقیب زبانیں قرار دینے پر مصر رہے، بجائے اس کے کہ زبانوں کو انسانی معاشرے کے اظہار کا ذریعہ قرار دیں اور ان کے درمیان تعاون اور باہمی تعامل کے پہلو کو اُجاگر کریں۔

اس لسانی قضیّہ کی ابتداء پاکستان کی تخلیق کے ساتھ ہی ہوئی جب 1948 میں پاکستان کے گورنر جنرل قائداعظم محمدعلی جناح نے ڈھاکہ میں اردو کو قومی زبان کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ اس دن سے اردو اور بنگلہ زبان کے سوال نے پاکستان کے مشرقی بازو (مشرقی پاکستان، اب بنگلہ دیش) میں شدید ارتعاش پیدا کیا۔ فی الحقیقت پاکستان کے دونوں حصوں کے درمیان فیصلہ کن ناراضگی کی جڑیں اسی لسانی مسئلے میں پیوست تھیں جو بالآخر پاکستان کی تقسیم پر منتج ہوئیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب تک لاینحل رہا ہے اور اس پر اجتماعی ذہنی یکسوئی کا شدید فقدان ہے۔

ہمارا قومی المیہ ہے کہ مسائل کے عمیق مطالعے ،تجزیہ اور تحلیل کی کوئی روایت قائم نہیں ہوئی اور نہ ہی ہمارے ہاں اجتماعی دانش کے ادارے (Think Tanks) موجود ہیں جو مشکل معاملات پر تحقیق کرکے قوم کی سمت متعین کرنے کی کوشش کریں اور رہنمائی کا فریضے سرانجام دیں۔ چنانچہ اس لسانی قضیّے پر بھی اب تک کوئی اعلیٰ معیار کا علمی کام سامنے نہیں آیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امید کی جاتی تھی کہ کم از کم ملک کی جامعات اس موضوع پر سیمینارز اور مکالمے کی ابتداء کرلیں گی، لیکن اب تک کوئی ایسی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ لسانی موضوعات پر پروفیسرطارق رحمان صاحب شاید واحد سکالر ہیں جنہوں نے اس موضوع پر بھرپور تحقیق کی ہے، لیکن اس تحقیق سے بھی حکومتی یا جامعاتی سطح پر کوئی خاص استفادہ نہیں کیا جارہا اور پروفیسر صاحب اب تک اس شاہراہ کے ’’تنہا مسافر‘‘ دکھائی دیتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد نے بھی اس پر کچھ کام کیا ہے جو ’’پاکستان میں ذریعہ تعلیم کا مسئلہ‘‘ کے عنوان سے منصءِہ شہود پر آیا۔ توقع کی جاتی تھی کہ اردو یونیورسٹی اس میدان میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے آگے آئے گی، لیکن افسوس کہ وہاں بھی اب تک اعلیٰ عہدوں تک رسائی اور مراعات کا حصول ہی بڑی ترجیح ہے، نہ کہ وہ ہدف جس کے لئے اس یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ لاہور کی یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی نے نومبر 2015 کے اواخر میں البتہ اس عنوان پر ایک کانفرنس کا اہتمام کیا، جو کہ اب تک شاید واحد باضابطہ علمی سرگرمی ہے۔

نومبر 2015 کے پہلے ہفتے کے اخبارات میں یہ خبر بھی نظر سے گزری کہ پنجاب کی حکومت سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے حوالے سے اپیل دائر کرچکی ہے اور وفاقی حکومت بھی ایسا کرنے والی ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت کے پاس اس کے سوا اور کیا دلیل ہے کہ اس وقت سرکاری اداروں کے پاس سپریم کورٹ کے حکم پر عمل در آمد کے لئے مناسب انتظامات موجود نہیں اور مزید مہلت درکار ہے۔

اردو اور دیگر علاقائی اور قومی زبانوں کے حوالے سے 1973 کے آئین پاکستان کے آرٹیکل 251 اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے قطع نظر ذیل میں کچھ حل طلب سوالات پیش کئے جاتے ہیں، جن پر غوروخوض کی ضرورت ہے:

1۔ کیا قیام سے لے کر اب تک پاکستان میں ریاستی سطح پر متفقہ لسانی پالیسی بنانے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے؟

2۔ اردو کے بارے میں یہ سوال علمی حلقوں میں پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ کیا یہ واقعی قومی زبان(National Language) ہے یا محض قومی رابطے کی زبان؟ قومی زبان کی معیاری تعریف کیا ہے؟ کیا اردو اس تعریف پر پورا اترتی ہے؟ اردو پاکستانی صوبوں میں کس صوبے کی زبان ہے؟

