working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

فاٹا میں قبائلی معیشت: حالیہ عسکریت پسندی کے تناظر میں
آصف میاں

موجودہ جنگ میں معیشت کو کس قدر اہمیت حاصل ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات اورجنگ زدہ علاقوں میں موجود قدرتی وسائل اور کئی ایک ممالک کے مابین اہم تجارتی راستے کی حیثیت رکھنے کے سبب یہ خطہ جنگ وجدل کا میدان بنا ہوا ہے۔ ایک نظریہ یہ بھی ہے۔ زیر مطالعہ مضمون میں آصف میاں نے نہایت باریک بینی کے ساتھ ان تمام حالات کا جائزہ لیا ہے جو اس معاشی برتری کا باعث بنے ہوئے ہیں بلکہ ان کا کہنا تو یہ بھی ہے کہ سمگلنگ کے راستوں پر کنٹرول کا معاملہ ہو، عسکریت پسندی کا مسئلہ ہو یا ان علاقوں میں تجارتی معاملات کی اجارہ داری ہو۔ تمام صورتوں میں دولت کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ طالبان تحریک کا سوات اور دیر میں پنپنا، قبائلی دستور اور پیسے کے مرہون منت ہے۔ کئی کردار ایسے بھی ہیں جو شورش زدہ علاقوں میں معاشی دلچسپیوں کی خاطر جنگ میں کود پڑے ہیں جبکہ نئے کردار بھی بھرپور انداز میں معاشی ذرائع پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنے جال کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ آئیے! ہم اپنے طور پر بھی اس صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں۔(مدیر)

حالیہ برسوں میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نیم خود مختیار وفاقی قبائلی علاقے اور سوات سے ملحقہ علاقوں میں طالبان کی جانب سے عسکریت پسندی کا بڑھتا ہوا رحجان دیکھنے میں آیا ہے اور اب تو اس انتہا پسندی نے تمام صوبہ سرحد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ قبائلیوں کے پاس جدید ترین اور مہلک ہتھیار موجود ہیں اس کے علاوہ قیمتی گاڑیاں ہیں اور نہ صرف سرحد پار افغانستان سے بلکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔

یہ بہت حیران کن بات ہے کہ فاٹا کی معیشت کے متحرک اور کچھ حد تک بین الاقوامی تعلّقات کار قبائلیوں کے مفادات سے وابستہ ہیں۔ فاٹا میں طالبان عسکریت پسندوں کو ملنے والی امداد نہ صرف خاصی اہمیت کی حامل ہے بلکہ فاٹا کی سات قبائلی ایجنسیوں ، خیبر، مہمند، باجوڑ ، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں رہنے والوں کے مخدوش حالات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

حالیہ عسکری کارروائیاں ، مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے عام اعلانِ جنگ ہے یا وہ ان علاقوں پر مکمل قبضہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ایک بات صاف ہے کہ سمگلنگ کے راستوں پر کنٹرول کا معاملہ ہو۔ عسکریت پسندی کا مسئلہ ہو یا ان علاقوں میں تجارتی معاملات کی اجارہ داری ہو تمام صورتوں میں دولت کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ طالبان تحریک کا سوات اور دیر میں پنپنا، قبائلی دستور اور پیسے کی مرہون منت ہے کئی کردار ایسے بھی ہیں جو شورش زدہ علاقوں میں معاشی دلچسپیوں کی خاطر جنگ میں کود پڑے ہیں جبکہ نئے کردار بھی بھرپور انداز میں معاشی ذرائع پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے اپنے جال کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

جب 1989 ء میں کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدیۖ کے امیر صوفی محمد نے مالاکنڈ میں شریعتی تحریک کا آغاز کیا تو لوگوں کی اکثریت نے اسے خوشی سے قبول کرلیا یہ دگرگوں اقتصادی صورت حال ہی تھی جو لوگوں کے لئے TNSM میں دلچسپی کا باعث بنی۔ صوفی محمد کو دیر میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی کیونکہ اس نے تیز رفتار سستے انصاف اور نفاذ شریعت کی یقین دہانی پر ان جھوٹے تاجروں کو ساتھ ملا لیا جن کا کاروبار افغانستان اور پاکستان کے دور دراز علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ سوات ریشمی کپڑے کی صنعت کا بہت بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے جس کے لئے خام مال عام تاجر باہر سے منگواتے ہیں عام لوگ یہ خیال کرنے لگے تھے کہ صوفی محمد کی تحریک کے نفاذ سے ان گنت فوائد حاصل ہوں گے جن میں سستا خام مال، سستی بجلی اور ٹیکس سے مستثنیٰ گاڑیاں شامل ہوں گی۔

