working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 سیاسی عمل کو وسعت دیجیے

نقطۂ نظر

مقامی کونسلوں کا ایک انتہائی اہم مگر نظر انداز شدہ کردار

مفتی محمد زاہد

مفتی محمد زاہد جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے وائس پرنسپل ہونے کے ساتھ ان عصری مسائل پر گہری گرفت رکھتے ہیں جو شرعی بحث کے تناظر میں پیدا ہوتے ہیں ۔ ان کا زیر نظر مضمون پاکستان میں مقامی کونسلوں کے قیام کے بعد ان کے مصالحتی کردار کا احاطہ کرتا ہے، شریعت کے اندر بھی خانگی معاملات میں مصالحتی ادارے کا تصور موجود ہے جسے حکومت نے یونین کونسلوں کو تفویض کیا ہے ۔اس سلسلے میں کیا مسائل ہیں اس کا جائزہ زیر نظر مضمون میں لیا گیا ہے۔(مدیر)

ملک کے چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے مراحل پای ۂ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں۔ پنجاب ، سندھ اور وفاقی دارالحکومت کے علاقوں میں مقامی حکومتوں کے وجود میں آنے سے ملک کے بیش تر حصوں میں کم از کم ڈھانچوں کی سطح پر ہم جمہوریت کی تکمیل کے دور میں داخل ہوجائیں گے۔ ملک کے بیش تر حصے اس لئے کہا کہ فاٹا کی قسمت کب جاگے کی کچھ کہنا مشکل ہے۔

مقامی حکومتوں کی اہمیت اور ذمہ داریوں کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتاہے، مثلاً یہ کہ نچلی سطح پر مسائل کے حل کے لئے لوگوں کے منتخب نمائندے ان کی رسائی میں ہوں گے، مقامی مسائل کے حل کا اصل پلیٹ فارم موجود ہونے کی وجہ سے ممبرانِ اسمبلی اپنی اصل ذمہ داریوں کی طرف زیادہ توجہ دے سکیں گے۔ مقامی نمائندوں کے ترقیاتی کردار کے بارے میں بات بھی ہوتی ہے اور لوگ اس بارے میں بہت کچھ جانتے بھی ہیں۔ یہاں مقامی نمائندوں کی ذمہ داریوں کے ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جس سے شاید خود یہ منتخب نمائندے بھی پورے طور پر آگاہ نہیں ہوتے اور وہ ہے ان کا سماجی کردار۔ مختلف سطحوں پرمقامی تنازعات کے حل میں ان کو شامل ہونا پڑتا ہے، کہیں قانون انہیں یہ کردار دیتا ہے اور کہیں علاقے کا کرتا دھرتا ہونے کے ناطے انہیں پنچایت اور جرگوں کی شکل میں تنازعات کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر2013ء کے پنجاب کے مقامی حکومتوں کے قانون کی سیکشن96 تا 99 میں مقامی کونسلوں کے تحت رضا کارانہ طور انجام پانے والے حل تنازعات کے بارے میں تفصیل درج ہے۔ قانون کے مطابق مختلف سطح کی مقامی کونسلیں مختلف سطحوں پر پنچایتوں یا مصالحت انجمنوں کی تشکیل کریں گی، جن کے ارکان کی تعداد وغیرہ کا تعین قانون میں موجود ہے۔ قانون کی سیکشن 99 کی سب سیکشن (2) کے تحت ان پنچایتوں یا مصالحت انجمنوں کی کارروائی میں کسی فریق کی طرف کوئی لیگل پریکٹیشنر یعنی کوئی وکیل پیش نہیں ہوسکتا ، جس کی وجہ سے یہ مصالحتی کارروائی حقیقت کے زیادہ قریب ہونے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ عدالتوں کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مناسب سمجھیں تو خاص شرائط کے ساتھ کسی بھی مقدمے کو پنچایت یا مصالحت انجمن میں بھیج سکتی ہیں۔ اسی طرح کا اختیار پولیس افسران کو بھی دیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں عدالت سے باہر حل تنازعات کی صورتوں کو قابلِ ترجیح سمجھا جاتا ہے، اس طرح کے حل میں خالصتاً قانونی باریکیوں اور تکنیکی پہلوؤں کی بجاے عملی حقائق اور کسی بھی تنازعے کے اسباب ومحرکات کو زیادہ مد نظر رکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ویسے ہی عدالتوں پر کام کے بہت زیادہ بوجھ ،مقدمات کی بھرماراور وکلا کے تاخیری حربوں کی وجہ سے تنازعات کے حل کی رفتار حد سے زیادہ سست ہوتی ہے۔ سست رفتار فراہم ئ انصاف جہاں درحقیقت فراہمئ انصاف سے انکار کے مترادف ہے وہیں کسی تنازعے کا زیادہ عرصے تک غیر حل شدہ حالت میں موجود رہنا سماجی صحت اور سماجی رویوں پربھی برے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس موضوع پر پاکستان کے تناظر میں شاید خاصے تحقیقی کام کی گنجائش ہوگی کہ حل تنازعات میں تاخیر یا فریقین کے لئے غیر اطمینان بخش حل ہماری سماجی صحت پر کیا اثرات مرتب کررہاہے۔