3۔ کیا دیگر زبانیں (مثلاً پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی) علاقائی زبانیں ہیں یا وہ بھی قومی زبانیں ہیں؟ اور کیا پاکستان قومی زبان کے حوالے سے یک لسانی ملک ہوسکتا ہے یا اس کو اس حوالے سے کثیراللسانی ملک سمجھا جائے۔

4۔ کیا پاکستان کے دور دراز دیہاتی علاقوں میں بچوں کے لئے اردو اتنی ہی ’’ناما نوس‘‘ زبان نہیں جتنی انگریزی ہے؟ کیا ان کو اردو میں پڑھانا اتنا ہی محنت طلب کام نہیں جتنا انگریزی میں پڑھانا؟

ان سوالات کے علاوہ کچھ زمینی حقائق بھی ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں، جن کے اسباب پر سوچنا اہل علم کی ذمہ داری ہے:

1۔ اس وقت پاکستان شاید ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کی اکثریت اس قابل نہیں کہ کوئی بھی زبان صحیح طریقے سے بول سکے (نہ انگریزی اور نہ ہی اردو یا مادری زبانیں۔ انگریزی کے حوالے سے پاکستانی اشرافیہ یا اپنی خصوصی محنت کے ذریعے ایک محدود تعداد اور اردو زبان میں ادبی میدان سے منسلک افراد کے استثنیٰ کے ساتھ)۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ شہری اور خواندہ لوگوں کی نسبت مادری زبانیں تو ان پڑھ اور دیہاتی لوگ زیادہ بہتر بولتے ہیں۔

2۔ پاکستانی آئین 1973 کے دفعہ 251 کے مطابق صوبائی حکومتیں آئینی طورپر پابند ہیں کہ وہ علاقائی زبانوں کے فروغ کے طور کے لئے عملی اقدامات اُٹھائیں۔ اس سلسلے میں 42 سال گزرنے کے باوجود (1973 تا 2015) کسی صوبے میں کچھ نیم دلانہ اقدامات اور غیرمؤثر اداروں کے قیام کے سوا کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی۔ ادبی بورڈز کے نام سے ادارے قائم کئے گئے ہیں لیکن وہ ہر چند کہیں کہ ہیں، نہیں ہیں کے مصداق ہیں۔

3۔ پاکستان میں نوخیز برقیاتی ذرائع ابلاغ (الیکٹرانک میڈیا) نے تو اردو اور دیگر علاقائی زبانوں کا ستیاناس کردیا۔ بہتر ریٹنگ کے حصول کے لئے ہمارے ٹیلی ویژن چینلز فیشن شو کا مقابلہ بن گئے ہیں۔ اردو اور علاقائی زبانوں کے پروگراموں کے نام سے غلط سلط انگریزی کو ملاکر زبانوں کا ایک ملغوبہ (جس کو بآسانی پاکستانی اسپرانتو کہا جاسکتا ہے) قوم پر مسلّط کیا جا رہا ہے۔ نتیجۃً نئی نسل بڑی سرعت کے ساتھ اظہار کی چاشنی سے محرومی کا شکار بنتی جارہی ہے۔ مصروف ترین اور معتبر ترین چینلز بھی زبان کی صحت کی سعی سے راہ فرار اختیار کرچکے ہیں۔ مثلاً ابھی حال ہی میں ایک چینل کے سرخی چل رہی تھی کہ سرائے سینا میں روسی جہاز گر گیا یعنی یہاں تک معلوم کرنے کی کوشش نہ کی گئی کہ کیا سینا سرائے ہے یا صحرا۔ مُنْتَخَبْ (خاء کے اوپر زبر) کی جگہ مُنْتَخِبْ (خاء کے نیچے زیر) اور مُغْوٰی (واو کے اوپر کھڑا زبر، اغوا شدہ) کی جگہ مُغْوِی (واو کے نیچے زیر، اغوا کنندہ) جیسے الفاظ تو اب غلط العام بن چکے ہیں۔ لفظ ’’عوام‘‘ کو مؤنث استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں پشتو کے چینلز دیکھیں تو لگتا ہے کہ یہ پختونخوا کی نہیں بلکہ برطانیہ کے کسی شہر کے باسیوں کا بگڑا ہوا لہجہ ہے اور لگتا ہے کہ پشتو زبان الفاظ کی تنگ دامنی کا شکار ہے۔ البتہ افغانستان کے چینلز دیکھیں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ لسانی اظہار کی یہ زبان الفاظ کے کس قدر وسیع ذخیرہ کی حامل ہے۔ یقیناًیہی حال دیگر علاقائی زبانوں کا ہوگا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی شق نمبر6 خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ اس شق میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ وفاقی سطح پر مقابلہ کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی اداروں کی مندرجہ بالا سفارشات پر عمل کیا جائے۔ مندرجہ بالا سفارشات دراصل 1981ء میں مقتدرہ قومی زبان (موجودہ ادارہِٗ فروغ قومی زبان) کے مراسلے نمبرCMA No.2019/2015 کی طرف اشارہ ہے جو ڈپٹی اٹارنی جنرل کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ ان سفارشات کی عبارت ذیل میں درج کی جاتی ہے:

’’(i) مقابلے کے امتحانات میں عملی اردو کا ایک لازمی پرچہ ہونا چاہیئے جس کے کل نمبر 50 ہوں۔

(ii) اردو ادب کا ایک اختیاری پرچہ متعارف کرایا جائے جس کے نمبر200 ہوں۔

(iii) مقابلے کے امتحانات کے لئے اردو کو فوری طورپر زبان کے طورپر اپنایا جائے اور تمام پرچہ جات اردو اور انگریزی میں دئیے جائیں‘‘۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے اطلاقات اور تحدیات :

1۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا فوری اطلاق یہ ہے کہ حکومت پاکستان پر یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اندر آئین پاکستان کی شق 251 کے مطابق اردو زبان کے فوری نفاذ کو یقینی بنائے۔ یہ مدت 8 دسمبر 2015 کو ختم ہوچکی ہے اور اب زمینی حقیقت یہ ہے کہ پورا ملک عملاً سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔

2۔ اس فیصلے کے عملی نفاذ کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری سرپرستی میں متعلقہ تعلیمی ادارے مختصر دورانیے کے عملی پروگرام شروع کریں تاکہ موجودہ دفتری عملہ اور ملازمتوں کے منتظر گریجویٹ طلبہ/طالبات اردو میں خطوط کی ٹائپنگ اور اردو کمپیوٹر کا استعمال سیکھ لیں۔ نجی تعلیمی ادارے بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے پروگراموں کے لئے مناسب فیس رکھی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے بھی ابھی تک کوئی عملی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ کبھی تو یوں لگتا ہے کہ شاید کہیں بھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی۔

3۔ قومی زبان کے لئے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لئے ماہرین کی بااختیار کمیٹی قائم کرنا ضروری ہے۔ ابھی تک اس بارے میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔ اگرچہ یہ معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں کیونکہ اردو کے لئے نستعلیق (فارسی طرز) رسم الخط ہی مناسب ہے۔خصوصی حوالوں کے لئے خط نسخ (عربی طرز) استعمال کیا جاسکتا ہے۔

4۔ اس فیصلے کے تحت تین ماہ میں وفاقی اور صوبائی قوانین کا اردو ترجمہ فراہم کرنا ضروری ہے۔ وفاقی وزارت قانون و انصاف نے اس مقصد کے حصول کے لئے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ ایک ادارے کو اردو ترجمے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔ لیکن یہ کام ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے۔

5۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی شق 8 کے تحت سرکاری محکموں کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے جوابات حتی الامکان اردو میں پیش کریں۔ اس سلسلے میں ابھی تک ’’پہلا قدم‘‘ بھی نہیں اُٹھایا گیا ، کیونکہ اس کے لئے بنیادی انتظامات (Basic Infrastructure) تک دستیاب نہیں یعنی اردو میں روداد اور فیصلے لکھنے کے ماہرین اور اردو کمپیوٹرز۔ اگرسپریم کورٹ کے فیصلے اور زمینی حقائق کو ملاکر دیکھا جائے تو بالکل ایک نئی صورت حال سامنے آتی ہے۔ اگر توہین عدالت نہ ہو تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا آئین 1973 میں تشکیل دیا گیا ہے جب کہ دنیا ’’مقامیت (Localization)‘‘ کے دور سے گزر رہی تھی۔ لیکن اب عالمی صورت حال یکسر بدل گئی ہے اور دنیا عالمگیریت/ بعد از عالمگیریت (Globalization/ Post-Globalization) کے دور سے گزر رہی ہے جس میں انگریزی زبان کی اہمیت بے انتہا بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ یہ اب مسلمہ طورپر ہر قسم کی سائنس، فنون اور معاشرتی علوم کے غالب ترین ذریعے کے طورپر سامنے آئی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اب تو جاپان، چین، روس، کوریا، ملائیشیا اور ترکی کی عالمی مقابلے کی جامعات انگریزی زبان کے استعمال کی طرف بڑھ چکی ہیں/ بڑھ رہی ہیں۔ اس صورت حال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی سطح پر ایک عمیق علمی مباحثے کی شروعات کی جائے تاکہ پاکستان 21 ویں صدی کے تناظر میں ایک جامع لسانی پالیسی کی تشکیل کی طرف بڑھ سکے۔ یہ ایک دقت طلب کام ہے اور اس کے لئے بڑی علمی محنت درکار ہے، جس کے لئے حکومت کی سرپرستی ضروری ہے۔ اگر اس سلسلے میں کوئی اتفاق رائے سامنے آجائے تو پھر آئین کی شق 251 میں شاید ترمیم درکار ہو۔ 21 ویں صدی کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں مادری اور قومی رابطے کی زبانوں کے فروغ کو مکمل اہمیت دی جانی ضروری ہے، وہاں انگریزی کو بھی اعلیٰ درجے کے لئے ضروری قرار دئیے بغیر کام نہیں چلے گا۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اس وقت زبانوں کے پڑھانے یا ان سے استفادے کا نظام بالکل ازکار رفتہ (outdated) ہے اور اس میدان میں یکسر انقلابی فیصلے درکار ہیں۔ مقتدرہ قومی زبان (موجودہ ادارہ فروغ قومی زبان) کی وقتاً فوقتاً سفارشات پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ سفارشات مقامیّت کے دورکی ہیں اور عالمگیریت/ بعد از عالمگیریت کے دور کے ساتھ ہرگز ہم آہنگ نہیں (یہ سفارشات 1981ء اور اس کے بعد پیش کی گئی تھیں)۔ ذیل میں ان سفارشات کو من و عن پیش کیا جاتا ہے، تاکہ معاصر حالات میں ان کا تقابلی جائزہ لیا جاسکے۔

ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کی سفارشات:

’’الف۔ دفتری اور کاروباری زبان کے طورپر اردو کو اپنانے کے ضمن میں:

(i)۔۔۔ صدرِ پاکستان ایک آرڈیننس جاری کرکے، مرحلہ وار اردو کو دفتری اور کاروباری زبان کے طورپر اپنانے کے لئے ایک حکمنامہ جاری کریں۔

(ii) ۔۔۔کے بعد اردو زبان میں روادیں، مسودہ کی تیاری اور خلاصہ نویسی کا کام کیا جائے۔

(iii)۔۔۔کے اختتام تک اردو زبان میں دفتری امور انجام دینے کا تقریباً تین چوتھائی کام ہوجائے گا۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اردو ٹائپ مشین کی خریداری کے لئے فنڈز فراہم کرے۔

(iv)۔۔۔تک کابینہ ڈویژن کے تمام خلاصہ جات اور اردو زبان میں تیار کیے جائیں گے اور وفاقی سیکریٹریٹ بشمول ایوانِ صدر کے تمام امور اردو زبان میں انجام دیئے جائیں۔

ب۔ اردو کو بطور ذریعہ تعلیم اپنانے کے لئے سفارشات :

(i)۔۔۔کے بعد انٹرمیڈیٹ (ایف اے، ایف ایس سی، آئی کام) پیشہ وارانہ ڈپلومہ، بی اے، ایم کام، بی ایڈ اور ایل ایل بی کے لئے ذریعہ تعلیم اردو زبان میں ہو۔

(ii)۔۔۔کے بعد بی ایس سی، ایم ایس سی، بی ای، ایم اے، ایم کام، ایم ایڈ، بی بی اے اور ایل ایل ایم کے تمام امتحانات اردو زبان میں ہوں۔

(iii)۔۔۔کے بعد ایم ایس سی اور ایم بی اے کے امتحانات بھی اردو میں منعقد ہوں۔

(iv)۔۔۔یہ بھی سفارش کی گئی تھی کہ ملک کے ہر ایک ڈویژن میں ایک ماڈل اردو سکول قائم کیا جائے۔ تدریس کی زبان کے طورپر اردو کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے ورکشاپس منعقد کرائی جائیں۔ تمام پی ایچ ڈی کے مقالات کا اردو ترجمہ کیا جائے اور تمام نئے مقالات کا ایک خلاصہ اردو میں دینا ضروری قرار دیا جائے نیز انگریزی ذریعہ تعلیم کے سکولوں کے قیام کی حوصلہ شکنی کی جائے‘‘۔

