working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

دہشت گردی کے واقعات کی جانب کمیونٹی کا رویہّ اور افعال
امجد طفیل

اگر یہ کہا جائے کہ دہشت گردی کے اثرات ہمارے رگ وریشے میں سرایت کرچکے ہیں تو کچھ غلط نہیں ہو گا۔ آئے روز کے بم دھماکوں اور ان میں معصوم لوگوں کی ہلاکتوں اور ان کے زخمی ہونے کے عوامل نے بحیثیت مجموعی ہمیں نفسیاتی عارضوںمیں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے۔ صورتِ حال کس نہج پر پہنچ چکی ہے، اس کا تجزیہ کرنے کے لیے دہشت گردی کے ان واقعات کے حوالے سے پاکستان کے کچھ بڑے شہروں میں ایک سروے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ شہر لاہور، راولپنڈی/اسلام آباد اور پشاور پچھلے کچھ عرصے کے دوران بُری طرح سے دہشت گردی کی لپیٹ میں رہے ہیں۔ زیرِنظر تحقیق سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے ان تین شہروںمیں اس وقت لوگ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے روےّوں اور افعال میں تغیرات آئے ہیں اور دہشت گردی کی موجودہ فضا نے ان کے روزمرّہ کے افعال پر گہرا اثر ڈالاہے۔(مدیر)

1۔ تعارف
دہشت گردی کے واقعات دنیا کے ہر معاشرے میں وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔ آج کل ساری دنیا میں دہشت گردی ایک ایسے مظہر کے طور پر سامنے آئی ہے جس نے دنیا کے کئی ممالک میں وہاں کے بعض مستحکم اداروں کی بنیادیں بھی ہلا کر رکھ دی ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی مختلف شہروں میں دہشت گردی کے سلسلہ وار واقعات رونما ہورہے ہیں۔ اب تک دہشت گردی کے واقعات میں پاکستان کے مختلف شہروں خاص طور پر پشاور، راولپنڈی اور لاہور کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دہشت گردی کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ اس میں سیاسی تبدیلی کے لئے لوگوں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے تاکہ مقاصد کا حصول آسان ہو جائے۔ دہشت گردی کی تمام وارداتوں میں تشدّد یا تشدّد کے ممکنہ استعمال کی دھمکی کار فرما ہوتی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات حکومتی اداروں کی طرف سے بھی کیے جاتے ہیں اور غیر ریاستی گروہوں کی جانب سے بھی جن میں فوجی شخصیات، حسّاس اداروں، حکومتی اہلکاروں یا عوام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دہشت گرد نہ صرف لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان کا ایک مقصد پاکستان اور سیاسی قیادت پر لوگوں کے اعتماد کو متزلزل کرنا بھی ہے۔ دہشت گردی کا اصل مقصد لوگوں کو نفسیاتی اعتبار سے نقصان پہنچانا ہے اور اس میں نشانہ صرف وہی لوگ نہیں بنتے جو واقعہ سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں بلکہ دہشت گردی کے واقعات ان لوگوں کو بھی نفسیاتی اعتبار سے متاثر کرتے ہیں جو ان واقعات کے بارے میں سنتے ہیں یا ٹیلی ویژن پر ایسے واقعات کے مناظر کو دیکھتے ہیں یا اخبارات میں ان واقعات کے متعلق خبریں پڑھتے اور تصاویر دیکھتے ہیں۔ نفسیاتی نقطۂ نظر سے ہم دہشت گردی کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ یہ تشدّد کی شدید صورت ہے جبکہ تشدّد جارحیت کی جبلت کا جسمانی یا لسانی اظہار ہوتا ہے۔ اس حوالے سے سگمنڈ فرائیڈ(2-1) لورنبز(3) ہولز (4) ڈولرڈ اور دیگر (5) کے کام کو بطور خاص حوالے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

دہشت گردی کے بنیادی عوامل، تاریخی، ثقافتی، مذہبی، معاشی ، سماجی اور نفسیاتی ہوسکتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ انفرادی اور اجتماعی ذہنی بیماری بھی اس نوعیت کے واقعات کا سبب بن سکتی ہے جیسا کہ پاکستان میں چند سال پہلے ایک فرد جاوید اقبال کو گرفتار کیا گیا کہ اس نے ایک سو سے زیادہ بچوں کو قتل کیا تھا یا جیسا کہ ان دنوں میں لاہور کے علاقے انارکلی میں گزشتہ چند ہفتوں سے کئی بچے جنسی تشدّد کا شکار ہو کر قتل ہوچکے ہیں۔ ان واقعات کے مجرم کی تلاش جاری ہے۔ اب تک ہونے والی تحقیقات بتاتی ہیں کہ سماجی نا انصافی،سماجی اقدار سے عدم مطابقت،سماجی و معاشی ترقی کے لئے غیر مساوی مواقع، امتیازی قوانین ، کرپٹ اور نا اہل انتظامی ڈھانچے اور میڈیا کے منفی کرداروں کو نمایاں کرنے سے دہشت گردی کے واقعات کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ آج کل کے حالات میں عالمی واقعات اور صورت حال بھی دہشت گردی کے واقعات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ جیسا کہ فلسطین، کشمیر، افغانستان اور عراق کی موجودہ صورت حال مسلمانوں میں غم و غصہ کو ابھار رہی ہے جس سے تشدّد کو فروغ ملتا ہے خاص طور پر گزشتہ چند سالوں میں پاکستان دہشت گردی کے واقعات کا خاص نشانہ ہے جو مختلف گروہوں کی طرف سے کیے جارہے ہیں۔

