working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

مساجد پرقبضے فرقہ واریت کی نئی لہر
مجتبیٰ محمد راٹھور

یہ ایک حساس موضوع ہے جس پر قلم اٹھانے کا سہرا مجتبیٰ محمد راٹھورکے سر جاتا ہے۔ انہوں نے مساجد پر قبضے کے مسئلہ کو انتہا پسند گروپوں کے کردار اور فرقہ واریت کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ خدا کے گھر کو کس طرح گروہی اور مفاداتی مافیا استعمال کر رہا ہے ۔ دارالامن کو دار الحرب میں تبدیل کر دیا گیا ہے، یہاں مسئلہ صرف ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو اینٹیں مارنے کا ہے، یہ حالات آنے والے کسی اور طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔ (مدیر)

''روزنامہ ڈان، مورخہ 27 مئی2009 کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب کے علاقوں بالخصوص بہاولپور ڈویژن میں فرقہ وارانہ تصادم کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ اگرچہ عام لوگ اور حکومتی ادارے اس خطرہ کو معمولی سمجھ رہے ہیں لیکن صورت حال اس کے برعکس ہے۔ کیوں کہ حالیہ واقعات جن میں ڈیرہ غازی خان میں امام بارگاہ پر خود کش حملہ اور کالعدم تنظیم کے مسلح افرادکا دوسرے مکتبۂ فکر کے مدارس اور مساجد پر قبضہ کرنا شامل ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ جنوبی پنجاب کے علاقے میں فرقہ وارانہ اور کالعدم جہادی تنظیموں کے ساتھ ساتھ طالبان کے حامی افراد اور تنظیموں کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہے۔ جس پر مختلف سیکورٹی ادارے، سیاسی جماعتیں، طالبان مخالف مذہبی جماعتیں اور سماجی حلقے اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں (وزیر داخلہ کا بیان )لیکن حکومت کی طرف سے ابھی تک ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ البتہ پنجاب حکومت نے مساجد پر قبضہ کرنے والے عناصر کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کسی ایک مکتبۂ فکر کے دوسرے مکتبۂ فکر کی مساجد پر قبضہ کرنے کے یہ واقعات نئے نہیں ہیں۔ ہم ماضی سے اس طرح کے واقعات سنتے اور دیکھتے چلے آئے ہیں ۔

چونکہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک عوام کی اکثریت چاہے وہ علی الاعلان ہو یا خاموش ہو، صوفیاء سے عقیدت رکھتی ہے۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ پاکستان کے ہر کونے میں اولیاء اللہ کے مزارات اور ان پر آنے والے عقیدت مند بکثرت دیکھ سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ عقیدت مند مذہبی جماعتوں سے وابستگی نہیں رکھتے لیکن ان کی مجموعی قوت پاکستان میں اعتدال پسندی کا قوی مظہر ہے۔ اسی لیے دیگر 'مکاتب فکر' کو یہاں اپنا نیٹ ورک بنانے کے لیے انہی افراد سے اپنے حمایتی تلاش کرنے پڑے۔ اس کام کے لیے مساجد ، مدارس اور غیر ملکی امداد کا بکثرت استعمال کیا گیا۔ ایک دوسرے کے خلاف مذہبی لٹریچر کی اشاعت، کفر کے فتوے، مناظرہ بازی اور حتیٰ کہ مسلح جنگجوئوں کی تشکیل کے ساتھ دیگر مختلف ذرائع بھی فرقہ واریت اور اپنے اپنے مکتبۂ فکر کی ترویج کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے گئے۔ افغان جنگ سے پہلے پاکستان کے اندر شاذو نادر ہی فرقہ واریت کے کوئی واقعات ہوئے ہوں گے۔ وہ بھی پر امن طریقے سے حل کر لیے گئے، لیکن افغان جنگ کے بعد فرقہ واریت کا جو سیلاب پاکستان کے اندر آیا۔ اس کا خمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہے اور آنے والے حالات مزید تشویش کا عندیہ دے رہے ہیں۔

