working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 عدم تحفظ کی بنیاد پر بنے والی آبادیاں

دولت اسلامیہ پر ایک نظر ، نظریہ اور وابستگی کا طریقہ کار

ڈاکٹر فرحان زاہد

القائدہ کے بعد جس شدت پسند تنظیم کا سب سے زیادہ چرچا ہے وہ ہے دولتِ اسلامیہ ،جس کا آغاز تو عراق وشام کے سرحدی اور نیم قبائلی علاقوں سے ہوا مگر اس کا دائرہ اثر اتنا پھیلا کہ آج اس کے زیر قبضہ علاقے کا رقبہ برطانیہ کے برابر ہے ۔ اس کے اثرات دنیا کے کئی ممالک پر پڑ رہے ہیں ۔اس تنظیم کا پس منظر کیا ہے اور وہ کون سے حالات ہیں جو اس کی قوت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں ۔القائدہ اور دولتِ اسلامیہ ایک دوسرے سے کس قدر مختلف ہیں ۔دونوں کی حکمت عملی اور عزائم کیا ہیں اور پاکستان کے لئے دولت اسلامیہ کا خطرہ کس حد تک ہے ۔دولت اسلامیہ کا ماڈل کیا ہے اور یہ ماڈل پاکستان میں کس حد تک سرایت کر سکتا ہے ؟ ان سب سوالوں کے جواب آپ کو ڈاکٹر فرحان زاہد کے اس مضمون میں ملیں گے ۔ ڈاکٹر فرحان زاہد القائدہ اور دولت اسلامیہ پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔اس مضمون کا خاص پہلو یہ بھی ہے کہ دولت اسلامیہ کے موجودہ اور سابق کئی کمانڈرز افغان جنگ کے دوران پاکستان میں رہ چکے ہیں اور ان کے پاکستان کی عسکری تنظیموں کے کئی کمانڈروں سے ذاتی شناسائی بھی ہے ۔یہ تعلق ایک اور وجہ ہے جہاں دولت اسلامیہ کا خطرہ پاکستان کے لئے بڑھ جاتا ہے ۔مشرق وسطیٰ میں جاری شکست و ریخت کے تناظر میں بھی دولت اسلامیہ کا عنصر دور رس اثرات کا حامل ہو سکتا ہے ۔(مدیر)

تعارف

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی شدت پسند تنظیم اسلامی ریاست عراق وشام (ISIS)جسے اب دولتِ اسلامیہ (IS)کے نام سے پکارا جاتا ہے اس کاجنم القائدہ سے ہی ہوا جسے بعد ازاں القائدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے القائدہ کی ایک دوسری شاخ نصریٰ فرنٹ کے قیام کے بعد اس سے لاتعلقی کا علان کر دیا ۔نصری فرنٹ شام کی جنگ میں ملوث تھی ۔اس کی ایک اور وجہ دولت اسلامیہ کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی اور نصری ٰ فرنٹ کے محمد الجولانی کے درمیان ذاتی اختلافات بھی تھے ۔جس کے بعد الظواہری نے دولت اسلامیہ سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے ایک پالیسی بیان بھی دیا ۔البغدادی کی رہنمائی میں دولت اسلامیہ تیزی سے مقبول ہوئی اورعراق و شام کے ان علاقوں کا انتظام و انصرام سنبھال لیا جن میں تیل کی بہت زیادہ پیداوار تھی۔اس طرح وہ ایک خود کفیل عسکری گروپ کے طور پر سامنے آئی ۔جس نے اپنے سلفی نظریات کی ترویج کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے جنگجو بھرتی کرنے شروع کر دیئے مغرب سے پڑھے لکھے مسلمان نوجوانوں کو بھی متاثر کیا اور بہت ساری وہ نوجوان لڑکیا ں بھی جنھوں نے مغرب میں پرورش پائی اور وہ جہادیوں سے شادیوں کے لئے جوق در جوق یہاں پہنچیں ۔اپنی کٹر اتھارٹی کو منوانے اور اسلامی نظائر کی الگ تو جیح کے لئے دولت اسلامیہ نے جو روش اختیار کی وہ اتنی سفاکانہ تھی کہ اس پر ہر جانب سے تنقید کی گئی۔عسکری گروپ انسانی حقوق کی پامالی اور عراق کے مقامی قبائل کی نسل کشی میں بھی شریک رہا اور اس نے کردوں اور یزیدیوں کو تہہ تیغ کیا ۔

ہم یہاں جاننے کی کو شش کریں گے کہ القائدہ کے عراق میں سربراہ ابو معصب الزرقاوی کی زیر قیادت سلفی نظریات کی حامل دولت اسلامیہ کے محرکات کیا ہیں اور وہ گزشتہ ایک دہائی میں کیوں اتنی تیزی سے مقبول ہوئی ہے ۔اس گروپ کا ظہور صرف مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں خطرے کا الارم نہیں بلکہ پورے خطے اور ان مغربی ممالک کے لئے بھی جس کے باشندے جہاد کے لئے اس کے ساتھ آ ملے ۔یہ دنیا کا سب سے امیر دہشت گروپ ہے جس کے ذرائع آمدن میں تیل کے ان کنووں کی آمدن بھی شامل ہے جو اس کے زیر قبضہ علاقوں میں ہیں اس کے علاوہ کئی ملین ڈالر کے قیمتی نوادرات عالمی مارکیٹ میں سمگل کئے گئے اور موصل کے امیر تاجروں سے جزیہ بھی وصول کیا جاتا ہے ۔دولت اسلامیہ کے لئے وہ علاقے بہت زرخیز ثابت ہوتے ہیں جہاں پہلے ہی حکومتی عمل داری برائے نام ہوتی ہے اس لئے جب اس کے لوگ وہاں جاتے ہیں تو کسی جانب سے ان کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں ہوتی ۔ہم یہاں یہ بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ دولت اسلامیہ کے نئی لیڈر شپ کی وجہ سے اس کے بنیادی تصورات اور فکر میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور وہ عراق و شام، کے اقلیتی

گروہوں کے لئے کیوں اتنی سفاکانہ ثابت ہو ر ہی ہے ۔القائدہ کے مقابلے پر دولت اسلامیہ تشدد اور دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اپنی سرحدوں کو وسعت دے رہی ہے ۔اور عالمی سطح پر ہم خیال گروپ القائدہ کو چھوڑ کردولت اسلامیہ کی طرف کیو ں مائل ہو رہے ہیں ۔

دولت اسلامیہ کے ابتدائی رہنماؤں پر المقدیسی کا اثر و نفوذ

دولت اسلامیہ کے نظریات کی ترویج کو سمجھنا ازحد ضروری ہے ۔اسام البرقاوی جو ابو محمد المقدیسی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں،ان کا گروپ کے نظریات پر خاص اثر ہے دولت اسلامیہ کا ابتدائی نام توحید والجہاد تھا ۔ابو معصب الزرقاوی نے عراق میں 2002ء میں اس شدت پسند تنظیم کی بنیاد رکھی ۔مقدیسی کے سلفی نظریات کی چھاپ تلے دولت اسلامیہ عرق و شام کا دائرہ اثر پھیلتا چلا گیا ۔عسکری تنظیمیں مشترکہ مفادات کے لئے محفوظ علاقوں ،ہتھیاروں کی ترسیل اور اپنے سپاہیوں کی تربیت اور نقل وحمل کے لئے ایک دوسرے سے روابط میں ہوتی ہیں عالمی سطح پر القائدہ نے اپنے اتحادیوں کو یہ سہولت بہم پہنچائی اور انھیں معاشی مدد ،ضروری تربیت اور ان کے پیغام کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا اور جب کبھی چھوٹے گروپوں میں کوئی اختلاف پیدا ہوا تو ان کے درمیان مصالحت کا کردار بھی ادا کیا ۔اگرچہ اس نے ان کے روز مرہ کے معاملات میں اور ان کی کارروائیوں میں کوئی مداخلت نہیں کی مگر ہمیشہ چھوٹے گروپوں کی حاصلہ افزائی کی تاکہ وہ بھی متحرک کردار ادا کر سکیں ۔وہابی اور سلفی مکتب فکر سے تعلق کا یہ مطلب نہیں کہ یہ گروپ اور ان کے رہنما ہمیشہ ایک ساتھ رہے بلکہ ان کے اتحاد وقتی حالات کے تحت بنتے رہے ۔