ظاہر ہے کہ یہ سفارشات اس حد تک تو قابل عمل ہیں کہ دفاتر میں اردو زبان میں رودادیں، مسودہ کی تیاری اور خلاصہ نویسی کا کام جائے۔ لیکن ان سفارشات کے تحت ایم ایس سی (فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، زوالوجی، باٹنی اور دیگر سائنسی علوم) کے نصاب کو بھی مکمل طورپر اردو زبان میں ڈھالا جانا مطلوب ہے۔

علاوہ ازیں ایم کام اور ایم بی اے (یعنی کامرس اور بزنس ایڈمنسٹریشن) کے لئے مطلوبہ مواد بھی اردو زبان میں فراہم کیا جائے گا۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، کامرس، بزنس اور منیجمنٹ سائنس میں انگریزی زبان میں بہت ہی اعلیٰ پائے کا مواد سامنے آرہا ہے، جس کو اردو زبان میں ترجمہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ کیا یہ مناسب ہوگا کہ ہم اپنی جامعات اور نوجوانوں کو آج کی بین الاقوامی معاصر علمی ترقی کے آلات سے کاٹ دیں۔

3۔ ایک سنجیدہ علمی مباحثے کے ذریعے ہمیں کسی بہتر نتیجے پر پہنچنے کے لئے غور و فکر کرنی چاہیئے۔ ابتدائی تفہیم کے لئے مادری زبان سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مادری زبانوں کی اہمیت کا ادراک کیا جائے اور ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو۔ اقوام متحدہ کی سفارشات بھی اس سلسلے میں موجود ہیں۔ قرآن پاک میں بھی یہ ذکر ہے کہ انبیاء کرام نے اپنی قوم کی زبان میں اﷲتعالیٰ کا پیغام پہنچایا کیونکہ مادری زبان ہی اشیاء اور پیغام کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کے لئے مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ اس لئے انگریزی کو ابتدائی جماعتوں سے ذریعہ تعلیم بنانا کوئی مفید کام نہیں۔ مادری زبان کے ذریعے مرحلہ وار اردو اور اس کے ساتھ ساتھ انگریزی کو شامل نصاب اور ذریعہ تعلیم بنانا مناسب رہے گا۔ اس سلسلے میں زبانوں کی سکھلائی کے بین الاقوامی طورپر مسلّمہ اصول و طریقوں سے استفادہ ضروری ہے۔ طوطوں کی طرح رٹے کا انداز انتہائی غیر مفید ہے۔ ہمیں قومی طورپر اس بات پر سوچنا چاہیئے کہ وہ گریجویٹس جو تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کی صلاحیت رکھتے ہوں، ان ہی کی انگریزی زبان سے استفادے کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا جائے۔ ضروری نہیں کہ ہر طالب علم پر کئی زبانوں کا بوجھ لاد دیا جائے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی شق 2 میں حکومت پاکستان کے مراسلہ مؤرخہ 6 جولائی 2015 کا ذکر ہے، جس میں اردو زبان کے نفاذ کے حوالے سے کچھ اقدامات کی نشان دہی کی گئی ہے اور میعاد کا تعیّن کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اس میعاد کی ہر صورت میں پابندی کی جائے اور سپریم کورٹ کے ساتھ کیا گیا عہد پورا کیا جائے۔ ذیل میں یہ مراسلہ نمبر 1/Prog/2015 من و عن پیش کیا جاتا ہے تاکہ واضح ہو کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو کیا یقین دہانیاں کرائی ہیں اور دیکھا جائے کہ اس پر اب تک کتنا عمل درآمد ہوا ہے۔

یہ خط کابینہ سیکرٹریٹ، کابینہ ڈویژن(اسلام آباد)کی طرف سے ہے اس خط پر ڈاکٹر ارم انجم خان، جوائنٹ سیکرٹری کے دستخط ہیں۔

’’عنوان: سرکاری و دیگر مقاصد کے لئے اردو زبان کے استعمال کے متعلق انتظامات :

