working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

جنوبی ایشیاء میں دہشت گردی کے خلاف مفاہمتی اقدامات
ایلی سٹیرملر

جنوبی ایشیا میں اور بالخصوص برصغیر میں علاقائی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف موجودہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے نبٹا جاسکے گا بلکہ ان معاشی اور مالی خساروں کے میزانیوں کو بھی عبور کرنا ممکن ہوگا جو ابھی جدول میں کہیں بہت نیچے ہیں۔ تاہم مضمون نگار اس ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء میں علاقائی تعاون کی قانون سازی کے لیے فنڈ اور مدد کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ ان ممالک کے سب سے اہم شعبے یعنی پولیس کے محکمے میں اصلاحات کی کوششوں کو تیز کیا جاسکے۔ کیونکہ دنیا بھر میں عالمی امور کے ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تمام دنیا میں یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ سرحدوں کے آرپار دہشت گردی اور منظم جرائم پر اس وقت تک قابو نہیں پایا جاسکتا، جب تک علاقائی سطح پر باہمی تعاون کو فروغ حاصل نہ ہو۔ اس کے لیے بعض انتظامی نوعیت کے حامل اداروں میں اور زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے جس کی جانب اس مضمون میں کھلے طور پر اشارہ کیا گیا ہے۔ (مدیر)

امریکہ کے صدر بارک اوباما نے اپنے پیش رو کے متعین کردہ ''دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ'' کے نعرے سے جست لیتے ہوئے تعاون کے نئے دور کے نظرئیے کی جانب قدم بڑھایا ہے۔(1) ان کے اس تبدیل شدہ بیان کی روشنی میں افغانستان اور پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کو پرکھا جا سکتا ہے، جہاں ان کی افواج Nato ممالک کے ساتھ مل کر وسیع کارروائیوں میں مشغول ہے۔ جب مارچ 2009ء میں انتظامیہ کی نئی افپاک (Afpak) پالیسی منظر عام پر آئی تو نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جنرل جیمز جون نے یہ دعویٰ کیا کہ ''موجودہ حکمتِ عملی کا مغز علاقائی مفادات کی بنیاد پر ہو گا، جس میں جنوبی ایشیاء کے تمام اہم کرداروں کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی۔''(2)

خطے کے تمام ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ''دنیا میں یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ سرحدوں کے آر پار دہشت گردی اور منظم جرائم پر اس وقت تک قابو نہیں پایا جا سکتا جب تک کہ علاقائی سطح پر باہمی تعاون کو فروغ حاصل نہ ہو جائے۔''(3) 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے حملوں سے پتا چلتا ہے کہ اسلحہ بردار اشخاص کراچی کی بندرگاہ سے انڈیا کے لیے روانہ ہوئے تھے، اس قسم کے واقعات نے علاقائی سطح پر باہمی تعاون کے خطرات سے نمٹنے کی بر وقت حکمت عملی اور آپس میں خفیہ معلومات کے تبادلے کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا ہے،(4) کیونکہ تنہا کوئی ملک بھی دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

اس مضمون میں ان کوششوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جو ''جنوبی ایشیاء کی علاقائی تنظیم برائے تعاون'' یعنی SAARC کے ممالک دہشت گردی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے باہمی طور پر انجام دے رہے ہیں، جبکہ ایجنڈے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں وسیع البنیاد تعاون بھی شامل ہے۔