اگر ہم خاص طور پر نفسیاتی عوامل کی بات کریں تو ماہرین نفسیات کے ایک گروہ کے مطابق بچپن میں والدین کی مناسب توجہ نہ ملنا، معاشرے سے مطابقت نہ ہونا، جسمانی، جنسی اور جذباتی سطح پر غلط استعمال ایسے عوامل ہیں جو فرد کی نفسیات میں تشدّد کے امکانات کو بڑھا دیتے ہیں۔ دیگر عوامل میں غصہ شامل ہے جو اگرچہ ابتداء میں تھوڑا تھوڑا سامنے آتا ہے لیکن رفتہ رفتہ لوگوں میں جمع ہوتا رہتا ہے اور جب بہت زیادہ ہو جاتا ہے تو پھر ایک دھماکے کی شکل میں اپنا اظہار کرتا ہے۔ غصہ وہ عامل ہے کہ اگر اسے مناسب انداز سے ختم نہ کیا جائے تو یہ فرد کی نفسیات میں تشدّد پسندی، ایذارسانی، اذیت کوشی، ذہنی دباؤ جیسے مظاہر کو ابھارتا ہے ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ تشدّد کی علامات کی بجائے اس کے اسباب کو ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے بیشتر واقعات خود کش حملوں اور بم دھماکوں کی صورت میں ہو رہے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو خود کشی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں دو بد نام زمانہ گروہ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے خودکش حملہ آوروں کی مدد سے دہشت گردی کو فروغ دیا۔ ان میں ایک گروہ(Jewish si cair,s) کا تھا جبکہ دوسرا گروہ'' مسلمان حشیشین'' کا۔ اٹھارویں صدی میں جنوب مغربی ہندوستان میں مالا بار کے ساحل پر انگریزوں کے خلاف خود کش حملہ آور سامنے آئے اسی طرح جنوبی سماٹرا میں(Atjeh) اور جنوبی فلپائن میں سولو (Sulu) اور مینڈانوا میں بھی اس طرح کے واقعات دیکھے جاسکتے ہیں۔1980 ء کی دھائی میں سری لنکا کے تامل ٹائیگرز نے اس تکنیک کو سری لنکا کی افواج کے خلاف اور انڈیا کے وزیراعظم راجیوگاندھی کو قتل کرنے کے لئے استعمال کیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ بیشتر واقعات میں مسلمانوں نے اس حربے کو مغربی اجارہ داری اور استعماری قوت کے خلاف استعمال کیا (ماخذ:امریکی مرکز برائے پالیسی تجزیہ، یو ایس اے)۔موجودہ صدی میں سب سے بڑا خود کش حملہ11 ستمبر2001 کو امریکہ میں ہوا جس میں ہوائی جہازوں کے ذریعےW.T.C کی دو عمارتوں کو مسافر ہوائی جہازوں کی مدد سے تباہ کردیا گیا۔ اس سے دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ کا آغاز ہوا۔ اس جنگ نے خاص طور پر افغانستان، عراق اور پاکستان کو متاثر کیا ہے۔ اس عالمی صورت حال نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین میں تحقیق کے لئے دلچسپی پیدا کی ہے۔

امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے نفسیاتی اثرات کے حوالے سے ابتدائی تجزیاتی اطلاعات، واقعات کے چند دن کے بعد ہی آنا شروع ہوگئی تھیں۔ 560 افراد پر مشتمل ایک "Random Digit Dialing" سروے اس واقعہ کے تین سے پانچ دن کے اندر کیا گیا۔ اس سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ44% افراد میں بعداز سانحہ دباؤ کے امراض(PTSD) (Post Trommatic Stors Disorders) کی چیک لسٹ میں ایک سے پانچ تک علامات ''انتہائی''یا'' کافی حد تک'' موجود تھیں اگرچہ نتائج صنف،نسل، گروہی وابستگی اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے فاصلے کے باعث اختلافات بھی رکھتے ہیں اور 35% بالغ افراد نے رائے ظاہر کی کہ اْن کے بچوں میں ذہنی دباؤ کی ایک سے زیادہ علامات موجود ہیں۔ اسی نوعیت کا ایک سروے1008 بالغ افراد پر کیا گیا۔ ان افراد کا تعلق مین ہیٹن کی110 سٹریٹ سے تھا۔ اس سروے میں 5 سے 9 ہفتے کے بعد ٹیلی فون کے ذریعے رائے معلوم کی گئی۔ سروے کے نتائج کے مطابق7.5% جواب دہندگان میں(PTSD) کی علامات پائی گئیں جبکہ9.7% نے ان علامات کا اظہار کیا جو ڈپریشن کی اعلیٰ سطح سے متعلق ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو لوگ تباہ شدہ سنٹر کے قریب رہتے تھے ان میں علامات دور رہنے والوں کی نسبت تین گناہ زیادہ تھیں اس حوالے سے ایک اور تحقیق گیارہ ستمبر کے واقعات کے بارے میں امریکی ردعمل کا قومی مطالعہ The National Study of American Reactions to September11 (N-SARs) کے عنوان سے کی گئی۔ یہ سروے ویب پر کیا گیا جس میں قوم کے مختلف طبقات سے رائے لی گئی تھی اس سروے کے مقاصد میں(PTSD) کی مطبی حوالے سے اہم علامات کے بارے میں جاننا شامل تھا۔ اس سروے میں اس بات کا مطالعہ بھی کیا گیا کہ واقعہ سے مکانی قربت، فرد پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے اس سروے کا دوسرا مقصد گیارہ ستمبر کے واقعات کے اثرات سے آگاہی شامل تھی۔ تحقیقی مطالعہ میں اس واقعہ کے بچوں پر اثرات کا مطالعہ بھی شامل تھا۔(6)

اسی موضوع پر ہونے والی ایک اور تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک ماہ بعد بھی نیو یارک شہر کے رہنے والوں میں (PTSD) کی امکانی علامات کافی زیادہ تھیں۔ جبکہ یہی علامات واشنگٹن کے رہنے والوں میں نسبتاً کم پا ئی گئیں(7)۔N-SARS مطالعہ میں نیو یارک کے رہنے والوں میں11.2 % میں(PTSD) کی علامات پائی گئیںجو کہ امریکہ میںموجود اسی نوعیت کے عمومی اعداد و شمار کے مقابلے میں کافی زیادہ نظر آتی ہیں۔ نیو یارک اور واشنگٹن کے رہنے والوں میں اعداد وشمار کا مختلف ہونا تھوڑا سا حیرت میں ڈالتا ہے لیکن ایسا اس کی وجہ دونوں شہروں میں سول آبادی کے متاثر ہونے کی شدت ہے۔ نیو یارک میں شہری آبادی نشانہ بنی جبکہ واشنگٹن میں پینٹاگون کی عمارت جو شہر سے قدرے ہٹ کر واقع ہے۔ (8)

دہشت گردی کے واقعات کے مناظر ٹیلی ویژن پر دیکھ کر لوگ کیا اثرات قبول کرتے ہیں اس حوالے سے بھی تحقیقات کی گئی ہیں۔ ایسے مناظر دیکھ کر بچے اور عہد شباب میں موجود افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں جبکہ بالغ افراد کے حوالے سے زیادہ تجربی معلومات موجود ہیں۔دہشت گردی کے واقعات کو ٹیلی ویژن پر دیکھنا بالواسطہ تجربے کی ذیل میں آتا ہے۔ اس مظہر کے حوالے سے کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں ایک اہم بات یہ ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے مناظر کو ٹیلی ویژن پر دیکھنے سے ناظرین میں(PTSD) کی علامات بڑھ گئیں یا جو پہلے سے اپنے اندر(PTSD) کی علامات رکھتے تھے ۔ٹیلی ویژن کے مناظر دیکھنے سے ان کی علامات اور زیادہ ہوگئیں۔ ان متغیرات کے حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ قابل بھروسہ نتائج تک پہنچا جاسکے۔ (9)