اس سلسلے میں ایک شعبہ ایسا ہے جہاں سماجی کردار مقامی کونسلوں کا صرف اختیار نہیں ان کی قانونی ذمہ داری ہے اور لکھے ہوئے قانون کے مطابق یہ صورتِ حال ساٹھ کی دہائی سے چلی آرہی ہے لیکن شاذ ونادر ہی یونین کونسلز کے چئیرمین اور رکن حضرات اس کی طرف مناسب توجہ دے پاتے ہیں اور شاذ ونادر ہی اس کے بارے میں بات ہوتی ہے۔ اور وہ ہے طلاق ، تنسیخ نکاح، خلع اور بعض دیگر خاندانی مسائل میں ان نمائندوں کا قانون کی طرف سے تفویض کردہ کردار۔ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1921ء کے مطابق ہر طلاق کا نوٹس یونین کونسل میں جاتا ہے، کسی بھی عدالت سے فسخِ نکاح یا خلع کی ڈگری جاری ہوتی ہے یا کسی بھی طریقے زوجین میں تفریق ہوتی ہے تو اس قانون کے مطابق وہ بھی یونین کونسل میں جاتی ہے۔ یونین کونسل کے چئیرمین کا کام ہوتا ہے کہ وہ تیس دن کے اندر اندر ایک ثالثی کونسل تشکیل دے (زوجین کے مسلمان ہونے کی صورت میں اس کے سربراہ کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے) یہ ثالثی کونسل چئرمین کے علاوہ فریقین کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔یہ کونسل فریقین میں مصالحت کی کوشش کرے گی، اس آرڈیننس کی سیکشن 7 اس ذمے داری کو ان لفظوں میں بیان کرتی ہے: The Arbitration Council shall take all steps necessary to bring about such reconciliation. یعنی ثالثی کونسل تمام وہ قدم اٹھائے گی جو زوجین میں مصالحت کرانے کے لئے ضروری ہیں۔ گویا کونسل کا کام سرسری کوشش کرکے فارغ ہوجانا نہیں ہے۔مصالحت کی کوشش کے باوجود اگر کونسل اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ فریقین میں مصالحت اور نباہ ممکن نہیں ہے تو وہ طلاق یا فسخِ نکاح وغیرہ کا باقاعدہ سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہے۔ گویا عدالت کا فیصلہ بھی یونین کونسل یا ثالثی کونسل کے سامنے لازماً پیش ہوتا ہے اور اس پر عمل در آمد تب شروع ہوتا ہے جب ثالثی کونسل زوجین میں مصالحت کرانے میں ناکام یا اس سے مایوس ہوجائے۔اس وقت موضوع کا فقہی زاویہ زیرِ بحث نہیں ہے۔ تاہم قرآن کی اصل روح یہ ہے کہ زوجین میں تنازعے کی صورت میں فریقین کے نمائندوں پر مشتمل ثالثی کے ذریعے ان کے تنازعے کو حل کرنے کوشش کی جاے ،قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ اگر نیک نیتی سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاے تو اس کے حل کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں(یاد رہے کہ ’’شقاق‘‘ یا تنازعہ سے مراد یہاں وہ صورت ہوتی ہے جہاں زوجین میں اَن بَن ہو لیکن قصور وار کا تعین مشکل ہو، جہاں ایک فریق کی زیادتی واضح ہو جیسے خاوند کی طرف سے جسمانی تشدد تو فقہا کی زبان میں اسے ظلم اور تعدی سے تعبیر کیا جاتا ہے ایسی صورت میں علیحدگی حاصل کرنا ویسے ہی بیوی کا حق بن جاتا ہے)۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964ء کی سیکشن10 کے مطابق فیملی کورٹس بھی اس بات کی پابند ہیں کہ اگر ممکن ہو تو باقاعدہ سماعت سے پہلے فریقین میں سمجھوتے یا مصالحت کی کوشش کریں گی۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو باقاعدہ سماعت کے لئے الگ سے تاریخ مقرر کی جاے گی2002ء میں ایک ترمیم کے ذریعے الگ سے تاریخ مقرر کرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگرچہ عدالت بھی سمجھوتے یا مصالحت کا موقع فراہم کرتی ہے تاہم ثالثی کونسل اس مقصد کے لئے موزوں تریں پلیٹ فارم ہے۔