فلسطینی نژاد اردنی عالم ابو محمد المقدیسی نے اپنی تحریروں ،تقریروں اور خطبوں کے ذریعے اردن ، عراق ، سعودی عرب ،پاکستان اور شام میں کئی لوگوں کو متاثر کیا ۔ انٹرنیٹ کے جہادی پلیٹ فارم پر مقدیسی سب سے توانا آواز ہے ۔زرقاوی اور مقدیسی کاآپس میں رابطہ 1990کے اوائل میں اردن میں قید کے دوران ہوا ۔زرقاوی جس کی مذہب کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں اسے مقدیسی کی تعلیمات نے ازحد متاثر کیا ۔

مقدیسی 1959میں مغربی کنارے کے شہر برکہ میں پیدا ہوا،مگر اسرائیل کی فوجی یلغار کی وجہ سے اسے اردن ہجرت کرنی پڑی جہاں اس نے اردن کی شہریت اختیار کر لی ۔اس نے اردن کے ایک مدرسے میں مذہبی تعلیم حاصل کی اور 1970ء میں کویت منتقل ہو گیا کیونکہ کویتی حکومت فلسطین کی حمایت کر رہی تھی اور اس نے اڑھائی لاکھ فلسطینی مہاجرین کی میزبانی کی ۔دسمبر1979میں افغانستان پرروسی فو جیوں کی مداخلت کے بعد مقدیسی نے فیصلہ کیا کہ وہ افغانستان میں عربوں اور افغانیوں کے ساتھ مل کرروس کے خلاف لڑے گا ۔اس کے کچھ عرصہ تک مقدیسی سعودی عرب اور عراق میں گھومتا رہا اور پھر اس نے پشاور جو اس وقت عالمی جہادیوں کا ایک اہم مرکز تھا وہاں منتقل ہو گیا ۔سعودی علماء نے شاہی حکومت کے ایما پرافغانستان میں روسی مداخلت پر فتویٰ جاری کیا جس میں جہاد کو فرضِ عین قرار دیا گیا تھا ۔فلسطینی سکالر عبد اللہ یوسف عظام سعودی عرب کی آنکھ کا تارا بن گیا جبکہ مقدیسی نے پشاور میں کویتی خیراتی ادارے میں شمولیت اختیار کر لی جو عرب مجاہدین کی مالی اور عسکری امداد کرتی تھی جو پشاور کے راستے افغانستان میں دخل ہوتے تھے۔ہزاروں سعودی اور کویتی شدت پسند روس کے خلاف جہاد میں شرکت کے لئے جوق در جوق پاکستان آ رہے تھے ۔تجزیہ نگار خالد احمد کے مطابق مقدیسی اپنے نظریات میں شدت پسند تھا ،جو مغربی طرز زندگی بالخصوص اس کی آزاد جمہوریت کو ہدف تنقید بناتا رہتا تھا ۔ہمبرگ سیل کا رہنما ،محمد عطا جس نے 11ستمبر2011کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیا وہ بھی عظام کے قریب تھا جو اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں پڑھاتا تھا ۔

مقدیسی نے جہا د، جمہوریت ،ارتداد اور غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے موضوع پر بہت کچھ لکھا ۔نظریاتی طور پر وہ ایک تکفیری ہے جس کا اہم نکتہ جہاد اور اس سے منسلک دوسرے امور جن میں شہریوں ، غیر مسلح غیر مسلموں ،مرتد مسلمانوں کی سزاؤں کے گرد گھومتا ہے ۔وہ کہتا ہے کہ خود کش حملے یا فدائین کی کاروائیاں جہاد کا اعلٰی ترین درجہ ہیں ۔دشمن کے خلاف اس وقت تک خودکش حملے جاری رکھے جائیں جب تک وہ راہ راست پر نہیں آجاتا۔خدا کے نظام کے نفاذ تک دشمن کو نقصان پہنچانے کے لئے خودکش آپریشنز کا جواز موجود ہے ۔جہاں تک بچوں اور نہتے شہریوں کی ہلاکت کا تعلق ہے وہ اس کی حمایت نہیں کرتا تاہم وہ مقاصد پر زور دیتا ہے اور اس کے لئے ہر عمل کو جائز سمجھتا ہے ۔

مقدیسی زرقاوی روابط

اگرچہ افغانستان میں قیام کے دوران دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے تاہم ان کا تعلق صواقح کی جیل میں مظبوط ہوا جو صحرا کے وسط میں عمان کے جنوب میں 85کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔1994ء میں عمان میں جہادی نیٹ ورک بنانے کے بعد زرقاوی نے اردن میں ہوٹل کو بم سے اڑانے کا منصوبہ بنایا مگر اس سے پہلے اسے گرفتار کر لیا گیا یہاں اس کی ملاقات مقدیسی سے ہوئی جو اردن میں جہادی خیالات کے فروغ اور شہنشاہ کے خلاف پر تشدد تحریک کے الزام میں جیل میں تھا ۔مقدیسی نے زرقاوی کی مرشدی میں اپنے جہادی خیالات کو مظبوط کیا ۔1999ء میں جب عبداللہ دوم نے اردن کا تخت سنبھالا تو انھوں نے قیدیوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا جس کے بعد زرقاوی افغانستان میں جب طالبان کی حکومت تھی واپس آ گیا ۔بن لادن جو کہ افغان جہاد کے دنوں سے زرقاوی سے واقف تھا اس نے زرقاوی کو جنگجو لیڈر کی اطاعت کا کہا جس پر زرقاوی نے انکار کر دیا اور طالبان کی اجازت سے ہرات میں اپنا جہادی ٹریننگ کیمپ شروع کر دیا ،مقدیسی کے ساتھ تعلق کی وجہ سے زرقاوی ایک متکبر ، انتہائی شدت پسند،متشدداور کسی صورت نہ جھکنے والے جنگجو لیڈر کے طور پر سامنے آیا۔

زرقاوی کا جہادی سفر جہاد افغانستان(1979-89) کے دوران پاکستان میں شروع ہوااور عراق میں 2003ء میں ختم ہوا۔9/11کے زرقاوی القائدہ کے ساتھ شامل ہو گیا اور القائدہ کے055بریگیڈ کے پلیٹ فارم سے امریکی حمایت یافتہ شمالی اتحاد کیخلاف کارروائیاں کرنے لگا ۔جب امریکہ نے اکتوبر2001ء میں افغانستان پر حملہ کرکے طالبان عہد کا خاتمہ کیا تو زرقاوی ایران فرار ہو گیا ۔عراق کے کرد علاقے میں انصار الاسلام کے ساتھ مل کر بغاوت کا بیج بویا مگر امریکہ نے آتے ہی انصار الاسلام کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں ۔ جس کے بعد زرقاوی کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہا کہ وہ عراق کے شہری علاقوں میں اسلامی بغاوت کا آ غاز کریں ۔اس کے لئے اسے کافی وقت مل گیا اور اس کے ساتھ ہرات سے اس کے تربیت یافتہ افراد بھی پہنچ کر اس کے نئے گروہ توحید والجہاد میں شامل ہونا شروع ہو گئے ۔اس نے بن لادن سے عراق میں القائدہ کی شاخ کھولنے کی دخواست کی جس کی عراق میں بہت کم سپورٹ تھی اس کے بدلے میں 2004میں زرقاوی نے بن لادن سے وفاداری کا حلف اٹھایا اور اپنی تنظیم کا نام بدل دیا۔

خودکش حملوں کے حوالے سے مقدیسی کی فکر و فلسفہ کے تحت زرقاوی نے عراق بھر میں خود کش حملوں کی ایک سلسلہ شروع کر دیا ۔عراقی اور امریکی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ شیعہ بھی ان حملوں کا نشانہ بننے لگے ۔حالات اس حد تک خراب ہوئے کہ ملک فرقہ وارانہ فسادات کے دہانے تک پہنچ گیا۔جس کی وجہ سے شیعہ اور عراق کے جدت پسندوں نے امریکی افواج کی مدد کرنا شروع کر دی ۔اس موقع پر الظواہری نے زرقاوی کو خط بھی لکھا اور خبردار کیا کہ وہ فرقہ وارانہ مسئلے میں نہ پڑے کیونکہ القائدہ ایسا نہیں چاہتی ۔