ماہرین نفسیات نے دھماکے سے فرد کی قربت کے اثرات کا مطالعہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے ۔ اس حوالے سے اگرچہ ابھی تک بہت زیادہ معتبر اعدادوشمار موجود نہیں ہیں لیکن امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق یہ بتاتی ہے کہ نیو یارک میں 61% افراد نے جبکہ باقی سارے امریکہ میں 49.4 % افراد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان کے کم از کم ایک بچے میں ذہنی دباؤ کی علامات پائی جاتی ہیں۔

گیارہ ستمبر کو ہونے والے واقعات کے نتیجے میں مرتب ہونے والے نفسیاتی اور جذباتی اثرات کی پیمائش کے لئے ایک نیا موڈیول(Behavioral Risk Factor Surveillance System (BRFSS) بھی متعارف کروایا گیا ہے۔ دہشت گردی کے اس موڈیول میں 17 سوالات پوچھے جاتے ہیں ان میں معلوم کیا جاتا ہے کہ کیا جواب دینے والا اس کا شکار ہوا ہے، اس نے کسی جنازے میں شرکت کی ہے۔ دھماکے کے بعد اس کی ملازمت پر کوئی فرق پڑا ہے، کیا انہوں نے پہلے کے مقابلے میں تمباکو یا نشہ آور اشیاء کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ کیا وہ واقعات کے بعد ٹیلی ویژن پر ایسے واقعات کے مناظر زیادہ دیکھنے لگے ہیں ابتدائی سروے میں3,512 افراد سے یہ فارم پُر کروایا گیا50 % افراد نے اقرار کیا کہ وہ مذہبی تقریبات میں شریک ہوئے 75 % افراد نے اقرار کیا کہ انہیں گیارہ ستمبر کے دھماکوں کے باعث مشکلات/مسائل کا سامنا ہے48 % نے بتایا کہ حملوں کے بعد انہیں بہت غصہ آیا۔12 % جواب دینے والے افراد ایسے تھے جنہیں مدد کی ضرورت تھی 36 % افراد کو مدد خاندان کے افراد سے اور پڑوسیوں سے جبکہ31 %کو دیگر ذرائع سے حاصل ہوئی۔21 % سگریٹ نوش افراد نے بتایا کہ ان کی سگریٹ نوشی بڑھ گئی ہے جبکہ1 % نے بتایا کہ انہوں نے سگریٹ نوشی کا آغاز کردیا ہے۔3 % شراب نوش افراد نے بتایا کہ ان کی شراب نوشی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ (10)

ذہنی صحت سے وابستہ ماہرین، افراد اور گروہوں پر ہونے والے دہشت گردی کے اثرات کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اگر کچھ افراد دہشت گردی کے نتیجے میں ذہنی امراض کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں تو دیگر انسانی مصائب کو اپنا موضوع بنا رہے ہیں ۔ اس صورت حال کو ہم دو قطبی صورت حال کے طور پر شناخت کرسکتے ہیں۔ ان قطبین کے درمیان فاصلے کو پاٹنے کی ضرورت ہے۔World Health organization (WHO) نے راہنمائی کے اصول مرتب کیے ہیں جن کوہنگامی حالات میں اختیار کرنا چاہیے۔ (11)

ٍ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم ملک ہے اور دہشت گردی کے اثرات کو شدت سے برداشت بھی کررہا ہے۔ پاکستان اس جنگ میںامریکہ کا اتحادی ہے جس کے باعث دہشت گردی کے واقعات عام ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس پر اثر القاعدہ اور طالبان کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام کا بھی پڑتا رہتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کون ملوّث ہے اس کے بارے میں بھی رائے عامہ میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں سوسائٹی برائے ترویج و ترقی مسلم نفسیات نے 2002 ء میں امریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن کے تعاون سے''تشدّد، دہشت گردی اور سماجی ذمہ داری'' (Violence, Terrorism and Social Responsibility) کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں سارے پاکستان سے ماہرین نفسیات اور ماہرین سماجی علوم نے شرکت کی اور مقالات پڑھے۔ بعد میں یہ مقالات اسی عنوان سے شائع بھی کیے گئے۔ اس ورکشاپ سے ہمارے ہاں دہشت گردی کے حوالے سے تجرباتی تحقیقات کے لئے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوا اس کے بعد مختلف جامعات میں بھی اس موضوع پر تحقیقی مقالات لکھے جارہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقالات اورتحقیقی مضامین کا ایک مبسوط تجزیہ شائع کیا جائے تاکہ عصرحاضر کے اس اہم معاملے میں پاکستانی ماہرین نفسیات اور ماہرین سماجی علوم کی تحقیقات سامنے آسکیں۔

دہشت گردی کے کمیونٹی پر اثرات کے حوالے سے موجودہ تحقیق اس خیال سے شروع کی گئی ہے کہ ہم خود لوگوں کی آراء جان سکیں کہ وہ دہشت گردی کے اثرات کو کس انداز میں اور کس حد تک محسوس کرتے ہیں۔ اس مطالعہ میں کمیونٹی کے روےّے اور افعال کے بارے میں جاننے کی کوشش کی گئی ہے جو وہ اپنے شہروں میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد اختیار کرتے ہیں اس حوالے سے اعدادوشمار لاہور، راولپنڈی اور پشاور کے شہروں سے اکٹھے کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد اس بات کی پیمائش کرنا ہے کہ لوگ واقعات کو کیسے دیکھتے ہیں بچوں پر ان واقعات کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر ان واقعات کی کوریج لوگوں کو کیسے متاثر کرتی ہے اس تحقیق کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے ہمیں مندرجہ ذیل پہلوؤں سے مدد ملنے کی امید ہے۔
1۔ لوگوں کے روےّوں اور افعال پر دہشت گردی کے اثرات کی پیمائش۔
2۔ میڈیا سے وابستہ افرادکو لوگوں کے درجہ حساسیت سے مطلع کرنا۔
3۔ دوسرے ممالک میں ہونے والے اسی نوعیت کے مطالعات کے ساتھ موازنہ کرنا اور یکساں باتوں اور اختلافی باتوں کو جاننا۔

