working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

بیت اللہ محسود
اسماعیل خان
عین اس وقت جب ''سرا روغہ معاہدہ'' کی تفصیلات درج کی جا رہی تھیں دو قبائلی اخبار نویسوں کے قتل کا واقعہ ہو گیا۔ ذرائع ابلاغ کو ہدف بنانے کا یہ پہلا واقعہ تھا اس سے پہلے امریکی اور پاکستانی فوجی و سیکورٹی اہلکار اور وہ قبائلی قتل و غارت گری کا شکار ہوتے جو جاسوسی کے الزامات میں دھر لیے جاتے۔ نیک محمد، عبداللہ محسود اور بیت اللہ محسود قبائلی علاقوں میں چھڑی اس جنگ کے وہ کردار ہیں جنہوں نے اپنے حصے کا نہایت مختصر کردار ادا کیا اور چلے گئے۔ ایک عسکریت پسند کی ایک اور زندگی بھی ہوتی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ہوتی۔ بیت اللہ محسود اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ دنیا اسے ایک طالبان رہنما اور دہشت گرد کے طور پر جانتی ہے۔ بیت اللہ محسود کی پیدائش سے وزیرستان میں محسود قبیلے اور طالبان لیڈر بننے کے دوران اسے کن مراحل سے گزرنا پڑا۔ اس مضمون میں تفصیلاً درج ہے۔ (مدیر)
بیت اللہ محسود کی اپنی پیشین گوئی حقیقت کا روپ اختیار کر گئی۔ اس نے اپنے محسود دوست کو ایک مرتبہ کہا تھا کہ ''فرار بے مقصد ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ کسی نہ کسی دن مجھے پکڑ لیں گے۔''

اگر بیت اللہ کی موت غیر متوقع نہ ہوتی اور وہ جگہ جہاں یہ واقعہ ہوا، محسود قبیلے کے حصّے جنوبی وزیرستان Zanghara اس کے سُسر کے گھر میں۔ ایک پختون کو شاذ و نادر ہی یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے سسرال میں بیوی کے ساتھ رہ سکے۔ یہی وہ نکتہ تھا جسے اس کے کمانڈروں نے اس کی موت کی افواہ کی تردید کے طورپر استعمال کیا۔

لیکن بیت اللہ جو کافی عرصے سے بھاگ رہا تھا، شاید اب رک کر اپنی کھوئی ہوئی توانائیوں کو بحال کرنا چاہتا تھا۔ معلومات کے مطابق وہ اپنی عمر کا تیسواں سال گزار رہا تھا، تاہم اس کی اصل عمر کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ شوگر اور گردوں کے مرض میں مبتلا وہ شاید یہ سوچ رہا تھا کہ اپنے سسرال میں اپنی بیوی کے پاس رہ کر اطمینان سے علاج کروا سکے گا۔

وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ جنوبی وزیرستان سے پرواز کرنے والے امریکی ڈرون نے ایک مرد اور ایک عورت کی چھت پر کھڑے تصویریں لے لی ہیں اور مردکے خدوخال بیت اللہ سے مشابہت رکھتے ہیں۔ خودکار جہاز سے دو میزائل داغے گئے اور کام تمام ہو گیا۔

اس کی زندگی اور اس کا پیشہ نسبتاً ایک خاموش اور کم گو شخصیت کے حامل فرد کا تھا جو تحریک طالبان کا سربراہ تھا۔ بہت سے اعتبار میں مختلف تھا۔ یہ اتفاقاً تھا کہ اس کی موت وزیرستان میں ہوئی۔ مختصر مدت کے لیے ہی سہی، اس کی عملداری پر مشتمل ناہموار علاقہ بیت اللہ جنوبی وزیرستان کے گائوں نارگوشا میں پیدا ہوا تھا لیکن بچپن میں ہی وہ قبائلی علاقہ جات سے صوبہ سرحد کے ضلع بنوں، لنڈی دھوک میں اپنے والد کے ہمراہ منتقل ہو گیا۔ جہاں اس نے امام مسجد کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ شمالی وزیرستان میںمیزہ شاہ کی خانقاہ میںمنتقل ہو گئے۔ جب اس کے باپ نے اپنے آپ کو ایک طویل عداوت میں الجھا لیا، وہاں اس کے والد کے ذمے امامت کا فرض سونپا گیا۔

