working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 عدم تحفظ کی بنیاد پر بنے والی آبادیاں

قومی لائحہ عمل برائے انسداد دہشت گردی

کیا بحالی ممکن ہے؟

محمد عامررانا

 

زیر نظر مضمون محمد عامر رانا کی حالیہ کتاب ’’شدت پسند ‘‘ سے لیا گیا ایک باب ہے ۔یہ کتاب پاکستان میں شدت پسندوں کے تین درجوں پر پھیلے ان کے کردار کا احاطہ کرتی ہے جن کو مصنف نے زید ، بکر اور عمر کے فرضی ناموں سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس کتاب میں انھوں نے ہر کردار کے معروضی حالات وواقعات کا بڑی باریک بینی سے جازہ لیا ہے اور آخر میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان کی بحالی کے کتنے امکانات ہو سکتے ہیں اوراس کے لئے ممکنہ لائحہ عمل کیا ہوگا ؟دنیا میں مروجہ طریقہ کار کیا ہیں اور پاکستان کے معروضی حالات کس قسم کے بحالی کے پروگرام کے متقاضی ہیں ۔یہ سب کچھ اس میں سمیٹنے کی کی کوشش کی گئی ہے ۔(مدیر)

ایک مرتبہ پھر سوال اُٹھتا ہے کہ کیا زید ، بکر اور عمر کی بحالی ممکن ہے؟ کیا تینوں یا ان میں سے کوئی ایک اپنی سابقہ زندگی کی طرف آنا چاہے گا ؟ یہاں سابقہ زندگی سے کیا مراد ہے ؟ کیا اُس زندگی میں ایسی کشش تھی کہ یہ واپسی کا سو چیں ؟

جہاں تک زید کا تعلق ہے وہ زندگی کے بہت اوائل میں عسکریت پسندی کی جانب مائل ہُوا۔ اور پھر اُسے معاشی حالات بار بار عسکریت پسندی کی طرف دھکیلتے رہے۔ اگرچہ وہ ایک جہادی سماج کا حصہ بنا لیکن سابقہ زندگی کا رومان اُس کے ہاں موجود رہا۔

بکر اپنے اگلے تعلیمی مدارج میں جہادی سماج کا حصہ بنا۔ اس کا یہ شعوری فیصلہ تھا لیکن سابقہ زندگی میں اُس کے لیے زیادہ کشش نہیں ہے، جو اُسے سماجی اور معاشی مسائل کا حل دیتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اس کے مذہبی ، سماجی اور سیاسی نقطہ نظر میں’’وسعت‘‘ آ گئی ہے، جبکہ اُس کا خاندان ابھی پرانی اقدار پر قائم ہے۔

عمر اگرچہ زید کی عمر میں ہی جہادی زندگی کی طرف راغب ہُوا، لیکن اس کا یہ قدم ایک تجسس اور ایڈونچر بھری زندگی کے تجربے کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی قدم ہے اور اس کا تعلیمی اور سماجی پس منظر اسے اس تجربے کی راہ میں زیادہ رکاوٹ نہیں بنتا۔ یہ خود کو ایک بڑے سماج اور تبدیلی کا حصہ سمجھتا ہے۔

بظاہر لگتا ہے کہ زید کو راہنمائی فراہم کی جائے اور حوصلہ افزائی کی جائے تو وہ قدرے آسانی سے سابقہ زندگی کی طرف آسکتا ہے لیکن زید، بکر بننے کے عمل میں بھی ہے اور وہ جس سماج کا حصہ بن چکا ہے، اُس کی کشش برقرار ہے۔

بکر کی بحالی کے سلسلے میں لگتا ہے کہ بدلتے سیاسی اور نظری تناظر کے ساتھ اس کی رائے میں تبدیلی آسکتی ہے۔ مثلا فرض کریں اگر امریکہ کی افواج مکمل طور پر افغانستان سے نکل جائیں اور وہاں ایک پُرامن معاشرہ قائم ہو جائے۔ کشمیر جیسے مسائل حل کی جانب بڑھنا شروع ہو جائیں۔ ملکی سطح پر ایک اچھے طرز حکمرانی کی بنیادپڑجائے تو ممکن ہے اُس کی ذہنی ساخت میں تبدیلی آجائے۔ لیکن یہ مفروضہ اپنے اندر بہت سے اگر مگر لیے ہوئے ہے اور کیا ریاست اور معاشرہ ایک محدود طبقے کی ذہنی ساخت کی تبدیلی کے لیے طویل انتظار کر سکتے ہیں ؟