2۔ تحقیقی طریقہ کار
موجودہ تحقیق وضاحتی نوعیت کی ہے۔ سروے کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے تاکہ لوگوں کی رائے براہ راست ان ہی سے معلوم کی جاسکے۔لوگوں سے معلومات ماہ جولائی اور ستمبر کے دوران حاصل کی گئیں۔ پاک انسٹیٹیوٹ فارپیس سٹڈیز ،اسلام آباد سے وابستہ تین اعدادوشمار جمع کرنے والے تربیت یافتہ افراد نے معلومات جمع کیں۔اعداودشمار جمع کرنے کے لئے مبسوط سوالنامہ استعمال کیا گیا۔
i۔ آبادی کا نمونہ اور اعدادوشمار اکٹھے کرنا
اعدادوشمار تین افراد نے سروے میں شریک افراد سے ذاتی رابطے کے ذریعے حاصل کیے۔ اعدادو شمار حاصل کرنے کے لئے منضبط سوالنامہ استعمال کیا گیا۔ جو اسی مقصد کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ اعدادوشمار راولپنڈی ، لاہور اور پشاور کے شہروں سے اکٹھے کیے گئے۔ اعدادوشمار حاصل کرنے کے لئے جن افراد کا چناؤ کیا گیا ان کے لئے لازم تھا کہ وہ ان متعلقہ شہروں میں رہ رہے ہوں۔ آبادی کے نمونہ میں مرد اور خواتین دونوں کو شامل کیا گیا۔ کل 187 افراد سے اعدادوشمار اکٹھے کیے گئے ضلع اور صنف کے اعتبار سے نمونہ کی تقسیم کار کچھ اس طرح سے تھی۔
1۔ لاہور سے78، راولپنڈی سے37اور پشاور سے57 جبکہ 17 افراد کا تعلق دیگر اضلاع کے ساتھ تھا مگر وہ ان دنوں ان تین شہروں میں مقیم تھے۔ جن افراد سے رائے لی گئی ان میں مرد حضرات کی تعداد 129 اور خواتین کی تعداد 59 تھی۔
2۔ رائے دہندگان کی تقسیم با اعتبار تعلیم کی گئی جس کے مطابق26.9 % کی تعلیم میٹرک15.5 % کی تعلیم انٹر،%24.6 کی تعلیم ڈگری جبکہ %22.5 غیر تعلیم یافتہ تھے۔

پیمائش کے آلات
رائے دہندگان سے منضبط سوالنامے کے ذریعے معلومات حاصل کی گئیں جو اسی مقصد کے لئے اردو زبان میں بنایا گیا تھا اس سوالنامہ میں فرد کے ذاتی کوائف، رہائش کا ضلع/ علاقہ اور حملوں کے وقت جواب دہندہ کا حملے کے مقام سے فاصلہ شامل تھا۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایسا کوئی واقعہ خود دیکھا۔ ان کا کوئی دوست، رشتہ دار، حملوں سے زخمی یا ہلاک ہوا اور کیا انہوں نے امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ سوالنامہ چھ حصوں پر مشتمل تھا پہلے حصہ میں ذاتی کوائف، دوسرے حصے میں دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں حقیقت پر مبنی معلومات شامل تھیں۔ تیسرے حصے میں جواب دہندگان سے ادراکی معلومات حاصل کی گئیں تھیں کہ حملوں کے بارے میں ان کا رد عمل کیا ہے۔ چوتھے حصے میں میڈیا میں ایسے واقعات کی کوریج کے حوالے سے تھا جبکہ پانچویں حصے میں دہشت گردی کے واقعات کا بچوں پر اثرات کے بارے میں تھا۔ چھٹے اور آخری حصے میں دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں لوگ کیا کرتے ہیں اور کیا کرنا چاہیے کے حوالے سے سوالات شامل تھے۔

طریقہ کار
اعداد و شمار تین افراد نے تین شہروں سے حاصل کیے۔ انہوں نے جواب دہندگان سے ذاتی طور پر رابطہ کیا اور انہیں رضاکارانہ طور پر اس تحقیقی مطالعہ میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ رائے دہندگان کو سروے کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا گیا صرف ان افراد سے رائے لی گئی جو بخوشی اس مطالعہ میں شامل ہونے کے لئے تیار تھے۔ سوالنامے کو انہوں نے خود پْر کیا جبکہ ناخواندہ افراد کے جواب سروے کرنے والے افراد نے ان کی رائے کے مطابق سوالنامے میں درج کیے۔

شماریاتی تجزیہ
اعداد و شمار کے تجزیے کے لئے وضاحتی شماریات کو استعمال کیا گیا۔ اعداد وشمار کا تعداد فیصد اور Cross Tabulation کی تکنیکیں استعمال کی گئیں۔

