working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 عدم تحفظ کی بنیاد پر بنے والی آبادیاں

تاریخ ،سیاسی و سماجی ڈھانچہ اور سلگتے مسائل راولپنڈی اسلام آباد کے پھیلاؤ کے نئے اسلوب

سجاد اظہر

جب آبادی میں اضافہ ہوتا ہے تو جرائم بھی بڑھتے ہیں ۔اس کی سیدھی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آبادی کے تناسب سے وسائل نہیں بڑھتے ۔مگر ہمارے ہاں ایک وجہ اور بھی ہے اور وہ ہے اپنی آبادی کے بارے میں درست معلومات نہ ہونا ۔1998ء کے بعد گزشتہ سترہ سالوں سے مردم شماری ہی نہیں ہوئی اس لئے ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ آبادی کتنی بڑھ چکی ہے ۔ پاکستان میں مختلف عمومی وجوہات کہ بنا پر دیہات سے شہروں کی جانب منتقلی اپنی جگہ لیکن گزشتہ چند سالوں میں مختلف تنازعات کی بنا پر اندرونی ہجرت بڑی تعداد میں ہوئی ہے ۔جس نے کئی شہروں کی حیئت ہی بدل ڈالی ہے اور وہ اپنی آبادی اور رقبے میں دوگنا سے بھی آگے نکل گئے ہیں انہی شہروں میں راولپنڈی اور اسلام آباد بھی ہیں جو آخری مردم شماری میں بھی پاکستان کا چوتھا بڑا میٹروپولیٹن علاقہ تھا مگر اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تیسرے درجے پر فائز ہو چکا ہے ۔جس تیزی سے اس کی آبادی بڑھی اس کی مناسبت سے اس کا سیکورٹی ڈھانچہ نہیں بڑھا جس کی وجہ سے آج یہاں جرائم کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے بلکہ کئی جرائم میں اوسط کے لحاظ سے یہ کراچی اور لاہور کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے ۔جڑواں شہروں میں امن و امان کی صورتحال اتنی بگڑ چکی ہے کہ اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ یہ ان سارے مسائل کی جانب گامزن ہیں جنھوں نے ہنستے بستے کراچی کوآگ کا گولہ بنا دیا ہے ۔زیر نظر فیچر میں یہی جائزہ لیا گیا ہے جس کو پڑھنے کے بعد آپ کو معلوم ہو گا کہ یہاں نو گو ایریاز بھی بن چکے ہیں ، ٹارگٹ کلنگ بھی ہے ، بھتہ مافیا بھی پوری طرح سرگرم ہے اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی عام ہیں ۔چوری ڈکیتی تو اب شمار میں ہی نہیں ،سٹریٹ کرائمز بھی اس حد تک ہیں کہ شہر کے بعض علاقوں میں شہری سر شام ہی گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان سب کے علاوہ شہر میں دہشت گردوں کے منظم نیٹ ورک ۔ یہ سب عوامل جڑواں شہروں میں کراچی جیسا منظر نامہ تخلیق کرنے کی جانب گامزن ہیں ۔(مدیر)

یہ 300قبل مسیح ہے

شہر کا نام ہے پتالی پترا(پٹنہ)،دریائے گنگا کے کنارے پر آباد سلطنتِ موریہ کے دارلخلافہ کو اُس وقت دنیا کا سب سے بڑا شہر ہونے کا اعزاز حاصل تھا ۔جہاں تخت نشین تھا چندر گپت موریہ کا پوتااشوکِ اعظم ۔شہر کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے تین لاکھ نفوس پر مشتمل تھی ۔آج سے تقریباً دو ہزار تین سو سال قبل یہ شہر اڑھائی کلو میٹر چوڑائی اور پندرہ کلومیٹر لمبائی پر محیط تھا ۔شہر کا انتظام ایک تیس رکنی منتخب کونسل کے سپرد تھا جو شہر میں امن و امان سمیت ہر سہولت کی ذمہ دار تھی ۔اس وقت اس شہر میں گندگی پھیلانے جیسے معمولی جرائم پر بھی سزائیں مختص تھیں ۔شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے شہر کے گرد ایک مظبوط دیوار تھی جس میں 64دروازے تھے جہاں پر مستعد اور چوکس محافظ ہر آنے جانے والے پر کڑی نظر رکھتے ۔اُس وقت کے پتالی پترا میں جرائم کی شرح کیا تھی اس بارے میں کوئی اعداد و شمار تو دستیاب نہیں البتہ اشوک اعظم کے دور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے تھے ۔

اور یہ 2015ہے

شہر ہے راولپنڈی اور اس سے متصل وفاقی دارلحکومت اسلام آباد ،جنھیں 1998کی مردم شماری کے مطابق ملک کا چوتھا بڑا میٹرو پولیٹن ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔جس تیزی سے یہ جڑواں شہر گزشتہ پندرہ سالوں میں پھیلے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ کراچی اور لاہور کے بعداب ملک کا تیسرا بڑا میٹر پولیٹن علاقہ ہے ۔گزشتہ ایک آدھ دہائی میں یہ شہر اپنی آبادی اور علاقے میں کہیں زیادہ آگے کی طرف چلا گیا ہے ۔شاید پندرہ سال پہلے کے مقابلے پر دو گنا ،شمال مشرق میں بہارہ کہو سے لے کر جنوب مغرب میں فتح جنگ تک اور جنوب مشرق میں روات سے لے کر جنوب مغرب میں ٹیکسلا تک جہاں تک نظر جاتی ہے شہر ہی شہر نظر آتا ہے ۔اس شہر کے پھیلاؤ کی متعد د وجوہات ہو سکتی ہیں ۔دیہات سے شہروں کی جانب آبادی کی منتقلی یوں تو پوری دنیا میں ہو رہی ہے مگر پاکستان اس حوالے سے جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے آگے ہے ۔1951کی مردم شماری کے مطابق اس کی 17فیصد آبادی شہروں میں مقیم تھی جو 2010تک 37فیصد ہو چکی ہے اور اگر یہی رفتار رہی تو اگلے دس سے پندرہ سالوں میں اس ملک کی آدھی آبادی شہروں میں رہائش اختیار کر لے گی (بحوالہ عشرت حسین ،دیہات سے شہروں کی جانب منتقلی 2014)۔جڑواں شہروں کے تیزی سے پھیلاؤ کی ایک اور بڑی وجہ وہ تنازعات بھی ہیں جو اس کے ارد گرد کے علاقوں میں تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔گلگت ،پارہ چنار اور کوئٹہ سے کراچی تک فرقہ واریت ہو یا کراچی اور سندھ میں لسانی و نسلی فساد،سوات ،فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں شدت پسندی ہو یا بلوچستان میں علیحدگی پسندی یا پھر ملک بھر میں پھیلے گروہی اور اقلیتی فسادات ،ہر علاقے کے متاثرین کا من پسند پڑاؤ یہی جڑواں شہر بنتے ہیں ۔اس طرح گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران روایتی اور غیر روایتی دونوں اندازسے جڑواں شہروں کی آبادی پر حد درجہ دباؤ پڑا ۔مگر شہری انتظامیہ آبادی کی اس برق رفتاری کا بر وقت احساس کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ امن و امان سے وابستہ ایسے مسائل نے بھی سر اٹھا لیا جو اس سے قبل ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کا خاصا تھے ۔80کی دہائی کے بعد کراچی کی آبادی میں ہونے والے بے پناہ اضافے کی وجہ سے وہاں نسلی ، لسانی ،فرقہ وارانہ اور انتہا پسندانہ فسادات اس تیزی سے پھیلے کہ اب رکنے کا نام ہی نہیں لیتے ۔کچھ ایسی ہی صورتحال کی جانب راولپنڈی اسلام آباد بھی جارہے ہیں ۔جس تیزی کے ساتھ ان شہروں کی آبادی بڑھی اس کی مناسبت سے سیکورٹی اداروں کا ڈھانچہ نہیں بڑھ سکا اور پھر پہلے سے روز بروز ابتر ہوتی ان اداروں کی کارکردگی نے حالات کو اور بھی دگرگوں بنا دیا ہے ۔آج یہاں بھتہ اور پرچی مافیا عام ہے ، فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ بھی ہے ،چوری ،ڈکیتی ،اغوا برائے تاوان ،منشیات فروشی،سٹریٹ کرائمز ،سرعام کاریں چھیننایہ سب اس شہر کا بھی خاصا بن چکی ہیں ۔حد تو یہ بھی ہے کہ جرائم پیشہ افراد نے کچھ علاقے ایسے بھی مخصوص کر لئے ہیں جہاں اب قانون نافذ کرنے والے ادارے جاننے سے بھی ہچکچاتے ہیں ۔ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی22دسمبر 2014کی اشاعت میں راولپنڈی کے علاقے شکریال اور رحیم آباد کو پولیس کے لئے نو گو ایریا قرار دیا جبکہ دی نیوز کے رپورٹر شکیل انجم نے ایک انٹرویو میں راقم کو بتایا کہ اسلام آباد کے علاقے ترنول اور پنڈ پڑیاں بھی نو گو ایریاز ہیں جہاں جرائم پیشہ افراد کی حکمرانی ہے ۔

