working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

جنوبی پنجاب میں طالبان
گذشتہ چند ماہ سے جنوبی پنجاب سیاسی اور سلامتی سے متعلق مسلسل خبروں میں ہے۔علیحدہ صوبے کی بات زیادہ توا نا نہ ہو سکی۔حال ہی میںصوبائی حکومت نے جنوبی پنجاب میںترقیاتی کاموں کے لئے خطیر رقم مختص کی ہے،شائد ایک نئی وفاقی اکائی کی بحث کا کردار بھی اس میں ہولیکن تشویش ناک خبریں طالبان یا ان کے حمایتی گروہوں کے علاقے میں بڑھتے ہوئے اثرو نفوذ سے متعلق ہیں۔چند ہفتوں کے دوران مدارس سے اسلحہ و بارود کی برآمدگی خصوصاً میاں چنوں کا افسوس ناک حادثہ ان خدشات کا اشارہ ہے جو علاقے میں کالعدم تنظیموں کے پھیلے ہوئے جال سے متعلق پیشِ نظر رہتے ہیں۔

جنوبی پنجاب میںعسکریت کے پھیلائو کے اسباب ،اثرات اور ان کے القاعدہ اور طالبان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔''تجزیات'' کے گذشتہ شماروں میں چند اہم مطالعات سے اکتساب بھی کیا گیا ہے اس کے باوجود اس حوالے سے اور زیادہ مبسوط تحقیق کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے لیکن اس سے بڑھ کر ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مسئلہ کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے پیش بندی کرنی چاہئے۔

مسائل کے وجود سے انکار زمینی حقائق کو بدل نہیں دیتا بلکہ ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اولین ترجیح مسئلے کی نوعیت سمجھنے کی ہونی چاہئے کہ جنوبی پنجاب میں فروغ پاتی عسکریت پسندی کے رجحانات میں کیا اتنی قوت ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کے طرز پر''طالبانائزیشن''کا روپ دھار سکے؟کیا اس میں موجود فرقہ وارانہ عناصر علاقے میںمذہبی تفریق کو بڑھا سکتے ہیں؟وہ کون سے عوامل ہو سکتے ہیں جواس میں موجود دہشت گردی کے جوہر کو بڑھا رہے ہیں یا بڑھا سکتے ہیں؟مسئلے کو سیاسی ،مذہبی،معاشرتی ،انتظامی اور سلامتی(سیکورٹی) کی سطحوں پر رکھ کر دیکھنا چاہئے اور تمام ممکنہ حل زیر غور لائے جانے چاہئیں۔

عموماً یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ مذہبی عسکریت پسندی کا جوہراپنے گردونواح میں موجود معاشی، معاشرتی اور سیاسی تفریقوں کو خام مال کے طور پر استعمال کر تا ہے اور ایسا ہو جائے تو اس کے خاتمے کے لئے''سرجری '' کی ضرورت پڑسکتی ہے۔جنوبی پنجاب سے ملحقہ سندھ اور بلوچستان میں معاشی،معاشرتی اور سیاسی تفاوت یقینی طور پر ان علاقوں سے زیادہ ہے لیکن وہاں مذہبی عسکریت پسندی کے پھیلنے کی شرح اس لئے کم ہے کہ اس کو فروغ دینے والے ادارے وہاں کمزور ہیں۔لیکن جنوبی پنجاب میں عسکریت پسندی کا رجحان بڑھا تو لا محالہ یہ علاقے بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
توقع کی جاتی ہے کہ قیادت اور عوام میں جس طرح اس خطرے کا احساس و ادراک بڑھ رہا ہے،جنوبی پنجاب کے حوالے سے بھی لائحہ عمل واضح ہونا شروع ہو گا۔

مدیر اعلیٰ