گویا کتاب قانون میں جو کچھ لکھا ہوا ہے وہ بہت حدتک قرآنی منشا کے مطابق ہے، لیکن عملاً جو ہورہا ہے اس سے قرآن کا مقصد بالکل حاصل نہیں ہورہا۔ زوجین میں اَن بَن ہے (یہ بھی ذہن میں رہے کہ ہمارے ملک میں الٹرا ماڈرن محدود طبقے کو چھوڑ کر کسی خاتون کا علیحدگی کے لئے عدالت میں چلے جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی مسئلہ ضرور ہے) اَن بَن کی واضح وجہ اور خاوند کی زیادتی ثابت کرنا بوجوہ عورت کے لئے ممکن نہ ہو تو قرآن یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ مرد کی حاکمیت کے نام پر وہ یہ تجویز کرے کہ جدائی ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے کا اختیار صرف مرد کے پاس رہے گا۔کوئی اور اتھارٹی (معاشرہ یا ریاست) اس میں کچھ نہیں کرسکیں گے، قرآن یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ محض اَن بَن? کو دیکھ کر خاندان توڑنے میں جلد بازی کی جاے۔ قرآن بھی ثالث مقرر کرنے کا حکم دیتا ہے اورساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر وہ اصلاح کا ارادہ کریں گے تو اللہ نباہ کی کوئی صورت پیدا کردے گا (النساء35)۔ قانون ایک تو عدالت کو کہتا ہے کہ وہ اس طرح کے مقدمات کی سماعت سے پہلے فریقین میں مصالحت کی کوشش کرے۔ لیکن ظاہر ہے کہ عدالت کا مزاج بنیادی طور پر تکنیکی ہوتا ہے اس کے پاس خاندانی مسئلے کو سمجھ کر اسے سلجھانے کی صلاحیت بہت ہی محدود بلکہ نہ ہونے کے برابرہوتی ہے، اس لئے قانون عدالتی مصالحت کی ناکامی اور عدالتی فیصلہ آجانے کے بعد مصالحت کے لئے زیادہ موزوں پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے اور وہ ثالثی کونسل کا ہے۔ اگر یہ کونسل عوامی نمائندے کے علاوہ فریقین کے نمائندوں پر مشتمل ہو(جیساکہ آرڈیننس کی سیکشن 2کہتی ہے) تو سونے پر سہاگا ہے۔ اگر اس سے درست کام لیا جاے تو روحِ قرآن کے مطابق بہت سے گھرانے ٹوٹ پھوٹ سے بچ جاتے ہیں۔ اگر کوئی سمجھ دار شخص مسئلے کو اس کی بنیاد سے سمجھنے کی کوشش کرے تو عموماً مسئلہ بہت بڑا یا لاینحل نہیں ہوتا، بعض اوقات تو زوجین کا مسئلہ ہوتا ہی نہیں ہے بلکہ زوجین میں سے کسی کے بزرگ بلکہ ’’بزرگنی‘‘ کا ہوتا ہے۔ عدالت نے تحقیق کرکے کسی فریق کو قصوروار یا بے قصور ٹھہرانا ہوتا ہے جو کہ فریقین کی انا کا معاملہ بن سکتا ہے ، جبکہ اس طرح کے سماجی فورم نے کسی کو قصور وار یا بے قصور نہیں ٹھہرانا ہوتا بلکہ اس نے تحقیق کرکے اور کسی فریق یا فریقین کی غلطی دریافت کرکے اسے یا انہیں اپنا نفع نقصان سمجھانا ہوتا ہے، گویا اس کا کردار محض حاکمانہ نہیں ناصحانہ بھی ہوتا ہے،اس لئے اس میں انا کا مسئلہ نہ بننے اور غلطی سمجھ کر اس کی اصلاح کی طرف راغب ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں عملی طور پر عدالت اور ثالثی کونسل دنوں محض ڈاک خانہ بن کر رہ گئے ہیں۔ عورت کسی وکیل سے لگے بندھے الفاظ میں درخواست لکھواکر عدالت کے لیٹر بکس میں ڈال دیتی ہے، عدالت رسمی کاروائی کے لئے کچھ پیشیاں ڈال کر فیصلہ سنادیتی ہے، یہ ڈاک دوسرے ڈاک خانے یعنی ثالثی کونسل میں جاتی ہے وہاں اپنی مدت پوری کرکے ’’میچور‘‘ ہوجاتی ہے۔ اللہ اللہ خیر سلّا۔ جبکہ تنازعات کا حل ایک آرٹ تو ہے ہی اب ایک سائنس بھی بن چکا ہے۔ اس کے دنیا میں چھوٹے بڑے کورسز ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی سطح کے ان عوامی نمائندوں کو نہ صرف یہ کہ حل تنازعات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جاے بلکہ اس مقصد کے لئے مناسب تربیت بھی فراہم بھی کی جاے، بلکہ بہتر ہوگا کہ ہریونین کونسل یا متعدد کونسلوں کے مجموعے کو اس مقصد کے لئے اعلی تربیت یافتہ ماہرین مہیا کئے جائیں، کیونکہ نمائندے تو بدلتے رہتے ہیں یہ ماہرین مستقل ہوں گے اور نئے آنے والے نمائندوں کی راہ نمائی کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔ نوے کی دہائی میں ایک قدیم سیاسی خانوادے سے تعلق رکھنے والے ایک کونسلر نے مجھے بتایا کہ میں نے بطور چیئر مین یونین کونسل قانون کی طرف سے سونپی گئی اس ذمہ داری کو نباہتے ہوئے بہت سے گھروں کو ٹوٹ پھوٹ سے پچایا ہے۔