راولپنڈی سے اسلام آباد تک

ایک ہزار سال قبل تک یہاں کسی بڑی آبادی کا نام و نشان نہیں تھا۔اس علاقے میں جہاں آج راولپنڈی اور اسلام آباد واقع ہیں یہاں پر سولان ،آدڑہ اور گجنی پور کی چھوٹی آبادیاں تھیں ۔830ء میں بھٹی راجپوتوں کے سردار راجہ باجم پال نے گجنی پور میں ایک قلعہ تعمیر کروایا جس کے آثار آج بھی ایوب پارک کے ساتھ باقی ہیں ۔راجہ باجم پال کے راول نامی ایک بیٹے نے دریائے کورنگ کے کنارے ایک قصبے کی بنیاد رکھی جو اسی کے نام سے موسوم ہوا اور بنتے بگڑتے راولپنڈی ہو گیا ۔راولپنڈی کے ساتھ ٹیکسلا سے اڑھائی سے تین ہزار سال پہلے کی تہذیب کے کھنڈرات ملے ہیں ۔دریائے سواں کے کنارے روات سے لے کر مورگاہ تک پتھرکے جو اوزار دریافت ہوئے ہیں ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق وہ پانچ سے دس لاکھ سال پہلے کے دور سے تعلق رکھتے ہیں جن سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ ساڑھے بارہ لاکھ سال پہلے یہاں پر سوسانی تہذیب اپنے جوبن پر تھی ۔ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے بھی سواں کی تہذیب کو دنیا کی سب سے قدیم تہذیب قرار دیا ہے ۔گویا یہ وہ علاقہ ہیں جہاں سے تہذیبوں کے شگوفے پھوٹے ۔سکھ عہد میں راولپنڈی کو 1814ء میں تخت لاہور کے ماتحت کر دیا گیا ۔1849ء میں انگریزوں نے برگیڈئیر جنرل جان نکلسن کو یہاں کا حکمران مقرر کیا ۔1850ء میں انگریزوں نے راولپنڈی کو اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر اس کو برگیڈ ہیڈ کوارٹر کا درجہ دے دیا ۔1947ء میں جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو یہاں پاک فوج کا ہیڈ کوارٹر اسی وجہ سے بنا کہ تن یہ متحدہ ہندوستان کی سب سے بڑی چھاونی تھی۔1951ء کی مردم شماری کے تحت راولپنڈی کی آبادی4,4000تھی جو1998میں بڑھ کر 19,28000ہو چکی تھی ۔1959ء میں ایک کمیشن نے دارلحکومت کراچی سے منتقل کر کے ایک نئی جگہ بسانے کا فیصلہ کیا جس کا نام اسلام آباد رکھا گیا ۔2015ء میں ایک اندازے کے مطابق اس کی آبادی دوگنا ہو چکی ہے ۔1998ء کی مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کی آبادی 8,5235 تھی اور اب سترہ سال بعد اس کی آبادی کتنی ہو چکی ہے اس کا جواب انگریزی اخبار ڈان کے مطابق وفاقی ادارہ تعلیمات ،وفاقی مردم شماری بیورو اور مقامی انتظامیہ نے اپریل 2011میں ایک سروے کیا جس کے مطابق دارلحکومت کی آبادی بیس لاکھ کے قریب ہے ۔اس کہ وجہ بتاتے ہوئے اخبار نے حکام کے حوالے سے لکھا کہ ملک بھر سے بالعموم اور فاٹا ، خیبر پختونخواہ ،گلگت بلتستان ، پنجاب اور بلوچستان سے آباد کاروں کا ایک سیلاب آیا ہے جس کی وجہ سے اس کی آبادی دوگنا سے بھی زائد ہو گئی ہے اگر چار سال پہلے یہ آبادی بیس لاکھ تھی تو اب پچیس لاکھ ہو چکی ہو گی ۔اسلام آباد کے مقابلے پر راولپنڈی میں زمینیں سستی ہیں اس لئے پچھلے پندرہ سالوں میں راولپنڈی جتنا ایک نیا شہر بحریہ ٹاؤن اور اس کے گردو نواع میں وجود میں آچکا ہے ۔اگر راولپنڈی کی آبادی کو بھی دوگنا سمجھ لیا جائے تو اس وقت ان جڑواں شہروں کی آبادی کم و بیش تقریباً70لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملک کے دوسرے بڑے میٹرو پولیٹن لاہور کی آبادی کا موجودہ تخمینہ 63,19000اور تیسرے بڑے شہر فیصل آباد کی آبادی پنجاب ڈویلپمنٹ سٹیٹسٹک کے مطابق 2008ء تک 28لاکھ تھی جو 2014ء تک بڑھ کر 32لاکھ ہو چکی تھی۔ کراچی کی آبادی کا تخمینہ دو کروڑ تیس لاکھ ہے ۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو راولپنڈی اسلام آباد نہ صرف فیصل آباد کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں بلکہ وہ آبادی کے لحاظ سے لاہور کے مقابلے پر ہیں ۔1960ء میں جب اس شہر کی بنیاد رکھی گئی تو اس کا راولپنڈی سے کم و بیش 25کلومیٹر تھا مگر آج یہ حا ل ہے کہ یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کس شہر کی سرحد کہاں شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہو جاتی ہے ۔جڑواں شہروں کو درمیان کی ایک سڑک آئی جے پرنسپل روڈ جدا کرتی ہے مگر اطراف میں صورتحال اتنی گنجھلک ہے کہ کہاں کس شہر کی حدود شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہو جاتی ہے ۔اسلام آباد سے روات تک ایکسپریس ہائی وے جو 25کلومیٹر طویل ہے اس کے اطراف میں دونوں شہر ایک دوسرے میں مدغم ہو چکے ہیں ،پیرودھائی موڑ سے مارگلہ کی پہاڑیوں تک جی ٹی روڈ کے ارد گرد بھی یہی صورتحال ہے ۔یہی وجہ کہ اکثر جرائم کے وقوعہ دونوں شہروں کی پولیس کے درمیان وجہ تنازعہ بن جاتا ہے۔اسلام آباد کے ساتھ ایک دیہی علاقہ بہارہ کہو ہے جس کی آبادی بہت برق رفتاری سے پھیلی ہے مگر اس کے ارد گرد کافی علاقہ پنجاب کا ہے ۔فتح جنگ میں اسلام آباد کا نیا ائیر پورٹ تکمیل کے قریب ہے پہلے یہ علاقہ ضلع اٹک میں تھا مگر اب اس کا کچھ علاقہ اسلام آباد میں آچکا ہے اور یوں یہاں اسلام آباد ،راولپنڈی اور اٹک تینوں ضلعوں کی پولیس ابھی صحیح طرح سے اپنی حدود کا تعین نہیں کر سکی ۔ اسلام آباد کا نیا ائیر پورٹ زیرو پوائنٹ سے تقریباً تیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اس کے ارد گرد اب بیسیوں چھوٹی بڑی ہاؤسنگ سکیمیں بھی بن چکی ہیں جن میں نئی آبادیاں بن رہی ہیں اس طرح اگلے پانچ سالوں میں نئی آبادیوں کا رجحان اسی علاقے میں ہو گا ۔جڑواں شہروں میں امن و امان کی نا گفتہ بہ صورتحال کی ایک بڑی وجہ اس کا جغر افیہ بھی ہے ۔ایک قدم آگے بڑھ جائیں تو اسلام آباد پیچھے ہٹ جائیں تو پنجاب ،چنانچہ مجرموں کے لئے یہ بڑی آئیڈیل بات ہے اور انھیں جرم کے بعد غائب ہونے کی آسانی رہتی ہے ۔دونوں شہروں کی پولیس جب تک ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ استوار کرتی ہے مجرم اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں غائب ہو جاتے ہیں ۔ایک ریٹائرڈ پولیس افسر نے جو راولپنڈی ،اسلام آباد اور کراچی تینوں شہروں میں اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں انھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جڑواں شہروں میں اس وقت تک مجرموں کی سر کوبی نہیں ہو سکتی جب تک دونوں شہروں کا سیکورٹی ڈھانچہ ایک نہیں ہو جاتا یہ بات بڑے عرصے سے کی جا رہی ہے مگر شاید بنکروں میں بیٹھے حکمرانوں کو عوام کی سیکورٹی عزیز ہی نہیں ہے ۔اگر یہ رویہ جاری رہا تو یہاں بھی کراچی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور حالات اسی طرف جا رہے ہیں ۔