نتائج
اس حصے میں ہم تحقیق کے نتائج درج کریں گے اور ان پر مختصر بحث کریں گے تاکہ تحقیق کے نتیجے میں سامنے آنے والی صورت حال کی وضاحت ہوسکے۔ سب سے پہلے ہم نے مذہبی اور سیاسی وابستگی جانچنے کی کوششیں کیں تاکہ معلوم ہوسکے یہ رائے پر کس قدر اثر انداز ہوتی ہیں اور درج ذیل نتائج سامنے آئے۔
1۔ حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق58 افراد نے خودکو سنّی،9 افراد نے شیعہ، ایک فرد نے اہل حدیث، جبکہ8 افراد نے غیر مسلم کے طور پر شناخت کیا۔ جبکہ92 افراد نے اپنے لیے مسلم کی شناخت کو پسند کیا۔ پشاور سے تمام افراد نے خود کو مسلم کے طور پر شاخت کیا۔ اس کا مثبت پہلو تو یہ ہے کہ پشاور میں لوگوں نے خود کو فرقہ وارانہ اور فقہی اختلافات سے دور رکھا اور اس میں ایک امکان یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہاں کے لوگ خود کو صرف مسلمان سمجھتے ہیں اور اپنے سے مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے کو مسلمان نہیں سمجھتے۔
2۔ 117 افراد نے خو دکو کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں کیا14 نے پی پی پی، 27 نے مسلم لیگ نون، ایک نے مسلم لیگ(ق)، 6 نے ANP،8 نے جماعت اسلامی اور6 نے دیگرسے سیاسی وابستگی ظاہرکی۔اس کے بعد ہم نے دہشت گردی کے اثرات جانچنے کی کوشش کی اوردرج ذیل نتائج سامنے آئے ہیں۔
1۔89 افراد نے دھماکے کی آواز سنی۔ ان میں 61 مرد اور 28 خواتین شامل تھیں جبکہ 98 افراد نے دھماکے کی آواز نہیں سنی تھی۔
2۔ سروے میں شامل127 فراد دھماکے کے قریب موجود تھے ان میں 78 مرد اور79 خواتین شامل تھیں جبکہ59 افراد نے خود کو دور ظاہر کیا۔ بظاہر ہمیں مندرجہ بالا اعدادوشمار میں مطابقت دکھائی نہیں دیتی اس کی توجیہہ یہ بھی کی جاسکتی ہے کہ خواتین نے قریب کو مردوں سے مختلف انداز میں ادراک کیا۔ مرد اور خواتین میں فاصلے کے ادراک میں فرق کے حوالے سے مزید تجربی تحقیق کی ضرورت ہے۔
3۔ جب یہ پوچھا گیا کہ آپ کا کوئی رشتہ دار ان دھماکوں میں متاثر ہوا ،35 افراد،26 مرد اور 9 خواتین نے اس بات کا اقرار کیا کہ ان دھماکوں میں ان کا کم از کم ایک رشتہ دار متاثر ہوا ہے۔
4۔ جب یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ کے کسی عزیز کو جسمانی زخم آئے۔ اس کے جواب میں 51 افراد جو 27.3 % ہیں نے اقرار کیا کہ ان کے رشتے دار ان دھماکوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ مندرجہ بالا نتائج اس بات کو سامنے لاتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بہت زیادہ ہیں اور کم از کم ان تین شہروں میں متاثرین کی تعداد کافی زیادہ ہے۔
5۔ سروے میں پوچھا گیاتھا کہ ان دھماکوں میں آپ کے کسی جاننے والے کی موت واقع ہوئی ہے۔ اس کے جواب میں 38 افراد نے اقرار کیا کہ وہ کم از کم ایک ایسے فرد کو جانتے ہیں جس کی موت ان دھماکوں میں ہوئی ہے۔Random نمونے میں187 میں سے38 جو کل نمونہ کا20 %بنتے ہیں ایک بہت بڑی تعداد ہے۔
6۔ یہ بھی دریافت کرنے کی کوششیں کی گئیں کہ آپ نے کسی امدادی سرگرمی میں حصہ لیا ہے اس کے جواب میں44 افراد نے جو کل نمونے کا 23.5 فیصد ہے اس بات کا اقرار کیا کہ انہوں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے امدادی سرگرمیوں میں شریک ہونے کی فیصد بھی کافی بڑی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے لوگ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آنے کی کوشش کرتے ہیں۔
7۔ یہاں سے سوالنامہ کا ادراکی حصہ شروع ہوتا ہے جس میں15 سوالات میں لوگوں سے پوچھا گیا ہے کہ دہشت گردی کے بارے میں جان کر ان کے کیا کیا رویے اور افعال ہوتے ہیں
8۔ پوچھا گیا تھا''لوگ پریشان ہو جاتے ہیں، اس کے جواب میں85 افراد جو تقریبا85 % ہے نے جواب دیا کہ دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں جان کر لوگ بہت زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں جبکہ 22 افراد نے جو12 % بنتے ہیں نے کہا کہ وہ کافی پریشان ہوتے ہیں۔
9۔ پوچھا گیا کہ لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں اس کے جواب میں 155 تقریباً83 % نے کہا کہ لوگ بہت زیادہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں جبکہ 26 افراد14 % کا جواب تھا کہ لوگ کافی خوفزدہ ہو تے ہیں ۔ اس سوال کا جواب لوگوں میں خوف کی پیمائش کرتا ہے جو ایسی صورت حال کا قدرتی رد عمل ہے۔
10۔ جب یہ پوچھا گیا کہ لوگ واقعہ کے بعد اپنے گھروں کی طرف بھاگتے ہیں۔113 افراد(60 %)کی رائے تھی کہ بہت زیادہ جبکہ47 افراد (26 %) کا خیال تھا کہ کافی لوگ ایسا کرتے ہیں۔
11۔ دریافت کیا گیا کہ لوگ اپنے رو ز مرہ کے معمولات ترک کردیتے ہیں83 افراد(44 %) کا خیال تھا کہ بہت زیادہ افراد ایسا کرتے ہیں جبکہ 74 (40 %) کا خیال تھا کہ کافی لوگ اس طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں جبکہ گیارہ فیصد نے کہا کہ انہیں اس سوال کا جواب معلوم نہیں ہے۔
12۔ دھماکوں کی صورت حال کی وجہ سے کیا لوگ ایک دوسرے سے فاصلہ محسوس کرتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں 83 افراد(44 %)نے کہا کہ بہت زیادہ جبکہ 60 افراد (32 %) کے خیال میں کافی لوگ ایک دوسرے سے فاصلہ محسوس کرتے ہیں جبکہ 34 افراد(18 %) کو اس سوال کا واضح جواب معلوم نہیں تھا۔
13۔ کیا حادثے کے بعد لوگ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؟91 افراد (49 %) کا خیال ہے کہ بہت زیادہ جبکہ 48 افراد (26 %) کا خیال ہے کہ کافی حد تک جبکہ 40 افراد(21 %) نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
14۔ سروے کے مطابق لوگ قانون فافذ کرنے والے اداروں سے بیزار ہورہے ہیں۔ 126 افراد (67 %) نے بتایا کہ لوگ بہت زیادہ ایسا محسوس کرتے ہیں جبکہ 37 افراد(20 %) کا خیال تھا کہ کافی زیادہ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں۔ 20 افراد (11 %) نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں۔یہ جواب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف لوگوں کے عمومی رویے کا غماز ہے۔
15۔ جب یہ پوچھا گیا کہ کیا لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اس کے جواب میں 140 افراد (76 %)نے جواب دیا کہ لوگ خود کو بہت زیادہ غیر محفوظ سمجھتے ہیں جبکہ 37 افراد (20 %) نے کہا کہ لوگ خود کو کافی غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں یہ نتائج بتاتے ہیں کہ لوگ شدید عدم تحفظ کا احساس رکھتے ہیں۔
16۔ دریافت کیا گیا کہ کیا لوگ ایک دوسرے کے بارے میں بد اعتمادی کا شکار ہورہے ہیں116 افراد (62 %) نے کہا بہت زیادہ جبکہ 56 افراد (30 %) نے کہا کہ کافی حد تک لوگ ایک دوسرے کے بارے میں بد اعتمادی کا شکار ہورہے ہیں۔
17۔ سروے میں پوچھا گیا تھا کہ کیا لوگ مسلسل بے آرامی محسوس کرتے ہیں 15 افراد (61 %) نے کہا کہ بہت زیادہ 57 (30 %) نے کہا کہ کافی زیادہ بے آرامی محسوس کرتے ہیں۔
18۔ پوچھا گیا تھاکہ موجودہ صورت حال کے باعث لوگوں کی جارحیت میں اضافہ ہورہا ہے111 افراد(59 %) نے کہا کہ لوگ پہلے سے بہت زیادہ جارحیت کا ارتکاب کررہے ہیں جبکہ 53 (20 %) کا خیال تھا کہ لوگوں کی جارحیت میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ 22 افراد (12 %) نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
19۔ پوچھا گیا تھا کہ کیا لوگوں کا رویہ ایک دوسرے کے لئے ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے 114 افراد(61 %) نے کہا کہ بہت زیادہ جبکہ56 افراد(30 %) نے کہا کہ کافی زیادہ۔
20۔ اس سوال پر کہ کیا لوگ ایسے واقعات کو لمبے عرصے تک یاد رکھتے ہیں تو 107 افراد (57 %) نے کہا کہ بہت زیادہ لوگ لمبے عرصہ تک یاد رکھتے ہیں جبکہ 56 (30 %) کا خیال تھا کہ لوگ کافی زیادہ واقعات کو یاد رکھتے ہیں۔ اس سوال کے حوالے سے 18 افراد (10 %) کا کہنا تھا کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں جانتے۔
21۔ پوچھا گیا تھا کہ ان دنوں لوگ سونے میں دقت محسوس کرتے ہیں 60 افراد (32 %) نے کہا کہ بہت زیادہ جبکہ 90 افراد (48 %) نے کہا کہ کافی زیادہ جبکہ 19 افراد (32 %) نے کہا کہ وہ اس کا جواب نہیں جانتے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں میں دہشت گردی کے اثرات ابھی بیماری کی علامات میں زیادہ تبدیل نہیں ہوئے۔
22۔ سروے کے دوران ایک جگہ بچوں پر دہشت گردی کے مرتب ہونے والے اثرات کا مطالعہ کیا گیا ہے تو دوسری طرف پوچھا گیا کہ کیا بچے موجودہ صورت حال کی وجہ سے بے آرامی محسوس کررہے ہیں 60 افراد (32 %) نے کہا کہ بہت زیادہ جبکہ 90 افراد (48 %) کا خیال تھا کہ بچے کافی بے آرامی محسوس کررہے ہیں جبکہ19 افراد (10 %) نے کہا کہ انہیں اس سوال کا جواب معلوم نہیںہے۔
23۔ ایک سوال میں پوچھا گیا ہے کہ کیا بچے اپنے گھروں سے باہر جانے میں خوفزدہ ہیں اس کے جواب میں 70 افراد (37 %) نے کہا کہ بچے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں جبکہ 85 افراد(45 %) نے کہا کہ بچے کافی حد تک خوفزدہ ہیں جبکہ 31 افراد(17 %) کا خیال تھا کہ یا تو وہ اس بارے میں کوئی رائے نہیں رکھتے یا بچے بہت کم خوفزدہ ہیں۔
24۔ ایک جگہ لوگوں کی اس رائے کے نتائج ہیں کہ بچے خواب میں ڈرنے لگے ہیں 45 افراد (24 %) نے کہا کہ بہت زیادہ 96 افراد (51 %) نے کافی حد تک جبکہ 21 افراد (11 %) نے رائے دی کہ بچے بہت کم ڈرتے ہیں۔
25۔ پوچھا گیا کہ بچے رات کو ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں۔ اس کے جواب میں 43 افراد (27 %) نے کہا کہ بہت زیادہ ،79 افراد (42 %) نے کہا کہ کافی زیادہ ،29 افراد (18 %) نے بتایا کہ بہت کم ،35 افراد (19 %) نے کہا کہ ان کی کوئی رائے نہیں۔ جبکہ29 افراد(16 %) نے بتایا کہ بہت کم مندرجہ بالا اعداد و شمار ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں جس سے تحقیق میں موجود باطنی ربط کا پتہ چلتا ہے۔
