working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

پشاور ''شہر استقلال''

دہشت گردوں نے پشاور کو نشانے پر لے لیا ہے اور دہشت گردی کی تازہ لہر جوستمبر 2009ء کو شروع ہوئی تھی20نومبر تک287 افراد کو نگل چکی ہے، جبکہ 1003 زخمی ہو چکے ہیں۔ چند وارداتوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی ہے۔ جبکہ پشاور کے گردونواح خصوصاً خیبر اور مہمند ایجنسی اور درہ آدم خیل کے گروپوں کے ملوث ہونے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جارہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے سیاسی اور مذہبی رہنما اس خون آشام منظر نامے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں اور تمام تر ملبہ حکومت کی پالیسیوں اور خصوصاً صوبائی حکومت پر ڈال رہے ہیں۔

ان راہنماؤں کی دلیل ابھی تک یہ ہے کہ دہشت گردوں سے بات چیت کا رستہ اختیار کیا جائے جبکہ حکومت بقول وزیراعظم درندوں سے سختی سے نمٹنے کے اصول پر کاربند نظر آتی ہے۔ اس امر سے قطع نظرکہ دہشت گردوں کے پاس عام شہریوں کونشانہ بنانے کے لئے کیا کیا نظریاتی اور مذہبی تاویلات موجود ہیں اور ان کے مقاصد کا دائرہ کس قدر وسیع ہے۔ یہ تاثر قطعی طور پر غلط ہے کہ حکومت نے بات چیت کے دروازے بند کررکھے ہیں آج جبکہ پاکستانی فوج جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔ حکومت اور طالبان کے کچھ دھڑوں کے درمیان معاہدے نہ صرف قائم ہوچکے ہیں بلکہ نہایت''کامیابی'' سے چل رہے ہیں۔ باجوڑ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ2008 ء میںہونے والا معاہدہ اور جنوبی اور شمالی وزیرستان میں مولوی نذیر اور قاری گل بہادر کے ساتھ ہونے والے معاہدے اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ ترکستان ،بھٹنی اور اس کے اتحادی گروپوں سے متعلق بھی حکومت کی پشت پناہی کادعویٰ کیا جاتا ہے ان معاہدوں میںپاکستان کی سرزمین اور سیکورٹی فورسز پر حملے نہ کرنے جیسی شقیں شامل ہیں۔

سردست معاہدوں کی افادیت اور مستقبل میںاثرات سے بحث نہیں بلکہ جب سیاسی اور مذہبی رہنما بات چیت کا رستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں تو انہیں ان معاہدوں کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے جبکہ وہ گروپ جو دہشت گردی خواہ فرقہ وارانہ مقاصد کے تحت ہو نظام کی تبدیلی یا پھر علاقائی سیاسی مقاصد کے تحت ترک کرنے پر آمادگی، یا اپنی من مانی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتے ہوں یا پھر ہتھیار ڈالنے کے بجائے حکومت سے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک متوازی حکومت قائم رکھنا چاہتے ہوں اورحکومت کی عدم''مداخلت'' کوبات چیت کا اولین اصول اور ضابطہ جانتے ہوں۔ ان سے بات چیت وقت کا ضیاع اور لا حاصلی ہی ہوسکتی ہے۔

دہشت گردوں سے بات چیت کا ایک ہی اصول ہوسکتا ہے ہتھیار ڈال کر حکومت کی عملداری تسلیم کرنا۔ ایک مؤثر عسکری حکمت عملی دہشت گردوں کوبات چیت کے یک نکاتی اصول پر لاسکتی ہے۔

پشاور کے شہری ان بے مثال قربانیوں پر''شہر استقلال'' کے اعزاز کے حقدار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت پولیس اور خفیہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون اورمربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے کئی دفاعی اور سیکورٹی امور کے ماہرین کے مطابق پولیس اور خفیہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی دہشت گردی کے اسی سے نوے فیصد واقعات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔

''تجزیات'' کا ایک برس مکمل ہونے پر
اس شمارے کی اشاعت کے ساتھ ہی ''تجزیات'' اپنا ایک برس مکمل کرلے گا۔ ہمارے خیال میں پاکستان کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں اس طرح کے سنجیدہ جریدہ کی اشد ضرورت تھی تاکہ ملکی سلامتی اور سا لمیت کو درپیش مسائل کے پسِ پردہ کارفرما محرکات کا پتہ لگایا جاسکے۔ ساتھ ہی ساتھ یہاں کی سیاسی، سماجی، تہذیبی، فکری اور معاشرتی زندگی کے وہ پہلو اجاگر کرنا بھی بنیادی مقاصد میں شامل تھے جو بالعموم یہاں بسنے والوں کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں ہمیںجہاں پاکستان بھر کے سنجیدہ فکر دانشوروں کا ساتھ اور تعاون حاصل رہا وہاں پر ہی پاکستان کو درپیش داخلی اور خارجی بحرانوں کے حوالے سے دنیا بھر میںموجود سیاسی تجزیہ نگاروں کے دوسری زبانوں میں لکھے جانے والے مضامین بھی''تجزیات'' کا حصہ بنتے رہے۔ ہم پر ان سب کا شکریہ واجب ہے کہ ان مضامین اور آراء کے باعث تجزیات کا ہر شمارہ ایک مکمل کتاب کی حیثیت کا حامل ہے۔ جس میں آپ کو آج کے پاکستان کی تاریخ کو جمع کرنے اور سنبھالنے کی سعی نظر آئے گی۔ جاتے جاتے آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ جنوری 2010 ء کا''تجزیات'' خاص شمارہ ہوگا جو صفحات میں پہلے سے دوگنا ہوگا۔ ہمیں ہر شمارے کے حوالے سے آپ کی آراء کا انتظار رہتا ہے۔ اس لیے کہ'' تجزیات'' کو اور بہتر بنانے میں آپ کا حصہ بھی شامل ہوسکے۔