راولپنڈی اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں خطرناک اضافہ

اکانومسٹ میگزین کی جانب سے 2015میں جاری کی جانے والی دنیا کے50 محفوظ ترین شہروں کی فہرست میں پاکستان کا کوئی شہر شامل نہیں جبکہ دنیا کے خطرناک ترین شہرو ں میں امریکہ کے فارن پالیسی میگزین نے کراچی کو نمبر ون قرار دیا ہے جہاں ہر سال ایک ہزار میں سے بار سے زائد افراد قتل ہو جاتے ہیں ۔معیار زندگی کے حوالے سے جب عالمی سطح پر شہروں کی درجہ بندی کی گئی تو اسلام آباد اور کراچی کو عدم تحفظ،سیاسی وسماجی دباؤ کی وجہ سے دنیا میں خطرناک ترین قرار دیا گیا ۔اسلام آباد معیار زندگی کی درجہ بندی میں 261ویں ا ور کراچی269ویں نمبر پر تھا ۔کراچی کی آباد ی دو کروڑ چالیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔کراچی میں جرائم کی شرح زیادہ ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ایک وجہ کراچی اور راولپنڈی اسلام آباد میں مشترک ہے کہ دونوں کی آبادی میں تنوع یک لخت تبدیل ہوا ۔جب کے پی کے اور فاٹا میں شدت پسندی بڑھی تو سب سے زیادہ جس شہر کی طرف رجحان ہوا وہ یہی جڑواں شہر تھے ۔ایک تو متمول طبقہ آیا جس نے جائیدادیں خریدیں جس کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں تعمیرات شروع ہوئیں جس سے مزدور طبقہ بھی جوق در جوق آیا ۔وسطی اور جنوبی پنجاب سے آنے والوں اور کے پی کے جرائم پیشہ افراد نے مل کر جرائم کے گینگ بنا لئے ہیں جس کی وجہ سے جڑواں شہروں نے کئی جرائم میں کراچی کو بھی مات دے دی ہے ۔2012میں عورت فاؤنڈیشن کی ڈاکٹر رخشندہ پروین نے عورتوں کے خلاف ہولناک جرائم کے حوالے سے پاکستان کے بڑے شہروں اور صوبوں کا ایک تقابلی جائزہ لیا جس میں کہا گیا کہ خطرناک جرائم کے حوالے سے کراچی نہیں بلکہ راولپنڈی پہلے نمبر پر ہے تھا جہاں سب سے زیادہ تعداد میں عورتوں کو اغواء کیا گیا ، انھیں زنا با لجبر کا نشانہ بنایا گیا یا پھر انھیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا ۔پنجاب میں سال 2014ء کے دوران جرائم میں 110فیصد اضافہ ہوا ،لاہور جرائم کے حوالے سے پہلے اور راولپنڈی چوتھے نمبر پر ہے ۔2005ء میں راولپنڈیہ میں کل جرائم کی تعداد 12332تھی جو 2014ء میں بڑھ کر 17535ہو گئی ۔جرائم ا س سے کہیں زیادہ تعداد میں بڑھے ہیں مگر پولیس ایف آئی آر کے اندراج میں پس و پیش سے کام لیتی ہے جس کی وجہ سے اکثر سائل دو تین بار چکر لگا کر مایوس ہو جاتے ہیں ۔اگر ہر جرم کی ایف آئی آر درج ہو تو شاید پاکستان دنیا میں جرائم کی سالانہ شرح میں سب سے آگے ہو ۔ اس سلسلے میں ہم نے سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی اسرار خان عباسی سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ راولپنڈی میں جس تیزی سے آبادی بڑھی ہے اس تیزی سے سیکورٹی اداروں کا نیٹ ورک نہیں بڑھ سکا جس کی وجہ سے یہاں صورتحال تشویشناک ہے اور اگر یہ جاری رہی تو خدانخواستہ یہاں کراچی سے بھی بد تر حالات پیدا ہو سکتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ 25سال پہلے راولپنڈی میں 6تھانے تھے اور آج جب اس کی آبادی دس گنا بڑھ چکی ہے تو تھانوں کی تعداد 18ہے ۔سٹی میں پولیس کی دو ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں۔شہر میں سٹریٹ کرائم بڑھ گیا ہے ۔دوسرے شہروں سے آنے والے ان جرائم میں شریک ہیں ۔ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے۔پولیس دستیاب وسائل میں شہریوں کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔راولپنڈی کے سابق سی پی او اشتیاق شاہ جنھوں نے کم وبیش پچیس سال تک یہاں اپنی خدمات سرانجام دی ہیں وہ کہتے ہیں کہ راولپنڈی میں جرائم کا خطرناک منظر نامہ یہاں آبادی کا بہت تیزی سے بڑھنا ہے انھوں نے کہا کہ 1982میں راولپنڈی اسلام آباد کی ٹریفک کو 12انسپکٹر کنٹرول کرتے تھے جا اکثر گاڑیوں کو ان کے نمبرز سے پہچانتے تھے اگر میں آج یہ بات کروں تو شاید لوگوں کو اس بات پر یقین نہیں آئے گا کہ کبھی یہ شہر ایسا بھی تھا تب دونوں شہروں کی کل پولیس پانچ ہزار کے قریب تھی ۔شہر صرف صدر سے سکستھ روڈ تک تھا اور باقی مظافاتی علاقے اور ڈھوکیں تھیں مگر آج بہارہ کہو سے فتح جنگ تک اور ٹیکسلا سے روات تک کے وسیع علاقے میں یہ شہر پھیل گیا ہے ۔ایک وجہ یہاں کرایہ داروں کا ڈیٹا نہ ہونا ہے آدھی سے زیادہ آبادی کرائے پر رہ رہی ہے مگر ان کا کوئی ڈیٹا نہیں اب وزیرداخلہ چوہدری نثار کے حکم پر پولیس یہ ڈیٹا اکھٹا کر رہی ہے مگر یہ جب تک کمپیوٹر رائزڈ اور ہر تھانے کو مہیا نہیں ہو گا تب تک اس کا فائدہ نہیں ہے ۔پولیس کو ہر گھر میں رہنے والوں کی پروفائلنگ کرنا ہو گی اور ایک سینٹرل کرائم ڈیٹا کے ساتھ یہ ریکارڈ منسلک کرنا ہو گا تاکہ متعلقہ تھانے والے کو معلوم ہو کہ اس کہ علاقے میں جو لوگ رہ رہے ہیں ان کی کرائم ہسٹری کیا ہے ۔راولپنڈی کے مقابلے پر اسلام آباد کبھی نہایت پر امن شہر تھا مگر آج کیا صورتحال ہے اس کی وضاحت گزشتہ پانچ سالوں میں یہاں ہونے والے جرائم کی شرح دیکھنے سے ہوتی ہے ۔

اسلام آباد میں 2010سے2014تک ہونے والے جرائم کا چارٹ

 

دیگر مختلف نوعیت کے جرائم کی تعداد کو بھی اگر گنا جائے تو اسلام آ بادمیں گزشتہ پانچ سالوں میں کل 36802جرائم ہوئے ۔

(بشکریہ نیشنل کرائم ڈیٹا)