قول اور فعل میں تضاد سرحدوں کی حفاظت، امن و امان کی یقین دہانی اور باہمی قانونی تعاون کے حوالے سے علاقائی ممالک کے درمیان طے پانے والے سمجھوتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ علاقائی تعاون کی تنظیم سارک (SAARC)، جس میں پاکستان، افغانستان اورانڈیا بھی شامل ہیں،(5) دہشت گردی کے معاملات 9/11 کے حملوں سے بھی بہت پہلے اس کے ایجنڈے میں موجود تھے۔ مزید برآں سارک نے 20 سال قبل اپنے اجلاس میں دہشت گردی کا قلع قمع کرنے اور معلومات کے تبادلے کے باہمی نظام میں بہتری لانے کے لیے ممبر ممالک کے مابین تعاون پر سمجھوتے کر دیئے تھے۔ 1995ء میں اس تنظیم نے Terrorist Offence Monitoring Desk (STOMD) کی بنیاد رکھی، جس میں غیر قانونی معاملات سے نمٹنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف تعاون، معلومات، طریقہ کار اور حکمت عملی جیسے اقدامات پر منصوبہ بندی کی گئی۔ دہشت گردوں کو ملنے والی امداد کی روک تھام کے معاملات کو 2002ء کے کنونشن میں اس کا حصہ بنایا گیا، جبکہ 15 اگست 2008ء کو سارک کے اجلاس میں باہمی طے پانے والے قوانین کو اصولی شکل دی گئی۔(6) ان سمجھوتوں کا مقصد علاقائی ممالک کے مقامی معاملات حل کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔(7) امید کی جانی چاہیے کہ جب یہ اعلامیے اپنی حقیقت کو پوری طرح منوا لیں گے تو سارک کے ممبر ممالک کے درمیان دہشت گردی کی تحقیقات اور اس حوالے سے مجرموں کے باہمی تبادلے اور دیگر معاملات پر باہمی معاونت پر عمل درآمد کو فروغ ملے گا۔

اپریل 2008ء میں سارک ممالک کے ماہرین نے دہشت گردی اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے خفیہ معلومات پر تبادلہ خیال کیا۔(8) برصغیر میں خفیہ معلومات کے تبادلے میںانٹیلی جنس ایجنسیوں اور دہشت گرد تنظیموں میں روابط حساس معلومات سے حالات کو بگاڑ بھی سکتے تھے۔ تاہم اپریل 2008 ء میں انڈیا اور پاکستان نے ایک ایسے سمجھوتے سے اتفاق کیا جس میں دہشت گردی کے حوالے سے تعاون کو مضبوط کرنے کے پس منظر میں حالیہ حملوں کو بھی زیر بحث لایا گیا۔(9) نومبر 2008ء کے ممبئی حملوں کے تناظر میں امریکہ کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کی معاونت سے مذکورہ دونوں ممالک نے لشکرِ طیبہ اور جماعت الدعوہ کے حوالے سے متعدد خفیہ دستاویزات کا تبادلہ کیا۔(10) امریکہ کی فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن نے بھی ہندوستانی حکومت کو ان حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں بھرپور مدد فراہم کی، جس میں جدید تحقیقاتی طریقے اور انٹرویوز لینے کے لیے اپنے ماہرین کا تقرر شامل تھا۔(11) تاہم پاکستان میں ایک اہم مشکوک رہنما کی دو مرتبہ عدالتی کارووائی کی معطلی سے الزامات کا سامنا کر نے میں دشواری حائل رہی۔(12) بیرونی انٹیلی جنس کی خدمات حاصل کرنے کے معاملے میں انڈیا اور پاکستان کی حکومتیں ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں اور تعاون کے گذشتہ فقدان میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن یہ سب کچھ علاقائی سطح پر کی جانے والی باہمی معلومات کے تبادلے کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ مزید برآں انٹیلی جنس کے معاملات میں بیرونی معاونت سے وہ فوائد حاصل نہیں کیے جا سکتے، جب تک کہ علاقائی سطح پر قانون سازی کر کے عدالتی اہلکار اپنی کارروائیوں میں دہشت گرد عناصر کی راہ میں رکاوٹ اور ذمہ دار افراد کو کامیابی سے سزائیں دلوانے میں باہمی طور پر کامیابی نہ حاصل کر لیں۔