26۔ سروے میں پوچھا گیا تھا کہ کیا بچوں میں چڑ چڑا پن بڑھ رہا ہے44 افراد (23 %) نے کہا کہ بہت زیادہ ،48 افراد (45 %) نے کہا کافی زیادہ ،26 افراد(14 %) کی رائے تھی کہ بہت کم جبکہ 39 افراد (18 %) نے کہا کہ ان کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں ہے۔
27۔ پوچھا گیا کہ کیا بچے کھیل کود میں کم دلچسپی لیتے ہیں۔ اس کے جواب میں 41 افراد (22 %) نے کہا کہ بہت زیادہ، 91 افراد (49 %) نے کہا کہ کافی زیادہ جبکہ27 افراد (14 %) نے کہا کہ ان کی اس حوالے سے کوئی رائے نہیں ہے۔
28۔یہ پوچھا گیا کہ کیا بچے پڑھائی میں کم دلچسپی لیتے ہیں اس کے جواب میں43 افراد (23 %) نے کہا کہ بہت زیادہ ، 92 افراد (49 %)نے کہا کہ کافی زیادہ، 25 افراد (13 %)نے کہا کہ بہت کم جبکہ 26 افراد(14 %) نے کہا کہ ان کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں ہے۔ مندرجہ بالا نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بچے موجودہ صورت حال کے حوالے سے کافی زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
29 ۔ پوچھا گیا کہ کیا بچے دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔48 افراد(26 %) نے کہا کہ ایسا بہت زیادہ ہے جبکہ 81 افراد (43 %) کی رائے تھی کہ کافی زیادہ ،24 افراد ( 13 %) نے کہا کہ ایسا بہت کم ہے ، 32 افراد (17 %) کی رائے تھی کہ ان کی اس حوالے سے کوئی رائے نہیں ہے۔
30۔ پوچھا گیا کہ کیا بچے دہشت گردی کے واقعات کی ٹیلی ویژن پر کوریج دیکھنے سے اجتناب کرتے ہیں ۔ اس سوال کے جواب میں 55 افراد (29 %) نے کہا کہ بہت زیادہ، 77افراد(14 %) نے کہا کافی زیادہ ،28افراد(15 %) نے کہا کہ بہت کم جبکہ 126 افراد(41 %) نے کہا کہ ان کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں۔
31۔ سروے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بچے آج کل موت کے بارے میں زیادہ باتیں کرتے ہیں62 افراد (33 %) نے کہا کہ بہت زیادہ ایسا ہے71 افراد (38 %) نے کہا کہ کافی زیادہ جبکہ 30افراد (16 %)نے کہا ایسا بہت کم ہے22 افراد (12 %) کی رائے تھی کہ وہ اس بارے میں کوئی رائے نہیں رکھتے۔
32۔ پوچھا گیا کہ کیا بچے آسانی سے پریشان ہونے لگتے ہیں60 افراد (32 %) نے کہا کہ بہت زیادہ،81 افراد (43 %) نے کہاکہ کافی زیادہ جبکہ 23 افراد (12 %) نے جواب دیا کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے،21 افراد(11 %) کی کوئی رائے نہیں تھی۔
33۔ دہشت گردی کے واقعات کی ٹی وی کوریج کے لوگوں پر اثرات کا مطالعہ کیا گیا۔پوچھا گیا کہ ٹی وی کی کوریج سے لوگوں کی توجہ پر منفی اثر ہورہا ہے۔65 افراد (35 %) نے کہا کہ بہت زیادہ، 84 افراد (45 %)نے کہا کہ کافی زیادہ 17 افراد (9 %) نے کہا کہ بہت کم جبکہ 16 افراد (9 %) نے کہا کہ ان کی کوئی رائے نہیں ہے۔
34۔ پوچھا گیا کہ ٹی وی پر مناظر دیکھ کر لوگ بے آرامی محسوس کرتے ہیں 75 افراد (40 %) نے کہا کہ زیادہ 75 افراد (41 %) نے کہا کہ کافی زیادہ جبکہ 19 افراد(10 %) نے کہا کہ کافی کم جبکہ 15 افراد (8 %) نے کہا کہ ان کی کوئی رائے نہیں ہے۔
35۔ کہا گیا کہ ٹی وی کوریج کے باعث گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے 51 افراد (27 %) کی رائے تھی بہت زیادہ،63 افراد (34 %) نے کہا کہ کافی زیادہ ، جبکہ 24 افراد (13 %) نے کہا کہ ایسا بہت کم ہے جبکہ 49 افراد (26 %) کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں تھی۔
36۔ ایک سوال کے جواب میںکہ کیا ٹی وی کوریج کے باعث گھروں میں بچوں پر تشدّد زیادہ ہونے لگا ہے47 افراد (25 %) نے کہا کہ بہت زیادہ 71 افراد (38 %)نے کہا کہ کافی زیادہ جبکہ 32 افراد(17 %)نے کہا کہ ایسا بہت کم ہے35 افراد (19 %) نے کہا کہ ان کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں ہے۔ جدول نمبر43 اور جدول نمبر44 میں لی گئی رائے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے موجودہ واقعات سے گھریلو تشدّد میں اضافہ ہورہا ہے۔
37۔ پوچھا گیا کہ ٹی وی کوریج کے باعث لوگ رات کو ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں46 افراد (25 %)نے کہا کہ بہت زیادہ 68 افراد (36 %) نے کہا کہ کافی زیادہ 28 افراد(15 %) نے کہا کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے جبکہ 45 افراد (24 %) نے کہا کہ ان کی اس بارے میں کوئی رائے نہیںہے۔
38۔ پوچھا گیا کہ ٹیلی ویژن کوریج کے باعث لوگ اجنبیوں کے بارے میںشکوک کا اظہار کرتے ہیں 87 افراد(47 %) نے کہا کہ بہت زیادہ 79 افراد(42 %)نے کہا کہ کافی زیادہ جبکہ 14 افراد (8 %)نے کہا کہ ایسا بہت کم ہے۔
39۔ اسی ضمن میں جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ٹی وی کوریج کے باعث لوگ مسلسل بے آرامی محسوس کرتے ہیں52 افراد (28 %)نے کہا بہت زیادہ ،80 افراد (43 %) نے کہاکہ کافی زیادہ ، جبکہ 28 افراد (15 %) نے کہا کہ بہت کم ایسا ہے 25 افراد (13 %)نے کہا کہ ان کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں ہے۔ایسے جوابات ایک بار پھر تحقیق کے باطنی رابطہ کو ظاہر کرتے ہیں۔
40۔ پوچھا گیا کہ ٹی وی کوریج کے باعث لوگ غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں 83 افراد (34 %)نے کہا بہت زیادہ 80 افراد (43 %)نے کہا کافی زیادہ، جبکہ 27 افراد ( 14 %) نے کہا کہ ایسا بہت کم ہے۔
41۔ پوچھا گیا کہ کیا ٹی وی کوریج کے باعث لوگ گو مگو کا شکار ہیں۔57 افراد (31 %) نے کہا بہت زیادہ ،89 افراد(48 %)نے کہا کہ کافی زیادہ جبکہ 26 افراد (14 %) نے کہا کہ بہت کم ایسا ہے ۔ 13 افراد (7 %) نے کہا کہ ان کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں ہے۔
42۔ جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ٹی وی کوریج کے باعث لوگوں کا جوش و جذبہ کم ہورہا ہے اس کے جواب میں 50 افراد (27 %) نے کہا کہ بہت زیادہ ،89 افراد (48 %) نے کہا کہ کافی جبکہ27 افراد (14 %)نے کہا کہ ایسا بہت کم ہے 20 افراد (11 %) نے کہا کہ ان کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں ہے۔
43۔ جب یہ دریافت کیا گیا کہ کیا ٹی وی کوریج کے باعث لوگ افسردہ محسوس کرتے ہیں ،54 افراد (29 %) نے کہا بہت زیادہ،90 افراد (48 %) نے کہا کہ کافی زیادہ ،27 افراد (14 %)نے کہا کہ ایسا بہت کم ہے۔
44۔ پوچھا گیا کہ کیا ٹی وی کوریج کے باعث لوگوں کا زندگی پر یقین کم ہورہا ہے ،51 افراد (27 %) نے کہا کہ بہت زیادہ93 افراد (50 %) نے کہا کہ کافی زیادہ ، 26 افراد (14 %) نے کہا کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے
45۔ جب یہ دریافت کیا گیا کہ کیا ٹی وی کوریج کے باعث لوگ زیادہ بیمار پڑ رہے ہیں ،68 افراد (38 %)نے کہا کہ بہت زیادہ،72 افراد (39 %) نے کہا کہ کافی زیادہ، جبکہ 28 افراد (15%) نے کہا کہ ایسا کافی کم ہے۔
46۔ جب یہ پوچھا گیا ہے کہ کیا ٹی وی کوریج کے باعث لوگ ایک دوسرے سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے بارے میں بات کرتے ہیں 54 افراد(29 %)نے کہا بہت زیادہ،65 افراد (25 %) نے کہا کافی زیادہ ، جبکہ 56 افراد (30 %) نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں جانتے۔
47۔ جب یہ پوچھا گیا کہ لوگ موجودہ صورت حال سے باہر نکلنے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں،49 افراد (26 %) نے کہا کہ لوگ اس حوالے سے بہت زیادہ بات کرتے ہیں ،67 افراد (36 %)نے کہا کہ ایسا کافی لوگ کرتے ہیں جبکہ 60 افراد (32 %) نے کہا کہ اس سوال کا جواب نہیں جانتے۔
48۔ پوچھا گیا کہ کیا خاندان میں لوگ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ،54 افراد (29 %) نے کہا کہ بہت زیادہ ،71 افراد (38 %) نے کہا کہ کافی زیادہ جبکہ 53 افراد (28 %)نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں جانتے۔
49۔ پوچھا گیا کہ کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا سیاسی حل زیادہ بہتر ہے،55 افراد (29 %) نے کہا کہ اس کے امکانات بہت زیادہ ہیں ،45 افراد (24 %) کا کہنا تھا کہ ان کی اس بارے میںکوئی رائے نہیں ہے۔
50۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا لوگ مسئلے کے فوجی حل کو بہتر سمجھتے ہیں اس کے جواب میں 48 افراد (26 %) نے کہا کہ اس کے امکانات بہت زیادہ ہیں 48 افراد (%26) نے کہا کہ اس کے کافی امکانات ہی جبکہ 71 افراد (%41) نے کہا کہ امکانات کم ہیں۔
51۔ پوچھا گیا کہ کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ سیاسی اور فوجی حل کو ساتھ ساتھ چلانے سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے،55 افراد (%29) نے کہا کہ اس کے امکانات بہت زیادہ ہیں ،36 افراد (%19) نے کہا کہ اس کے امکانات کافی زیادہ ہیں،65 افراد (%35) نے کہا کہ اس کے امکانات کافی زیادہ ہیں65 افراد (%35) نے کہا کہ اس کے امکانات کم ہیں۔ مندرجہ بالا دونوں نتائج کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ لوگ اس معاملہ میں ذہنی طور پر واضح نہیں کہ دہشت گردی کے موجودہ مسئلے سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔
52۔ پوچھا گیا کہ کیا لوگ دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے عملی طور پر جدو جہد کرنے پر تیار ہیں۔38 افراد (%20) نے کہا وہ بہت زیادہ تیار ہیں۔48 افراد (%26) نے کہا کافی حد تک تیار ہیں۔ جبکہ 48 افراد نے کہا کہ وہ بہت کم تیارہیں۔