2011میں سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کو اس وقت کے آئی جی بنیامین نے بتایا تھا کہ شہر میں جرائم کی شرح میں اضافے کی وجہ پولیس کی انتہائی کم تعداد ہے انیس لاکھ کی آبادی کے لئے صرف 26سواہلکار تعینات ہیں جبکہ باقی ساڑھے سات ہزار وی آئی پیز کی سیکورٹی کے لئے مختص ہیں ۔اقوام متحدہ کے سٹینڈرڈز کے مطابق ایک لاکھ شہریوں پر 300پولیس اہلکار ہونے چاہئیں ۔اس حساب سے اسلام آباد کے لئے کم از کم چھ ہزار پولیس اہلکار تعینات ہونے چاہئیں مگر دستیاب صرف اڑھائی ہزار ہیں ۔ایک تو تعداد کی کمی اور دوسرا مسئلہ استعداد کی کمی ان حالات میں شہری واقعی مجرموں کے رحم و کرم پر ہیں ۔تھانہ لوئی بھیر کے اہلکار محمد زمان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے ارد گرد اکثر ہائسنگ سوسائیٹیوں میں سیکورٹی کیمرے لگے ہوئے ہیں جب کسی ملزم کی شناخت ہو جاتی ہے تو نادرا والے اپنی جان چھڑانے کے لئے کہہ دیتے ہیں ’’no match‘‘۔یہی حال وہ فنگر پرنٹس کے ساتھ کرتے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس عدالتوں کی پیشیاں بھگتنے کے لئے اہلکار نہیں ہیں ۔اگر ہم کسی کو پھر بھی پکڑ لیں تو وہ پہلی دوسری پیشی پر چھوٹ کر پھر وہی کام شروع کر دیتا ہے ۔پولیس کو موبائل ڈیٹا تک رسائی بھی تین ہفتوں کے بعد ملتی ہے ۔جب تک موبائل اور نادرا کا ڈیٹا ہمیں بروہ راست نہیں ملے گا جرائم پر کنٹرول نہیں ہو سکتا۔

اسلام آباد کے 123داخلی و خارجی راستے ہیں جن کو مجرم کراس کر جائیں تو پولیس کے لئے انھیں پکڑنا دشوار ہو جاتا ہے ۔کئی بار یہ تجویز آئی کہ دونوں شہروں کا سیکورٹی ڈھانچہ ایک ہونا چاہئے مگر ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا ۔جس کی وجہ سے مجرموں کو اپنا جرم کر کے بھاگ جانے میں آسانی ہے ۔

راولپنڈی اسلام آباد کی کچی بستیاں ،مجرموں اور دہشت گردوں کی پناہ گاہیں

پاکستان جرنل آف پبلک ہیلتھ کے جون2012ء کے شمارے کے مطابق نالہ لئی جو کہ راولپنڈی کے درمیان سے گزرتا ہے اس کے ارد گرد کچی آبادیوں میں شہر کی 17-18فیصد تک آبادی مقیم ہے ۔ مگر اس کے مقابلے پر اسلام آباد جسے آباد کرتے وقت اس بات کا اہتمام کیا گیا تھا کہ اس کی ایک ایک اینٹ باقائدہ منصوبہ بندی کے ساتھ لگے مگر ایسا ہو نہیں سکا ۔اسلام آباد کی ترقی اور منصوبہ بندی کا ضامن ادارہ کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور اس کے 27ہزار ملازمین کے ہوتے ہوئے شہر میں کچی آبادیاں بننا شروع ہو گئیں جو اب بڑھ کر 34ہو چکی ہیں ۔جن میں 98ہزار افراد رہائش پزیر ہیں ۔

اسلام آباد کی کچی بستیاں بہارہ کہو،بری امام، جی 12-،ایف6-،ایف7-،جی6-،ایچ9-، ایچ10-، آئی9-، آئی10-،آئی11-میں جبکہ مشرف کالونی جی8-،علامہ اقبال کالونی جی-8،گورا کالونی ایچ10-اس کے علاوہ ہیں ۔میڈیا سورس کے مطابق جڑواں شہروں میں کئی جرائم پیشہ افراد انہی کچی بستیوں کے مکین ہیں جو چوری ،ڈکیتی ، اغواء برائے تاوان ،بھتہ ،منشیات،دہشت گردی ،کار چوری اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں ۔جن میں افغان شہریوں کی بھی بڑی تعداد آباد ہے ۔وزارتِ داخلہ نے کئی بار پولیس کو کچی بستیوں میں آپریشن کلین اپ کرنے کا ٹاسک دیا مگر اسے آج تک مکمل نہیں کیا جا سکا۔سیکورٹی ادارے انہیں سیکورٹی رسک بھی قرار دے چکے ہیں مگرہمہ وقت منڈلاتے اس خطرے کا تدارک کیسے کرنا ہے حکام اس پس منظر میں یا تو کوئی واضح حکمت عملی نہیں بنا سکے یا پھر اس پر عمل در آمد نہیں کروا سکے ۔ایکسپریس ٹربیون نے 9فروری2015کو اپنی ایک خبر میں وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے 2009سے 2014کے درمیان مختلف جرائم کے 674ایسے کیسوں کا پتہ چلایا جن میں کچی بستیوں کے مکین ملوث تھے اور ان کی نوعیت منشیات سے لے کر اغوا برائے تاوان تک تھی۔انہی کچی بستیوں میں ایک بڑی آبادی سبزی منڈی کے ساتھ آئی الیون بھی ہے جو افغان بستی کے نام سے بھی مشہور ہے ۔یہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے نو گو ایریا ہے ،پولیس ہی نہیں بلکہ کوئی بھی شخص جو یہاں کا رہائشی نہ وہ یہاں داخل نہیں ہوسکتا ۔اس بستی کا اپنا قانون ،اپنی عدالتیں اور اپنا سیکورٹی نظام ہے ۔دی نیشن اخبار نے اپنی 20دسمبر2014ء کی اشاعت میں لکھا کہ اب غیر قانونی اسلحہ کی خرید کے لئے کسی کو علاقہ غیر جانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ افغان بستی سے کیش میں پستول سے لے کر AK-47کلاشنکوف تک خرید سکتا ہے ۔دسمبر2012ء میں سی ڈی اے اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین نے یہاں ایک سروے کیا جس کے مطابق یہاں 846خاندان رہائش پزیر ہیں جن کی مجموعی آبادی 7,995ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ افغانوں کی بستی ہے مگر اس سروے میں یہ بات ظاہر ہوئی کہ یہاں مقیم کل افراد میں سے415کا تعلق پنجاب سے ہے۔1022رجسٹرڈاور254غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین ہیں ۔3199افراد کا تعلق باجوڑ اور مہمند سے اور3105کا تعلق کے پی کے سے ہے ۔ایک اور بات یہ بھی حیرت انگیز تھی کہ یہاں رہائش پزیر 350افراد ایسے بھی تھے جن کے شناختی کارڈ پر مستقل پتہ راولپنڈی درج ہے ۔اس سروے کی روشنی میں ’’امن سلامتی اور بہتری ‘‘کے نام سے ایک آپریشن ترتیب دیا گیا جن میں یہاں رہائش پزیر افراد کو کچھ ترغیبات دے کر انھیں واپس بھجوانا تھا اور افغان مہاجرین کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا تھا مگر پھر ایس نہیں ہو سکا اس کی وجوہات بتاتے ہوئے سابق آئی جی اسلام آباد افتخار چوہدری کہتے ہیں کہ یہ پولیس کا کام نہیں کہ وہ کچی آبادیوں کو محض اس لئے ٹارگٹ کرے کہ وہ غیر قانونی ہیں ۔یہ کام تو سی ڈی اے کا ہے اور اگر اسی کو معیار بنایا جائے تو پھر کچی آبادیوں سے زیادہ قبضے تو کوٹھیوں والوں نے کئے ہوئے ہیں ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پولیس مجرموں کی اطلاعات پر کچی آبادیوں اور پوش علاقوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ اپنائے ۔پھر ایک اور مسئلہ تھانوں کا بھی ہے ایک زمانے میں یہاں بارہ تھانے تھے اب اگر زیادہ بھی ہو گئے ہیں تو تعداد اور استعداد تو وہی ہے ۔