بعض تجزیہ نگار، دانشور، صحافی حتیٰ کہ مذہبی لیڈر یہ دعوی کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر فرقہ واریت پھیلانے میں غیر ملکی ہاتھ ہے۔ ہر ایک اپنی عقل اور بساط کے مطابق بیان جاری کرتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حقیقت معلوم کرنے کے لیے ہمیں ان تمام مکاتبِ فکر کے مدارس ،مساجد اور لٹریچر کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ ہمیں روزمرہ پیش آنے والے فرقہ وارانہ تصادم کا جائزہ لینا ہوگا۔ ان کی وجوہات تلاش کرنا ہوں گی پھر اس کے بعد ہم کسی نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔

اس وقت ان مختلف مکاتب فکر میں سے صرف صوفیاء سے وابستگی کا اظہار کرنے والے مکاتب فکر جو اپنی بقا اور وجود کو قائم رکھنے کے لیے دیگر مکاتب فکر کے جارحانہ رویوں کا سامنا کر رہے ہیں۔اخبارات میں آئے روز ایسے واقعات شائع ہو تے رہتے ہیں کہ مساجد اور مدارس پر قبضے کے لیے طاقت کا بھی استعمال کیا گیا۔

پاکستان سے فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے مختلف ادوار میں مختلف حکومتیں اپنے اپنے منصوبے بناتی رہیں۔ حتیٰ کہ ان تمام مکاتب فکر کے علماء اور رہنما بھی اکٹھے ایک پلیٹ فارم پر بیٹھتے رہے اور مختلف تجاویز سامنے آتی رہیں۔ ایک مشہور قول بھی سامنے آیا کہ ''اپنے عقیدے کو نہ چھوڑو اور دوسرے کے عقیدے کو نہ چھیڑو'' ۔ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود فرقہ واریت کا یہ زہر آہستہ آہستہ ہر گلی محلے تک پھیلتا گیا ۔ اس وقت اگر آپ پورے پاکستان کے عوام سے ایک سوالنامہ حل کروائیں ۔ تو آپ کو 80 فی صد لوگ ایسے ملیں گے جو ان بڑے پانچ مکاتب فکر میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار ضرور کریں گے۔ 20 فی صد ایسے ہوں گے جو اپنے آپ کو صرف مسلمان کہیں گے ۔ان حالات میں یہ کہنا سرا سر حماقت ہے کہ ملک کے اندر فرقہ واریت کا جال غیر ممالک نے پھیلایا ہے۔

فرقہ واریت اور اپنے اپنے مکتبۂ فکر سے لگائو، یہ ایک ایسا فطری عمل ہے کہ یہ عام آدمی کو بھی بعض اوقات انتہا پسندی اور شدت پسندی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ایسی کارروائی میں شریک ہوجاتا ہے جو مزید فساد کا سبب بنتی ہے۔ زیرِنظر مضمون کا موضوع بھی اسی حوالے سے اہمیت رکھتا ہے کہ جب ایک مکتبۂ فکر کسی علاقے یا مسجد پر قبضہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے وہاں کے سادہ لوح مسلمانوں کی تربیت کرتا ہے۔ انہیں اپنے دائرہ حصار میں لاتا ہے اور جب اسے یہ یقین ہو جاتاہے کہ دو چار اہل علاقہ اس کے ساتھ ہو گئے ہیں تو وہ اپنی کارروائی کر ڈالتا ہے اور پھر اس علاقہ کے عام آدمی بھی اس فرقہ واریت کی لڑائی میں کود پڑتے ہیں۔ اس لڑائی یا تصادم کو حل کرنے کی ذمہ داری سکیورٹی اداروں ، پولیس وغیرہ یا انتظامیہ کی ہوتی ہے۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ لوگ بھی اپنی فطری جبلت کی بنا پر کسی نہ کسی مکتبہ فکر سے منسلک ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ لوگ اس معاملہ کو مزید الجھا کر اس میں اور آگ کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ اگر اس ملک کے ادارے ہی کسی ایک مسلک کو تحفظ دینا یا اس کی حمایت کرنا شروع کر دیں تو لا محالہ دوسرا مسلک انتہا پسندی پر اتر آئے گا۔

