working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

عبدالمالک ریگی کی گرفتاری: پاکـ ایران تعلقات میں تنائو میں کمی کی جانب پیش رفت
ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان میں مصروفِ عمل جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کی بشکیک سے دبئی جاتی ہوئی پرواز سے ڈرامائی گرفتاری سے پاکـ ایران تعلقات میں گزشتہ پانچ برسوں سے آنے والے تنائو میں کمی واقع ہو گی۔ جنداللہ جو 2002ء میں ''سنی بلوچ'' قومیت پرست گروپ کے طور پر ابھری، ایران میں دہشت گردی کی کئی بڑی وارداتوں میں ملوث رہی۔ ایران ہمیشہ پاکستان کی جانب انگلی اٹھاتا رہا کہ جنداللہ پاکستانی بلوچستان میں تربیتی کیمپ چلا رہی ہے اور اسے امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ خود امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی چند رپورٹوں نے ان شبہات کو تقویت پہنچائی۔

جنداللہ کی سرگرمیوں کے باعث پاکـایران سرحد پر کشیدگی مسلسل بڑھ رہی تھی۔ گذشتہ تین سال میں یہ سرحد چھ سے زائد مرتبہ بند ہوئی جس کے لامحالہ اثرات بلوچستان کی معیشت اور تجارتی سرگرمیوں پر پڑے۔ ایران نے سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر بھی شروع کی اور ایرانی پاسداران انقلاب نے پاکستان کی حدود میں محدود آپریشن بھی کیے جو یقینا پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کی نفی تھی۔ لیکن دلچسپ امر یہ رہا کہ پاکستان کی سیاسی او ر مذہبی قیادت قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف تو سراپا احتجاج ہے اور اسے پاکستان کی خودمختاری کو مجروح کرنے کے مساوی قرار دیتی ہے، لیکن ایران سے متعلق کوئی احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔

بلاشبہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی، معاشی تعلقات میں توسیع کے بھرپور امکانات موجود ہیں۔ تہران سے گوادر کو ملنے والی بجلی، پاک ایران سرحد پر محدود تجارتی سرگرمیاں اور 2009ء میں گیس پائپ لائن کے منصوبے پر دستخط باہمی معاشی تعلقات کے عکاس ہیں اور انہیں مزید توسیع دی جا سکتی ہے جس کا فائدہ دونوں ممالک کو ہو گا۔ خصوصاً اس وقت کہ جب ہماری مشرقی سرحدوں پر تجارتی اور معاشی حجم پاک ـ بھارت تنازعات کے باعث انتہائی کم ہے اور مغربی سرحدوں پر جاری کشیدگی کے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، پاک ایران سرحد پر تنائو ایک تشویش ناک صورتحال کی جانب اشارہ تھا۔

ریگی کی گرفتاری دونوں ممالک میں اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دے گی، خصوصاً جب پاکستان نے بھی اس کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کا اظہار تہران میں موجود پاکستانی سفیر محمد عباسی نے بھی کیا ہے۔ مزید یہ کہ ریگی ''افغانی'' پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا۔ یہ امر پاکستان کے لیے بھی اطمینان کا باعث ہو گا۔

یہ معلوم نہیں کہ ریگی کی گرفتاری جنداللہ پر کیسے اثرانداز ہو گی؟ اور کتنا امکان ہے کہ تنظیم اپنے سربراہ کی گرفتاری کے بعد بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔ لیکن پاکستان اور ایران اس کی گرفتاری سے باہمی تعلقات میں آنے والے اعتماد سے دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید فروغ دے کر پیش آئندہ خطرات کا سدباب کر سکتے ہیں۔

جملہ معترضہ یہ کہ جنداللہ کی ہم نام لیکن مختلف تنظیم کراچی میں بھی سرگرم عمل ہے اور شہر میں حالیہ دہشت گردی کی وارداتوں میں اس کا نام سامنے آیا ہے۔ کچھ ایسی ہی کاوش ملک کے معاشی اور تجارتی دارالحکومت کی سلامتی کے لیے بھی درکار ہے۔ ریگی کی ڈرامائی گرفتاری ایران کی قوتِ ارادی اور اس کے سیکورٹی اداروں کی اہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی ایسی ہی قوتِ ارادی اور اہلیت کی ضرورت ہے۔

ملا برادر کی گرفتاری
عبدالمالک ریگی کی گرفتاری کے علاوہ ملا برادر کی گرفتاری رواں شہ سرخیوں میں رہی۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے امریکی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے کراچی میں ایک کارروائی کے دوران ملا عمر کے نائب اور طالبان حکومت کے سابق وزیر دفاع ملا عبدالغنی برادر کو حراست میں لے لیا۔ ملا برادر کے علاوہ 5 اہم طالبان راہنما بھی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی ہے جب امریکہ کی زیر سرپرستی ناٹو فورسز نے افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ ملابرادر کی گرفتاری سے پہلے امریکہ نے پاکستان پر دبائو ڈال رکھا تھا کہ وہ اپنے ملک میں طالبان راہنمائوں کے خلاف کارروائی کرے۔ کیونکہ ان کے خیال میں طالبان کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں چھپی ہوئی ہے اور وہ وہاں سے طالبان باغیوں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

ملابرادر کی گرفتاری پاکستان اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں میں بڑھتے ہوئے پیشہ ورانہ تعلقات کی غماض ہے لیکن سب سے اہم یہ کہ مغربی ذرائع ابلاغ جو پاکستان کے افغان طالبان سے تعلقات پر حاشیہ آرائی کرتے رہے ہیں اب گومگو کا شکار ہیں۔ یقینا یہ واقعہ پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوا ہے۔