صادق آباد ۔۔۔۔راولپنڈی کا سہراب گوٹھ

صرف اکتوبر 2014کے دوران ایک ماہ میں تھانہ صادق آباد میں 1200ایف آئی آر درج ہوئیں جس پر انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون نے اسے راولپنڈی کے سہراب گوٹھ سے تشبیہ دی ۔یہاں اب تمام وہ جرائم ہو رہے ہیں جو اس سے قبل کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ہوتے تھے جس کی وجہ سے سہراب گوٹھ لاقانونیت کا ایک استعارہ بن گیا ہے ۔تھانہ صادق آباد کے علاقوں رحیم آباد اور شکریال میں سٹریٹ کرائمز اور منشیات فروشی خوب پھل پھول رہی ہے ۔علاقے میں مجرموں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پولیس یا تو خاموش تماشائی ہے یا پھر لاچار ،یہاں ٹارگٹ کلنگ اب عام شہریوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کا نشانہ پولیس والے بھی بن رہے ہیں ۔9نومبر2014کو تھانے کے باہر کھڑے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی گئی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر جانبحق ہو گیا ۔گزشتہ سال دس نومبر کو امام بارگاہ کے باہر ڈیوٹی پر موجود دو کانسٹیبلوں کو گولی مار دی گئی ۔فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا بھی یہ علاقہ بڑا نشانہ ہے جہاں پر شیعہ اور سنی دونوں فرقے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی ہے یا پھر حالات کی ستم ظریفی کہ مجرم یہاں پر ایک مافیا کا روپ دھار چکے ہیں ۔عام شہری ڈر اور خوف کے مارے جرائم پیشہ افراد کے خلاف زبان کھولنے کو تیار نہیں اور پولیس بھی میڈیا سے اصل صورتحال چھپائے ہوئے ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں چوری ،ڈکیتی ،منشیات فروشی اور کالعدم تنظیموں کے ٹھکانے بن چکے ہیں ۔رحیم آباد اور شکریال پولیس کے لئے نو گو ایریاز ہیں اور شہر کے دوسرے علاقوں میں مقیم افراد اس علاقے میں شام کے بعد آنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہاں پر انھیں لوٹ لیا جاتا ہے ۔مجرم سر شام ہی گلیوں میں گشت شروع کر دیتے ہیں ۔رحیم آباد ، شکریال ،صادق آباد اور مسلم ٹاؤن کی تنگ گلیاں ان جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں ہیں ۔علاقے کے ایک مکین سرور ستی کا کہنا ہے کہ وزیرستان میں آپریشن ضربِ عصب کے متاثرین کی ایک بڑی تعداد بھی تھانہ صادق آباد کے علاقے میں آکر مقیم ہو چکی ہے امن و امان کی مخدوش صورتحال کی ایک بڑی وجہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا سے لوگوں کی ہجرت بھی ہے جو یہاں اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہو چکے ہیں ۔ایک ایک گھر میں درجن درجن لوگ ٹھہرے ہوئے ہیں ۔پختونوں کی آبادی اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ مقامی لوگ ان کے خلاف پولیس کو شکایت کرنے سے ڈرتے ہیں مجھے پولیس کو رپورٹ کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔افغان مہاجرین کی بڑی تعداد بھی تھانہ صادق آباد کے علاقے میں مقیم ہیں ۔19فروری2015کو کری روڈ پر واقع امام بارگاہ پر ایک خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے جس کی ذمہ داری طالبان کے ایک گروپ جند اللہ نے قبول کی ۔16جنوری2015ء کو صادق آباد میں ایس پی حسیب شاہ کے تین رشتہ داروں کو گولی مار دی گئی اور حملہ آور قریب گلیوں میں ہی غائب ہو گئے ۔مرنے والوں میں سے ایک فیاض شاہ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھا اور گزشتہ پندرہ سال سے پریکٹس کر رہا تھا ۔مرنے والوں کی کسی سے ذاتی دشمنی نہ تھی۔2014ء کے دوران شہر کے 18تھانوں میں سے سب سے زیادہ جرائم کی شرح تھانہ صادق آباد میں تھی۔صادق آباد تھانے نے شکریال میں بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف ایک چیک پوسٹ بنائی جسے قائم ہوئے دو دن ہی ہوئے تھے کہ26جون 2014کو دو موٹر سائکل سواروں نے اس پر ہینڈ گرنیڈ پھینک دیا جس سے ایک پولیس اہلکار اور دو راہگیر زخمی ہو گئے ۔کھنہ پل کے علاقے سے گزشتہ سال دسمبر میں تحریک طالبان سے منسلک ایک ملزم کو پکڑا گیا جس کا تعلق شمالی وزیرستان سے تھا اور جس کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد اور نو عدد ڈیٹو نیٹر بر آمد ہوئے۔ صادق آباد کے علاقے میں کام کرنے والے صحافیوں کی زندگی کو بھی شدید خطرات ہیں ۔26مارچ2009کو دی نیشن اخبار کے کرائم رپورٹر راجہ اسد حمید کو اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ صادق آباد تھانے کی حدود میں واقع اپنے گھر میں گاڑی پارک کر رہے تھے ۔ان کے قاتلوں کا آج تک سراغ نہیں مل سکا جبکہ اسی سال اسی علاقے میں روزنامہ پاکستان کے رپورٹر فرحان شاہ کے گھر پر بھی فائرنگ کی گئی ۔یہ ساری صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ علاقہ پنڈی کا سہراب گوٹھ بن چکا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اور میڈیا بھی یہاں متحرک مافیا سے محفوظ نہیں ہے ۔

مدارس اور سیکورٹی

راولپنڈی اسلام آباد میں امن و امان کے حوالے سے مدارس بھی کیا کوئی خطرہ ہو سکتے ہیں یہ بات سب سے پہلے اس وقت سامنے آئی جب جولائی2007میں ایوان صدر ,پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس سے محض ایک میل کے فاصلے پر واقع لال مسجد انتظامیہ نے حکومتی عمل داری کو چیلنج کر تے ہوئے مسجد کے ساتھ واقع چلڈرن لائبریری پر قبضہ کر لیا اورملک بھر میں نفاذ شریعت کا مطالبہ کیا۔اسلام آباد میں وڈیو سٹوروں کے مالکان کو دھمکیاں دی گئیں ۔چینی مساج سینٹروں اور مبینہ قحبہ خانوں کو دھمکیا ں دی گئیں اور ایک مبینہ قحبہ خانہ کی مالکہ کو اغوا کر کے مسجد میں رکھا گیا ۔غیر ملکی ریسٹورنٹس کو حراساں کیا گیا اور وزارت ماحولیات کی عمارت کو نذر آتش کر دیا گیا ۔اس وقت کی حکومت نے مسئلے کے حل کے حل کے لئے اما مِ کعبہ کو مدعو کیا مگر کوئی حل نہ سکا جس پر آپریشن کیا گیا جس میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ۔اس آپریشن کے بعد پاکستان میں خود کش حملوں کی ایک لہر چلی ۔حتی ٰ کہ لال مسجد برگیڈ کے نام سے ایک الگ عسکری گروپ بھی وجود میں آگیا ۔لال مسجد کو اہمیت پہلے افغان جنگ اور بعد ازاں کشمیر میں عسکری تحریک کے دوران حاصل ہوئی تھی جب کئی مجایدین کے لئے مسجد ایک پڑاؤ کی حیثیت رکھتی تھی ۔پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی سالانہ سیکورٹی رپورٹ کے مطابق لال مسجد آپریشن کے بعد اگلے سالوں میں ملک میں جاری دہشت گردی کی وارداتوں میں ہولناک اضافہ ہوا ۔تفصیلاے کے لئے دیکھئے ٹیبل :


2007سے2009تک ملک بھر میں ہونے والے خود کش حملے

 