پاکستان کے فاٹا کے علاقے اقتصادی طور پر افغانستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سب سے اہم جغرافیائی حالات اور نسلی قربت کے عوامل ہیں پہاڑی علاقے ہونے کی وجہ سے یہاں زرعی زمین کی کمی ہے اور عموماً قانونی یا غیر قانونی کاروبار یا تجارت پر انحصار کیا جاتا ہے۔ غیر قانونی اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ پاکستان سے ٹرانزٹ ٹریڈ، زر مبادلہ کا حصول بذریعہ حوالہ یاہنڈی اور مال کی تجارت قبائل کے دستور کا حصہ ہیں۔
قبائلی علاقوں میں سامان کی ترسیل قبائل کے ہی مرہون منت ہے،قبائلی اشیاء کی ترسیل پر مکمل طور پر چھائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر لوگ جو کاروبار سے منسلک ہیں وہ عسکریت پسند یا طالبان کے حامی نہیں ہیں تاہم جو راستے تجارت کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں وہ طالبان کے زیر کنٹرول ہیں جس کی عسکریت پسند راہداری وصول کرتے ہیں۔

افغانستان سے روس کی پسپائی کے بعد پاکستانی قبائل کی کاروباری سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ ان کی افغان تاجروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی استطاعت نہیں۔ افغان تاجروں نے روس مخالف جہاد کے نام پر رقم اکٹھی کرکے تمام پیسے کو فاٹا میں کاروبار کو پھیلانے میں صرف کرکے اپنی ساکھ کو مضبوط کیا۔ تاہم اس دوران ہزاروں پاکستانی قبائلیوں نے افغان پاسپورٹ حاصل کیے اور یورپ اور امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کرلی۔جلاوطن قبائلی اپنے گھروں میں رقم بھیجنے کے لئے زیادہ تر حوالہ یاہنڈی پر بھروسہ کرتے ہیں جس سے قبائلی علاقوں میں حوالہ نظام مضبوط ہوتا گیا۔

2001 ء میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں پوست کی کاشت میں خاصا اضافہ ہوا۔ افغانستان میں منشیات کی تیاری میں پاکستانی قبائلیوں کا ہاتھ بھی شامل رہا ہے۔ اگرچہ قبائلی علاقوں میں منشیات کی تجارت کا شماریاتی حجم دستیاب نہیں تاہم FATA کے علاقے جو پشتون عسکریت پسندوں کے زیر اثر ہیں اور افغانستان کے ساتھ بلوچستان کے سرحدی علاقے جنہیں بلوچ عسکریت پسند کنٹرول کرتے ہیں، یورپ اور دوسرے ممالک کو منشیات سمگل کرنے کے بڑے راستے تصور کیے جاتے ہیں۔

ایک اور سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ طالبان جو افغانستان اور پاکستان میں لڑائی میں مصروف ہیں انہیں اسلحہ کہاں سے حاصل ہوتا ہے۔ دراصل اسلحہ کی تجارت کمائی کا بہت بڑا ذریعہ تصور کی جاتی ہے۔ قبائل میں لوگوں کی اکثریت اسی کاروبار پر انحصار کرتی ہے ہزاروں لوگ اسلحہ بنانے کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ ان ہتھیاروں کی تجارت درہ آدم خیل جو کہ پشاور اور کوہاٹ کے درمیان ایک قصبہ ہے کی مارکیٹ میں کی جاتی ہے اس کے علاوہ سخاکوٹ(مالاکنڈ) باڑہ(خیبر ایجنسی) پشاور کے کارخانوں کی مارکیٹیں میران شاہ(شمالی وزیرستان کی ایجنسی کا اہم قصبہ) اور مہمند ایجنسی اسلحے کی مارکیٹ کے اہم مراکز ہیں۔تاہم چھوٹے پیمانے پر فاٹا کے تمام علاقے اسلحہ بنانے اور اس کاروبار میں اپنا کردار ادا کرنے میں شامل ہیں۔ وفاقی حکومت پاکستان کے شکار اور کھیلوں کے چیف آپریٹنگ آفیسر محمد طارق نے بتایا کہ تقریباً250 چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں اور2200 خاندان اس اسلحہ کی صنعت کے کاروبار سے منسلک ہیں جو کہ درّہ آدم خیل اور باڑہ میں کام کررہی ہیں۔ طارق نے بتایا کہ شکار سے متعلق اسلحے کی دو مارکیٹیں ہیں ایک اورکزئی ایجنسی میں درہ آدم خیل ایف آر کوہاٹ اور دوسری پشاور باڑہ میں ہے جہاں 30 بور کے 6000 پستول ہر مہینے اور73,000 کی تعداد میں سالانہ بنتے ہیں۔میران شاہ(شمالی وزیرستان) سخاکوٹ (مالاکنڈ ایجنسی) اور مہمند ایجنسی کی مارکیٹوں میں بھی اسلحہ فروخت کیا جاتا ہے۔ یہاں مختلف اقسام کی تقریباً4500 بارہ بورگنیں ماہانہ بنائی جاتی ہیں۔(1)