زرقاوی پر مقدیسی کے جہادی خیالات کی چھاپ بہت زیادہ تھی اس لئے اس نے القائدہ کے طریقہ کار کواہمیت نہیں دی کیونکہ خود کش حملوں کے لئے شرعی قوانین کی تشریح میں مقدیسی کہیں زیادہ متحرک تھا ۔مقدیسی جمہوریت کو کفر کا نظام سمجھتا تھا جو نفاذشریعت میں ایک بڑی روکاوٹ بن چکا ہے ۔اور وہ شریعت کے مقابلے پر انسان کے بنائے ہوئے کسی قانون کو رد کرتا ہے ۔مقدیسی جہاد کی صفات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محبت اور جنگ صرف خدا کے لئے کی جا سکتی ہے ۔ وہ مرتد اور اسلامی قوانین سے انحراف کرنے والوں کے خلاف بغاوت کی ترغیب دیتا ہے چاہے وہ مسلم حکمران ہی کیوں نہ ہوں ۔

زرقاوی کے بعد کا عراق

زرقاوی کے پیرو کار اس کی دہشت انگیز میراث کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے ۔ابو ایوب المصری جو ابو حمزہ المہاجر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں کی 2010ء میں وفات کے بعد تنظیم تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ۔تب اس دولت اسلامیہ کے نام سے پکارا جانے لگا تھا ۔2010ء میں ابوبکر البغدادی (ابو دعا)دولتِ اسلامیہ کا رہنما بن گیا زرقاوی اور دوسرے رہنماؤں کے برعکس وہ مقامی تھا ۔مکمل پیشہ وارانہ اہلیت کے ساتھ انھوں نے مدبرانہ فیصلے کئے اور تقریباً ادھ موئے گروپ کو شام بھیجا جہاں 2011ء میں خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی ۔اپنے پیشروؤں کی طرح وہ بھی مقدیسی کے نظریات سے متاثر تھا ۔القائدہ کی شامی شاخ انصریہ فرنٹ کے رہنما محمد الجیلانی کے ساتھ اخلافات کی وجہ سے وہ عراق واپس آگیا ۔

اگرچہ دولت اسلامیہ پر مقدیسی کی تعلیمات عیاں تھیں مگر اس نے بغدادی کی سربراہی میں دولت اسلامیہ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ پر یہ بیان جاری کیا ’’جو کوئی بھی جلد بازی اور عجلت میں کوئی اقدام کرتا ہے تو اسے سزا کے طور پر اس مقصد سے معزول کر دیا جائے گا جس مقصد کے لئے وہ لڑ رہا ہے ،اس نے دولت اسلامیہ کے انداز کو بھیڑ چال ، جبری اور ناجائز قرار دیا ۔مقدیسی نے القائدہ رہنما ایمن الظواہری اور بغدادی کو کہا کہ وہ نظر ثانی کریں ۔

دولتِ اسلامیہ بغدادی کی رہنمائی میں

دولت اسلامیہ کو یہ انفرادیت بھی حاصل تھی کہ اس کے پاس عراقی فوج کے آفیسر رینک کے سابق افسران بھی موجود تھے ۔اس کا تنظیمی ڈھانچہ زرقاوی کے وقت سے مختلف تھا جو اس وقت بانی ہونے کی وجہ سے سیاہ و سفید کا مالک تھا ۔تب زیادہ تر اس میں وہ مجاہدین شامل تھے جنھوں نے طالبان دور میں افغان جنگ کے دوران تربیت حاصل کی تھی ۔ان میں سے زیادہ تر کی تربیت خود زرقاوی نے ہرات میں واقع اپنے کیمپ میں کی تھی ۔مگر لیڈر شپ کی تبدیلی کے بعد بغدادی کی دولت اسلامیہ نے عراقی فوج کے سابق آفسروں ،باتھ پارٹی کے رہنماؤں اور ریپبلکن گارڈز کے افسروں کو بھی خوش آمدید کہا ۔

بغدادی کے اچانک ظہور سے جہادیوں کو صف اول میں جگہ مل گئی ۔بغدادی جس کا اصل نام اوّاد ابراہیم علی البدری السماری ہے وہ 1971 میں سمارا میں پیدا ہوا ۔اس کا تعلق سلفیت کے پیروکار مذہبی خاندان سے تھا ۔دوسرے بڑے کمانڈروں کے برعکس وہ اسلامی قانون میں اعلٰی تعلیم یافتہ تھا اور بغداد کی اسلامی یو نیورسٹی سے اس نے ڈاکٹریٹ کر رکھی تھی ۔2003ء میں عراق میں امریکی مداخلت کے بعد وہ اسلام پسندوں کے ساتھ مل کر تحریک میں شامل ہو گیا مگر وہ 2005ء میں امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری تک زرقاوی کی تنظیم میں نچلے درجے پر ہی فائز رہا۔جنوبی عراق کے بکہ کیمپ میں قید کے بعد آخر کار اسے 2009ء میں رہا کر دیا گیا ۔اس وقت اسلام پسندوں کی تنظیمیں اپنی آخری سانسیں لے رہی تھیں کیونکہ ان کے آنے والے رہنما گروپ میں کوئی نئی روح پھونکنے اور اسے مستحکم کرنے میں ناکام رہے تھے ۔بغدادی نے اس کی کمان 2010ء میں سنبھال لی اور اس کے تنظیمی ڈھانچے کو از سر نو منظم کیا ۔ایک چھوٹے سے گروہ کو لے کر وہ شام چلا گیا جہاں 2011ء میں صدرت بشار الاسد کی بادشاہت کے خلاف تحریک کی وجہ سے ملک خانہ جنگی کا شکار ہو چکا تھا ۔بغدادی وہاں 12ہزار اسلام پسندوں کی فوج اکھٹی کرنے میں کامیاب ہو گیا جس میں سے تین ہزار وہ بھی شامل تھے جو یورپی ممالک سے آئے تھے ۔تین سالوں کے اندر بغدادی کے زیر قیادت فوج اس قابل ہو چکی تھی کہ وہ عراق کی طرف چڑھائی کر سکے ۔

آج دولت اسلامی پوری طرح مسلح ہیاور وہ منظم اور مستعد عسکری تنظیم ہے اور اس حد تک خوشحال کہ اس کے اثاثوں کی مالیت دو ارب ڈالر ہے ۔

ابو علی الانبری

یہ ایک عراقی جنرل جو صدام کے دور میں باتھ پارٹی میں اہم عہدے پر فائز رہا ۔وہ اس وقت شامی بادشاہت کے خلاف فوجی مہم کا انچارج ہے۔اس کی زیر نگرانی شامی علاقوں میں کارروائیاں ہوتی ہیں اگرچہ اس کا اپنا تعلق موصل سے ہے ۔وہ مخالفین کے لئے موقع کی تلاش میں رہتا ہے ۔انبری نے سب سے پہلے انصار الشریعہ میں شمولیت اختیار کی تھی جو شمالی عراق میں کئی کارروائیوں میں ملوث رہا مگر پھر اس نے عراق کی سطح پر دولت اسلامیہ کے جھنڈے تلے آنے میں ہی عافیت جانی ۔

ابو مسلم الترکمانی

صدام دور میں عراقی فوج کی سپیشل فورسز کا لیفٹیننٹ کرنل جس نے عراقی ملٹری انٹیلی جنس میں بھی خدمات سر انجام دیں ۔ترکمان کا اصل نام فادل احمد عبداللہ الحیالی ہے ترکمانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول عراقی علاقوں کا انتظام چلائے اس کی پیشہ ورانی صلاحیتوں کی وجہ سے عراقی فوج اس کے زیر قبضہ علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔عراقی فوج نے موصل کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے پے درپے تین بار کوشش کی مگر ترکمانی کی چالوں کی وجہ سے وہ ناکام ہو گئیں ۔