بشکریہ :پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز

لال مسجد ایک بار پھر اخباری صفحات کی زینت اس وقت بنی جب آرمی پبلک سکول پشاور پر ایک ہولناک حملے میں تقریباً ڈیڑھ سے کے قریب طلباء مارے گئے اور جب ایک لائیو شو میں لال مسجد کے امام مولانا عبد العزیز سے پو چھا گیا کہ کیا آپ اس کی مزمت کرتے ہیں تو انھوں نے ایسا کہنے سے انکار کر دیا ۔ایک تو دہشت گردی کے حوالے سے ایک خاص مکتبہ فکر کے مدارس کامبہم موئقف ہے اور دوسرا جرائم اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں کچھ مدارس کو ملوث ہونا بھی اس بات کا اظہار ہے کہ یہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی سلامتی کے لئے ایک خطرے کے طور پر موجود ہیں ۔انگریزی اخبار ڈان نے اپنی یکم مئی 2014ء کی اشاعت میں سیکورٹی حکام کے حوالے سے لکھا کہ وفاقی دارلحکومت میں قائم کئی مدارس تحریک طالبان کے لئے مددگار کے طور پر مصروف ہیں اور وہ طالبان کے لئے اغواء برائے تاوان کے معاملات طے کراتے ہیں ۔کئی کیسوں میں انھوں نے اغوا کاروں اور طالبان کے درمیان تاوان کی رقم طے کرائی اور رقم وصول کر کے انھیں طالبان تک پہنچائی بھی ۔2013ء میں لیفٹینٹ جنرل (ر)محمود الحسن کو ایک لطیف نامی شخص نے کال کی اور خود کو حکیم اللہ محسود کا نائب بتاتے ہوئی ان سے پانچ کروڑ تاوان کا مطالبہ کیا ۔جس پر گولڑہ میں قائم اسلام آباد کے ایک مدرسہ جس کے منتظم ایک جہادی رہنما بھی ہیں نے بطور سہولت کار کردار ادا کرتے ہوئے معاملہ ایک کروڑ میں طے کروایا اور اپنے بندے بھیج کر جنرل محمود الحسن سے رقم بھی وصول کر لی ۔اس کے بعد فیض آباد کے دوتاجروں اور ایک سیاستدان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ۔سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں مدارس کا کردار ثابت ہو چکا ہے یہی نہیں بلکہ کئی اغواء کنندگان کو قبائلی علاقہ جات یا فغانستان منتقل کرنے سے پہلے ان مدارس میں رکھا گیا تھا ۔اس رپور ٹ نے ایسے کیسوں میں ایک خاص مکاتب فکر کے مدارس کا نام لیا اور ایسے 20مدارس کی نشاندہی بھی کی جن میں شہر میں کئی دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔یہ مدارس راولپنڈی کنٹونمنٹ ،ٹنچ بھاٹہ ، گرجا روڈ ،ویسٹریج ، دھمیال کیمپ، صدر ، اتحاد کالونی ، خیبان سرسید ، کشمیری بازار، پنڈوڑا، صادق آباد ، پیر ودھائی ، چکلالہ اور ڈھوک حسو کے علاقوں میں قائم ہیں ۔ضلع راولپنڈی میں قائم مدارس میں کل 36,586طلباء زیر تعلیم ہیں جن میں 21,581طلباء کا تعلق دیو بندی مکتب فکر کے مدارس سے ہے جبکہ 13,588طلباء بریلوی مدارس میں ، 894اہل حدیث اور523شیعہ مکتب فکر کے مدارس میں زیر تعلیم ہیں ۔

اسلام آبادمیں قائم مداراس کی تعداد کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت وفاقی دارلحکومت کا محاصرہ کیا جا رہا ہے ۔ایکسپریس ٹریبیون نے 12جنوری 2015ء کے شمارے میں لکھا کہ اسلام آباد میں اتنی تیزی کے ساتھ مدارس کی تعداد بڑھ رہی ہے کہ عنقریب ان کی تعداد یہاں قائم سرکاری سکولوں اور کالجوں سے زیادہ ہو جائے گی ۔اخبار نے انتظامیہ اور پولیس کے حوالے سے بتایا کہ اسلا م آباد کی شہری حدود کے اندر 401مدارس قائم ہیں جن میں اکثریت دیو بندی مکتب فکر کی ہے جبکہ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے مطابق شہر میں سکولوں اور کالجوں کی تعداد 422ہے۔ان مدارس میں 31,796طلباء زیر تعلیم ہیں جن میں سے 17,419کا تعلق راولپنڈی اسلام آباد سے جبکہ باقی 14,377کا تعلق خیبر پختونخواہ ،فاٹا،آزادکشمیر اور گلگت بلتستان سے ہے ۔ تفصیل کے لئے ٹیبل ملاحظہ کریں ۔


اسلام آباد میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مدارس کی تعداد

 

شہر ہ اور دیہی علاقوں کی تقسیم

 

بشکریہ : ایکسپریس ٹریبیون

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ریاست شہریوں کو تعلیم کے مساوی مواقع کی فراہمی میں ناکام ثابت ہو چکی اور اکنامک سروے آف پاکستان 2014ء کے مطابق شہری علاقوں کے 56فیصد اور دیہی علاقوں کے 24فیصد بچے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھ رہے ہیں ان حالات میں وہ والدین کیا کریں جن کے لئے اپنے بچوں کو محض دو وقت کا کھانا فراہم کرنا بھی بہت مشکل ہو چکا ہے ایسے میں مدارس ان بچوں کے لئے بہت اہم ہیں جہاں انھیں رہائش ، کھانا اور تعلیم دی جاتی ہے ۔مگر یہاں ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مدارس کے لئے کوئی ایسا ضانطہ بنائیں جہاں نہ صرف ان کے طلباء کی استعداد بھی قومی دھارے میں شامل دیگر طلباء کی صلاحیتوں کے مطابق ہو اور ان مدارس کی انتظامیہ پر بھی کڑی نظر رکھی جاسکے کیا ان کے کسی اقدام سے ملک و قوم کی سیکورٹی کو تو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔کیونکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چند مدارس ایک بڑے خطرے کے طور پر نہ صرف موجود ہیں بلکہ آئے روز اس خطرے میں اضافہ بھی ہو رہا ہے ۔

کراچی طرز پر اغواء برائے تاوان اور بھتہ کی وصولیاں

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھتہ وصولی کے ایک کیس کی سماعت دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد میں بھی کراچی جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔چیف جسٹس نے یہ ریمارکس اس وقت دیئے جب ایک درخوست گزار نے موئقف اختیار کیا کہ پولیس مجھے تحفظ دینے کی بجائے مجھے مجبور کر رہی ہے کہ میں بھتہ خوروں کو رقم ادا کروں ۔یہ ہے وہ ایک ہولناک صورتحال جو اس سے قبل کراچی میں آبادی بڑھنے کے ساتھ ہوئی کہ پولیس عوام کو تحفظ دینے کی بجائے انڈر ورلڈ کا حصہ بن گئی ۔18ستمبر2013ء کو انگریزی اخبار دی نیوز نے خبر دی کہ صرف گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جڑواں شہروں کے تاجروں نے 65کروڑ روپیبھتہ ادا کیا یہ وہ اعدادوشمار تھے جن کی تفصیلات پولیس کے پاس تھیں جبکہ وہ اربوں روپے اس کے علاوہ ہیں جو تاجروں نے پولیس کو بتائے بغیر ادا کئے کیونکہ انھیں خطرہ تھا اگر انھوں نے پولیس کو اطلاع دی تو اس کے تنائج اور زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں ۔اس عرصہ میں چار تاجر بھتہ نہ دینے پر مارے گئے ۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شہر کے تاجروں ،سیاستدانوں ، قانون دانوں ،ڈاکٹروں اور دیگر افراد کو بھتہ کی پرچیاں باقاعدگی سے مل رہی ہیں ۔دی نیوز کے کرائم رپورٹر شکیل انجم نے ایک انٹرویو میں مضمون نگار کو بتایا کہ راولپنڈی اسلام آباد کے اہم تاجروں میں سے تقریباً ہر دوسرے افراد کو بھتہ کی پرچی مل چکی ہے ۔اور زیادہ تر کو پولیس پر اعتبار ہی نہیں اس لئے وہ ایسے کیسز رپورٹ ہی نہیں کرتے ۔شکیل انجم کا کہنا ہے کہ جڑواں شہروں میں بھتہ وصولی کس بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب پولیس نے ایک کیس میں دو ملزموں کو گرفتار کیا تو ان میں سے ایک نے 14ارب اور دوسرے نے 12ارب روپے وصول کرنے کا اعتراف کیا ۔اسلام آباد کے ایک بڑے شاپنگ مال کے مالک کو ایک ارب روپے کی پرچی ملی جس میں وصولی کے لئے دوبئی کے ایک بنک اکاؤنٹ کا نمبر بھی دیا گیا تھا ۔حکمران جماعت کی ممبر پارلیمنٹ جو کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رکن بھی ہیں انھوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے ایک قریبی عزیز محض اس وجہ سے شہر چھوڑ کر دوبئی منتقل ہو گئے کیونکہ ان سے بھاری بھتہ طلب کیا گیا تھا وہ تین کروڑ تک دینے کو آمادہ تھے ۔