یہی جگہ بیت اللہ کی پہلی اسلامی درس گاہ ثابت ہوئی۔ جہاں طالبان اس کے ہمنوا بنے جن کے ساتھ اس نے افغانستان میں امریکی مداخلت سے پہلے ''شمالی اتحاد'' (Northern Alliance) کے ساتھ جھڑپیں کیں۔ ''وہ نڈر تھا'' محسود قبیلے کا ایک آدمی نے جو اسے میدان جنگ میں لڑتے دیکھ چکا تھا، اس کے بارے میں یہ رائے دی۔

جیسے ہی Allied Forces نے افغانستان پر حملہ کیا اور نومبر 2001ء میں کابل پر قابض ہو گئے تو بیت اللہ واپس وزیرستان لوٹ آیا۔ یہ افسردہ جنگجو جوان کچھ عرصے کے لیے پریشان رہا۔ یہ سوچتے ہوئے کہ اب کیا کیا جائے کہ اس کی دنیا ''جہاد'' کا اختتام ہو چلا ہے۔

یہ نقطۂ آغاز تھا۔ اب اس کی زندگی اور اس کا وقت پاکستان کے تغیرپذیر حالات اور اس کی دہشت گردی کے لیے جنگ کے خلاف تھا۔ اس نے تارابورا (مشرقی افغانستان) سے B-52 بمبار طیاروں اور ڈیزی کٹر (Daisy Cutter) سے بچتے بچاتے ہوئے افغان عسکریت پسندوں سے دوبارہ تعلقات استوار کرنے شروع کیے جو جنوبی وزیرستان میں اپنے قدم جما رہے تھے۔ نہ یہ وطن ان کا اپنا تھا اور نہ یہاں کے باسی ان کے ساتھ تھے۔ لیکن فاٹا، سوویت حملہ کے دوران سرحدی علاقوں میں جنگی راکٹ فائر کرنے کے لیے استعمال ہو چکا تھا۔ کئی افغانی اپنے پرانے قبائلی میزبانوں کی بیٹیوں اور بہنوں سے شادیاں کر چکے تھے اور بعض نے جنوب مشرقی وزیرستان میں ہی سکونت اختیار کر لی تھی۔ اب پرانے دوستوں نے اپنی فوجوں کو یکجا کرنا شروع کیا اور اس دفعہ مدمقابل امریکا تھا۔ جب بھی کوئی بیرونی طاقت ڈیورنڈ لائن کی کسی بھی سمت سے حملہ آور ہوتی تھی تو قبائلی علاقے ان کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوتے تھے کیونکہ عزت اور طاقت کی جنگ میں اپنی بقا کے لیے لڑنا لازم تھا۔ قسمت کی دیوی بیت اللہ پر مہربان ہو گئی۔ اس کا پہلا قدم ہی فتح سے ہمکنار ہوا جب اس نے افغانیوں کو اجاڑ، ناہموار راستوں سے گدھوں کے ذریعے وزیرستان منتقل کروایا۔ اس پر یہ ضرب المثل سچ ہوتی ہے کہ ''قسمت کی دیوی کامہربان ہونا''۔

جنگجوعلاقے سے تعلق کی بنا پر ابتدامیں دوسرے لوگوں کی نسبت یہ اندازہ لگانا مشکل ہو گا کہ کیا کوئی نظریاتی وجوہات تھیں یا پھر کاروبارِ زندگی کو جاری رکھنے کا ایک وسیلہ تھا۔

اگرچہ اسی دوران پاکستانی فوج امریکی دبائو میں جنوبی وزیرستان میں افغان پناہ گزینوں اور ان کے میزبانوں کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے جا رہی تھی کہ 2003ء کے اواخر تک معمولی جھڑپوں نے خونی مڈبھیڑ کی شکل اختیار کر لی۔ احمد زئی قبیلے کو غیرملکی مہمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے پر قائل کرنے کے لیے ثالثی کی بجائے کامیاب آپریشن کا راستہ اختیار کیا گیا جو سودمند ثابت نہ ہو سکا۔

خاص طو رپر تاریخ میں اور بالعموم اس قسم کے تصادم میں حکومت ہمیشہ ایک ایسے نمائندے کی تلاش میں ہوتی ہے جس سے بات چیت یا کوئی معاہدہ طے پا سکے۔ قطع نظر اس کے کہ اس بات چیت کے سود مند نتائج حاصل ہوتے ہیں یا نہیں۔ نادانستہ طورپر میڈیا ہجوم میں سے بے چہرہ کو چہرہ دینے کے لیے حکومت کی اس تلاش میں مدد کرتا ہے۔