Pakistan Hunting & Sporting Arms Development Company یعنیPHSADC سے دستیاب ڈیٹا کے مطابق 2006 ء میں پاکستان میں پستول اور شاٹ گنوں کی فروخت سے 16 ملین امریکی ڈالر کی آمدنی ہوئی جبکہ2007 ء میں شکاری اسلحہ کی برآمد سے 1.2 ملین امریکی ڈالر کمائے گئے۔(2)

وانا (شمالی وزیرستان ) سے قومی اسمبلی کے سابق رکن مولوی نور محمد نے بتایا کہ جب طالبان نے افغانستان سے ایک امریکی یاISAF کے فوجی کو پکڑا تو انہوں نے اس کی تمام اشیاء بشمول ہیلمٹ،بلٹ پروف جیکٹ، یونیفارم، خنجر، گھڑی، بندوق اور اندھیرے میں دیکھنے والے آلات محفوظ کرلیے۔ مارکیٹ میں یہ تمام اشیاء تقریباً8,00,000 روپے کی بکتی ہیں۔ مولوی صاحب نے بتایا کہ افغان سپاہی منشیات کے بدلے میں یہ اسلحہ حاصل کرتے ہیں جب کہ منشیات میں ہیروئن یا چرس شامل ہوتی ہے۔ (3)

2006 ء میں وفاقی حکومت نےPHSADC بنائی تاکہ اسلحہ بنانے والوں اور تاجروں کو سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ حکومت یہ چاہتی تھی کہ اسلحہ بنانے کی استطاعت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے۔ڈیزائننگ کے لئے خدمات مہیا کرنے اور دھاتوں کی ترکیب کے لئے سہولیات فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا تاکہ بین الاقوامی معیار کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر معیاری ہتھیار بنائے جائیں۔PHSADC نے پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ سے انجینئرز کی مدد حاصل کی تاکہ تمام تکنیکی خامیوں پر قابو پایا جاسکے لیکنPHSADC کو بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا،کیونکہ مقامی لوگ روایتی طریقے ترک کرنے کے لئے تیار نہ تھےPHSADC کے چیف آپریٹنگ آفیسر محمد طارق نے بتایا کہ 2007ء میں تےّار ہتھیار عالمی منڈی میں 37 بلین ڈالر کے ھتیارفروخت ہوئے جسکا 45فیصد امریکا نے بیچا۔ یہ تو صرف شکاری اسلحے کے اعدادوشمار تھے لیکن فاٹا میں کاروبار کا زیادہ تر کام خود کار ہتھیاروں کا ہوتا ہے جس کا ریکارڈ بین الاقوامی سطح پر دستیاب نہیں ہے جبکہ شکاری اسلحے کی صنعت سے زیادہ آمدنی حاصل نہیں ہوتی۔ حالیہ دنوں میں درّہ آدم خیل میں اسلحے کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں درّے کے ایک دکاندار نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کبھی مجاہدین درّہ آدم خیل میں اسلحہ بیچتے تھے لیکن اب وہ اسلحہ بارود خود یہاں سے خریدتے ہیں ۔ دکاندار نے بتایا کہ استعمال شدہ کلاشنکوف کی قیمت20,000 روپے سے بڑھ کر35,000 روپے ہو گئی ہے جبکہ نئی کلاشنکوف کی قیمت25,000 روپے سے بڑھ کر45,000 تک جا پہنچی ہے۔مصر کی بنی ہوئی گولی کی قیمت14 فیصد جبکہ چائنہ کی بنی ہوئی گولی19 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ پہلے شمالی وزیرستان کی ایجنسی میں واقع میران شاہ عسکریت پسندوں کو اسلحہ فراہم کرتا تھا لیکن اب ان کی بڑھتی ہوئی ضروریات کی وجہ سے ان کی کھپت مقابلہ نہیں کر پارہی۔

