working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 عدم تحفظ کی بنیاد پر بنے والی آبادیاں

عدم تحفظ کی بنیاد پر بنے والی آبادیاں

ہجوم کا انساف ایک طرز اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے اطوار اور سماجی برتاؤ میں کچھ خاص مسئلہ ہے ۔قانون سے بالا تر چاہے کوئی بھی ہو اس کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ جو چاہے کرتا پھرے۔لاہور میں دو چرچوں پر ہونے والے حملے کے بعد جس طرح دو مشتبہ افراد کو ہلاک کیا گیا وہ اسی منتشر ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔

فرقہ وارانہ اور مذہبی تشدد نے عقائد کی بنیاد پر افراد ، عبادت گاہوں اور مخالف فرقوں کے مذہبی مظاہر کے خلاف روا رکھے جانے والے امتیاز کو بے نقاب کر دیا ہے۔یہ صورتحال پاکستان کے تحفظ ، سلامتی اور سماجی ہم آہنگی کے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے ۔

پاکستان میں غیر مسلموں کو جن حالات کا سامنا ہے وہ اپنی حیثیت اور ساخت کے حوالے سے ایک جیسے نہیں ہیں ۔کچھ مذہبی اقلیتوں کے حالات دوسروں کے مقابلے پر انتہائی دگر گوں ہیں کیونکہ ملک کے کچھ حصوں میں خطرات کہیں زیادہ ہیں ۔ حالیہ سالوں میں مذہبی اقلیتوں کے حالات خراب سے خراب تر ہوئے ہیں ۔

پاکستان میں پر تشدد فرقہ وارانہ اور عسکری گروپوں کی جانب سے فرقوں اور عقائد کی بنیاد پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ بھی مذہبی امتیازات نے ایک فرد کے روئیوں اور انداز کو از حد متاثر کیا ہے ۔سماجی سطح پر دوسرے مذاہب اور فرقوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور پھر مذہبی رہنماؤں کی جانب سے لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے سے اقلیتوں پر حملوں کی روایت چل نکلی ہے جیسا کہ 2009ء میں گوجرہ میں اور پھر مارچ2013میں لاہور کی جوزف کالونی میں ہوا۔اس نوعیت کے اور دیگر واقعات بھی ہوئے جن میں 2012میں گوجرانوالہ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین فساداور پھر 2013ء میں راولپنڈی میں شیعہ سنی فسادات جس نے ملک کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔

کہا جا سکتا ہے کہ ایک متشدد ماحول بھی لوگوں کو بے حس بنا دیتا ہے ۔بہت سے ماہرین اور سماج کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ جب کسی گروہ میں عدم تحفظ اس نہج پر پہنچ جائے تو وہ اکھٹے ہو جاتے ہیں مگر یہ عمل کیس خاص گروہ پر لاگو نہیں ہوتا ۔کچھ دیگر عوامل بھی ہیں جو بحرانی دور کے رویوں کی عکاسی کرتے ہیں ۔عیسائی آبادی میں دو مسلمانوں کی ہلاکت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آبادیاں جو عدم تحفظ اور خوف کے سائے میں وجود میں آتی ہیں اس میں کسی وقت بھی بدلے کی آگ بھڑک سکتی ہے ۔یہ بات حیران کن ہے کہ گروہی آبادیوں کا رواج صرف غریب مذہبی اور فرقہ وارانہ اقلیتوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ سماجی اور مذہبی حوالوں سے ممتاز لوگ بھی انہی آبادیو ں میں رہائش کو ترجیح دیتے ہیں ۔پُر آسائش ہاؤسنگ سوسائٹیوں ، نچلے اور غریب طبقے کی گروہی اور کچی آبادیوں میں کوئی تقابل نہیں ہے ۔یہ رجحان معاشرے میں صرف سماجی اور معاشی تفاوت کا ہی نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے افراط و تفریق کا بھی آئینہ دار ہے۔ یہی رجحان دیہات سے شہروں کی جانب منتقلی اور پھر مذہبی اور اقلیتی فرقوں کے سوچنے سمجھنے کے انداز بھی بدل ڈالتا ہے ۔

ایک حالیہ سروے جو پاکستان میں مذہبی اقلیتوں اوران کے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ تعلقات کے پس منظر میں کیا گیا سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم ملک میں سیکورٹی کی مجموعی صورتحال سے خوف زدہ ہیں ۔اس کے ساتھ ہی وہ یہ محسوس بھی کرتے ہیں کہ وہ ملک کے