القائدہ مشرقِ وسطٰی میں کیوں پسپاہو رہی ہے ؟

القائدہ اور دولت اسلامیہ کے درمیان مقابلہ زوروں پر ہے ۔دونوں دہشت گرد گروپوں کا مصمم ارادہ ہے کہ وہ عالمی جہادی گروپوں کے لئے چھتری بن جائیں ۔گزشتہ دہائی میں ایک نیا رجحان بھی سامنے آیا کہ اپنی طاقت اور اثرو نفوذ کے اظہار کے لئے کچھ بڑی وارداتیں کی جائیں تاکہ میڈیا میں جگہ بنائی جا سکے ۔

دولت اسلامیہ اگرچہ جہادی سطح پرابھی نو آموز ہے مگر اپنی نا تجربہ کار لیڈر شپ کی وجہ سے اس نے عراقی اور شامی علاقوں پر قبضہ کر کے ایک اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔ مگر اس کے مقابلے پر القائدہ اپنی تجربہ کار لیڈرشپ الظواہری حالیہ مہینوں میں اپنی حیثیت کھوتا نظر آ رہا ہے اور اس نے القائدہ برِ صغیر کے نام سے نیا ونگ بنا لیا ہے ۔دولت اسلامیہ نے عراق اور شام میں علاقہ حاصل کیا اور اپنی جابرانہ فتوحات جن میں اقلیتی نسلی گروپوں اور قبائلی رہنماؤں کا ہولناک قتل بھی شامل تھے اس کی مشہوری سوشل میڈیا کی ذریعے کی ۔جس سے شدت پسند جہادہ گروپوں ،نوجوان مردوں اور عورتوں کو عالمی سطح پر تحریک ملی اور وہ دولت اسلامیہ میں شامل ہونے لگے ۔

دولت اسلامیہ کے قیام کے بعد جہادیوں کو فروغ ملا ہے اور وہ اس سے منسلک ہونا چاہتے ہیں ۔بغدادی نے خلافت کا اعلان کرتے ہوئے تمام اسلامی گروپوں کو پیغام دیا کہ وہ ان کی اطاعت قبول کریں ۔ستمبر2014ء تک دنیا کے مختلف حصوں میں اسلامی دہشت گرد گروپوں نے ان کی اطاعت قبول کرتے ہوئے دولت اسلامیہ کی مدد کی حامی بھر لی ۔

  • تحریک خلافت پاکستان

  • انڈونیشین مجاہدین ،ایسٹ تیمور

  • لیوا ، احرار السنتہ ،لبنان

  • جماعت انصار بیت المقدس ،سینائی ، مصر

  • جیش الصحابہ،شام

  • الھدیٰ بٹالین ،الجیریا ،شام

  • بوکو حرام ،نائیجیریا

  • عقبہ ابن نفاء بٹالین ،تیونس

  • التوحید بریگیڈ ، خراسان، افغانستان

  • انصار الشریعہ ، یمن

  • بنگسامورو اسلامک فریڈم فائٹرز ، فلپائین

  • انصار الخلافہ ،فلپائن

  • تحریک طالبان پاکستان کے کچھ گروپ ، پاکستان

مندرجہ بالا کچھ دہشت گرد گروپ ایسے بھی ہیں جو غیر پیشہ ور ہیں ،یا تو وہ نئے ہیں یا پھر ان کے ممبران کی تعداد کم ہے ۔زیادہ تر نے چند ہی کارروائیاں کی ہیں ۔منظم گروپ جیسے کہ بوکو حرام اور ابو سیاف بھی دولت اسلامیہ کے اطاعت گزار ہیں ۔اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ایک دولت اسلامیہ کی جغرافیائی اہمیت بھی ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔کئی وہابی اور سلفی علماء نے خلافت کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور اس کی حیثیت کو تسلیم بھی کیا ہے ۔ان میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں ۔.

  • شیخ ابو عمر الکویتی

  • ابو یزید القہارالخراسانی

  • بلال الشواسی التنوسی

  • ابو اسامہ مسید بن بشیر ال سوڈانی

  • عبداللہ الفیصل الجمیکی

  • بلال چاؤچی آف انصار الشریعہ تیونس

  • مامون حاتم

  • عبدالمجید الحطاری

  • شیخ ابو ورداسنتوسو الانڈونیسی

  • انجم چوہدری

  • موسیٰ سرنتانیو

  • علماء آف جند الخلافہ فلپائن

دولت اسلامیہ کی حمایت کے اسباب

اسامہ بن لادن کے بعد القائدہ کے موجودہ سربراہ الظواہری امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بڑے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے قابل نہیں رہے ۔جس کی وجہ سے سیکورٹی ماہرین یہ خیال کرتے ہیں کہ عسکری گروپوں کی ریڑھ کی ہڈی 2011ء میں ٹوٹ چکی ہے۔القائدہ کے جنگجو اوران کے ساتھی گروپ مایوس ہو چکے ہیں اور انھوں نے اپنے لئے نئے پلیٹ فارم تلاش کرنے شروع کر دئیے ہیں اور دولت مشترکہ اس وقت ان کا انتخاب بن گئی جب وہ شام میں کارروائیاں کر رہی تھی۔اسامہ کی ہلاکت کے بعد القائدہ کی پہلی والی اہمیت باقی نہیں رہی القائدہ کی آپریشنل صلاحیتیں ماند پڑ چکی ہیں کیونکہ پاکستان میں اس کے اہم اراکین کے خلاف فوجی آپریشن اور ڈرون حملے ہو رہے ہیں ۔اور اب اس کی حیثیت افغان طالبان کے ایک ذیلی گروپ جیسی ہو چکی ہے ۔اس استدلال کو اس بات سے بھی اہمیت ملتی ہے کیونکہ 2000میں بن لادن نے افغان طالبان لیڈر ملا عمر کے ساتھ اتحاد کیا تھا جب وہاں طالبان کی حکمرانی تھی ۔

لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دہشت گردوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ جن کے پاس مناسب اسلحہ ہے نہ وسائل اور جو بکھرے ہوئے ہیں وہ دولت اسلامیہ کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں ۔ان میں سے کئی القائدہ کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں تاکہ وہ اپنے عزائم اور مقاصد کے اظہار کے لئے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر سکیں ۔

دہشت گردی کے امور کے ماہر ڈینیل ایل بیام ان وجوہات کو بیان کرتا ہے جن کی بناء پر چھوٹے جہادی گروپ عالمی جہادی گروپوں کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں یا پھر ان سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں ۔ وہ کانسی وجوہات تھیں جن کی بناء پر انھوں نے القائدہ کی ایک طرح سے پرستش کی اور دنیا بھر میں القائدہ کے باب کھلنے لگے۔اسی تناظر میں دولت اسلامیہ اور اس کے ساتھ وابستہ گروپوں کو بھی پرکھا جا سکتا ہے ۔دولت اسلامیہ کے ساتھ الحاق کرنے والے کئی گروپ ایسے ہیں جن پاس ممبران بہت تھوڑے ہیں اور وہ دہشت گردی کی کوئی قابل ذکر وارداتیں بھی نہیں کر سکے ۔اس سلسلے میں ابو سیاف گروپ کی مثال دیکھی جا سکتی ہے جس کو اس کے اپنے علاقے میں کام کرنے والے گروپوں نے کو ئی اہمیت نہیں دی تھی مورو اسلامک لبریشن فرنٹ سمجھتی تھی کہ یہ گروپ جرائم اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہے ۔ابو سیاف گروپ کے زیادہ سے زیادہ ممبران کی تعداد 300ہو گی اور یہ فلپائن میں گزشتہ ایک دہائی سے قائم ہے مگر اس کی حیثیت بہت محدود ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو جرائم کے ساتھ نتھی کر لیا ہے ۔مصر کا انصار بیل المقدس اور تیونس کی انصار الشرعین کے کچھ دھڑے اپنی اپنی حکومتوں کے نشانے پر ہیں جو ہر صورت ان کا نیٹ ورک تباہ کرنا چاہتی ہیں ۔چنانچہ جب تنظیمیں ایسی صورتحال سے دوچار ہوتی ہیں تو وہ اپنے تحفظ ، وسائل اور طاقت کے حصول کے لئے دولت اسلامیہ کی طرف راغب ہو جاتی ہیں۔بہت سے دہشت گروپوں کی خواہش ہوتی ہے کہ دولت اسلامیہ ان کی مالی مدد کرے اور اپنے اس خزانے سے جو اس نے عراقی تیل اور جہاز عالمی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر کے حاصل کی ہے یا پھر جزیئے کی رقم جو وہ وصول کر رہی ہے سے انھیں بھی حصہ دے ۔در اصل یہ رجحان القائدہ نے ہی بنایا تھا جب انھوں نے اعلان کیا تھا کہ جو بھی عالمی سطح پر القائدہ سے منسلک ہو گا اسے دہشت گردی کے لئے فنڈز دئیے جائیں گے ۔اس کے مقابلے پر دولت اسلامیہ میں زیادہ کشش ہے کیونکہ اس کے پاس وسائل کی کمی ہے نہ جنگجوؤں کی ،اور اس کی جغرافیائی اہمیت بھی زیادہے ۔اور عالمی سطح پر دہشت گرد گروپوں کے لئے دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقے ایک طرح کی محفوظ جنت بھی بن چکے ہیں ۔عالمی توجہ حاصل کرنے کے لئے دولت اسلامیہ القائدہ کے ہی نقش قدم پر چل رہی ہے جس کی وجہ سے اسے دنیا کے لئے بھی تیار رہنا ہو گا ۔بیرونی جنگجوؤں کے ذریعے دولت اسلامیہ ان ممالک کے خلاف کوئی قدم اٹھا سکتی ہے جو عراق اور شام میں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔

القائدہ کے برعکس عراق اور شام میں اس کے زیر کنٹرول بلجیئم جتنا علاقہ ہے جہاں یہ اپنی مرضی کے اسلامی قوانین لاگو کئے ہوئے ہیں ۔دولت اسلامیہ کا طریقہ کار بھی افغانستان میں طالبان کی حکومت سے ملتا جلتا ہے کہ پوری دنیا کہ شدت پسندوں کو اسلحہ اور تربیت صرف اس شرط کے ساتھ مل سکتی ہے کہ وہ اسلامی خلیفہ اور خلافت کی اطاعت کر لیں ۔طالبان کے برعکس دولت اسلامیہ نے مغرب کی سیکڑوں مسلمان لڑکیوں کو متاثر کیا اور انھوں نے بغدادی کی اطاعت قبول کر لی ۔اور وہ عراقی فوج اور کرد وں کے خلاف لڑنے والے مجاہدوں کی بیویاں اور داشتائیں بننے پر تیار ہو گئیں ۔ایک اندازے کے مطابق 2014تک 31000جنگجو دولت اسلامیہ میں شامل ہو چکے تھے اور بر طانوی میڈیا کے مطابق جتنی برطانوی فوج میں مسلمانوں کی تعداد ہے اس سے دوگنا برطانوی مسلمان دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لئے ملک چھوڑ چکے ہیں ۔برمنگھم سے ہاؤس آف کامنز کے ممبر خالد محمود کہتے ہیں کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران شدت پسندوں نے کم از کم 1500نوجوان برطانوی مسلمانوں کو بھرتی کیا ہے اور وہ عراق اور شام جا چکے ہیں ۔

دہشت گرد گروپ اس مقام کے متلاشی ہوتے ہیں جہاں انھیں اہمیت دی جائے اور جس کے ذریعے وہ اپنا پراپیگنڈا کر سکیں ۔ یہ اہمیت حکومتوں کی جانب سے ان کے ساتھ بلواسطہ یا بلا واسطہ مذاکرات کی صورت میں ہو سکتی ہے ۔یا پھر وہ علاقے جہاں پر حکومتی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہو اس پر کنٹرول حاصل کر کے وہاں اپنی مرضی کا عدالتی اور حکومتی ڈھانچہ قائم کیا جاسکے ۔

مشترکہ نظریات ہم خیال جنگجوؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں جس کے بعد یہ ایک دوسرے کے تحفظ کے لئے بھی یکجا رہتے ہیں ۔جب اسلامی گروپ مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے اپنے دشمن کیخلاف نبرد آزما ہوتے ہیں جیسا کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے خلاف تو یہ اتحاد اور بھی طاقت ور ہو جاتا ہے ۔القائدہ کی طرح اب دولت اسلامیہ مشترکہ دشمن کے خلاف لڑنے کا پلیٹ فارم بن چکا ہے ۔

ذاتی تعلقات بعض اوقات نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ سود مند ثابت ہوتے ہیں ۔طالبان دور میں افغانستان میں القائدہ کے تربیتی کیمپ عالمی جہادیوں کے مابین ایسے رابطے استوار کرنے میں نہایت اہم ثابت ہوئے ۔1998ء میں مشرقی افریقہ میں سفارتخانوں پر حملے ،2002ء میں امریکی بحری جہاز پر حملہ ،گیارہ ستمبر کے حملے ،میڈرڈ کی ٹرین میں حملہ اور 7/7کو لندن کے سب وے میں حملے یہ سب القائدہ اوراس کے ہم نواؤں کی چند مثالیں ہیں جہاں ذاتی روابط کے سبب ان حملوں کو ممکن بنایا جا سکا تھا۔ دولت اسلامیہ بھی شاید اسی راستے پر گامزن ہے ۔دولت اسلامیہ میں شامل ہونے والے بہت سے افراد اور تنظیمیں ایک دوسرے کے ساتھ ذاتی تعلقات رکھتی ہیں۔اگرچہ اس وقت دولت اسلامیہ اور القائدہ کے مابین کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے تاہم افغانستا ن میں تربیتی کیمپوں کے دوران ان کے ہاں ذاتی تعلقات کا جو سلسلہ بنا تھا وہ ابھی تک کارگر ثابت ہو رہا ہے ۔عام جنگجوؤں کے برعکس دولت اسلامیہ کی سینئر قیادت اور اس کے جہادی افغانستان میں اپنے ہم عصروں کے ساتھ کے روابط کو ابھی تک موئثر سمجھتے ہیں ۔

داعش(دولت اسلامیہ) ماڈل

اس حقیقت کے ہوتے ہوئے کہ دولت اسلامیہ ایک وقت میں القائدہ کا حصہ تھی جس کے اثرات بھی دیکھے جا سکتے ہیں تاہم کچھ معاملات میں دولت اسلامیہ نے اپنی برتری ثبت کی ۔دولت اسلامیہ نے مختصر عرصے میں عراق و شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیا ۔صرف اس کے پہلے آٹھ مہینوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں 9347عام شہری ہلاک اور 17386زخمی ہو گئے ۔اب جب بہت سے اسلام پسندوں کے لئے وہ ایک ماڈل بن چکی ہے حتیٰ کہ القائدہ سے بھی زیادہ ،جہاں وہ مستقبل میں بھی دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لئے بھی متاثر کن حیثیت رکھے گی۔دولت اسلامیہ کی منصوبہ بندی اور طریقہ کار کا جائزہ لے کر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ دہشت گر د اپنے نظریات اور ادارہ جاتی معاملات میں کیا روش اختیار کرتے ہیں جس سے دہشت گردی کے مظاہر کو بھی پرکھا جا سکتا ہے ۔کئی ممالک ایسے ہیں جہاں ان کی حکومتوں کی ناکامیوں کی وجہ سے مستقبل میں جنگجو یہ ماڈل اپنا سکتے ہیں ۔

غیر تدریجی طریقہ کار

ا لقائدہ کے برعکس دولت اسلامیہ غیر مرحلہ وارماڈل پر عمل پیرا ہے ۔اضافی ماڈل مرحلہ وار ہوتا ہے ۔اور ہر مرحلے پر عمل در آمد ہونے کے بعد اگلے کا آغاز ہوتا ہے ۔القائدہ کے منصوبہ ساز سیف العدل نے القائدہ کے پلان کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔اس کے مطابق یہ پلان سات درجوں پر مشتمل ہے۔

