working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

کمانڈر الیاس کشمیری
حامد میر


پنجابی طالبان کا اہم راہنما کمانڈر الیاس کشمیری 7 ستمبر 2009 کو شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا۔ الیاس کشمیری کی ہلاکت بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ایک اہم پیش رفت ہے۔ انسداد دہشت گردی کے متعلقہ ادارے اور ماہرین اس کی ہلاکت سے پاکستان میں متحرک دہشت گرد نیٹ ورکس پرپڑنے والے اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اسے ''پنجابی طالبان'' کا ایک اہم رہنما سمجھا جاتا رہا ہے اور پاکستان میں حساس اداروں اور ان کے اہل کاروں پر حملے میں الیاس کشمیری ملوث قرار دیا جاتا رہا ہے۔ معروف صحافی حامد میر کی الیاس کشمیری پر حالیہ رپورٹ''سینئر طالبان کمانڈر الیاس کشمیری کبھی پرویز مشرف کی آنکھ کا تارا تھا'' اس اہم کردارکو سمجھنے میں مدد گارہوگی۔ (مدیر)

ایک وقت تھا جب وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی آنکھ کا تارا تھا۔ سن 2000 میں ایک بھارتی فوجی افسر کا گلا کاٹنے پر اسے نقد انعام دیا گیا لیکن 9/11 کے بعد اسے مشتبہ دہشت گرد قرار دے دیا گیا، یہ مشتبہ دہشت گرد الیاس کشمیری تھا اور یہ وہی شخص ہے جو گزشتہ ہفتے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ امریکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ الیاس کشمیری القاعدہ کا سینئر کمانڈر تھا اور اس کی موت افغانستان میں غیر ملکی افواج سے لڑنے والوں کا بہت بڑا نقصان ہے۔ بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ الیاس کشمیری پاکستانی فوج کا سابق ایس ایس جی کمانڈو تھا۔ بنیادی طور پر اس کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقے کوٹلی سے تھا۔ پاک فوج نے 80 کی دہائی کے وسط میں اسے روسی فوج سے لڑنے والے افغان مجاہدین کی تربیت پر مامور کیا تھا۔ وہ امریکہ کی جانب سے افغان مجاہدین کو دی جانے والی بارودی سرنگوں کا ماہر تھا۔ روسی حملہ آوروں کے خلاف جہاد کے دوران وہ اپنی ایک آنکھ گنوا بیٹھا تھا اور بعد میں اس نے مولوی نبی محمدی کی حرکت الجہاد الاسلامی میں شمولیت اختیار کر لی۔ الیاس کشمیری کا ٹھکانا شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں تھا جہاں وہ اپنے تربیتی کیمپ میں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا۔ افغانستان سے روسی فوج کے انخلا کے بعد الیاس کشمیری کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے کشمیریوں کی مدد کے لیے کہا۔ 1991 میں اس نے حرکت الجہاد الاسلامی کے کشمیر چیپٹر میں شمولیت اختیار کی۔ چند برس کے بعد اس گروپ کے سربراہ حاجی قاری سیف اللہ اختر کے ساتھ اس کے اختلافات ہوگئے۔ الیاس کشمیری نے حرکت الجہاد الاسلامی کا 313 بریگیڈ بنایا۔ ایک مرتبہ اسے بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں نصراللہ منصور لنگڑیال کے ہمراہ گرفتار کر لیا تھا۔ اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ دو برس تک اسے مختلف جیلوں میں رکھا گیا اور بالآخر وہ جیل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کا پرانا ساتھی ابھی تک بھارتی جیل میں قید ہے۔ بھارتی جیل سے فرار کے بعد الیاس کشمیری افسانوی کردار بن گیا۔ 1998 میں بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کردی اور وقتاً فوقتاً لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے شہریوں کو ہلاک کرنا شروع کیا تو الیاس کشمیری کو بھارتیوں پرپشت سے حملے کرنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی اور اس نے متعدد بار یہ کام کیا۔ 25 فروری 2000 کو آزاد کشمیر کے گائوں نکیال میں بھارتی فوج نے 14 شہریوں کو قتل کر دیا۔ اس آپریشن میں بھارتی کمانڈو سرحد پار کر کے آئے ، انہوں نے ساری رات پاکستان کے اس گائوں میں گزاری اور اگلی صبح واپس چلے گئے۔ انہوں نے تین لڑکیوں کے گلے کاٹے اور ان کے سر اپنے ساتھ لے گئے۔ وہ دو مقامی لڑکیوں کو بھی اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ اگلی صبح بھارتی فوج نے اغوا کی گئی لڑکیوں کے سر پاکستان فوجیوں کی جانب پھینک دیے۔ اس ظالمانہ قتل عام کے اگلے ہی دن 26 فروری 2000 کو الیاس کشمیری نے نکیال سیکٹر میں بھارتی فوج کے خلاف گوریلا آپریشن کیا۔ اس نے اپنے 313 بریگیڈ کے 25 سرفروشوں کے ساتھ لائن آف کنٹرول پار کی۔ اس نے بھارتی فوج کے ایک بنکر کا محاصرہ کرلیا اور اس کے اندر گرینیڈ پھینکے۔ اپنے ایک ساتھی کے نقصان پر وہ ایک زخمی بھارتی فوجی کو حراست میں لینے میں کامیاب رہا۔ لیکن یہ اس کہانی کا اختتام نہیں تھا۔ اس نے گرفتار شدہ بھارتی افسر کا گلا کاٹ دیا اور اپنے بیگ میں بھارتی فوجی کا سر لے کر واپس آیا ۔ اس نے یہ سر اعلیٰ فوجی عہدیداروںکے حوالے کیا اور بعد ازاں یہ سر آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو پیش کیا گیا جنہوں نے اس پر اسے ایک لاکھ روپے کا نقد انعام دیا۔ بھارتی فوجی افسر کا سر اپنے ہاتھوںمیں لیے ہوئے اس کی تصاویر بہت سے پاکستانی اخبارات میں چھپیں اور وہ یکایک کشمیری جنگجوئوں میں بہت اہمیت اختیار کر گیا۔ جامعہ محمدیہ اسلام آباد کے مولانا ظہور احمد علوی نے بھارتی فوجی افسروں کے سر قلم کرنے کے حق میں فتویٰ دیا۔ ان دنوں کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد اکثر و بیشتر کوٹلی میں الیاس کشمیری کے تربیتی کیمپ کا دورہ کرتے رہتے تھے اور انہوں نے بھارتی فوج کے خلاف گروپ کی گوریلا کارروائیوں کی تعریف کی۔ جیش محمد کے قیام کے بعد پاکستانی فوج کے جرنیلوں کے ساتھ اس کا ہنی مون ختم ہوا۔ جنرل محمود یہی چاہتے تھے کہ الیاس کشمیری جیش محمد میں شمولیت اختیار کریں اور مولانا مسعود اظہر کو اپنا راہنما تسلیم کریں لیکن اس یک چشم کشمیری رہنما نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ جیش محمد کے جنگجوئوں نے ایک مرتبہ کوٹلی میں الیاس کشمیری کے کیمپ پر حملہ بھی کیا لیکن وہ اس حملے میں بچ نکلا ۔ 9/11 کے بعد مشرف نے اس کے گروپ کو کالعدم قرار دے دیا۔ دسمبر2003 میں مشرف پر قاتلانہ حملے کے بعد اسے گرفتار کیا گیا اور تفتیش کے دوران اس پر تشدد بھی کیا گیا۔ سید صلاح الدین کی قیادت میں کام کرنے والی متحدہ جہاد کونسل نے الیاس کشمیری کی گرفتاری پر سخت احتجاج کیا اور کشمیری جنگجوئوں کے دبائو پر انہیں فروری 2004 میں رہا کر دیا گیا۔ اپنی رہائی کے بعد وہ ٹوٹ چکا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو کشمیری عسکریت پسندوں سے علیحدہ کرلیا اور تین برس تک بالکل خاموش رہا۔ جولائی2007 میں لال مسجد کے آپریشن نے الیاس کشمیری کو مکمل طور پر تبدیل کرڈالا، وہ شمالی وزیرستان چلا گیا جہاں اس نے کئی برس جہادی انسٹرکٹر کے طور پر خدمات سرانجام دی تھیں۔ یہ علاقہ اس کے دوستوں اور ہمدردوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے اپنے 313 بریگیڈ کو دوبارہ سے منظم کیا اور طالبان کے ساتھ ہاتھ ملالیا لیکن اس کا القاعدہ کی قیادت سے کبھی کوئی قریبی تعلق نہیں رہا۔ اس نے بہت سے سابق پاکستانی فوجیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ، شمالی وزیرستان میں 313 بریگیڈ کی افرادی قوت 3 ہزار کے قریب ہے، اس کے زیادہ تر جنگجوئوں کا تعلق پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر سے تھا۔ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے راولپنڈی میں میجر جنرل(ر) فیصل علوی کے قتل سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملے کیے۔ علوی کا تعلق بھی ایس ایس جی سے تھا اور اس نے 2004 میں شمالی وزیرستان میں ہونے والے پہلے فوجی آپریشن کی قیادت کی تھی۔ اس امر کی اطلاعات ہیں کہ شمالی وزیرستان کے طالبان کے مطالبے پر کشمیری نے علوی کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ الیاس کشمیری کے خاندان کے قریبی ذرائع نے امریکہ ڈرون حملے میں اس کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی لیکن اس امر میں شبہے کی کوئی گنجائش نہیں کہ الیاس کشمیری بھی دراصل کالعدم لشکر طیبہ کے ذکی الرحمن لکھوی کی طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ان عسکریت پسند رہنمائوں کو چھوڑ دیا ہے جب کہ کچھ کو گرفتار بھی کر لیا ہے، یہ محسوس کیے بغیر کہ ان کے پیروکار پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور یہ کسی بھی وقت مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ وہ تمام لوگ جنہیں ایک دور میں حریت پسند قرار دیا جاتا تھا اور جنہیں پرویز مشرف جیسے اعلیٰ فوجی عہدیدار عزت و احترم دیا کرتے تھے ان کے بارے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی فی الوقت کوئی پالیسی نہیںہے۔
 
(بشکریہ ''جنگ'' 20 ستمبر2009 )