working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 عدم تحفظ کی بنیاد پر بنے والی آبادیاں

قومی لائحہ عمل برائے انسداد دہشت گردی

انسدادِ دہشت گردی فورس کا قیام

ڈاکٹرفرحان زاہد

زیر نظر مضمون میں پاکستان میں سیکورٹی ایجنسیوں کی استعداد کا جائزہ لیا گیا ہے اور ساتھ ہی دنیا میں انسداد دہشت گردی کے معروف ماڈلز کا بھی جائزہ لے کر یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان کے لئے کون سا ماڈل کار گر ہو سکتا ہے ؟ڈاکٹر فرحان زاہد خود بھی پولیس سے منسلک ہیں۔انھوں نے برسلز یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے ۔ The Al-Qaida Network in Pakistan کے نام سے ان کی کتاب حال ہی میں شائع ہوئی ہے ۔ان کا شمار پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے ماہرین میں کیا جاتا ہے ۔(مدیر)

نیشنل ایکشن پلان سے ملتی جلتی کئی کوششیں ماضی میں بھی ہو چکی ہیں ۔مثال کے طور پر مئی 2014ء میں نیشنل انٹرنل سیکورٹی پالیسی (NISP) 2014-18کا اجراء ہوا ۔اس میں اور نیشنل ایکشن پلان میں کئی باتیں مشترک ہیں مثلاً مدرسہ اصلاحات، سیکورٹی فورسز کی استعدادِ کار میں اضافہ، اینٹی ٹیررسٹ فورس کا قیام، سیکورٹی فورسز کے مابین رابطوں کو بڑھانا، افغان پناہ گزینوں کا معاملہ نمٹانا اور دہشت گردوں کی مالی مدد روکنا وغیرہ۔لیکن نیشنل انٹرنل پالیسی کی بیل منڈے نہ چڑھ سکی ۔وجہ صرف فنڈز یا استعداد کار کی کمی نہیں بلکہ یہ بھی تھی کہ اس پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا تھا ۔

نیشنل ایکشن پلان بھی انسداد دہشت گردی کے لئے کوئی مکمل یا تفصیلی حکمتِ عملی فراہم نہیں کرتا لیکن جو چیز اس کو ماضی کی کوششوں سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کے پیچھے سیاسی حمایت اور اتفاق رائے کا ہونا ہے ۔کچھ اسلامی جماعتوں کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتیں اس کے پیچھے کھڑی ہیں ۔نیشنل ایکشن پلان کا ایک نقطہ یہ بھی تھا کہ ایک خصوصی انسدادِ دہشت گردی فورس بنائی جائے جو کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری رد عمل دے سکے ۔اس سے پہلے نیشنل انٹرنل سیکورٹی پالیسی میں بھی "federal rapid response force" کے نام سے ایسی ہی ایک فورس تجویز کی گئی تھی ۔چنانچہ اپنے مقصد کے حوالے سے یہ ایک ہی ہیں ۔پولیس کا محکمہ پاکستان کی سیکورٹی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے جو صوبائی دائرہ اختیار میں کام کرتی ہے ۔ہر صوبے کی اپنی الگ پولیس ہے ۔قانون کی عمل داری میں اس کی بنیادی حیثیت کو دیکھتے ہوئے پولیس ہراول دستے کا کردار ادا کررہی ہے ۔اگرچہ نیشنل ایکشن پلان، پولیس کے کردار کونیشنل انٹرنل سیکورٹی پالیسی کے مقابلے پر صراحت سے بیان نہیں کرتا ۔لیکن ایک بات بہر حال واضح ہے کہ پولیس کا کردارملک کی سیکورٹی میں سب سے اہم ہے ۔

اس وقت ملک میں 354,221افراد پولیس میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔جب کہ اس کی وہ ذمہ داریاں الگ ہیں جو اسے پیرا ملٹری فورسز کے ساتھ ملک کی سرحدوں پر سمگلنگ روکنے کے لئے ادا کرنی پڑتی ہیں ۔

اگر معاملہ اتنا ہی ہے تو پھر ہمیں انسداد دہشت گردی فورس کی الگ سے ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟

اس کا جواب عام فہم ہے ۔ایک تو یہ کہ پولیس افسر کی تربیت جرائم کے خاتمے کو مد نظر رکھ کر کی جاتی ہے ۔وہ شاید ان صلاحیتوں سے عاری ہوتا ہے جو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے درکار ہوتی ہیں۔ کیونکہ دہشت گرد کے پیچھے خاص نظریہ اور جنگ کی تربیت ہوتی ہے ۔دہشت گرد عمومی قسم کے مجرم یا سمگلر نہیں ہوتے ۔قانون نافذ کرنے والے افسران کو دہشت گرد حملوں اور مبینہ دہشتگردوں سے تفتیش کے لئے خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے ۔دہشت گردوں سے خصوصی تربیت یافتہ فورسز ہی نمٹ سکتی ہیں جو جارحانہ اور دفاعی ہر دونوں صورتحال میں کام کی اہلیت رکھتی ہوں ۔کئی ممالک میں انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے لئے پولیس کے خصوصی دستے قائم کئے گئے ہیں ۔

پاکستان کے خصوصی دستے

پاکستان میں پولیس کے کچھ شعبوں کے پاس انسداد دہشت گردی کے شعبے بھی ہیں ۔جو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کسی حد تک موئثر بھی ہیں ۔جیسے کہ منافرت پر مبنی خطبے دینے والوں کی جانچ کرنا اور ان کے خلاف ایکشن لینا یا کسی قسم کی تخریب کاری کو روکنا وغیر شامل ہیں ۔وی وی آئی پیز کی سیکورٹی اور حساس حکومتی عمارات کی حفاظت بھی اسی زمرے میں آتی ہے ۔اس کے افسران عمومی پولیس سے منتخب کئے جاتے ہیں اور انھیں لاہور میں قائم ایلیٹ پولیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ 1997ء میں اس کے قیام سے لے کر 2015ء کے وسط تک کل 8046پولیس افسران نے اس اکیڈمی سے تربیت مکمل کی ۔

انسداد دہشت گردی فورس کا قیام نیشنل انٹرنل سیکورٹی پالیسی کے پیش نظر 2014ء میں ہو چکا تھا۔ جس کا مقصد صوبوں میں دہشت گردی کا سدباب کرنا تھا ۔انسداد دہشت گردی فورس کی تربیت بھی ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول میں کئی گئی تھی تاہم وہ ایلیٹ پولیس سے ممتاز تھی ۔یہی وجہ ہے کہ انسدادِ دہشت گردی فورس کے اہلکاروں کو ’’کارپورل‘‘ کہا جاتا ہے ۔ابھی تک انسدادِ دہشت گردی فورس کے 1500اہلکار روں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ہو چکی ہے جن کو تربیت دینے کے لئے برادر ملک ترکی کی پولیس کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں ۔اس طرح کی تربیت پر اب تک تیس کروڑ روپے صرف کئے جا چکے ہیں۔

دوسرے صوبوں نے بھی انسداد دہشت گردی فورس کے خصوصی دستے بنائے ہیں ۔سندھ پولیس نے سپیشل سیکورٹی یونٹ (SSU)کے نام سے 2010ء میں اپنی ایلیٹ پولیس فورس بنائی ۔سند ھ کو یہ خیال سب سے آخر میں آیا ۔ایس ایس یو سندھ پولیس کی انسدادِ دہشت گردی کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ 3000 اہلکاروں پر مشتمل انتہائی اعلیٰ تربیت یافتہ اس فورس کی ذمہ داری ہے کہ وہ وی وی آئی پیز کو سیکورٹی فراہم کرے ۔اس کے ساتھ ساتھ منظم جرائم اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کراچی اور سندھ میںآپریشن کرے ۔کراچی کے نواح میں قائم شہید بینظیر بھٹو ایلیٹ پولیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سندھ پولیس کے ساتھ ساتھ ایس ایس یو کو بھی ضروری تربیت فراہم کرے ۔

اسی طرح خیبر پختونخواہ نے بھی نیو سپیشل فورس یونٹ کے نام سے انسدادِ دہشت گردی فورس بنائی ہے جو ابتدائی طور پر 2400اہلکاروں پر مشتمل ہے ۔اس کی بھی کئی ذمہ داریاں ہیں اور یہ خفیہ معلومات بھی اکٹھی کر سکتی ہے ۔اس کی تربیت کا ادارہ ہنگو میں قائم کیا گیا ہے ۔یہ خصوصی فورس خیبر پولیس کی صوبہ بھر میں خصوصی آپریشنز میں مدد کرتی ہے ۔