اس سلسلے میں جو پہلا لیڈر سامنے لایا گیا وہ نیک محمد تھا۔ 2004ء تک جب ملٹری نے اس کے ساتھ شکائی معاہدہ پر دستخط کیے تو ملٹری بغیر کسی حیل و حجت کے اسے ''عسکریت پسند'' رہنما قرار دے چکی تھی یا اس کے برابر۔ شکائی معاہدہ ایک ایسا حربہ تھا جسے بہت سے لوگوں نے غلطی گردانا اور صرف آنے والا وقت ہی اس کو درست قرار دے سکتا تھا۔ ایک سرکاری افسر جس کا ان حالات کا گہرا مطالعہ تھا، شکائی معاہدہ اور پلاٹن میڈن (ڈھاکا میں وہ جگہ جہاں پاک آرمی نے بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے) کو ایک جیسا قرار دیا۔

شکائی وہ جگہ ہے جہاں مئی 2004ء میںملٹری اور نیک محمد مشترکہ امن کے دعویٰ کرتے تھے۔ جبکہ سیاسی کارکن اور قبائلی سردار جو کافی عرصے سے قبائلی انتظامیہ، ملٹری اور ان کے مذہبی رہنمائوں اور ساتھیوں کے حوالے سے گفت و شنید کر رہے تھے، عسکریت پسندوں کے ساتھ معاہدہ طے پا جانے کے بعد انتظامیہ پر چیلنج کر رہے تھے۔

اور جب اسی سال جون میںوہ ڈرون حملے میں مارا گیا تو عبداللہ محسود نئی قیادت کے طور پر ابھرا۔ بیت اللہ سے قطعی مختلف، یہ گوانتانا مو بے کا لنگڑا قیدی جو 2001ء میں افغانستان سے گرفتار ہوا تھا، جس نے گوانتانامو بے میں قیدیوں پر گزرنے والی مصیبتوں کو اپنی تقریری صلاحیتوں کا استعمال کرنے کے حوالے سے شہرت حاصل کی۔ وہ نیک محمد کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کے لیے دشوار رکاوٹ بن گیا اور جب اس کا ساتھی مارا گیا تو وہ تنہا لیڈر بن گیا۔ اگرچہ اس کے لیے یہ بلند مرتبہ بہت مختصر مدت کے لیے تھا۔

عبداللہ محسود نے جنوبی وزیرستان میںبڑے ماہرانہ انداز سے ان عسکریت پسندوں کی طاقت کو سیکورٹی فورسز کے خلاف استعمال کیا اور شروع میں تو یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ اپنے مرنے والے ساتھی سے زیادہ میعاد گزارے گا۔ اگرچہ چھ مہینوں سے بھی کم عرصے میں اس نے صوبہ سرحد میں دو چینی انجینئرز کو گومل زم ڈیم سے اغوا کیا۔ ان میں سے ایک کو قتل کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ اس انتہائی قدم نے ہی عبداللہ کے محافظوں کو اسے تنہا کرنے پر مجبورکیا اور وہ بیت اللہ کے گروپ میںشامل ہو گئے۔

اپنی زندگی کے لیے خوفزدہ اور مایوس عبداللہ نے افغانستان کے صوبے ہلمند کی جانب رخ کیا اور بالآخر جولائی 2007ء میں ایک آپریشن میںمارا گیا۔ اس کے بہت سے لیفٹیننٹ بلوچستان میں ژوب کے مقام پر خفیہ ایجنسی کو اس کی موجودگی کی اطلاع دینے کا الزام بیت اللہ پر لگاتے ہیں۔

تب پست قد اور بظاہر ٹھنڈے مزاج کا حامل بیت اللہ جو اس وقت تک نیک محمد اور عبداللہ کا جانشین ہونے میں خوش تھا، منظرِعام پر آیا۔ جیسے وہ اس خلاکو پُر کرنے آیا ہو جو اس کے مُورث اعلیٰ کے ناعاقبت اندیشانہ رویے کی وجہ سے تخلیق ہوا تھا اور جنوبی وزیرستان پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں اس پہ یہ واضح ہو گیا کہ یہ خاموش جوان آدمی اپنے مورث سے زیادہ بے دھڑک اور ظالمانہ کارروائیوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قبائلی سرداروں کے باقاعدہ خاتمے اور حکومت یا امریکا کے لیے جاسوسی کرنے والوں کے خاتمے کے سلسلے میں جو اگرچہ پہلے ہی سے شروع ہوچکا تھا، لیکن بیت اللہ کی قیادت میں مزید بڑھ گیا۔ مزید یہ کہ دو قبائلی اخبار نویسوں کو قتل کرنے کا پہلا واقعہ اسی دوران پیش آیا۔ جب وہ ''سراروگا'' معاہدہ کی تفصیلات درج کر رہے تھے۔