خوابِ غفلت سے اٹھنا (2000-2003)آنکھیں کھولنا (2003-2006)صفیں باندھنا(2007-2010)عرب دنیا سے شہنشاہیت کا خاتمہ (2010-2013)اسلامی خلافت کا قیام (2013-2016)کھلی جنگ (2016اور اس کے بعد) اور حتمی فتح (2020)۔الظواہری نے بھی ایک منصوبہ بنایا جس کے مطابق پہلے حصے میں مشرقِ وسطیٰ سے عالمی جہاد کا اعلان کیا جانا تھا اور امریکہ کو خطے سے باہر کر کے مصر میں عالمی خلافت قائم کی جانی تھی۔خلافت کو مظبوط کرنے کے بعد شہنشاہیت اور مغرب کے خلاف جہاد کا آغاز کرنا منصوبے کا دوسرا حصہ تھا ۔مندرج بالا تدریجی منصوبہ بندی دولت اسلامیہ کا خاصا نہیں ہے ۔بغدادی ایک کامیابی کے بعد دوسری کی منصوبہ بندی کرتا ہے تاکہ دستیاب وسائل کو دیکھ کر آگے کے بارے میں سوچا جائے ۔یہ منصوبہ بندی درست ہے یا غلط اس سے قطعہ نظر اس نے مختصر عرصے میں ایک معقول تعداد کو اپنا ہمنوا بنا لیا ہے ۔القائدہ سے سابق تعلق اور ایک مقامی ہونے کی نسبت سے بغدادی کو عراقی فوج کی کمزوریوں کا علم ہے ایسے میں جب اقلیتی سنی آبادی پہلے ہی مایوسی کا شکار ہو ۔خلافت کا قیام ایک اور وجہ تھی جس نے اسلامی تنظیموں سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد کو اپنی جانب راغب کیا ۔یہ منصوبہ ان ممالک میں کار آمد ہو سکتا تھا جہاں جہاں پہلے ہی دہشت گرد تنظیموں اور اسلامی جماعتوں کی ایک بڑی تعداد ہو اور وہ اسی طرح کے عزائم رکھتی ہوں ۔

کمزور حکومتی عمل داری اور خراب امن وامان ایک اور وجہ

داعش ماڈل کے لئے وہ علاقہ زیادہ زرخیز ثابت ہوتا ہے جہاں لوگ خوف کے مارے ہوئے ہوں اور اپنا تحفظ نہ کر سکتے ہوں ۔حکومت اور سیکورٹی فورسز اس قابل نہ ہوں کہ وہ انھیں تحفظ کی ضمانت د ے سکیں ۔عراق کی جغرافیائی صورتحال بھی دولت اسلامیہ کے لئے ممد و معاون ہے کہ وہ مضافاتی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے اور مقامی لوگوں کہ اتنا خوفزدہ کر دے کہ کوئی بھی اس کے سامنے سر نہ اٹھا سکے ۔افغانستان اور پاکستان میں بھی اس ماڈل کے ذریعے اسلامی تحریک اٹھائی جاسکتی ہے کیونکہ حکومتی عمل داری کمزور ہے اور قبائلی علاقوں اور سرحدوں کے اطراف میں حکومت نام کی کوئی شے بھی موجود نہیں ۔ جنگ زدہ شام ، کمزور اور غیر تربیت یافتہ عراقی فوج اورپیش مرگا جیسے چھوٹے باغی گروپوں کی کوئی حیثیت نہیں کہ وہ دولت اسلامیہ کی فائر پاور کے آگے مزاحمت کر سکیں ۔ہمسایوں میں صرف ایک ترکی ایسا ہے جو دولت اسلامیہ کو چیلنج کر سکتا ہے جس کے پاس نیٹو ممالک میں دوسری سب سے بڑی فوج ہے وہ اس تنازعے کا حصہ کسی صورت نہیں بننا چاہتا کیونکہ اس صورت میں اس کی فوجوں کو پشمرگہ ، پی کے کے اور پیٹریاٹک یونین کے رضاکاروں کے خلاف بھی لڑنا پڑے گا ۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی زمینی فوجوں کا بھی ملوث ہونے کا بھی زیادہ امکان نہیں ہے ۔

فرقہ وارانہ تقسیم سے فائدہ اٹھایا جانا

وہ ممالک جن ایک مذہب یا نسل کے لوگ بستے ہوں ان کے لئے یہ ماڈل قابل عمل نہیں ہے ۔مگر وہ ممالک جہاں کئی نسلوں ،مذاہب کے ماننے والے اور متفرق زبانیں بولنے والے ہوں گے وہاں یہ ماڈل کام کرے گا ۔دولت اسلامیہ کو عراق میں مرکزیت حاصل ہے ۔صدیوں سے شیعہ اور سنی ایک دوسرے کے مخالف چلے آرہے ہیں ۔دولت اسلامیہ ،عراق اور شام میں مختلف فرقوں اور نسلوں کے مابین آویزش سے فائدہ اٹھاتی ہے ۔زرقاوی کا پیش رو ہونے کی نسبت سے بغدادی اس قابل ہے کہ وہ ہم خیال سنی شدت پسند گروپوں کے ساتھ عراق میں اور شام میں حکمران علویوں کے خلاف اتحاد بنا سکے ۔یہی صورتحال پاکستان ، افغانستان ، سعودی عرب اوی یمن میں ہے جہاں پر فرقہ وارانہ اور نسلی تقسیم کی گہری جڑیں موجود ہیں ۔

جنگوؤں کی بھرتی اور ٹیکنالوجی

دولت اسلامیہ نے مغرب اور یورپ سے کئی مسلمانوں کو راغب کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ جہاد میں شریک ہو جائیں ۔خلافت کے اعلان کے بعد تقریباً 50ممالک کے باشندے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں ۔دولت اسلامیہ کی فوج میں تقریباً 10000غیر ملکی ہیں جن میں تیونس کے 3000سعودی عرب کے 2500اردن کے2200مراکش کے 1500لبنان کے800روس کے700فرانس650لیبیاکے600برطانیہ کے400-500ترکی کے400جنگجو شامل ہیں۔یورپی ممالک سے جہادیوں کی تعداد 3000کے قریب ہے ۔دولت اسلامیہ کے کارکن پڑھے لکھے اور ان تیکنیکس سے بخوبی آگاہ ہیں جن کے ذریعے وہ اپنا پیغام پھیلا کر جنگجو بھرتی کر سکتے ہیں اور اس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال سب سے اہم ہے ۔وہ میڈیا کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں عالمی چینلز پر ان کی فوجی مہم اور نظریات کا پرچار ہو رہا ہے اور ایساصرف اس لئے ممکن ہو سکا ہے کیونکہ ان کے پاس ٹیکنالوجی کے ماہرین رضا کاروں کی شکل میں موجود ہیں ۔کونسل آن فارن ریلیشنز کی ایمرسن بروکنگز کے نزدیک ’’موصل ایک بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا،دولت اسلامیہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مہم جوئی کا خوب پرچار کیا آپ انگریزی زبان میں وڈیوز اور تصاویر کا ایک سیلاب انٹر نیٹ پر دیکھ سکتے ہیں ۔

غیر حکومتی آبادیاں اور ناکام ریاستیں

وہ آبادیاں جو نیم قبائلی طرز کی ہیں یا جہاں حکومتی رٹ نہیں ہوتی تو وہ علاقے دولت اسلامیہ کے لئے ترنوالہ ثابت ہوتے ہیں ۔دہشت گردی اور بغاوت کی وجہ سے ہرریاست میں یہ صورتحال نہیں ہو سکتی۔فند فار پیس کے2014کے ناکام ریاستوں کے انڈیکس میں ان بارہ عوامل کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کی وجہ سے کوئی ریاست ایسی صورتحال سے دوچار ہو سکتی ہے ۔ان میں چار سماجی ،دو معاشی اورچھ سیاسی اور عسکری عوامل ہیں۔یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ دولت اسلامیہ نے ان علاقوں میں فتوحات کیں جہاں پہلے ہی حکومتی عمل داری نہ ہونے کے برابر تھی ۔ دولت مشترکہ کے زیر قبضہ زیادہ تر علاقے ایسے ہی تھے اور ان میں عراق یا شام کی عمل داری نہ ہونے کے برابر تھی۔یا پھر مرکزی حکومتوں کے کنٹرول ان علاقوں پر کبھی بھی نہیں رہا ۔پاکستان کے قبائلی علاقے ،یمن کی سرحد کے ساتھ جنوبی سعودی عرب کا علاقہ ، شمالی افریقہ میں صومالیہ ، جنوبی افریقہ میں کانگو ، مالی اور شمالی نائیجیریا کے علاقوں میں بھی یہی صورتحال لاگو ہو سکتی ہے ۔