حاصلِ بحث
زیرِنظر تحقیق میں ہم نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے لوگوں کے روےّوں اورافعال پر مرتب ہونے والے ممکنۂ اثرات کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے ان تین شہروں میں اس وقت لوگ شدید ذہنی دبائو کا شکار ہیں۔ ان کے رویوں اور افعال میں تغیرات آئے ہیں۔ دہشت گردی کی موجودہ فضا نے ان کے روزمرہ کے معاملات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان اعداد و شمار سے جو حوصلہ افزا بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کی واضح اکثریت اگرچہ نفسیاتی دبائو اور دیگر منفی عوامل کے اثرات محسوس کر رہی ہے لیکن ابھی یہ اثرات مرض کی سطح پر نہیں پہنچے۔ اس تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کا موازنہ کرنے کے لیے قومی سطح کے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جو Baseline کا کام دے سکیں۔ لیکن ایسا ضرور ہے کہ اس تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج اس موضوع پر ہونے والے آئندہ مطالعات کے لیے موازنہ کا کام دے دیں۔

زیر نظر تحقیق میں لوگوں سے ان کے ا فعال اور رویوں کے بارے میں، بچوں پر دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے ٹی۔وی پر دہشت گردی کے واقعات کی کوریج کے لوگوں پر اثرات اور لوگ دہشت گردی کی طرف کیا رویہ اختیار کرتے ہیں اور دہشت گردی کی موجودہ صورت حال میں کس حد تک فعال کردار ادا کرنے پر تیار ہیں۔ ان مختلف عوامل پر لوگوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ ٹی وی کوریج لوگوں کی نفسیات پر زیادہ تر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس مسئلے کو خاص طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو حقائق اور واقعات سے باخبر رکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ عمل اس انداز میں ہونا چاہیے کہ یہ لوگوں کو ذہنی و نفسیاتی اعتبار سے کم سے کم متاثر کرے اور لوگ اپنی ذہنی صحت برقرار رکھ سکیں۔ ان بظاہر متضاد مقاصد کے حصول کے لیے ذمہ دارانہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے سماجی علوم کے ماہرین اور میڈیا سے وابستہ افراد کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہو گا۔