بیت اللہ محسود کا اگلا ہدف حکومت پاکستان اور افواج پاکستان تھا۔ جنرل(ر) پرویز مشرف کی قیادت میں فوج عسکریت پسندوں کے خلاف کوئی واضح اور حتمی پالیسی نہ رکھنے کی بنا پر ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی۔ یوں جنوبی وزیرستان میں فوج اس کے ساتھ سراروگا فروری 2005ء کے امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے رضامند ہو گئی۔ پشاور کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین نے پریس کانفرنس کے دوران اسے ''امن کا سپاہی'' کے نام سے نوازا۔ یہ پریس کانفرنس دو آدمیوں کی ملاقات کا تسلسل بنی۔ یہ آشکار کرتے ہوئے کہ اب کس طرح فوج اپنی خودساختہ مصیبت پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔

اگرچہ یہ معاہدہ طے پانے کے ایک ماہ بعد ہی ٹوٹ گیا، یہ پاکستان اور عسکریت پسندوں کے لیے اپنے رویوں میں تبدیلی کا نکتہ تھا۔ ایک سینیئر سرکاری افسر نے Herald کو بتایا کہ قبائلی علاقے میں ہمارے مختصر اختیار کو بھی اس اقدام نے فاش کر دیا اور جیسے ہی یہ رِٹ ختم ہوئی، بیت اللہ کی طاقت میںمزید اضافہ ہونے لگا اور اس نے اپنے چھوٹے سے تعلقہ سے باہر نکل کر قسمت آزمانے کی ٹھانی۔ نومبر 2006ء میں ڈرگائی کے مقام پر آرمی ٹریننگ بیس میں ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں چالیس سپاہی لقمۂ اجل بن گئے۔ یہ انتقام تھا اس میزائل حملے کا جو اسی ماہ اکتوبرمیں القاعدہ کے ٹریننگ کیمپ پر کیا گیا تھا۔ قبائلی علاقوں سے نکل کر آرمی پر پہلا حملہ نشاندہی کرتا تھا کہ اب بیت اللہ پوری طرح سے انتظامیہ پر قابو پانے کے لیے تیار ہے۔ اگست 2007ء میں اس کے علاقے سے 300سپاہیوں کو یرغمال بنالیا گیا۔

اس کی قیادت کو باقاعدہ طور پر شناخت چار ماہ کے بعدملی جب بیالیس ارکان شوریٰ بعض عسکریت پسندوں، دونوں قبائلی علاقہ جات اور سرحد کے چند منتخب شدہ اضلاع سے متفقہ طور پر TTP کے پہلے امیر کی حیثیت سے انتخاب کر لیا۔ٹائم میگزین نے اس کا نام دس بڑے اثرورسوخ رکھنے والے آدمیوں میں درج کر دیا اور 2008ء سے نیوزویک نے اسے اسامہ سے بھی کہیں زیادہ خطرناک قرار دیا ۔ لیکن وہ کتنا خطرناک اور اثرورسوخ کا حامل تھا، اسی سال کے ماہ مئی میں بیان ہے کہ 18مئی کو جنوبی وزیرستان سے آرمی نے اخبارنویسوں کے ایک گروہ کو Spiakai علاقے میںگشت کرایا جس کے بارے میں یہ دعویٰ تھا کہ بڑے معرکے کے بعد اسے عسکریت پسندوں سے خالی کر دیا گیا ہے۔ صرف دس جون کے بعد ہی بیت اللہ کے آدمی اخبارنویسوں کو میرعلی (شمالی وزیرستان) بیت اللہ کے ساتھ ملاقات کرنے لے گئے۔

