working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

علمائے حق کی استقامت
امت مسلمہ کے لیے یہ ایک بہت بڑا سانحہ/المیہ ہے کہ آج ''علمائے امت'' کا وقار عام مسلمانوں کی نگاہوں میں برابر گرتا چلا جا رہا ہے۔ آج کا مسلمان مصنوعی درویشوں، جاہل بابائوں اور بے شرع فقیروں کی طرف راغب و مائل ہو کر انکا معتقد اور مرید بن رہا ہے لیکن اپنے حقیقی رہنمائوں یعنی ''علمائے حق'' سے متنفر اور بے زار ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس میں کچھ تو دور حاضر کے مولویوں کی اپنی کوتاہیاں بھی شامل ہیں ، جو عوام الناس کو دین اسلام کی صحیح تعلیم دینے سے قاصر نظر آتے ہیںمگر اس کے ساتھ ساتھ زیادہ قصور ان سیاسی ملائوں کا ہے ،جو سیاست ، دولت اور شہرت کے لیے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں، یہ مذہبی ملا اپنی دوکان چمکانے کے لیے عوام الناس کو گمراہ کرتے ہیں اور ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنیوالے 'نام نہاد' مذہبی لیڈروں کی درپردہ حمایت کرتے ہیں۔ یہ مذہبی رہنما، دولت کے لالچ میں، غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار بن کر مسلمانوں میں فرقہ پرستی کا بیج بوتے ہیں۔ انہیں جہاں سے پیسہ ملتا ہے ، اسی کے گن گاتے ہیں، انہی نام نہاد اور منافقت کی دستار پہنے ''علمائے سؤ'' کی وجہ سے مسلمان ''علمائے حق '' کی پہچان اور ان کی عزت و احترام سے بھی غافل نظر آتے ہیں، حالانکہ اسی طبقہ علماء ، فقہاء و محدثین میں ایسے ایسے باکمال اولیاء اور صاحبان کرامت بزرگ ہوئے ہیں جو اپنی مجاہدانہ سرگرمیوں کی بدولت شریعت و طریقت کی روشنیوں کا مینارہ بن کر ساری دنیا کو رشد و ہدایت سے پرنور کرتے اور آسمان ولایت میں ستاروں کی طرح چمکتے رہے ہیں، یہی علمائے حق ''کلمہ حق'' بلند کرنے میں کبھی بادشاہوں کے رعب و جلال سے مرعوب یا خوف زدہ و ہراساں نہیں ہوئے بلکہ انتہائی بے خوف اور نڈر ہو کر امراء و سلاطین کو نصیحت کرتے تھے۔ انہی علمائے حق نے ظلم کے خلاف وقت کے ظالموں سے مسلمانوں کو نجات دلائی۔ اور ہر دور کے ظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔ علمائے حق نے کلمۂ حق کی سربلندی کے لیے کبھی اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی۔ درحقیقت ان علمائے حق کی ایمانی قوتوں اور روحانی توانائیوں کا کرشمہ تھا کہ بڑے بڑے ظالم و جابر بادشاہوں کی تلواریں ، ان قدسی صفت عالموں کی زبان کی تلواروں کے مقابلہ میں کند ہو کر رہ جاتی تھیں اور ان باخدا بزرگوں کی ہر تقریر صداقت و حق کی شمشیر بن کر ظالموں کے ظالمانہ عزائم کے پرخچے اڑادیا کرتی تھی۔

شیخ الاسلام ابو اسماعیل عبداللہ بن محمد انصاری (متوفی ذوالحجة 481 ھ تذکرہ الحفاظ ، جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 360 ) کا شمار ان علمائے حق کی فہرست میں ہوتا ہے، جو خوارج و معتزلہ وغیرہ بدمذہبوں کے مقابلہ میں شمشیر برہنہ تھے اور اہل سنت کی طرف سے ہمیشہ ان گمراہ فرقوں کو کھلم کھلا رد کیا کرتے تھے۔ بد مذہبوں میں اتنی تاب و طاقت نہیں تھی کہ ان کے حقانی دلائل قاھرہ کا مقابلہ کرتے۔ اس لیے تمام گمراہ فرقے والے ہمیشہ ان کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرتے رہتے لیکن ہر مرتبہ فتنہ پرداز مولویوں کو ذلت کا سامنا کرنا پڑتا۔ پانچ مرتبہ آپ کی زندگی میں ایسے مواقع آئے کہ شیخ الاسلام کی گردن پر تلوار رکھ کر یہ کہا گیا کہ آپ گمراہ کن فرقوں کو رد نہ کریں ورنہ آپ کی گردن اسی تلوار سے اڑا دی جائے گی مگر ہر مرتبہ اس حق گو ، حق پرست عالم نے یہی فرمایا کہ جب تک میرے جسم میں خون کا ایک قطرہ اور زندگی کی ایک سانس بھی باقی ہے ، میں ہمیشہ حق کو حق اور باطل کو باطل کہتا رہوں گا اور اپنے حقانی دلائل سے باطل کی دھجیاں اڑاتا رہوں گا۔ سینکڑوں علمائے سلف ایسے ہوئے جنہوں نے کلمہ حق کہنے کی وجہ سے جام شہادت نوش کیا۔ بلاشبہ یہ مقدس ہستیاں ''شہدائے حق'' ہیں جو خود کٹ گئے مگر حق کو کٹنے نہیں دیا، خود مٹ گئے مگر حق کو مٹنے نہیں دیا۔ان کی قربانیوں کی بدولت سارے عالم میں حق کا بول بالا ہو گیا۔ ان کی زندگیاں آنیوالے علماء کے لیے مشعل راہ بن گئیں۔

اس وقت ملک عزیز پاکستان میں ایسے ''علمائے حق'' کی کمی نہیں، جو قرآن و حدیث کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ، مسلمانوں کی روحانی تعلیم اور تزکیہ نفس کے لیے دن رات مصروف عمل رہتے ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ حکمرانوں کے خلافِ شرع اقدامات کے خلاف میدان عمل میں آئے اور قوم اور حکمرانوں کو صحیح راہ دکھائی۔ انھی علمائے حق نے وطن عزیز میں پیدا ہونے والے فتنہ و فساد اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی اور اس وقت کے خطرناک دہشت گردوں سے ٹکر لی، جو پاکستانی افواج اور عوام کے لیے خوف و دہشت کا باعث بنے ہوئے ہیں، ان علمائے حق کو اپنی جانوں کی پرواہ نہیں۔ وہ تو اسلام کی سربلندی کے لیے علمائے سلف کی پیروی کر رہے ہیں، آج اگر اس دور کے خوارج یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خود کش حملوں کے ذریعے علمائے حق کا خاتمہ کر کے اپنی حکمرانی قائم کر لیں گے تو ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ علمائے حق ہر دور میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ان کی آنے والی نسلیں اور ان کے تربیت یافتہ علماء کرام اسی طرح حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور دہشت گرد عناصر کے سامنے استقامت کا پہاڑ ثابت ہوں گے۔ ملک پاکستان اور دین اسلام کے تحفظ کے لیے اسی طرح قربان ہوتے رہیں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو بھی چاہیے کہ وہ ان علمائے کرام کے شانہ بشانہ چلے۔