مذہبی نظریہ سازی میں اگر ایک مثبت تبدیلی آئے اور عسکریت پسند اپنے رویے اور نظریے پر نظر ثانی کریں تو ایک بڑی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے سے پیدا ہونے والے ردعمل نے باقاعدہ ایک رجحان کی شکل اختیار کر لی تھی۔ امریکہ اور مغرب مخالف جذبات اس رجحان کا مرکزہ ہے اور اس سے علیحدہ ہونے کے لیے کوئی تیار نہیں ۔ اس رجحان کی تشکیل میں مذہبی قیادت اور دانشوروں کا تذکرہ ہو چکاکہ خود احتسابی اور تنقیدی شعور جیسے رویوں کی کم یابی اس رجحان کی پرورش میں نمایاں رہی اور جو چند ایک کاوشیں ہوئیں بھی تووہ اس مجموعی رجحان کے سامنے نہ ٹھہر سکیں۔ یہ عمل اتنا آسان بھی نہیں ۔ مصر کی مثال سامنے ہے، جہاں جیلوں میں ایک فکری انقلاب نے جنم لیا تھا۔

مصر میں حسنی مبارک کی حکومت نے اسی کی دہائی میں جماعت اسلامیہ کے بیس ہزار کے قریب رہنما اور کارکن گرفتار کر رکھے تھے۔

1990ء کی دہائی میں گرفتار شدت پسندوں نے جب تنہائی اور موقع میسر آنے پر اپنی سابقہ زندگیوں، عسکری حکمت عملی اور اُس کے مذہبی جواز پر نظر ڈالی تو انہیں احساس ہُوا کہ عسکریت پسندی کی زندگی میں انہوں نے بہت سے بنیادی مذہبی احکامات کو نظر انداز کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے موئقف سے رجوع کیا اور Revision کے نام سے ان کے خطوط کا مجموعہ سامنے آیا۔(تفصیل کے لیے دیکھئے: عسکریت پسندی۔اہم زاویے، مرتب: علی عباس، نیریٹوز، اسلام آباد،2011)

رفتہ رفتہ الجہاد کے رہنما بھی جیلوں میں پہنچ گئے۔ جب یہ رہنما بوڑھے ہونے لگے تو انہوں نے سوچا کہ آخر ہماری زندگی کس کام آئی ؟ وہ پھر اپنے تجربات پر غوروفکر کرنے اور اسلامی کتابیں پڑھنے لگے۔ یوں اس فکری تحریک نے جنم لیاجو اب ’’ نظر ثانی ‘‘ کہلاتی ہے۔ اس تحریک سے وابستہ رہنماوں کو احساس ہُوا کہ اُنہوں نے تشدد اور جنگ کی راہ اپنا کر غلطی کی ہے۔ توقع کے مطابق مصری حکومت کی مخالف اسلامی تنظیموں نے اس تحریک پر کڑی نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک سے منسلک رہنما کمزور اور شکست خوردہ ہو گئے۔ الظواہری نے بھی انہیں پیغام بھیجاکہ بزدلی کا ثبوت نہ دو۔ گویا جنگ جاری رکھو۔ تاہم جلد ہی الظواہری کو یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ الجہاد کے نظر بند رہنما بھی تحریک سے متا ثر ہیں۔ قید خانوں کے ایک ایک کمرے میں بیس تیس رہنما قید تھے۔ وہ پھر رفتہ رفتہ جنگ اور فساد پر دینی بحث مباحثہ کرنے لگے۔ ان میں قرآن و سنت اور فقہ کے حوالے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

مصری حکومت نے ان نظریاتی مباحثوں کی حوصلہ افزائی کی تا کہ ملک میں فساد ختم ہوسکے۔ تاہم نظر بند رہنما یہ مباحثے اس لیے کر رہے تھے تاکہ دین اسلام اور خود اپنے آپ کو روشنی میں لا سکیں ۔ آخر تحریک نظرثانی کے رہنماؤں نے نومبر 1997ء میں فساد میں ملوث اسلامی تنظیموں سے لا تعلقی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے پھر اپنی فسادی سرگرمیوں کے سلسلے میں قوم سے معافی مانگی اور مرنے والوں کو شہید قرار دیا۔

مصر کی مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر جیل عسکریت پسندی، شدت پسندی کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے تو اس عمل پر نظرثانی کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی بحالی میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو زید، بکر اور عمر جیل میں ہیں، ان کی بحالی کے لیے ایسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں کہ ان کے لیے واپسی کا سفر ممکن ہو سکے۔ اس کے لیے کئی اقسام کے بحالی کے پروگرام کے ماڈل موجود ہیں۔ سعودی عرب سے انڈونیشیا تک انواع و اقسام کے پروگرام ترتیب دیے گئے۔ ۲۰۰۹ء میں سوات کے ملٹری آپریشن کے بعد وہاں اسی نوع کے بحالی مراکز قائم کیے گئے۔ یہ پروگرام تین سطح کے تھے۔