فاٹا کے قبائلی علاقوں میں کچھ پیداواری علاقے اہمیت رکھتے ہیں مہمند ایجنسی کو سنگ مرمر کی ایک بہت بڑی صنعت سمجھا جاتا ہے جبکہ شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں جنگلات کی لکڑی کی تجارت نے ان کی معیشت کو مضبوط بنایا ہے۔ سنگ مرمر اورلکڑی کی ترسیل کے لئے طالبان کو بہت زیادہ رقم دی جاتی ہے کیونکہ یہ علاقے طالبان کے زیر اثر ہیں جس کی وجہ سے ان کے خزانے ہر وقت بھرے رہتے ہیں۔

غیر قانونی سامان کی سمگلنگ کی ترسیل کو تقریباً ساتوں قبائلی اضلاع میں ایک بہت بڑا کاروبار سمجھا جاتا ہے اور ہر ایجنسی میں تاجروں نے اپنی مارکیٹیں کھول رکھی ہیں اگر ایک ایجنسی ٹائروں کی سمگلنگ کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے تو دوسری کاروں ، ہتھیاروں اور کیمیکل کی سمگلنگ کے لئے مشہور ہے جب بھی پاکستانی حکومت ٹیکس کے نظام میں کوئی تبدیلی متعارف کراتی ہے تو یہ لوگ تجارتی توازن کو بگاڑ دیتے ہیں اور ملک کے اندر خفیہ راستوں سے غیر قانونی ہتھیاروں کی سمگلنگ کی تجارت شروع کردیتے ہیں۔باڑہ مارکیٹ کارخانو مارکیٹ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے جو پشاور کے صنعتی علاقہ حیات آباد میں واقع ہے۔ آج سے چالیس سال پہلے یہ مارکیٹ لنڈی کوتل میں بنائی گئی تھی یہ قصبہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔

1985 ء میں یہ مارکیٹ باڑہ(خیبر ایجنسی) میں منتقل ہوگئی اور تب سے آج تک حیات آباد میں ہی ہے اس مارکیٹ میں 4857 دکانیں ہیں یہاں پاکستان کے دور دوراز علاقوں سے لوگ خریدو فروخت کے لئے آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق باجوڑ ، مہمند اور خیبر ایجنسی کے 40 فیصد لوگ کلی یا جزوی طور پر اس مارکیٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔(4)

واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے ''جو شوآپارٹلو'' نے ستارہ مارکیٹ جو کہ کارخانو مارکیٹ کا ایک حصہ ہے سے متعلق دلچسپ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔(5)

''یہاں زیادہ تر اشیاء عام نوعیت کی ہیں مگر بعض چیزیں تشویش طلب بھی ہیں۔ گلوبل پوسٹ کی ویب سائیٹ کے ایک نمائندے نے اسی سال کے شروع میں یہاں سے650 امریکی ڈالرز کے عوض امریکن ملٹری کے زیر استعمال رہنے والا لیپ ٹاپ خریدا جس کا تعلق864 انجینئرنگ کمبیٹ بٹالین سے تھا اس میں کئی فوجیوں کے پتے تھے جنہیں ای میل بھیجی گئی تھیں یہاں پر نئی اور پرانی وضع کی بندوقیں اور تمام اقسام کا کیموفلاژ کا سامان دستیاب ہے''کارخانومارکیٹ میں ایران، وسطی ایشیاء اور چائنہ سے مختلف راستوں سے مال لایا جاتا ہے، دکانداروں کی رسائی بین الاقوامی منڈیوں تک ہے۔ اس مارکیٹ میں بین الاقوامی معیار کی الیکٹرونکس، کاسمیٹکس ، کپڑا اور گھریلو اشیاء دستیاب ہیں۔