غلطیوں سے سیکھنا :بغدادی کی رہنمائی میں دولت اسلامیہ کا احیاء

دولت اسلامیہ یہاں تقریباً گزشتہ بارہ سال سے موجود ہے مگر اپنی نئی قیادت کے بعد ایک خطرناک عسکری تنظیم کی صورت میں ابھری ہے ۔شام میں 2011ء کی جنگ کے آغاز میں اس نے جہاد کے لئے ماحول کو ساز گار سمجھتے ہوئے اپنے جنگجوؤں کو رقعہ شام میں بھیج دیا ۔شام میں اس کو وہ وقت اور جگہ مل گئی جہاں یہ اپنی تنظیم سازی کر کے آگے بڑھ سکتی تھی ۔بغدادی اپنے سابقین کے برعکس جنھوں نے افغانستان میں تربیت حاصل کی وہاں ایک عرصہ گذارہ اور طالبان کی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات رہے، سے مختلف ثابت ہوا ۔اس نے اپنے سابقین کی غلطیوں سے سیکھا اور افغان طالبان کی بھی کوتاہیوں سے جو ان سے امریکی افوج کا مقابلہ کرتے وقت سرزد ہوئی تھیں ۔عراق کے اندر اور باہر اس کی نقل و حمل اس کے گروپ کی حکمت عملی کا پتہ دیتی ہے اور یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اس گروپ نے کون سے روایتی اور غیر روایتی طریقہ کار اختیار کر کے کامیابیاں حاصل کیں ۔النصری ٰ فرنٹ کے علاوہ بغدادی نے کبھی بھی اپنے گروپ کو اپنے ہم کیال گروپوں سے علیحدہ نہیں رکھا ۔موصل اور کرکوک کی فتح کے وقت اس نے کئی چھوٹے گروپوں کو دولت اسلامیہ میں مدغم کر دیا ۔

بغدادی اور اس کے جنگجوؤں نے خود کو امریکی فوج کے ہاتھوں مکمل تباہ ہونے سے محفوظ رکھا ہے ۔2006ء میں زرقاوی کے ناگہانی وفات کے بعد ابو ایوب المصری (2010)اور الرشید البغدادی (2010)گروپ کی کوئی واضح راستہ نہ تھا ۔مگر بغدادی اپنی فوج کو مجتمع کرنے میں کامیاب رہے جس کی تعداد 2010ء تک 800ہو چکی تھی ۔2011ء میں شام کا محاذ کھولنا ان کے لئے ایک طرح کا شاندار موقع تھا جس سے انھوں نے پوری طرح فائدہ اٹھایا ۔اپنا تعارف کرانے کے لئے بغدادی نے شام کی خانہ جنگی کا بھر پور فائدہ اٹھایا ۔اس نے اپنی افواج کی تنظیم نو کی اور انھیں اس بھاری اسلحے سے مسلح کیا جو انھوں نے آزاد شامی فوج سے لوٹا تھا یہ ہتھیار امریکی فوج نے شامی باغیوں کو فراہم کئے تھے ۔جس کے بعد اس نے موصل پر قبضے کی بھر پور منصوبہ بندی کی یہاں سے انھیں عراقی فوج کے زیر استعمال اسلحے کا زخیرہ ملا جو عموماً اس طرح کے دہشت گرد گروپوں کے پاس نہیں ہوتا ۔ڈیموں اور تیل کنوؤں کا کنٹرول ملنے کے بعد دولت اسلامیہ کے پاس دولت کے زرائع بھی آ گئے ۔انھوں نے عراقی میوزیم سے ہزاروں سال قدیم نوادرات چرا کر عالمی بلیک مارکیٹ میں فروخت کئے اور بھاری معاوضہ حاصل کر لیا۔

عراق اور شام کے نیم اور جنگ زدہ علاقوں میں عمل داری قائم کرنا وہ وجہ تھی جس کی بنا پر مغربی حکومتیں اس تنازعے سے دور رہیں ۔ناکام ریاستیں جرائم پر قابو پانے میں ناکام ہو جاتی ہیں ۔اور غیر ریاستی عناصر ان علاقوں میں متحرک ہوتے ہیں جہاں حکومتی عمل داری نہ ہو اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا رواج ہو ۔عراق کے وہ علاقے جہاں شیعہ اکثریت میں ہیں وہ پہلے ہی اپنے سیاسی مفادات کے لئے اقلیتی سنیوں کے ساتھ اتحاد کر چکے ہیں ۔دولت اسلامیہ نے دراصل اس خلا کو پُر کیا ہے جو عراقی شیعوں نے پیدا کیا تھا ۔مختصر یہ کہ دولت اسلامیہ عراق اور شام کے اندرونی سیاسی تنازعات کی پیداوار ہے ۔

جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہیں بھی دولت اسلامیہ عراق اور شام میں سلفی وہابی گروپوں کے لئے خطرہ نہیں رہی ۔النصریٰ فرنت سے ان کے جھگڑے کی دیگر وجوہات تھیں۔محمد الجولانی اور ابو بکر البغدادی کے درمیان تنازعہ اس بات پر تھا کہ وہ الجولانی شام سے اپنی بچی کھچی فوجیں بچا کر بھاگنا چاہتا تھا ۔بغدادی نے اپنے فتح کے جشن میں مقامی سلفی گروپوں سے جھگڑا نہیں کیا بلکہ انھیں دولت اسلامیہ میں شمولیت پر خوش آ مدید کہا ۔بغدادی نے آزاد شام فوج کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ کیا ۔سابق باتھ پارٹی کے جنگجوؤں اور غیر جہادی مایوس عراقی سنیوں کے ساتھ سود مند اتحاد بنایا۔سنی ملیشیا کے ساتھ شامل ہوئے بغیر تاکہ یہ تاثر نہ پیدا ہو کہ دولت اسلامیہ عراق میں سنیوں کے حقوق کے لئے ان کے شانہ بشانہ ہے ۔امریکہ کے حمایت یافتہ کردوں ، یزیدیوں اور عیسائیوں کی ہالکتیں اور شکست ایک اور وجہ تھی جہاں پر عراقی سنی اور دولت اسلامیہ کے مفادات اکھٹے ہوتے تھے ۔وہ علاقے جہاں داعش ماڈل نہیں چل سکتا دولت اسلامیہ کے تجربے کو دیکھتے ہوئے دوسری دہشت گرد تنظیمیں جو اسلامی ہیں وہ یہ چاہیں گی کہ وہ اسی طرز پر اپنے اپنے ممالک میں آگے آ ئیں ۔اسلامی بغاوتوں سے عبارت صومالیہ ناپائیدار ریاستوں میں دوسرے درجے پر ہے ۔حرکت الشباب المجاہین یا الشباب وہ اہم اسلامی گروپ ہے جو 2002ء سے صومالیہ میں متحرک ہے اور ایک وسیع علاقے کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے ۔شباب کے پاس پہلے بھی جنوبی صومالیہ کے کئے علاقے تھے جہاں وہ اپنا شرعی نظام چلا رہے تھے اور ہمسایہ ممالک میں بھی مداخلت کر رہے تھے۔5000جنگجوؤں کے ساتھ الشباب افریقہ میں القائدہ کے ساتھ منسلک سب سے طاقت ور گروپ سمجھا جاتا ہے ۔شباب کی پیدائش بھی صومالیہ کی ریاست کی ناکامی سے ہوئی ۔اگر وہ دولت اسلامیہ کے نقش قدم پر چلے تو اس کے مقابلے پر کوئی طاقت نہیں کیونکہ گزشتہ پانچ سالوں میں اس کے ہمسایہ ایتھوپیا اور کینیا نے اسے ختم کرنے کی جتنی کوششیں کیں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں ۔

افغانستان بھی اگلا عراق ہو سکتا ہے کیونکہ افغان ریاست کو مظبوط کرنے کے اقدامات ابھی نہیں اٹھائے گئے ۔ملا عمر نے 1996ء میں خود کو امیر المومنین ہونے کا دعوی ٰ کیا تھا ۔پاکستان طالبان کے گروپ جن میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان کے کچھ دھڑے ابھی تک ملا عمر کو اپنا سپریم لیڈر سمجھتے ہیں۔تیکنیکی طور پر القائدہ بھی افغان طالبان کا ہی حصہ ہے کیونکہ 2002ء میں القائدہ کے رہنما اسامہ بن لادن نے ملا عمر کی بیت کی تھی ۔دولت اسلامیہ کے منصہ شہود پر آنے کے بعد اور بغدادی کی جانب سے خلاف کے اعلان کے بعد الظواہری نے ملا عمر کے ہاتھ پر تجدیدِ بیت کی ہے ۔فی الوقت افغان طالبان ،دولت اسلامیہ کی طرح طاقت ور نہیں مگر اصل صورتحال افغان سے نیٹو فوجوں کے انخلا کے بع د واضح ہو گی ۔