عملی اقدامات کی ضرورت
دہشت گردی کے خلاف تعاون سارک کے ایجنڈے کا متواتر حصہ رہا ہے مگر جامع اقدامات کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔(13) تعجب ہے کہ ان ممبر ممالک میں کھچائو اور بداعتمادی کی فضا قائم ہے، جن میں سرفہرست پاک افغان اور انڈو پاک حکومتی تنازعات ہیں۔ خصوصاً خفیہ ایجنسیوں کے کردار نے پڑوسی ممالک اور مغربی اتحادیوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔(14) انڈیا اور پاکستان تو عشروں سے کشمیر کے مسئلے پر سخت الجھن کا شکار رہے ہیں۔

ان متنازعہ مسائل نے ریاستوں کے درمیان تعاون کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا ہے، جیسا کہ وی بلاچندرن کہتے ہیں ''جب تک علاقائی ریاستیں اپنی دیرینہ بدگمانیوں کو ختم نہیں کر لیتیں، تب تک سرحدوں کے آر پار دہشت گردی اور باغیانہ سرگرمیوں پر قابو پانے میں کوئی پیش رفت کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو گی۔''(15) چند ممالک نے چھوٹے چھوٹے مسائل کو سارک کے پلیٹ فارم سے اپنے حریفوں کے خلاف تعاون کی قیمت پراستعمال کیا ہے۔(16) آخر میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کچھ تکنیکی رکاوٹیں اور قومی علاقائی سطح پر قابلیت کا فقدان بھی برصغیر میں مسائل کے حل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ممبر ممالک کے درمیان بداعتمادی اور سا لمیت کے حوالے سے تحفظات نے مضبوط سیکریٹریٹ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں، جس کی وجہ سے سارک کو اپنے وسائل کو بروکار لانے اور پالیسیوں کے نفاذ میں مشکلات کا سامنا ہے۔(17)

سارک کے سیاسی کردار کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے تاہم اتنے سارے مسائل کا حل بھی عجلت میں ممکن نہیںہے۔ سیکورٹی اداروں اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان رابطے اور ریاستوں کی جانب سے سارک کو مضبوط کرنے میں عدم دلچسپی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے، جس سے عسکریت پسندوں کے خلاف اقدامات کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے مزید تکنیکی اقدامات کرنے پڑیں گے کیونکہ سیاسی مسائل کی وجہ سے گاڑی پہلے ہی پٹڑی سے اتر چکی ہے۔

پس یہ کہنا ہرگز بے جانہ ہو گا کہ قریبی عملی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے سارک کے علاوہ کسی دوسرے فورم کی ضرورت ہو گی۔ ایک تجویز یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے ایک نئے علاقائی تعاون کے فورم کی داغ بیل ڈالی جائے جو جنوبی ایشیاء میں شدت پسندوں کے خلاف اقدامات کے لیے مہارت اور تربیت مہیا کرے۔ اس طرح علاقائی ممالک کے درمیان مہارت اور تجربات کے استفادے سے اہلکاروں کے مابین اعتماد سازی کو جلا ملے گی۔(18) مثلاً پاکستان کی پولیس اپنی مدِمقابل طاقتور اور بہترسہولتوں سے مزین فوج کے مقابلے میں دہشت گردوں کے خلاف صف آرا ہونے اور خفیہ معلومات کے حصول میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔(19) قانون نافذ کرنے والے اداروں میں عدالتی افسران اور دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا کو بڑھانا ہو گا جس سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک بالائی سطح کا سیاسی تعاون حاصل ہو گا۔ آخر میں یہ کہنا بھی درست ہے کہ سارک کو نظم و نسق کے سرکاری اداروں کے نظام کو وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کامیابی سے اپنی راہ پر گامزن ہو سکیں۔

