working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

اُسوۂ حسنہ

اللہ تبارک وتعالیٰ نے، جو ربّ العالمین ہے ،انسانوں کی رہنمائی اور اصلاح کے لیے مختلف ادوار میں قوموں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ تاریخ نے ایسے متعدد پیغمبروں کی حیات طیبات ہمارے سامنے پیش کی ہیں، جن کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین قابل عمل مثالیں ہیں۔ جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام قابل ذکر ہیں جن کے پیروکار اس وقت دنیا میںمسلمانوں کے علاوہ کثرت سے موجود ہیں۔ پیغمبران عظام تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے وہ برگزیدہ بندے تھے جنہیں شرف نبوت سے نوازا گیا اور انھیں دنیا میں انسانوں کی اصلاح و راہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا گیا، لیکن تاریخ میں ہمیں ان کے علاوہ بھی ایسے لاتعداد بادشاہوں، دانشوروں، ولیوں اور دوسرے ممتاز راہنمائوں کا تذکرہ ملتا ہے جن کی زندگیاں بھی لوگوں کے لیے باعث نمونہ ہیں۔ مگر ہم مسلمانوں کے لیے ہمارے نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زندگی کو بہترین نمونہ کہا گیا۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ''لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوہ حسنة''۔ بے شک تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول کی زندگی میںاسوۂ حسنہ ہے۔ اسوہ کا معنی نمونہ ہے، جسے مثال بھی کہا جا سکتا ہے۔ جبکہ حسنہ کا معنی ہے، ذَات حُسن یعنی حسن و جمال والا۔ اس طرح اس حقیقت کو واضح کیا کہ نبی کریمۖ کا عمل عام نوعیت کا نمونہ نہیںبلکہ ایسا نمونہ ہے، جس میں حسن ہے، جس میں جمال ہے، جس کی رعنائیوں اور زیبائیوں کے سامنے دلوں کے قفل ٹوٹ کر گرتے چلے جاتے ہیں۔ سیرت مصطفویۖ میں حسن اپنی تمام جلوہ سامانیوں اور رعنائیوں کے ساتھ سمٹ کر آ گیا ہے۔ اس پر قربان ہونے والوں کا مجمع بڑھتا چلا جا رہا ہے کیونکہ جو اس کوچہ میں آتا ہے اس کے دل کی دنیا بدل جاتی ہے اور وہ عشق ومستی کی ایسی کیفیت سے آشنا ہو جاتا ہے جو اس کے سیرت و کردار کو اعلیٰ و ارفع مرتبہ پر پہنچانے کا سبب بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یاب ہونے والوں میں ہمیں عربی بھی ملتے ہیں اور عجمی بھی، کریم اور شجاع بھی ملتے ہیں اور ضعیف بھی، دولت مند بھی ملتے ہیں اور فقیر و نادار بھی، جس کسی میں حسن مصطفی کے کسی پہلو کے لیے کشش ہوتی ہے، وہ یہاں آ کر سرتسلیمِ خم کر لیتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چشمۂ فیض سے سیراب ہونے والے صحابہ کرام میں نبوت کا رنگ جھلکتا ہوا صاف نظر آتا ہے۔

مسلمانوں کے لیے نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کی حیات طیبہ کا مطالعہ اس لیے نہایت ضروری ہے کہ اس وقت تک کوئی مسلمان کامل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے رہبر و راہنما پیغمبر علیہ الصلوة والسلام کے اسوۂ حسنہ کی پیروی نہ کرے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں قرآن کریم کا بغور مطالعہ کرنا ہو گا کیونکہ قرآن کریم کی آیات و کلمات کا زندہ نمونہ ذات رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہے۔ قرآن کریم میں ہم جو کچھ پڑھتے ہیں وہ ہمیں ہو بہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی سے ملتا ہے۔ اسی لیے جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کے بارے میں استفسار کیا، تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کان خلقہ القرآن، یعنی حضور اکرم کا خلق بعینہ قرآن تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جتنی خوبصورت اور دلکش ہے، اسی قدر وسیع اور کشادہ بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات زندگی کے ہر شعبہ کا احاطہ کرتی ہیں۔ عقائد، عبادات، معاملات، اخلاقیات، معاشیات، تہذیب و تمدن، سیاسیات الغرض وہ سب کچھ جس کا انسان کی انفرادی یا اجتماعی، روحانی و مادی زندگی سے ہے۔ اسوۂ حسنہ کا ابرِ رحمت ان سب پر سایۂ فگن ہوتا ہے۔

آج بھی اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی دعوت کو پذیرائی نصیب ہو اور پیغام حق دلوں کی دنیا میں ہل چل پیدا کر دے، تو اس کی صرف یہی صورت ہے کہ قرآن کی تعلیمات کے حسین خدوخال کو سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے شفاف آئینہ میں لوگوں کو دکھایا جائے۔ بالخصوص مسلمانوں کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ ضرور کریں۔ شاید اس کی برکت سے زندگی کے بند دریچے روشنی اور نور سے مزّین ہو سکیں۔