لیکن مطالبہ کہیں زیادہ کا تھا ۔جب اس کا جواب دینے کے لئے اسلام آباد کے آئی جی کو طلب کیا گیا تو انھوں نے موئقف اختیار کیا کہ بھتہ وصولی کی کالیں افغان سموں سے آتی ہیں اور ان کی لوکیشن بھی افغانستان ہی ہوتی ہے اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے حکومت افغان سموں کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی اختیار کرے ۔شکیل انجم اس پر کہتے ہیں کہ یہ پولیس کی نا صرف نااہلی ہے بلکہ یہ ثابت بھی کرتی ہے کہ وہ مجرموں کے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ بھتہ وصول کرنے اور معاملہ طے کروانے والے افراد یہیں موجود ہیں اور کئی کیسوں میں پولیس کو معلوم بھی ہو چکا ہے کہ یہ گروہ دونوں ملکوں کے جرائم پیشہ افراد چلا رہے ہیں جنھوں نے طالبان کے ساتھ مل کر ایک گٹھ جوڑ بنا لیا ہے ۔پولیس اگر چاہے تو وہ یہ گٹھ جوڑ توڑ سکتی ہے مگر پولیس کو اپنے مفادات عزیزہیں عوام کی جان و مال نہیں ۔دی نیوز اخبار کی 13جولائی2013ء جکی اشاعت کے مطابق اسلام آباد کی ایک گھی مل کے مالک شیخ عبد الوحید کو 26مئی 2013ء کو اغواء کیا گیا اور ان کے لواحقین سے 7ارب روپے کا تاوان طلب کیا گیا ۔آخر کار معاملہ 7کروڑ میں طے ہو گیا جس پر انھیں 25جون کو رہا کر دیا گیا ۔اسی عرصے میں اسلام آباد کے ایک سونے کے تاجر اور ایک جنریٹر کمپنی کے مالک کو بھی بھاری تاوان کی ادائیگی پر رہائی ملی ۔اسلام آباد کے ایک بڑے شاپنگ پلازہ کے مالک کو جب انھوں نے بھتہ دینے کی بجائے پولیس سے تحفظ مانگا تو انھیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ ’’ میرا نام گوہر علی آغا ہے اور میں تحریک طالبان پاکستان کے مالی امور کا انچارج ہوں ۔یہ میرا نہیں بلکہ تمام کمانڈروں اور سپریم کونسل کا متفقہ فیصلہ ہے جس کو آپ نظر انداز کر رہے ہیں ۔ہم ایک بار پھر آپ سے درخوست کرتے ہیں کہ آپ ہماری مالی مدد کریں اور ہم یہ بات صیغۂ راز میں رکھیں گے ۔اگر ایک ہفتے کے اندر اندر دس ملین ڈالر (تقریباً ایک ارب روپیہ )کا انتظام کریں اور رقم کی ادائیگی کے لئے ای میل پر رابطہ کریں تاکہ آپ کو بنک اکاؤنٹ کی تفصیل فراہم کی جا سکے ۔اگر آپ نے ہمارا مطالبہ پورا نہ کیا تو تنائج کی ذمہ داری آپ کی ہو گی اور ہم یہ معاملہ ٹی ٹی پی کے دوسرے ونگ کو بھیج دیں گے ۔ہمارے جہادی آپ کے علاقے میں پہنچ چکے ہیں اور وہ صرف ایک گھنٹہ کے نوٹس پر آپ تک پہنچ سکتے ہیں ‘‘۔ایک قانون دان کو بھی خط لکھا گیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بیت اللہ محسود کے 18ہزار مجاہدین دشمنانِ اسلام کیخلاف بر سر پیکار ہیں جن کے ایک روز کھانے کا خرچہ 29لاکھ روپے ہے آپ سے دو روز کا خرچہ برداشت کرنے کی درخواست ہے یا پھر دوسری صورت میں نتائج کے لئے تیار ہو جائیں ۔

کرائن انسٹی گیشن ایجنسی (CIA) نے 28جون 2013ء کو تحریک طالبان سے تع؛لق رکھنے والے تین افراد کو گرفتار کر لیا جو کہ جڑواں شہروں میں بھتے کی وصولیوں میں ملوث تھے ۔ایک سابق وفاقی وزیر ، خیبر پختونخواہ کے ایک سابق صوبائی وزیر ،پارلیمنٹ کے ممبر ، تاجر ،تمباکو فیکٹری کا ایک مالک بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھیں بھتے کی پر چیاں ملیں اور وصولی کے لئے شمالی وزیرستان اور افغانستان سے کالیں موصول ہوئیں ۔راولپنڈی اسلام آباد میں چاولوں کے ایک مشہور ریسذٹورنٹ کے مالک کو بھی بھتے کی پرچی ملی جس کی رپورٹ انھوں نے پولیس کو کی جس کے جواب میں 17مئی2014ء کو ان کے گارڈن کالج روڈ والے ریسٹورنٹ میں دھماکہ کر دیا گیا جس میں 18افراد زخمی ہو گئے ۔راولپنڈی کے ایک مشہور ڈاکٹر جو کہ راولپنڈی کی ایک ہسپتال میں ہیڈ آف ڈیپاٹمنٹ ہیں ان کی ڈاکٹر بیوی کو پانچ کروڑ روپے بھتے کی پرچی ملی ۔مارگہ پولیس سٹیشن اسلام آباد کے علاقے سے ایک تاجر کو طالبان نے سات کروڑ روپے وصول کرنے کے بعد رہا کیا ۔ایک بڑا پراپرٹی ڈیلر جس نے بھتہ ادا نہیں کیا اس کی دوکان کے باہر شاپنگ بیگ میں دھماکہ خیز مواد لٹکا دیا گیا ۔معراف تاجر اور راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر میاں ہمایوں پرویز نے ایک انٹرویو میں راقم الحروف کو بتایا کہ جڑواں شہروں میں بھتہ مافیا کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور پولیس نے بعض افراد کو کراچی سے گرفتار بھی کیا ہے جس پر چیمبر نے پولیس کو تعریفی اسناد بھی دیں ۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ بہت سے تاجر بھتہ مافیا کے بارے میں پولیس کو رپورٹ نہیں کرتے وہ خوفزدہ ہیں اپنی جانوں اور مال کے بارے میں ،انھوں نے بتایا کہ ایک تو جڑواں شہروں کو افغانستان سے وزیرستان تک پھیلے بھتہ مافیا نیٹ ورک سے خطرہ اور دوسرا خطرہ امن و امان کی مجموعی صورتحال سے ہے سٹریٹ کرائمز بہت بڑھ گئے ہیں ان کی دوکانوں پر دن دہیاڑے ڈکیتیاں ہوتی ہیں ۔بنکوں سے آتے جاتے انھیں لوٹ لیا جاتا ہے ۔جڑواں شہروں کی آبادی میں اضافی کی وجہ سے راولپنڈی چیمبر کے سالانہ ممبر شپ پندرہ سے بیس فیصد تک بڑھ رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں بڑھگ رہی ہیں مگر ساتھ ساتھ جرائم میں اضافے کی وجہ سے وہ شدید عدم تحفظ کا بھی شکار ہو رہے ہیں ۔

