working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

عسکریت پسندوں کا بھائی چارہ

دہشت گردی کی حالیہ لہر نے ایک بار پھر سے ملک بھر میں موجود پہلے سے اضطراب میں اضافہ کر دیا ہے۔ راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹر (GHQ) پر حملے سے نہ صرف دہشت گردوں کے بڑھتے ہوئے حوصلے کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ مختلف النوع عسکری و دہشت گرد گروپوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا بھی پتہ چلتا ہے۔

اگرچہ القاعدہ، طالبان اور پاکستان کے عسکری گروپوں کے درمیان آپریشنل تعاون اور مشترکہ دہشت گرد کارروائیاں کوئی نیا مظہر نہیں ہے لیکن اب یہ تعاون اور ربط گہرا ہو رہا ہے جو یقینا قابلِ تشویش بات ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق افغانستان میں افغان طالبان اور القاعدہ کے مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیرستان میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کے مقابلے کے لیے پاکستانی طالبان کی مدد کی جائے گی۔ ان اطلاعات کے بعد ان لوگوں کو اپنی رائے پر نظرثانی کرنی چاہیے جو طالبان اور ان سے منسلک عسکریت پسند گروپوں کو مختلف درجہ بندیوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ جب مختلف گروپ ایک ہی تحریک کا حصہ ہوں اور مشترکہ مقاصد کے حامل ہوں ان میں تفریق کیسے کی جا سکتی ہے؟ ہر گروپ اپنے اندر خطرے کا اتنا ہی امکان رکھتا ہے جتنا کہ وہ گروپس جو برسر عام پاکستان حکومت اور اس کے عوام سے لڑ رہے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ایسے گروہوں کے انسداد کی عسکری منصوبہ بندی میں علاقائی تناظر میں نسلی اور لسانی امتیاز معاون تو ثابت ہو سکتا ہے لیکن نظریاتی سطح پر ان کے درمیان کوئی خطِ امتیاز نہیں کھینچا جا سکتا۔ بعض صورتوں میں نسلی اور لسانی امتیاز کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی اور مشترکہ دعوت مقابلہ کی صورت میں یہ تقسیمی خطوط بھی مٹ جاتے ہیں۔ القاعدہ، طالبان اور پاکستان کے مذہبی عسکری گروہوں میں ایک واضح اسلوب ان کا ''بھائی چارے'' (brotherhood) کے بندھن میں بندھا ہونا ہے۔ جنوبی پنجاب سے جنوبی وزیرستان اور سوات، باجوڑ سے کراچی تک مذہبی فرقے کا حامل یہ بھائی چارہ واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ اس فرقہ ورانہ بھائی چارے کے سمجھنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے اسلوب بآسانی سمجھ آ سکتے ہیں اور یہ بھائی چارہ علاقائی اور عالمی سطح پر ایک اور فرقہ ورانہ بھائی چارے کے رجحان (القاعدہ اور اس سے منسلک گروپ) کے ساتھ انسلاک کرتا ہے۔ یہی انسلاک باہمی تعاون اور ربط کی صورت گری کرتا ہے۔

ان تحریکوں اور گروہوں کا علمی مطالعہ پالیسی سازی اور عوامی رائے کی ہمواری میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