جارج ٹائون، یونیورسٹی میں پاکستانی معاملات کی ماہر کرسٹین فیر کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی پولیس کی مدد کے لیے قلیل فنڈ مہیا کیا ہے۔ ''12ملین ڈالرز میں سے محض 2.2 فی صد ہی امداد کی مد میں دستیاب ہوئے ہیں جو کہ فوجی ضروریات کے تحت اتحادیوں کی مدد کے پروگرام کے لیے مختص کیے گئے تھے۔''(20) ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک ماہر اور سابقہ پاکستانی مندوب حسن عباس کے خیال میں ''پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے لیے مہیا کردہ فنڈ میں سے کم از کم آدھی رقم پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر سویلین اداروں کو ملنی چاہیے تھی اور اس کے استعمال کی کڑی نگرانی بھی ضروری ہے۔''(21) عباس امریکی پالیسیوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ''قانون کے نفاذ کے معاملے میں افپاک پر مبنی امریکی پالیسی کی ناکامی کے تناظر میں اورجرائم سے نمٹنے کے لیے جنوبی ایشیاء میں مزید علاقائی تعاون کی ضرورت ہے۔''(22)

جنوب مشرقی ایشیاء میں دہشت گردی سے نمٹنے کے تربیتی مراکز نے تعاون اور قابلیت کو بہتر بنانے کے لیے علاقائی سطح پر اہم کردار ا دا کیا ہے۔ اگرچہ دونوں خطوں میں مختلف صورتِ حال ہے، انڈیا اور پاکستان دونوں ہی ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان میں دیرینہ دشمنی بھی ہے اسی لیے یہ جنوب مشرقی ایشیاء کی ریاستوں کی طرح متحمل مزاج نہیں ہیں، تاہم جکارتہ کا Law Enforcement Cooperation Centre یعنی (JCLEC) کو جنوبی ایشیاء میں تعمیری کام کے حوالے سے بہترین نمونے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ JCLEC اور دیگر علاقائی تربیتی اور معلوماتِ عامہ کے مراکز جن میں بنکاک کی امریکی امداد سے چلنے والی Law Enforcenment Academy اور ملائیشیا کی مالی معاونت سے قائم Southest Asian Regional Center for Counterterrorism شامل ہیں۔ انہوں نے غیررسمی طور پر اس خطے میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے علاقائی طور پر معاونت کو فروغ دیا ہے۔ ان مراکز نے تشدد پسندی، جرائم اور پیسوں کے خورد برد کے معاملات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر مدد گار عناصر کی تربیت میں بہتری لانے کے لیے کام انجام دیاہے اور باہمی رابطوں سے قانون کا نفاذ کرنے والے بین الاقوامی اداروں کی بھی معاونت کی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیاء کے دیگر مراکز، فنڈ مہیا کرنے والوں کی صوابدید کے مطابق ان کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔ جہاں تک JCLEC کا تعلق ہے اس ادارے میں انڈونیشیا نے آسٹریلیا کے قریبی تعاون سے 3,000 سے زائد قانون نافذ کرنے والوں سمیت دیگر افراد کی دھماکوں کے تجزئیے، جرائم کی بیخ کنی اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیق کے حوالے سے گراں قدر تربیت کی ہے۔(23) JCLEC کا ادارہ انڈونیشیاء کی قومی پولیس اکیڈمی کی حدود کے اندر واقع ہے۔

امریکہ اور دیگر امداد مہیا کرنے والے ممالک جو کہ جنوبی ایشیا میں امن و امان کے حوالے سے دلچسپی رکھتے ہیں، ان کی مدد سے قانون کے نفاذ کا ایسا ہی ادارہ کسی غیر جانبدار ملک مثلاً بنگلہ دیش وغیرہ میں قائم کیا جا سکتا ہے، جہاں پہلے سے ہی پولیس کی تربیت کے چار مراکز تنگیل، نواکھلی، رنگ پور اور کھلنا میں کام کر رہے ہیں۔(24)