فرقہ واریت اور دہشت گردی

راولپنڈی کی مذہبی حساسیت کی جڑیں تاریخ میں بھی ملتی ہیں ۔1926ء میں مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان شہر میں فسادات ہوئے جن میں چودہ افراد ہلاک ہوئے ۔تقسیمِ ہندستان کے وقت ہندو مسلم فسادات کے پیچھے کی کڑیاں بھی راولپنڈی میں ملتی ہیں جب مارچ 1947ء میں راولپنڈی میں ہندو مسلم فسادات کی آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔ اورپھر نومبر2013ء میں جب یہاں شیعہ سنی فساد ات کی آگ بھڑک اٹھی اور 14افراد اپنی جانوں سے گئے ۔جس کے نتیجے میں راولپنڈی کے 19تھانوں کی حدود میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ راولپنڈی مذہبی ، سیاسی ،لسانی اور نسلی بنیادوں پر حسا س شہر رہا ہے اگرچہ 1850ء میں جب انگریزوں نے یہاں برگیڈ ہیڈ کوارٹر قائم کیا اور آج جب یہاں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس فوج کا ہیڈ کوارٹر ہے تب سے اسے رجمنٹل سٹی بھی کہا جا تا ہے ۔لیکن کیا کسی شہر کی یہ شناخت وہاں تنازعات ،فسادات اور جرائم کی روک تھام کی ضمانت ہو سکتی ہے ۔شاید ایسا نہیں ہے بلکہ بہت سی دہشت گردی یہاں صرف اس وجہ سے ہوئی کہ یہ فوج کا ہیڈ کوارٹر ہے ۔دسمبر1979میں روسی فوجوں کی افغانستان میں آمد اور پھرفروری 1989میں روسی فوجوں کے انخلاء تک تقریباً دس سال تک راولپنڈی دنیا بھر سے آنے والے افغان مجاہدین کا اہم پڑاؤ رہا کیونکہ پاکستان اس جنگ میں اہم امریکی اتحادی تھا فنڈز ، اسلحے کی ترسیل ، افرادی قوت کی فراہمی اور منصوبہ بندی اسی شہر میں ہوتی تھی۔لاکھوں افغان مہاجرین کے ساتھ نامور افغان کمانڈروں کے ا ہل خانہ اوروہ خود یہاں مقیم رہے ۔ان کی وجہ سے یہاں غیر قانونی اسلحہ آیا اور جرائم میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔روسی انخلا کے بعد عرب مجاہدین القائدہ کے نام سے منظم ہوئے تو 19نومبر1995کو اسلام آباد میں مصری سفارتخانے پر حملہ ہو گیا جس سے دو درجن افراد ہلاک ہوئے اس کے بعد سفارتخانوں پر میزائل حملوں سے لے کر میریٹ ہوٹل حملے تک یہ شہر کئی بار لرزتا رہا ۔بینظیر بھٹو قتل ،آئی ایس آئی اور جنرل مشرف پر حملے،پھر جی ایچ کیو پر حملہ یہ سب ہولناکیاں اسی شہر میں ہوئیں ۔اس کے ساتھ اس شہر کی فرقہ وارانہ بھی الگ شناخت ہے ۔7ستمبر1992ء کو ویسٹریج می چھ ایرانی کیڈٹس کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا جو پاکستان ایئر فورس کے ساتھ مل کر تربیت حاصل کر رہے تھے ۔اس کے بعد سے لے کر اب تک لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد ایک دوسرے کے درجنوں بندے ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے مار چکے ہیں ۔امام بارگاہوں اور مساجد پر حملے اس کے علاوہ ہیں ۔یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈ یز کی رپورٹ کے مطابق 2007سے لے کر 30مارچ 2015ء تک راولپنڈی میں دہشت گردی کے 37بڑے واقعات ہوئے جن میں 321افراد ہلاک اور622زخمی ہوئے اسی دوران اسلام آباد میں دہشت گردی کے 42واقعات ہوئے جن میں 247افراد ہلاک اور812زخمی ہوئے ۔اسی عرصے میں راولپنڈی میں فرقہ واریت کی 13وارداتیں ہوئیں جن 46افراد ہلاک اور 99زخمی ہوئے ۔اسلام آباد میں فرقہ واریت کی 8وارداتوں میں 11افراد ہلاک اور 9زخمی ہوئے ۔تفصیل کے لئے ٹیبؒ ملاحظہ کریں ۔پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی سالانہ سیکورٹی رپورٹ 2014ء کے مطابق اسلام آباد میں گزشتہ سال کے دوران 14دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 44افراد جانبحق ہوئے جبکہ 2013ء میں ان حملوں کی تعداد صرف چار تھی ۔گزشتہ سال اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں پر حملے میں ایک جج سمیت 12افراد ہلاک اور 29زخمی ہوئے ۔اسلام آباد کی سبزی منڈی میں دھماکے سے 25افراد ہلاک اور 122زخمی ہوئے ۔اسلام آباد کے ایک دربار نانگے شاہ پر بم دھماکہ ہوا اور ایک افراد ہلاک اور 53زخمی ہوئے ۔فرقہ وارانہ حملوں میں اہل سنت والجماعت کے اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل مفتی منیر معاویہ کو آئی ایٹ میں گولی مار دی گئی ۔تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے دوران پر تشدد احتجاج تین افراد کو نگل گیا اور 534افراد زخمی ہوئے ۔فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں اگرچہ 2014کے دوران پورے ملک میں 35فیصد کمی آئی مگر یہ بات حیران کن ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد میں ان کی شرح میں خوفناک اضافہ ہوا ۔2014کے دوران راولپنڈی اسلام آباد میں فرقہ واریت کے 18واقعات میں 12افراد ہلاک اور 6زخمی ہوئے اس طرح کراچی اور کوئٹہ کے بعد یہ سب سے خطرناک علاقہ ثابت ہوا ۔جنوری 2007سے مارچ2015تک راولپنڈی اسلام آباد میں عام جرائم سے ہٹ کر نسلی ، لسانی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کتنے واقعات ہوئے ،اس کی تفصیل ذیل میں درج کی جارہی ہے ۔

راولپنڈی میں گزشتہ آٹھ سالوں کے پر تشدد واقعات پر ایک نظر

 

اسلام آباد میں گزشتہ آٹھ سالوں کے پر تشدد واقعات پر ایک نظر

اختتامیہ

جب بھی کسی مسئلے کو اس کے صحیح پیرائے میں مخاطب نہ کیا جائے تو مسئلہ حل کی بجائے بگاڑ کی طرف ہی جاتا ہے ۔آبادی گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی مین کتنی بڑھی ہے اور اس کی مناسبت سے سیکورٹی ڈھانچہ کتنا ہو نا چاہئے یہ ابھی تک نہیں سوچا گیا ۔پھر یہ بھی کہ اگر شہر جڑے ہوئے ہیں تو پھر ان کا سیکورٹی ڈھانچہ کیسے الگ ہو سکتا ہے ۔یقیناًیہ جڑواں شہروں میں جرائم کے پنپنے کی ایک وجہ ہے ۔آج یہاں جرائم کا منظر نامہ بہت بھیانک ہے ۔


جڑواں شہروں کی آبادیات میں جو تبدیلیاں گزشتہ ایک دہائی میں آئی ہیں۔اس سے مقامی آبادی اقلیت بنتی جا رہی ہے اور اب اکثریت میں وہ ہیں جو یہاں تلاش معاش یا پھر اپنے آبائی علاقوں میں پھیلے تنازعات کی وجہ سے یہاں آ کر مقیل ہو رہے ہیں ۔اس تناظر میں کیا یہاں کبھی نسلی یا لسانی تنازعات بھی سر اٹھا سکتے ہیں ۔ اس سوال کے جواب میں نیشنل کالج آف آرٹس راولپنڈی کے ڈائریکٹر ندیم عمر تارڑ کہتے ہیں کہ یہ ایک ریجمنٹل سٹی ہے اور پچھلے ڈیڑھ سو سال سے اس شہر کی جو بنت ہوئی ہے اس کی بناء پر یہاں رہنے والوں کو اپنی حدود و قیود کا علم ہے ۔نامور نثر نگار محمد حمید شاہد کا کہنا تھا کہ پوٹھوہار اگرچہ ایک الگ خطہ ہے مگر اس کی علیحدہ شناخت اور زبان گم ہوتی جارہی ہے اور اس کے احیاء کی کوئی تحریک بھی منظر نامے پر نہیں اس لئے یہاں نسلی یا لسانی تنازعے کا امکان تو نہیں البتہ فرقہ وارانہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس حوالے پوٹھوہار کی حساسیت کی تاریخ صدیوں پرمحیط ہے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گندھارا کی تہذیب بھی فرقہ وارانہ فسادات کی بھینٹ چڑھ کر کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی تھی۔