اس مرحلہ اس وقت طے ہو گا جب 350000افغان فورسز افغان میں قیام امن کی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔کیونکہ ملک میں امریکی فوج اور اس کے مشیروں کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ افغان فوجیں یہ چیلنج قبول کرنے کی اہلیت رکھتی بھی ہیں یا نہیں ۔شاید افغان طالبان پورے ملک کا کنٹرول نہ سنبھال سکیں مگر وہ ایسے علاقے ضرور ہتھیا سکتے ہیں جن پر وہ بھی اپنی خلافت قائم کر سکیں ۔

اسلامی دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد اور باغی گروپوں کے ہوتے ہوئے پاکستان کو بارہ سال ان عسکریت پسندوں سے لڑتے ہوئے ہو چکے ہیں ۔چھ لاکھ نفوس پر مشتمل ایک مظبوط فوج ہی عسکریت پسندوں کے آگت ایک مظبوط دیوار بن کر کھڑی ہے ۔القائدہ کی مرکزی لیڈر شپ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رہائش پزیر ہے ۔القائدہ سے منسلک فرقہ وارانہ گروپ لشکر جھنگوی ، لشکر طیبہ (جس کے پاس ہزاروں کی تعداد میں تربیت یافتہ جنگجو ہیں )اور غیر ملکی جنگجو ،اسلامک موومنٹ آف ازبکستان ، امارات کوہ قاف(چیچنیا)،ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ (یغرز)ان سب کے ٹھکانے پاکستان میں ہیں جہاں انھیں مالی ، افرادی اور نظریاتی حمایت حاصل ہے ۔فوج گزشتی ایک دہائی سے ان کے خلاف قبائلی علاقوں میں آپریشن کر رہی ہے ۔جون2014ء میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تاکہ القائدہ کے جنگجوؤں کو بھگایا جا سکے ۔لیکن اگر پاکستان میں تمام جنگجو اکھٹے ہو جائیں تو پاکستان داعش ماڈل ممکن ہو سکتا ہے ۔

اختتام

دولت اسلامیہ کا ماڈل صرف اس گروپ کی نظریاتی اساس کو سمجھنے میں ہی مدد نہیں کرتا بلکہ یہ گروپ کیسے کام کرتا ہے اور اپنے معاملات کیسے چلاتا ہے وہ بھی اس سے معلوم ہوتا ہے ۔دولت اسلامیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے اتحادحکومت کے لئے خطرے کا الارم ہیں ۔القائدہ بھی اپنی ساکھ رفتہ رفتہ کھو رہی ہے۔ القائدہ اور دولت اسلامیہ کے درمیان مقابلے کی جو دوڑ شروع ہو چکی ہے وہ اس لئے بہت خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ القائدہ اپنی اہمیت جتلانے کئے دوبارہ بہت ہی خطرناک حملوں کا سلسلہ شروع کر سکتی ہے ۔القائدہ کے سربراہ الظواہری اپنے مد مقابل بغادادی کو نیچا دکھانے کے لئے اپنے دوستوں کی مدد حاصل کر سکتے ہیں تاکہ وہ القائدہ کا مستقبل بچا سکیں ۔ القائدہ برصغیر شاخ کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔انسداد دہشت گردی کے ماہرین اور پالیسی سازوں کو سوچنا ہو گا کہ وہ کیسے القائدہ کے حملوں کیخلاف پیش بندی کر سکتے ہیں اور دولت اسلامیہ کے اثر و نفوز کو روک سکتے ہیں ۔

(تلخیص و ترجمہ،سجاد اظہر)

***

عدن میں داخلہ

بدھ کو چھ بجے ہمارا جہاز عدن پہنچا۔یہ ایک خشک علاقہ ہے سبزے کا پتا نہیں ،آٹھ دس میل سے پہاڑیاں نظر آتی ہیں ۔بمبئی سے 1664میل ہے ۔یہاں جہاز نے کوئلہ لیا ۔کوئلہ لیتے وقت تمام کمروں کے دروازے بند کر دیے گئے ۔شاید اس لئے کہ کوئلے کے ذرے ہوا سے اڑ کر کمروں میں نہ جائیں ۔کمرہ بند ہونے سے حبس ہو گیا ۔لین برقی پنکھوں نے اس تکلیف کو قدرے کم کر دیا ۔

بھائی صاحب سے چند انگریزوں نے سرکار سے ملاقات کرنے کا اشتیاق ظاہر کیا ۔اس لئے سرکار ڈیک پر تشریف لے گئیں ۔چند یورپین خواتین اور صاحبوں سے ملاقات ہوئی اور مختلف مضامین پر گفتگو ہوتی رہی ۔اس جہاز میں فرانس کی ایک شہزادی بھی تھیں ۔جن کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔انھوں نے بھی آکر ملاقات کی ،وہ ہندوستان کو بہت پسند کرتی ہیں اور کئی مرتبہ مہاراج کپور تھلہ کی مہمان ہو چکی ہیں ۔چونکہ عدن ہندوستان سے قریباً1700میل کے فاصلے پر مغرب کی جانب واقع ہے ۔اس لئے یہاں وقت میں کوئی ڈیڑھ گھنٹیکا فرق ہو گیا ہے ۔میری گھڑی مدراس ٹائم کے مطابق تھی۔ایک دن میں صبح سو کر اٹھی اور وقت دیکھا تو آٹھ بج چکے تھے ،میں گھبرائی کہ آج میری دیر میں آنکھ کھلی ،مگر باہر دیکھا تو نماز کا وقت تھا ۔معلوم ہوا کہ یہاں حساب سے ابھی چھ بھی نہیں بجے ،وقت کا یہ فرق اب برابر بڑھتا جائے گا کیونکہ ہم مشرق سے مغرب کو جا رہے تھے اور یوں ہر ہزار میل پر ایک گھنٹے کو فرق ہو جاتا ہے ۔

کھڑکیوں کے بند ہوتے وقت دیکھا کہ شیدی ناچ کر لوگوں سے کچھ مانگتے ہیں اور لوگ ان کو کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں ۔

عدن پہلے سلطنتِ ترکی میں شامل تھا لیکن اب قریباً ستر برس سے سلطنتِ برطانیہ کے قبضے میں ہے اور بہ نسبت اس وقت سے سنا گیا ہے کہ اب زیادہ با رونق ہوتا جاتا ہے ۔انگریز سرکار کی فوج یہاں قلعے میں رہتی ہے ۔یورپ کا کوئی جہاز عدن سے گزرے بغیر ہندوستان کو نہیں آ سکتا اور اگر آئے بھی تواس کو تمام افریقہ کا چکر لگانا پڑے اور اس سفر میں بہت وقت خراب ہو گا ۔پرانے زمانے میں لوگ اسی راستے سے آتے جاتے تھے لیکن سویز کینال نے جس کا ذکر میں آئیندہ کروں گی ،اس مشکل کو آسان کر دیا ہے ۔سرکار فرماتی تھیں کہ سفرِ حجاز کے وقت سے جس کو آٹھ سال کا عرصہ گزرا ،عدن کے کنارے پر بہت سی جدید خوشنما عمارتیں بن گئی ہیں ۔

یہاں ہر قوم اور ملک کے آدمی نظر آتے ہیں ۔یہ ایک جزیرہ ہے جو اونچے پہاڑ پر آباد ہے۔تجارت کے لحاظ سے بھی یہاں کا بازار رونق پر ہے مسافروں کو یہاں اتنی مہلت ملتی ہے کہ وہ اپنے عزیزوں دوستوں کو خط لکھ سکیں ۔

سیاحت سلطانی ۔سفرنامہ فرماں روائے بھوپال نواب سلطان بیگم سے اقتباس ۔۔۔(مطبوعہ آکسفورڈ 2008ء)