نومبر 2009ء میں اقوام متحدہ کی تدارکِ دہشت گردی کی کمیٹی (CTED) کے سیکریٹریٹ نے جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین قانون اور پراسیکوٹرز کی ایک ورکشاپ ڈھاکہ میں منعقد کی جس کی میزبانی بنگلہ دیش کے انٹرپرائزز انسٹی ٹیوٹ نے انجام دی۔(25) اس قسم کے اقدامات صحیح سمت میں بہترین قدم کے مترادف ہیں کیونکہ ان علاقوں میں بات چیت کے مواقع پیدا کرنے اور تعاون کے لیے عملی اقدامات کی انتہائی ضرورت ہے۔ بیرونی امداد سے اس قسم کی ورکشاپس کا انعقاد ان ریاستوں کے مابین سیاسی عمل کو تیز کرنے میںمعاون ثابت ہو گا، جہاں دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا ہے او ریوں جنوبی ایشیاء میں قانون کے نفاذ کے مراکز قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ اقوام متحدہ کی مداخلت سے بھی باہمی تعلقات پر نظر رکھنے والا متبادل دستیاب ہو گا اور اس طرح علاقے سے بیرونی چودھراہٹ کے خاتمے کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

اختتامیہ
اوباما انتظامیہ کو جنوبی ایشیاء میں دہشت گردی سے نبردآزما ہونے کے لیے مزید تعاون بڑھانے کے لیے موثر اقدام کرنے ہوں گے اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے لیے محتاط رویے کی ضرورت ہو گی تاکہ علاقائی مسائل مزید شدت اختیار نہ کر سکیں۔ انہیں اپنی سرکردگی میں ورکشاپس کا انعقاد بھی کرانا چاہیے جو ایسے علاقائی فورم کی حوصلہ افزائی کریں جہاں تکنیکی مہارت کا تبادلہ ممکن ہو اور مشترکہ مقاصد کی خاطر باہمی اعتماد کی فضا قائم ہو۔

جنوب مشرقی ایشیا کے ملک انڈونیشیا میں آسٹریلیا کے تعاون کی مثال کی تقلید کرتے ہوئے امریکہ کو بھی یہ چاہیے کہ وہ انصاف ا ور اسٹیٹ کے محکموں کی مدد سے علاقائی سطح پر قانون کی عملداری میں مدد دینے کے لیے سہولیات اور فنڈ مہیا کرے تاکہ جنوبی ایشیاء کے ممالک کے مابین ضروری اعتماد سازی کے لیے تکنیکی حوالوں سے لیس فورم کا احیاء ممکن ہو۔ اس طرح سیاسی طور پر کم حساس علاقوں سے تربیتی شروعات کرتے ہوئے منشیات کی اسمگلنگ اور مجرمانہ سرگرمیوں میں کمی کی خاطر تعاون میں اضافے کو فروغ دینا ہو گا۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب برصغیر میں پولیس اہلکاروں کے درمیان مکمل اعتماد کا احساس بیدار کیا جائے۔ مشترکہ تربیت کے پروگراموںسے نہ صرف بنیادی مہارت میں اضافہ ہو گا بلکہ جنوبی ایشیاء میں پولیس ا ہلکاروں کی پیچیدہ ہتھیاروں کو سمجھنے کی استعدادِ کارمیں بہتری لانے کا موجب بھی ہو گا۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب علاقائی اور باہمی تعاون کی جڑیں مضبوط ہوں اور انٹیلی جنس کے تبادلے سے دہشت گردوں کی کارروائیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔

جنوبی ایشیائی ممالک میں دہشت گردی کے خلاف تعاون کا ساختی ڈھانچہ خاصا ہوشربا ہے۔ اس کی گواہی گذشتہ 20 سال سے سارک کے پلیٹ فارم سے مترشح ہونے والے محدود نتائج سے ملتی ہے۔ برصغیر میں علاقائی تعاون کی قانون سازی کے لیے فنڈ اور مدد کی ضرورت ہے تاکہ ان ممالک کے سب سے اہم شعبے یعنی پولیس کے محکمے میں اصلاحات کی کوششوں کو تیز کیا جا سکے کیونکہ ان ریاستوں میں بدعنوانی، رشوت ستانی عام ہے اور قابلیت کا فقدان خاصی اہمیت کاحامل ہے۔ حالانکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے درمیان تعاون کی جڑیں گہری ہوں گی جیسا کہ دیگر ممالک میں رواج ہے تاہم دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون صرف شجاعت سے ہی ممکن ہے۔


11