یوں تو آپ پاکستان کے جس کونے میں بھی جائیں گے آپ کو مساجد پر قبضے کی داستانیں مل جائیں گی لیکن یہاں جو ایک واقعہ پیش کیا جارہا ہے وہ تو فرقہ واریت سے پاک سرزمین خطۂ کشمیر کے مشہور و معروف علاقے میر پور سے تعلق رکھتا ہے۔ جہاں لوگ پیار، امن اور محبت کے ساتھ رہ رہے ہیں لیکن پاکستان میں بدلتے ہوئے حالات کا وہاں پر اثر ضرور ہوتاہے ۔ اس لیے ان فرقہ وارانہ تنظیموں نے بھی مختلف بھیس بدل کر اس علاقے میں اپنا اثر رسوخ بڑھا لیا ہے اور وہ اپنا نیٹ ورک پھیلانے کے لیے ہر طرح کے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔

یہ واقعہ تحریر میں لانے کا مقصد صرف عوام کو آگاہ کرنا ہے کہ وہ اس فرقہ واریت کی جنگ سے کنارہ کشی اختیار کریں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومتی اداروں کو باخبر کرنا ہے کہ اگر انہوں نے فرقہ واریت کے اس پھیلتے ہوئے زہر کو کنٹرول نہ کیا تو آنے والے دور میں کسی غیر قوت کو ہم پر جارحیت کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ ہم خود ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جائیں گے۔

یہ واقعہ ضلع میر پور کے F/3سیکٹر کی مسجد کا ہے۔ 1994 کو اس وقت کے وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان نے اس مسجد کی زمین سید غلام رسول انقلابی کوالاٹ کی ۔ انہوں نے یہاں ایک مسجد تعمیر کی جس کا نام مسجد مخدومیہ رکھا۔ساتھ ایک مدرسہ قائم کیا جس کا سنگ بنیاد جسٹس پیر کرم شاہ صاحب الازہری سے رکھوایا۔ غلام رسول انقلابی اپنے کاروبار یا دیگر معاملات کے سلسلہ میں یہ جگہ اور مسجد بمع مدرسہ محلہ کے دو اشخاص کے حوالے کر کے خود چھمب ، بھمبر چلے گئے۔ یہ بات ایک اور مکتبہ فکر کے لوگوں کو معلوم ہوئی تو انہوں نے فوراً اپنے تین آدمی وہاں بھیج دیے اور ایک کمیٹی بنا کر معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے اور اُن دو اشخاص کو اپنے ساتھ کمیٹی میں رکھ لیا۔ لیکن اُنہیں اپنے عزائم اور منشور سے آگاہ نہیں کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مسجد میں اپنے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے امام کی تقرری کر دی۔ وہ امام خاموشی سے اہل محلہ کے ساتھ چلتا رہا اور اس نے اپنا مسلک ظاہر نہ کیا۔ایک روز جب اس نے اپنا مسلک ظاہر کیا جس پر اہل محلہ نے اس کو فارغ کر دیا۔ اس کے بعد معاملہ تھانہ میں پیش ہوا لیکن ایک مرتبہ پھر مسجد کی باگ ڈور دوسرے مکتبہ فکر کے شخص کو دے دی گئی۔ جس نے پھر کمیٹی تشکیل دی اور انہی دو افراد کو ، جن کے پاس سب سے پہلے انتظام مسجد موجود تھا ، اس کمیٹی میں شامل رکھا لیکن ان کو بتائے بغیر مسجد کمیٹی کا منشور بنایا اور مدرسے کو مدرسہ رجسٹرڈ بھی کروا دیا۔ پھر اسی مسجد اور مدرسے کے نام پرایک ٹرسٹ بنایا۔ چونکہ یہ شخص برطانوی شہریت رکھتاتھا اس لیے اس نے وہاںبھی ٹرسٹ کا آفس بنایا اور فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے تشہیر شروع کر دی۔ مسجد اور ٹرسٹ کے نام پر لاکھوں روپے اکٹھے کیے مگر مسجد اہل محلہ کے تعاون سے آہستہ آہستہ تعمیر ہوتی رہی۔ ایک مرتبہ اہل محلہ نے جو برطانیہ میں مقیم تھے،مسجد کی صورت حال دیکھی تو کہا کہ ہم نے تو کروڑوں روپے بھیجے ہیں لیکن مسجد کی تعمیر ابھی تک نہیں ہوئی۔ انہوں نے مسجد کے منتظم کو بلایا اور اس سے کہا کہ وہ مسجد کے معاملات کا مکمل حساب کتاب دے تو اس نے یکسر انکار کر دیا اور موقع پا کر انگلینڈ فرار ہو گیا۔