جیسا کہ آپ کے علم میں ہوگا، آئین پاکستان کا آرٹیکل 251 اردو زبان کے سرکاری اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال کا تقاضاکرناہے۔ اس سلسلے میں عزت مآب وزیراعظم پاکستان نے لائحہ عمل منظور فرمایا ہے جوکہ لف ھذٰا ہے۔

2۔ بذریعہ مراسلہ ھذٰا گزارش ہے کہ منسلکہ لائحہ عمل پر عمل در آمد کرنے کے لئے فوری طورپر اقدامات شروع کردئیے جائیں۔

فوری/ قلیل مدتی اقدامات :

1۔ وفاق کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام ادارے (سرکاری و نیم سرکاری) اپنی پالیسیوں کا تین ماہ کے اندر اردو ترجمہ شائع کریں۔

2۔ وفاق کے زیر انتظام کام کرنے والے ادارے (سرکاری و نیم سرکاری) تمام قوانین کا اردو ترجمہ تین ماہ میں شائع کریں۔

3۔ وفاقی حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام ادارے (سرکاری و نیم سرکاری) ہر طرح کے فارم تین ماہ میں انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی فراہم کریں۔

4۔ تمام عوامی اہمیت کی جگہوں مثلاً عدالتوں، تھانوں، ہسپتالوں، پارکوں، تعلیمی اداروں، بینکوں وغیرہ میں راہ نمائی کے لئے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بورڑ تین ماہ کے اندر آویزاں کیے جائیں گے۔

5۔ پاسپورٹ آفس، محکمہ انکم ٹیکس، اے جی پی آر، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، واپڈا، سوئی گیس، الیکشن کمیشن آف پاکستان، ڈرائیونگ لائسنس اور یوٹیلٹی بلوں سمیت تمام دستاویزات تین ماہ میں اردو میں فراہم کریں۔ پاسپورٹ کے تمام اندراجات انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی منتقل کیے جائیں۔

6۔ وفاقی حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام ادارے (سرکاری و نیم سرکاری) اپنی ویب سائٹ (Website) تین ماہ کے اندر اردو میں منتقل کریں۔

7۔ پورے ملک میں چھوٹی بڑی شاہراہوں کے کناروں پر راہ نمائی کی غرض سے نصب سائن بورڈ تین ماہ کے اندرانگریزی کے ساتھ اردو میں بھی نصب کیے جائیں۔

8۔ تمام سرکاری تقریبات/ استقبالیوں کی کارروائی مراحلہ وار تین ماہ کے اندر اردو میں شروع کی جائے۔

9۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور تمام وفاقی سرکاری نمائندے اور افسر ملک کے اندر اور باہر اردو میں تقاریر کریں اور اس کام کا مراحلہ وار تین ماہ کے اندر آغاز کردیا جائے۔

10۔ اردو کے نفاذ و ترویج کے سلسلے میں ادارہ فروغِ قومی زبان کو مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ اس قومی مقصد کی بجا آوری کے راستے کی رکاوٹوں کو موثر طریقے سے جلد از جلد دور کیا جاسکے‘‘۔

حکومت پاکستان کی یہ یقین دہانیاں آسانی کے ساتھ روبہ عمل لائی جاسکتی ہیں، لیکن تاحال اس ضمن میں کوئی خاص پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ یقین دہانی نمبر9 پر تاہم از سرنو غور کرنے کی ضرورت ہے اور اس معاملے میں زیادہ حساس ہونے کی ضرورت نہیں۔ جہاں اردو سمجھنے والے شرکاء اور سامعین/ حاضرین کی تعداد زیادہ ہو تو بے شک وہاں انگریزی میں خطاب کرنا نامناسب ہوگا، لیکن اگر شرکاء اور سامعین/ حاضرین کی اکثریت اردو سے نابلد ہو تو وہاں اردو ہی میں خطاب پر اصرار ناقابل فہم ہے۔ خطاب کا مقصد بہتر تأثر قائم کرنا اور مؤثر ابلاغ ہوتا ہے، اس لئے زبانوں کو رقابت کا نہیں، بلکہ مثبت تعامل کے ذریعے کے طورپر دیکھنا چاہیئے۔ بایں ہمہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ زبانوں کا قضیّہ ایک مشکل معمّہ ہے، لیکن اس کا حل آسان ہے، شرط یہ کہ ہمارے پالیسی ساز اور مقتدر طبقات کو اس بات کا احساس ہوجائے کہ 21 ویں صدیں میں سکّہ رائج الوقت کیا ہے اور پاکستان کے لئے تحدیات اور امکانات کیا ہیں؟