ڈھانچا کوئی بھی ہو، اچھا یا برا ، اسے یک دم ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردینا ہمیشہ مسائل ہی پیدا کرتا ہے۔ شرقِ اوسط کے بعض ملکوں میں انتہائی آمرانہ اور جابرانہ سیاسی ڈھانچوں کو ختم کرنے کے بعد جومسائل کے اس سے بھی بڑے عفریت سامنے منہ کھولے کھڑے ہیں اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔جب خاندانوں کوٹوٹنے سے بچانے کی بات کی جاتی ہے تو ہوسکتا ہے بعض لوگوں کو یہ دقیانوسی سی بات لگتی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی اس چیز کے ہمارے سماج پر مرتب ہونے والے اثرات سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر شدت پسندی کی طرف راغب ہونے والے نوجوانوں کے خاندانی پس منظر کے حوالے سے تحقیق کی جاسکتی ہے۔ ایک وہ خاندان ہے جو اپنے باہمی روابط کے اعتبار سے بہت مستحکم ہے، بہن بھائی اور والدین بچے اپنے خیالات وغیرہ ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں، دوسرا وہ خاندان ہے جو اندرونی طور پر مستحکم نہیں ہے اور اس کا ہر فرد خود اپنے ہی مقدر کا ستارا ہے، کس قسم کے خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوان کے شدت پسندی سمیت کسی سماجی برائی کی طرف راغب ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں تعلیمی ترجیحات میں بھی ایک المیہ یہ ہے کہ جتنی اہمیت قدرتی علوم کو دی جاتی ہے انسانی اورسماجی علوم وہ اہمیت ہمارے ہاں حاصل نہیں کرپائے، جو عزت ہمارے ہاں فزکس ، کیمسٹری وغیرہ میں اعلی تعلیم یافتہ کو حاصل ہوتی ہے سماجی علوم کے کسی شعبے کے ماہر کو حاصل نہیں ہوتی ، جس کی وجہ سے سماجی شعبے سے متعلق موضوعات ہمارے ہاں زیادہ موضوعِ تحقیق بھی نہیں بن پاتے۔

بہر حال مقامی کونسلوں کا قانونی کی بجاے سماجی انداز سے حل تنازعات کا کردار جو ابھی کاغذی شکل میں ہی قانون کی دفعات میں موجود ہے کو باقاعدہ موضوعِ بحث وتحقیق بنانے کی ضرورت ہے۔