اس دوران اہل محلہ نے دوبارہ کمیٹی تشکیل دی لیکن اس کمیٹی میں انہوں نے اپنے مکتبہ فکر کے شخص کو سرپرست اعلیٰ بنایا۔ جب کہ اس کمیٹی میں دوسرے مکتبہ فکر کے بھی لوگ برقرار رکھے۔ اس کے بعد مسجد کی تعمیر شروع ہوئی اور نظام بحال ہوا۔ اس کے بعد جب میرپور کے دوسرے مکتبہ فکر کے لوگوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے فوراًسابق منتظم مسجد کو برطانیہ سے واپس بلوایا اور اس نے جولائی 2008 میں واپس آکر اپنے کاغذات دکھا کر عدالت سے مسجد کے معاملات پر کام رکوا دیا۔ اہل محلہ نے جب ان دستاویزات کی نقول حاصل کی۔ جو اس نے عدالت کو پیش کی تھیں تو اس کی جعل سازی دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اس نے جس مسجد کمیٹی اور مدرسہ کو رجسٹرد کروا رکھا تھا اس کے مطابق وہ شخص اس کا سرپرست اعلیٰ تھا جب کہ اس کا بیٹانائب سرپرست اور مہتمم تھا۔ اس پر تمام اہل محلہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ۔ مگر اس نے پیسے کے بل بوتے پر پولیس کے ذریعے ایک ایک فرد کو دھمکیا ں دیں۔ پھر اکتوبر 2008 کو نماز جمعہ کے دوران ایک عسکری تنظیم کے افراد کے ذریعے مسجد پر حملہ کیا اور وہاں لوگوں کو زدوکوب کیا اور فرار ہوگئے۔ ان حالات کو اسی وقت کنٹرول کر لیا جاتا اگر انتظامیہ یا حکومتی ادارے اہل محلہ کی رائے کو ترجیح دیتے مگر ہر بار انہوں نے مخالف مکتبہ فکر کی طرف داری کی اور لوگوں کو مجبور کرتے رہے کہ وہ ان سے صلح کریں۔

اس شخص نے اپنے تمام حمایتیوں سے مل کر عدالت میں بھی اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی شنوائی نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ 28 فروری 2009 کو اس نے مختلف کالعدم تنظیموں سے مل کر مسجد پر قبضے کا پروگرام بناتے ہوئے حملہ کر دیا۔ اس حملے کے دوران کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ پولیس نے موقع پر عوام کی مدد سے اس شخص اور دیگر تین ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعدپولیس نے اس شخص کے خلاف ساری دفعات ختم کر کے اس کی ضمانت کنفرم کروادی اور وہ آسانی سے انگلینڈ فرار ہوگیا۔ حالاں کہ اس کے خلاف تمام کیسز ابھی عدالت میں ہیں۔

