working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

سانحہ گوجرہ:عدم برداشت کا ایک اور مظہر
31جولائی 2009ء کو گوجرہ میں پاکستانی عیسائیوں پر جو قیامت برپا ہوئی، اس نے ایک مرتبہ پھر سے ہمارے مذہبی بھائی چارے ، مساوات اور اخوت کے کھوکھلے دعووں کا پول کھول دیا ہے۔ ریاستی ادارے سانحہ کی کڑیاں ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ریاستی مشینری کی ناکامی، ناہموار قوانین اور مذہبی اکثریت کے اندر پروان چڑھنے والے عدم برداشت کے رویوں کی پردہ پوشی کی جا سکے۔ اگرچہ بیشتر مذہبی و سیاسی طبقات نے ان واقعات کی مذمت کی ہے ، ذرائع ابلاغ کا کردار بھی مجموعی طور پر مثبت رہا،انسانی حقوق کی تنظیموں نے سانحہ سے جڑے بنیادی مسائل کو اجاگر کیا لیکن ایک پہلو جس کی سمت توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ اکثریت کا تصور ہے جس نے قوم کو اقلیتوں کا ایک جمِ غفیر بنا دیا ہے۔
کوئی ایسا مذہبی فرقہ نہیں جسے اپنی اکثریت کا زعم نہ ہو اور پھر ہر مکتبۂ فکر آگے کئی شاخوں میں تقسیم ہے جو باقی مکاتب کو اقلیت قرار دینے پر تُلا ہوا ہے۔ لسانی اور نسلی سطح پر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ ''سیاسی اقلیتیں''اپنی جگہ موجود ہیں، اس پر طرہ یہ کہ علم و فکر سے وابستہ افراد کے ساتھ بھی مجموعی رویہ اقلیتوں کا سا ہی ہے جو انہیں اقلیتوں کی حیثیت سے زیادہ کا مستحق نہیں سمجھتا۔صورتحال اتنی پیچیدہ ہے کہ ''اکثریت'' کا تعین ہی نہیں ہوپارہا۔

قومیت کی کسی تعریف پر ہم متفق نہیں۔ پھر اجتماعیت اور قومی وحدت کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہو گا؟ کیا ہمیں ایک نیا سماجی و سیاسی ڈھانچہ درکار ہے؟ لیکن اس کے لیے بھی اتفاق ضروری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ''بنیادی اتحاد و اتفاق''کے وہ عناصر دریافت کیے جائیں جو ہمیں ''اکثریت'' کے زعم سے نکال کر ایک قومی و حدت میں پرو دیں۔ اور یہ عناصر بنا کسی اقلیتی اور اکثریتی احساس اور زعم کے برابری، مساوات اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع کی ترکیب سے ہی نمو پا سکتے ہیں۔ بصورت دیگر ''اقلیتیں'' ایک دوسرے سے خوف کھاتی رہیں گی اور خوف کے تدارک کے لیے تشدد کا سہارا لیتی رہیں گی۔
______________

بیت اللہ محسود کے بعد کا منظر نامہ
تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد آگے کے منظر نامے پر بات شروع ہو چکی ہے۔ طالبان گروپوں کے درمیان چپقلشیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ لیکن یہ عوامل ان کی کمزوری کا اندازہ لگانے کے لیے ناکافی ہوں گے۔ کیونکہ نیک محمد کی ہلاکت کے بعد بھی اسی طرح کے اندازے لگائے گئے تھے جب عبداللہ محسود اور بیت اللہ محسود کے درمیان طاقت کے حصول کے لیے تنازعے نے سر اٹھایا تھا اور حکومت نے عبداللہ محسود کے گروپ کو کمزور کرنے کے لیے بیت اللہ سے معاہدے کیے جس کا نتیجہ نہ صرف بیت اللہ کی مضبوطی کی صورت میں نکلا بلکہ طالبان کی تحریک کا پھیلائو بھی بڑھا۔ اُمید ہے کہ حکومت اس مرتبہ کسی ایک جانب اپنا جھکائو رکھنے کی بجائے بلاتعصّب قبائلی علاقوں میں موجود معتدل سیاسی اور قبائلی قیادت پر اعتماد کرے گی۔ فوری طور پر کسی بڑے فوجی آپریشن کی کامیابی کے امکانات بھی کم ہیں کیونکہ طالبان، القاعدہ اور ان کے حامی پاکستانی، ازبک اور تاجک نیٹ ورک ابھی تک قائم ہیں۔ ان علاقوں میں طالبان مخالف عناصر پہلے سے موجود ہیں جو تحریک کا زور توڑنے میںمعاون ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ آگ کا کھیل ہے حکومت کو سیاسی اور عسکری حکمت عملی کو مربوط بنانا ہوگا اور اس کی ناکامی یا اس کے معکوس ہونے کے امکانات کو کم سے کم رکھنا ہو گا۔

مدیر اعلیٰ