بڑے قومی دھارے کا حصہ نہیں ہیں ۔یہ عد م تحفظ انھیں مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی الگ آبادیاں بسائیں ۔یہ صورتحال شاید وقتی طور پر تو ان کو ایک کمیونٹی اورآپس کے سماجی جوڑ میں پرو دے لیکن یہی ان کو مزید عدم تحفظ کی طرف بھی لے کر جا سکتی ہے۔عدم شمولیت اور عدم تحفظ کے احساسات رد عمل کو ہوا دیتے ہیں اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ایسا کر کے وہ اپنے خلاف مختلف سطحوں پر جاری تعصب کو روک سکتے ہیں ۔

گروہی آبادیوں اور عدم تحفظ کے درمیان جو تعلق ہے وہ پاکستان میں مختلف سماجی اور مذہبی کمیونٹیوں کے درمیان عدم اعتماد کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔گروہی آبادیاں ہو ں یا پھر مذہبی اور عسکری گروپوں کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹیاں یہ سب نازک صورتحال کی جانب اشارہ کرتی ہیں ۔اس سے ان کے تنظیمی آثاثے بھی بڑھ رہے ہیں ۔اس طرح کے منصوبوں سے انھیں کھل کر کھیلنے کا میدان مل جاتا ہے جہاں وہ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں اور جو ایسا نہیں کرتا اسے وہاں سے باہر نکال دیا جاتا ہے ۔ایسی آبادیوں میں رہائش یا جائیداد کی خریداری کا حق سب کے لئے مخصوص نہیں ہوتا بلکہ صرف وہ لوگ یہاں رہ سکتے ہیں جنھیں یہاں رہنے کی درخواست کی جاتی ہے ۔اس نوعیت کے رہائشی منصوبے ملک کے طول و عرض میں تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔کئی مذہبی جماعتوں نے شہر میں ہاؤسنگ سکیمیں شروع کی ہیں جن میں رہائش کا حق صرف خاص فرقے یا جماعت کے لئے مخصوص ہے ۔۔

شہروں اور ان کے گردو نواح میں کسی ظابطے کے بغیر وجود میں آنے والی آبادیاں بھی فرقہ واریت کو ہوا دیتی ہیں ۔کچی آبادیاں ، جہاں زیادہ تر عیسائی باشندے رہتے ہیں وہ پنجاب کے شہروں کے نواح میں تھیں لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں شہروں کے بے پناہ پھیلاؤ کی وجہ سے یہ آبادیاں لینڈمافیا کے لئے پر کشش بن گئی ہیں ۔کئی معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ لینڈ مافیا بھی فسادات کی آگ بھڑکاتا ہے تاکہ وہ غیر مسلموں سے ان کی زمینیں ہتھیا سکے۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ریاست ایک عام آدمی کو چھت فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہو گئی جو گھمبیر سیاسی و سماجی نتایج پر منتج ہوئی ۔شہروں کے علاوہ گروہی اور کچی آبادیوں کے بارے میں کمزور منصوبہ بندی اور ضابطے ایک اور وجہ تھی جہاں ریاست بری طرح ناکام ہو گئی یا شاید اس کو یہ احساس ہی نہیں کہ اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں ۔مختلف طرز کی گروہی آبادیاں ملک میں سماجی میل جول اور ہم آہنگی کے رستے میں بڑی روکاوٹ بن چکی ہیں ۔اور اس نے معاشرے میں عدم تحفظ کو نچلی سطح تک پھیلا دیا ہے ۔

یمن کی صورتحال

یمن کی صورتحال نے تمام مسلم ممالک کو متاثر کیا ہے ۔اگرچہ اس بحران کے مرکزی ذمہ دار ممالک سعودی عرب اور ایران مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یمن کا مسئلہ فرقہ وارانہ نہیں ہے اور اس کی نوعیت مقامی ۔ علاقائی ،تزویراتی اور سیاسی ہے لیکن یہ یقین دہانیاں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ تفریق کو کم کرنے کا سبب نہیں بن رہیں ۔جس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک مسئلے کی خرابی یا اس میں تبدیلی اس سے جڑے معاملات میں بھی بگاڑ کا باعث بنتی ہے ۔ممکن ہے کہ یہ ثانوی بگاڑ معاملات کو یکسر ہی بدل دے ۔اس تناظر میں مسلم ممالک خصوصاً سعودی عرب اور ایران کو اپنے باہمی معاملات اور علاقائی مسائل کے حل کے لئے انتہائی دانش مندی ،حساسیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ ان کے باہمی سیاسی مسائل کے اثرات باقی مسلم دنیا پر کیا ہوں گے ۔

پاکستان کی مذہبی جماعتوں سے بھی یہی تقاضا کیا جانا چاہئے کہ ایسی صورتحال میں متوازی کیمپوں میں تقسیم ہو کر جذبات ،اشتعال سے کھیلنا وطن عزیز اور خود ان کے اپنے وجود کے لئے کس قدر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