زیر نظر تحقیق بھی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دہشت گردی کی موجودہ فضا بچوں پر منفی نفسیاتی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ حتیٰ کہ لوگوں کا خیال ہے کہ بچے اس حد تک متاثر ہوئے ہیں کہ ان کے کھیل کود کے معاملات میں بھی فرق آ گیا ہے اس حوالے سے بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے تعلیمی اداروں میں مشاورتی گروپس کرنے کے ساتھ ساتھ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بھی خصوصی پروگرام کیے جا سکتے ہیں۔

زیرنظر تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ لوگوں کی اچھی خاصی تعداد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فعال کردار ادا کرنے پر تیار ہے اور انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لوگوں کی اچھی خاصی تعداد امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے۔ لوگوں میں موجود بھائی چارے کے اس عنصر کو موثر طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کمیونٹی کو متحرک اور فعال بنا کر ہم دہشت گردی کے ممکنہ اثرات کو کم کر سکیں۔

اس تحقیق کے حوالے سے آخری بات یہ ہے کہ اب جب کہ ہم نے دہشت گردی کے حوالے سے کیمونٹی کے حوالے سے تجربی تحقیق کا آغاز کیا ہے تو اس کا اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ دہشت گردی کے واقعات کا عملی نشانہ نہیں ہیں ان کو اور ان کے اہل خانہ کو تحقیق کے دائرے میں لایا جائے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں جسمانی نقصانات کے ساتھ ساتھ جو نفسیاتی نقصان ہوئے ہیں ان کے بارے میں جانچ کی جائے اور لوگوں کو نفسیاتی اور مشاورتی امداد مہیا کی جائے تاکہ وہ صورت حال کے لمبے عرصے تک اثرات سے بچ سکیں۔
__________________
References
1. Freud, S. (1930). Civilization and its Discontents. Harmondsworth: Penguin (1985).
2. Freud, S. (1917) New Introductory Lectures on Psychoanalysis, Harmondsworth, Penguin (1974).
3. Lorenz, K. (1966). On Aggression. New York: Harcont, Brace & World.
4. Howells, J.M. & Frost, P.J. (1989). A Laboratory Study of Charismatic Leadership, Organizational Behaviour and Human Decision Processes, 43, 243-269.
5. Dollard, J., Doob, L., Miller, N., Mowerer, O.H., & Sears, R. R. (1939). Frustration and Aggression. New Haven, CT: Yale University Press.
6. اس پیراگراف میں درج معلومات درج ذیل تحقیقی رپورٹ سے اخذ کی گئی ہیں:
Schlenger, W.E., Caddell, J.M., Ebert, L., Jordon, K.B., Rouske, K.M., Wilson, D., Thalji, L., Dennis, M, J., Fair bank, J.A., & Kulaka, R.A. (2002). Psychological Reactions to Terrorists Attacks: Findings From the National Study of Americans' Reactions to September 11. The Journal of the American Medical Association.
7. abid
8. Ahern, G.S., Resnick, J.H., & et al. (2002). Psychological Sequelae of the September 11 Terrorist Attacks. N Erge 5 Med, 346: 982-987
9. Wessely's. (2003). War and the Mind: Psychopathology or Suffering? Palestine - Israel J.
10. Ahern, G. S., Resnick, J. H. & et al. (2002). Psychological Seqwelae of the September 11 & Terrorists Attacks. N. Engl J Mrd, 346: 982-987
11. World Health Organization (2003). Mental Health in Emergencies: Psychological and Social Populations Enposed to Extreme Stressors. Geneva: World Health Organization.