بلوچستان میں بھی اینٹی ٹیررازم فورس کے نام سے انسداد دہشت گردی کی پولیس کام کر رہی ہے ۔جس کے 11ونگز میں 900پولیس افسران کام کر رہے ہیں ۔یہ عام پولیس کی مدد کرتی ہے تاکہ وہ امن و امان کے قیام کے لئے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کر سکے ۔اس کے ذمہ وی وی آئی پیز کے ساتھ بیرونی سفارتی اہلکاروں کی سیکورٹی اور کوئٹہ کے ہائی سیکورٹی زون کی حفاظت کرنا بھی شامل ہے ۔تاہم بلوچستان میں اس فورس کی تربیت کا کوئی ادارہ نہیں ہے اس لئے اس کے اہلکاروں کو تربیت کے لئے اسلام آباد کے اینٹی ٹیررازم سکول یا پھر لاہور کے ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول میں بھیجا جاتا ہے ۔اس کے آخرے دستے کو 2015ء میں پاک فوج کے کوئٹہ میں قائم ڈویژنل بیٹل سکول میں ایک ماہ کی اضافی تربیت بھی دی گئی ۔

کئی اور سپیشل فورسز بھی کام کر رہی ہیں جن کاکام مخصوص علاقوں تک محدود ہے ۔مثال کے طور پر 2002ء میں FIAمیں سپیشل انوسٹی گیشن گروپ قائم کیا گیا تھاجس کا مقصد دہشت گردی کے واقعات ،بینک فراڈ ،جعلسازی،اور پیسے کی غیر قانونی ترسیل کا سراغ لگانا تھا ۔تاہم یہ تمام فورسز انسدادِ دہشت گردی کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کو ششیں نہیں کر رہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وفاقی سطح پر انسدادِدہشت گردی کے لئے نیشنل ایکشن پلان میں ایک الگ فورس بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔ابتدائی معلومات کے مطابق وزارتِ دفاع کے ماتحت 5000افراد پر مشتمل ایک بہت چاک و چوبندفورس بنائی جائے گی جس کو چاروں صوبوں میں تعینات کیا جائے گا ۔جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور سولین انٹیلی جنس اداروں کی معاونت اور عملی طور پر اس میں حصہ لینا ہے ۔تاہم ابھی تک اس جانب کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔حکومت ابھی تک اس کوشش میں ہے کہ اس مجوزہ فورس پر اٹھنے والے اخراجات کہاں سے پورے کئے جائیں گے ۔

حاصلِ بحث

وفاقی حکومت ،صوبائی حکومتوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آ مد کروائیں اور اس مقصد کے لئے صوبائی پولس کی جانب سے کچھ اہم اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں ۔مسئلہ یہ ہے کہ وفاق اور صوبوں کے مابین وہ کون سا میکنزم اختیار کیا جائے جس سے بہترین تعاون کی راہیں کھولی جائیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ صوبے اس مقصد کے لئے وفاق سے فنڈزچاہتے ہیں ۔

دہشت گردئی کے خلاف مقابلہ ایک مہنگا اورتھکا دینے والا عمل ہے جس کے لئے قومی عزم و ہمت کی ضرورت ہے ۔لیکن اس کے باوجود کامیابی کی کئی داستانیں رقم ہوئی ہیں جس کی جانب پاکستان کے پالیسی سازوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف مختلف ماڈلز اور اس کے لئے ضروریات کا اندازہ لگا سکیں ۔دہشت گردی کے خلاف ایک مظبوط حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے جو صوبوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک واضح طریقہ کار اور پالیسی دے سکے۔

اس کے علاوہ ہمیں دنیا کے دیگر ممالک کے تجربات پر بھی نظر رکھنی چاہئے کہ انھوں نے اس مقصد کے لئے کیسے سپیشل ٹاسک فورسز بنائیں ۔جیسے کہ الجیریا، بر طانیہ، اسرائیل، ترکی، پیرو، سری لنکا، اٹلی، فرانس اور جرمنی وغیرہ کے تجربات کو بھی سامنے رکھنا ہو گا ۔