کچھ عناصر پاکستان اور افغانستان کو تجارتی سامان مہیا کرتے ہیں۔ طالبان جو مواصلاتی نظام استعمال کرتے ہیں وہ بھی یہاں با آسانی مل جاتا ہے کسی کو بھی درہ آدم خیل میں جانے کی ضرورت نہیں پڑتی سگنل جامر، دوربین، اندھیرے میں دیکھنے والے آلات ،دوربین والی بندوقیں اور ریکارڈ کارخانو مارکیٹ سے ہی سستے داموں مل سکتی ہیں۔

پچھلے دنوں میڈیا میں خبریں آرہی تھیں کہ نیٹو کی افواج کے لئے جن کنیٹنروں پر سامان بھیجا جاتا ہے حملوں کی زد میں ہیں۔ ان حملوں کے دوران لوٹا ہوا مال بشمول وہ کھانا جو ڈبوں میں بند تھا، وہ بھی ستارہ مارکیٹ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسند اس قسم کے حملے کرتے رہتے ہیں حکومتی افواج ان قبائلیوں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں جو انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں ایسی کارروائیوں میں یا تو قبائلیوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے یا پھر ان کے گھروں کو مسمار کردیا جاتا ہے بڑے پیمانے پر کاروبار کے لئے ان قبائلی علاقوں میںمالی معاملات سے نمٹنے کے لئے ایک مکمل نظام کی ضرورت ہے اب تک ''حوالہ'' نے اس خلا کو پر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ''حوالہ نظام'' مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے پہچانا جاتا ہے۔ قبائلی علاقوں اور افغانستان میں''حوالہ'' کا کاروبار کرنے والے کو ''صراف'' کہا جاتا ہے اور وہ (تحریر نامہ) جس پر تحریر لکھی جاتی ہے اسے ''حوالہ'' کہا جاتا ہے۔

تقریباً دو درجن سے زائد''صرافوں'' نے کارخانو مارکیٹ میں مذکورہ کاروبار کو سنبھال رکھا ہے جو قبائلی علاقوں تک رسائی رکھتے ہیں اور روزانہ لاکھوں روپے باہر کے ممالک کو بھجوا رہے ہیں۔ فاٹا کے قبائلی علاقوں میں''حوالہ'' نظام بہت مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں دنیا کے کسی بھی کونے میں انفرادی یا اجتماعی طور پر من مرضی کی رقم بلا خوف و خطر بھجوائی جاسکتی ہے اور تمام کام قابل اعتماد طریقے سے انجام پاتا ہے پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیزجو کہ بذات خود ایک بینکار تھے انکا مانناتھا ہر سال سالانہ5 بلین ڈالرز ملک سے باہر بھجوائے جاتے رہے ہیں۔(7)

اگرچہ50 فیصد سے زائد دکاندار جو کارخانو مارکیٹ میں کاروبار سے منسلک ہیں وہ افغان قومیت کے حامل ہیں لیکن افغانی ترسیل پر پاکستانی قبائلی مکمل گرفت کیے ہوئے ہیں۔حقیقت میں دیکھا جائے تو قبائلیوں کی آمدنی کا بڑا شیئر طالبان کے حصے میں آتا ہے۔ شمالی مغربی صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے بتایا کہ تقریباً4 بلین روپے سالانہ کے حساب سے طالبان وصول کررہے ہیں(یہ رقم50 ملین امریکی ڈالرز کے برابر ہے) (8)

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شمالی مغربی سرحدی صوبے میں سوات کے نزدیک زمّرد کی کانیں ہیں جن میں سے ایک ایشیا کی سب سے بڑی کان تین ماہ تک طالبان کے قبضہ میں رہی۔ انہوں نے زمّرد کی اس کان کی نیلامی کی آمدنی کا دوتہائی حصہ کان کنوں کو دیا باقی ماندہ رقم طالبان نے حاصل کی۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے ان کانوں سے 50,000 امریکی ڈالر فی مہینہ حاصل کیے۔(9)

ایک قومی روز نامے کے اداریے کے مطابق تین قدرتی وسائل قیمتی پتھر، لکڑی، اور سنگ مرمر نے عسکریت پسندوں کی مالی اعانت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔(10)