وہ اس پریس کانفرنس کے لیے ایک بڑی قیمتی گاڑی میں محافظوں میں گھرا ہوا آیا۔ وہ پوری طرح ان ناہموار پہاڑوں کا بادشاہ لگ رہا تھا جہاں وہ رہا اور لڑائیاں کیں۔
وہ ''جنگ برائے دہشت گردی'' کا بے تاج بادشاہ بن چکا تھا۔ اس کی کمانڈ میں ہزاروں تربیت یافتہ اور ہر لمحہ اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے تیار سپاہی موجود تھے۔ وہ عسکریت پسندوں کی تربیت کے لیے بہت سے کیمپ چلاتا تھا اور ازبک، چیچن اور عرب عسکریت پسندوں کو پناہ فراہم کرتا تھا۔ حکومت ملک بھر میں ہونے والے تمام تر خودکش حملوں کا الزام بیت اللہ پر لگاتی ہے۔ یہاں تک کہ بے نظیربھٹو کے قتل کا ذمہ دار بھی اسے قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ا س کے پیروکاروں میںکوئی شک نہیںپایا جاتا۔ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ حکومت پاکستان کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے جس کے ذریعے وہ امریکی تحفظات کو افغانستان میں بڑھا رہا ہے، بیت اللہ کو ظالمانہ روش اختیار کرنے پر مجبور کرتی۔ تمام اندرونی حملے اپنے تحفظ کی بنا پر کیے گئے۔

حکومت پاکستان کو 2007ء اور 2008ء میں ہونے والے خودکش حملوں کے نتیجے میں قطعی فیصلہ کرنے میں تقریباًدوسال لگ گئے۔ مشرف کی برطرفی، نئے آرمی چیف کے تقرر، اندرونی معاملات پر ایک سال پر محیط لمبی بحث کہ کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ اور آخر کس طرح ملٹری اس روزبروزبڑھتی ہوئی دہشت گردی کو روک پائے گی۔ بالآخر ایک نئے معاہدہ پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ 2009ء میں سوات میں ہونے والی مخالفت اسی کا نتیجہ تھی۔

جب امریکا نے بیت اللہ کی جاسوسی یا خبر دینے والے کے لیے 50 ملین ڈالر کا اعلان کیا تو ٹھیک تین مہینے کے بعد حکومت پاکستان نے بھی بیت اللہ کے سر کی قیمت 50ملین روپے مقرر کر دی۔

معاہدہ کے کچھ نکات اور حکومت اور بیت اللہ کے مقاصد کے اختلاف کی وجہ سے معاہدہ ٹوٹنے لگا۔ TTP کو سوات اور باجوڑ میں شکست کا سامنا تھا تو بیت اللہ کے کمانڈروں کو اورکزئی ایجنسی میں۔ ایک اہم دفاعی مقام ان کے ہاتھ سے نکل رہا تھا۔ آرمی نے ایک طرف قبائلی علاقوں میں زمینی اور فضائی حملے شروع کر رکھے تھے تو دوسری طرف معاشی پابندیاں۔ یہ سارا کچھ ہزاروں کی تعداد پر مشتمل محسود قبیلے پر عرصۂ حیات تنگ کر رہا تھا۔

شاید اس کے شریک افراد کی دوغلی کارروائیاں ہی اس کی کمزوری کا سبب بنیں۔ قابل اعتماد وثوق کے ساتھ وہ حکومت اور آرمی کے ساتھ ہونے والے دوسرے معاہدے کو بھی ختم کرنا چاہتے تھے۔

JUIF کے ایک سینئر کارکن کے مطابق ''عوام میں یہ احساس اجاگر ہو رہا تھا کہ صرف انتظامیہ ہی ہے جو گفت و شنید کے راستے کو بند کر رہی ہے۔'' TTP اپنے مقاصد کے حصول میں اپنی منزل سے کچھ ہی دور تھی۔

اور تب میزائل داغا گیا۔ بہت سے پاکستانیوں کے لیے کئی برسوں کے ناکام معاہدوں اور ناکام آپریشن کے بعد عوام دشمن کا انجام لازم تھا۔ لیکن اس کی موت جیسا کہ اس کی زندگی۔ ثابت کرے گی کہ ملٹری اس کی موت کے بعد بھی حملوں کو روک سکے گی کہ نہیں؟

بیت اللہ کا عروج اور اس کی فتح صرف اس لیے تھی کہ حکومت حتمی اقدام اٹھانے سے گریزاں رہی اور جب حتمی فیصلہ ہو گیا تو یہیںسے اس کا زوال شروع ہو گیا۔ اس کی تاریخ اس کے منتخب شدہ جانشین کے ذریعے دہرائی جا سکتی ہے۔ اگر اس کو بھی اسی کی طرح پھلنے پھولنے کا موقع دیا گیا۔ لیکن تاریخ کے اوراق میں بیت اللہ نے دہشت گردی کی اس جنگ میں اپنے سے پیشتر تمام قائدین کا نام دھندلا دیا ہے۔
(انگریزی سے ترجمہ: سعدیہ جاوید)