پاکستانی سیکورٹی فورسز کو الجیریا کے تجربات سے رہنمائی مل سکتی ہے کہ انھوں نے اسلامی دہشت گرد تنظیموں سے کیسے نمٹا ؟ الجیریا والوں نے ان کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنائی اور انھیں بالآخر شکست دی ۔ان کے طریقہ کار کو جانچا جائے اور پاکستانی افسران یہ دیکھیں کہ پاکستانی کی صورتِ حال میں انسدادِ دہشت گردی کا کون سا ماڈل کار گر ہو سکتا ہے۔ الجیرین فوج اور پولیس نے GIAکے قلع قمع کے لئے انتہائی جابرانہ اقدامات کئے ۔جن میں GIAکے حمایتی افراد، مالی مدد کاروں کو یا تو گھات لگا کر مار دیا گیا یا غائب کر دیا گیا ۔الجیرین حکومت نے عسکریت پسندوں کے مظالم کو میڈیا کے ذریعے اجاگر کیا۔ جنگ کے آخری مرحلے میں الجیریا نے بلا مشروط ہتھیار ڈالنے والوں کے لئے عام معافی کا اعلان بھی کیا ۔عام معافی امن کے چارٹر اور قومی مفاہمتی پالیسی کا حصہ تھی جس کی وجہ سے GIAکے بچے کھچے لوگوں نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ہتھیار ڈال دیئے۔ اسی طرح سے پیرو کی حکومت کاتجربہ کہ کیسے انھوں نے وسائل کی کمی کے باوجود Shining Path کا مقابلہ کیا اسے اس حوالے سے دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات وسائل کی کمی آڑے نہیں آتی۔ پاکستان کے پاس بھی وسائل کم ہیں اور اس کا سامنا دہشت گرد گروہوں کی ایک بڑی تعداد سے ہے اس لئے اسے پیرو کے تجربات بھی دیکھنا ہو ں گے ۔یہ تجربہ کم وسائل میں بھی کار گر ہے ۔پاکستان کے پالیسی سازوں کو پیرو کے اقدامات کا جائزہ لے کر دیکھنا ہو گا کہ ان میں سے کون سے ہیں جنھیں وہ یہاں لاگو کر سکتے ہیں ۔پیرو کی حکومت نے Shining Path کا توڑ کرنے کے لئے ایک موئثر حکمت عملی اپنائی ۔پارلیمنٹ کی جانب سے ایمر جنسی نافذ کی۔نیشنل انٹیلی جنس سروس کو بااختیار اور فعال بنایا گیا ۔پولیس کو کہا گیا کہ وہ شہروں میں اور فوج دیہی علاقوں میں آپریشن کرے ۔دیہی علاقوں کو Shining Path کے انتقامی حملوں سے بچانے کے لئے پیرو بھر میں سیلف ڈیفنس کی کمیٹیاں بنائی گئیں ۔پیرو کی فوج کی جانب سے کچھ سخت اور متنازعہ اقدام بھی اٹھائے گئے اور Shining Path کے حمایتیوں کے گاؤں کے گاؤں اجاڑ دیئے گئے ۔

پاکستان، اس کے باوجود کے وہ فلسطینیوں کے حق کی حمایت کرتا آیا ہے اسے اسرائیل کی انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں سے بھی سیکھنا ہو گا۔ اسرائیل نے اپنی سرحدوں کے اندر عسکریت پسندوں کی کاروائیوں کا کامیابی سے قلع قمع کیا ہے اور ریاست کے خلاف کام کرنے والے کئی طرح کے عسکریت پسند گروہوں کو شکست دی ہے۔ پاکستانی پالیسی ساز اگرچہ اسرائیل کی تمام انسداد دہشت گردی کی پایسیوں کو اختیار نہ بھی کریں تب بھی وہ یہ کوشش ضرور کر سکتے ہیں کہ اسرائیلی ماڈل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دہشت گردی کو جڑ سے کیسے ختم کیا جائے جس نے 55000سے زائد پاکستانیوں کی جان لے لی ہے۔ اسرائیلی ماڈل بنیادی طور پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیس کے ذریعے ہے۔ اسرائیلی فوج صرف مقبوضہ علاقوں مغربی کنارے اور غزہ میں کارروائیاں کرتی ہے جب کہ اسرائیلی پولیس اندرونی ڈیپارٹمنٹ Shin Bet. کی جانب سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر مؤثر آپریشن کرتی ہے ۔