۔ صباؤن

۔ مشال

۔ سیارے

یہ پروگرام ان عسکریت پسندوں کے لیے تو معاون ثابت ہوئے جو ابھی باقاعدہ عسکریت پسند گروہوں کا حصہ نہیں بنے تھے۔ لیکن باقاعدہ ممبران اور شدت رکھنے والے عسکریت پسندوں کو اس مرحلے سے نہیں گزارا گیا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ نظریاتی وسائل کی کمی تھی۔ ایسے مذہبی رہنما جو ان کے نظریات کو رد کر سکیں یا انھیں واپسی کی راہ دکھا سکیں، ان کی قلت اس پروگرام کی راہ میں حائل ایک بڑا مسئلہ ہے۔ عسکریت پسندوں کی بحالی کا یہ ماڈل سوات اور قبائلی علاقہ جات میں پسِ شورش (Post-Insurgency) کے تناظر میں تشکیل دیے گئے۔ ان کی عمومی افادیت کے لیے اسے عام جیلوں تک پھیلانا ضروری تھا لیکن وسائل کی قلت اور متعلقہ اداروں کی عدم دلچسپی اس کی راہ میں رکاوٹ بنی۔ ان پروگراموں کی بحالی کے آغاز پر ڈاکٹر فاروق بھی اس کا حصہ تھے اور وہ صابون کے پروگرام کو کامیابی سے چلا رہے تھے کہ انھیں دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔ ان کا خلا ابھی تک پُر نہیں ہو سکا ہے۔

زیرِحراست زید، بکر اور عمر کے لیے یہ یا اسی نوع کے پروگرام ترمیم اور تبدیلی کے ساتھ اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریاست کے پاس اتنے وسائل اور ذمہ داریوں میں یہ اہلیت اور وِژن ہے کہ ایسے پروگرام شروع کر سکے۔

لیکن ایک بڑا مسئلہ ان زید، بکر اور عمر کا ہے جو ہزاروں کی تعدا د میں ہیں اور آزاد ہیں۔ یقیناًایک طریقہ بیانیے میں تبدیلی یا اس سے رجوع ہے، لیکن جس معاشرے میں محدود نوعیت کے بحالی کے مراکز میں مناسب اور معتدل علما کی دستیابی مسئلہ ہو، کیا وہاں ایک بڑی سطح پر بیانیے سے رجوع کی توقع کی جا سکتی ہے۔

یہاں بھی زید کو بکر اور عمر سے الگ کرنے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے کم از کم زید کو بکر اور عمر بننے میں رکاوٹ پیدا کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ عمل تنظیمی سطح کے اقدامات کا متقاضی ہے۔ کیا ریاست ایک ایسا جامع منصوبہ تیارکر سکتی ہے کہ کالعدم کنوینشل تنظیموں کے معاشرے میں انجذاب (reintegration) کو مہمیز کر سکے۔

اس سلسلے میں بھی کئی قابل عمل اور دلچسپ آرا اور حل پیش کیے جاتے ہیں۔ مثلاً ایسی تنظیموں (گروپ نمبر۱) سے وابستہ افرادکو پیراملٹری فورسز میں بھرتی کرنے کے بعد مختلف مقامات پر تعینات کر دیا جائے اور ان کی ایک عرصہ تک نگرانی اور سکریننگ کا عمل جاری رکھا جائے۔

لیکن ایک جامع منصوبے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت 72کالعدم تنظیموں کے لیے انجذاب کے ایک قومی پلان کا اعلان کرے اور ریاست ان تنظیموں کو کام کی اجازت دے جو یہ عہد کریں :

۱۔ کہ وہ آئینِ پاکستان کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ اس پر عمل پیرا ہونے کا عہد کرتے ہیں۔

۲۔ اپنے عسکری ونگ ختم کر کے کسی بھی قسم کی اندرونی و بیرونی عسکریت پسندی اور پرتشدد کارروائیوں سے ممکن برأت کا اعلان کرتے ہیں۔

۳۔ نئے ضابطے کے مطابق سیاسی، مذہبی یا فلاحی ادارے کے طور پر رجسٹریشن کی پابندی کریں گے۔

یقیناًعسکریت پسندوں کی بحالی اور ان کی تنظیموں کا انجذاب کوئی آسان مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اس محاذ پر پیش رفت اور ابتدائی کامیابی عسکریت پسندی پر ایک کاری ضرب ضرورلگا سکتی ہے۔ خاص طور پر ان معروضی حالات میں جب عسکری جہادی کردار توانا ہو چکا ہے اور نت نئے نظری، عسکری اور سیاسی رجحانات میں کشش محسوس کرتا ہے، ضروری ہے کہ عسکریت پسندی کے مختلف دھاروں میں تال میل کو کمزور کیا جائے۔ گروپ نمبر۱ باقی گروپوں کے لیے نرسری ہے، لیکن یہ بحالی کے امکانات سے بھی بھرپور ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کیا ریاست اور اس کے ادارے واقعی ہر قسم کی عسکریت پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں؟