افغان طالبان نے اپنی زیادہ تر آمدنی افیون کی تجارت سے حاصل کی ہے اور پاکستان میں بھی اس کاروبار سے کچھ حد تک استفادہ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں عسکریت پسندوں کا پہلا ہدف سنگ مر مر کی صنعت بنی جب اپریل2008 ء میں انہوں نے مہمند ایجنسی میں زیارت کی کان پر قبضہ کرلیا تقریباً ایک ملین ٹن سالانہ سنگ مرمر کی پیداوار صرف فاٹا سے حاصل کی جاتی ہے۔ سوات میں زمّرد کی کان طالبان کا اگلا ہدف تھا اسی سال مارچ میں عسکریت پسندوں نے حکومتی زیر نگرانی زمّرد کی کانوں کو اپنے قبضے میںلے لیا۔ یہ کانیں مینگورہ کے پہاڑوں میں واقع تھیں مینگورہ کی کان پر قبضہ فروری2009 ء کے آس پاس ہوا جس کے بعد میں صوبائی حکومت اور تحریک نفاذ شریعت محمدیۖ(TNSM) کے امیر صوفی محمد کے مابین امن معاہدہ ہوا۔ طالبان نے شاموزئی اور گجرگلی کی کانیں بھی اپنے قبضے میں لے کر قیمتی پتھر نکالنے شروع کردیئے اور تجارت اپنے ہاتھوں میں لے لی''۔(11)

تحریک نفاذ شریف محمدیۖ کے نائب امیر سراج الدین بھی لکڑی کے کاروبار سے منسلک ہیں اس کے علاوہ لکڑی کے دیگر کئی سوداگروں نے بھیTNSM میں شمولیت اختیار کرلی اور اس کاروبار میں بغیر کسی حکومتی مداخلت کے طالبان کے ساتھ پیسے کمانے میں جْٹ گئے۔

غیر قانونی نقل و حرکت کے علاوہ طالبان بھاری پیمانے پر جنگلات کی کٹائی میں ملوّث ہیں یہ اندازہ لگانا بے حد مشکل ہے کہ طالبان نے اس طرح کتنی رقم حاصل کی ہے لیکن حکومتی اندازے کے مطابق صرف مالاکنڈ ڈویژن میں لکڑی کی غیر قانونی کٹائی سے تقریباً800 ملین روپے(اسی کروڑ) سالانہ کا نقصان ہوتا رہا ہے۔

طالبان اپنی آمدنی محصولات ، ٹیکس اور جرمانوں کی صورت میں بھی حاصل کرتے ہیں جو کہ غیر اسلامی سرگرمیوں کے نتیجے میں عائد کیے جاتے ہیں ان میں نوجوان مسلمان مردوں کا داڑھی منڈوانا، زکواة ، مجرمانہ سرگرمیاں اور اس کے علاوہ اغواء برائے تاوان وغیرہ شامل ہیں بعض اوقات تاوان کی رقوم 10 ملین روپے تک بھی وصول کی گئی ہیں۔(12)

جان سلیمان کے تخمینے کے مطابق پاکستانی طالبان کا85 سے 90 فیصد کے درمیان محصولات کا انحصار مجرمانہ سرگرمیوں اور منشیات کے کاروبار پر ہے۔(13)
______________________
حوالہ جات
1۔ محمد طارق کا مضمون نگار سے انٹرویو، پشاور، جولائی 2009ئ

2۔ ایضاً

3۔ مولوی نور محمد، انٹرویو:سیف الاسلام سیفی، وانا، 8 جنوری 2008ئ

4۔ نثار محمود، دی نیوز، 9 جولائی2009ئ

5۔ ایضاً

6. Joshua Partlow, Washington Post Foreign Service, Monday, July 13, 2009.

7. ''حوالہ'' رقوم کی منتقلی کا ایک غیررسمی نظام ہے۔ یہ خدمات فراہم کرنے والے کو ''حوالہ دار'' یا ''حوالہ ڈیلر'' کہتے ہیں۔

8. Business Recorder, Jun.22, 2009

9. Eschmall Sardar, "Money from extortion, crime & drugs, "Pak Observer, Jun.29, 2009.

http://pakobserver.net/200906/29/Article01.asp.

10. Charlotte McDonald-Gibson, "Taliban cash in on Pakistan's untapped gem wealth," AFP, official website, Jul.4, 2009.

11. "Funding Terror," The News, May 11, 2009.

12. The News, May 11, 2009.

13. Eschmall Sardar, "Money from extortion, crime & drugs, "Pak Observer, Jun.29, 2009.

http://pakobserver.net/200906/29/Article01.asp.

(انگریزی سے ترجمہ:انجینئر مالک اشتر)