اب بھی اس علاقے اور مسجد کی صورت حال یہ ہے کہ محلہ کی سطح تک اور مسجد کے اندر معاملات درست ہو رہے ہیں لیکن انتظامیہ اور دیگر مکاتب فکر کے لوگ بھرپور طریقے سے کوشش کر رہے ہیں کہ اس مسجد کو اسی طرح متنازعہ رکھا جائے۔

اس واقعہ کی تحقیق کے لیے اہل محلہ سے مختلف انٹرویوز کیے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ اخبارات میں شائع ہونے والی مختلف خبروں سے استفادہ کیا اور مسجد کے ریکارڈ کی فوٹو کاپی بھی حاصل کی گئی۔ اسی طرح کسی دوسرے مکتبہ ء فکر کی مسجد پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی اور سازشیں فرقہ واریت کو جنم دیتی ہیں ۔ جو لوگوں میں فتنہ و فساداور انتشار کا باعث بنتی ہیں ۔اسی طرح کا ایک واقعہ ضلع مظفر آبادکے اندر لوئر چھتر کے مقام پر بھی پیش آیا۔ جہاں اب تک دوسرے مکتبہ فکر کے لوگ اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس مسجد کو حاصل کیا جائے او ر وہ لوگ کئی بار جارحیت کا بھی ارتکاب کر چکے ہیں۔

فرقہ واریت کے حوالے سے ان مساجد اور مدارس کا کردار نمایاں ہے جو اپنے مکتبہء فکر کے لوگوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ تم دوسرے مکتبہ فکر کے لوگوں کو ان باتوں سے روکو جو یہ لوگ اپنی مساجد میں کرتے ہیںاور اپنا عقیدہ زبردستی دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی فرقہ واریت کو پھیلانے میں ان مکاتب فکر کے علماء بھی برابر کے شریک ہیںجو براہ راست مساجد پر قبضے کی تحریکوں میں ان لوگوں کے تحفظ دیتے ہیں اور ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ اس طرح فرقہ واریت اور آپس میں نفرتوں کا آغاز محلے کی مساجد سے شروع ہو کر پورے ملک میں پھیل جاتا ہے۔

فرقہ واریت کے بڑھتے ہوئے ناسور کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت فی الفور ملک کی تمام مساجد کا ریکارڈ مرتب کرے۔ کوئی بھی نئی مسجد کی تعمیر سے پہلے مجاز اتھارٹی سے اجازت نامہ حاصل کیا جائے۔ غیر قانونی زمین پر قبضہ کر کے تعمیر کی جانے والی مساجد کو لیگل کیا جائے اور انہیں محکمہ اوقاف کے ماتحت کر دیا جائے۔ تمام مساجد میں منعقد ہونے والی تقریبات اور خطبات کو مانیٹر کیا جائے اور ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث پائے جائیں۔ مساجد پرقبضے رکوانے کے لیے ایسے علاقے جہاں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات کروا کر مسجد صحیح قانونی حق رکھنے والوں کے سپر د کی جائے اور اس فارمولے پر عمل کیا جائے کہ جس علاقے میں جس مکتبہ فکر کی اکثریت ہو ، وہ اس مسجد کا فیصلہ کریں۔

حکومت اور خفیہ ادارے بشمول سیکیورٹی ایجنسیز، کالعدم گروہ اور عسکری تنظیموں کی معاونت کرنے والے افراد پر خصوصی نگاہ رکھیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ملک کے تمام سیکیورٹی اداروں کو خبردار کیا جائے کہ وہ غیر جانبدار ہو کر فرقہ واریت اور فتنہ و فساد برپا کرنیوالوں کے خلاف کارروائی کریں۔ ملک کے تمام مکاتب فکر کے علما پر مشتمل ایک باڈی بنائی جائے جو فرقہ واریت سے محفوظ رہنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل تیار کریں اور پھر سب دینی جماعتوں کو مجبور کریں کہ وہ ان سفارشات پر سختی سے کاربند ہوں۔