working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

القاعدہ کے خوف کا تدارک
جیمز جے، ایف فورسٹ

پچھلے کئی سالوں سے سابقہ بش انتظامیہ نے القاعدہ کو میڈیا کے سامنے ایک ایسے خوفناک کردار میں پیش کیا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے کوئی خوفناک عفریت اندھیرے میں چھپا بیٹھا ہے جو موقع ملتے ہی امریکہ پر چڑھ دوڑے گا مگر اس تنظیم کے اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ پر نہایت کم توجہ مرکوز کی گئی ہے مزید برآں کوئی بھی خفیہ تنظیم اپنی کارروائیوں کے لیے جن خدشات کا شکار ہوتی ہے القاعدہ بھی ایسی ہی تنظیمی،انتظامی، اتحادی اور دوسرے قدرتی عوامل میں گھری ہوئی ہے جس سے اس کے مستقبل کے متعلق بھی کئی سوالیہ نشان ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

القاعدہ کی تنظیم فتویٰ کی طاقت سے جتنی خوفزدہ ہے اس قدر بندوق کی گولی یا میزائل اسے نقصان نہیں پہنچا سکا۔ القاعدہ کی مسلم دنیا میں بقا کا راز اس کے پروپیگنڈے کی قوت میں تسلیم کیا جاتا ہے اور اپنے اس قانونی استحقاق میں ناکام ہو نے سے القاعدہ نہ صرف اپنی حمایت سے محروم ہو سکتی ہے بلکہ اس تحریک کا مستقبل بھی تاریک ہو جانے کا خطرہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ القاعدہ کے راہنما ،سعودی عرب کے صفِ اول کے مفتی شیخ عبد العزیز الشیخ کی اس ہدایت سے پریشان ہیں جو اس نے سعودیوں کو جہادی سرگرمیوں سے باز رکھنے کے لیے جاری کی تاکہ یہ لوگ عراق جا کر امریکہ کے زیر کمان لڑنے والے اتحادی افواج کے خلاف حصہ نہ لیں۔ اسی طرح مصر کی عسکری تنظیم کے سابق رہنما اور ایمن الظواہری کے رفیقِ خاص سید امام الشریف نے پچھلے دنوں ایک کتاب شائع کی اس میں قانونی اور مذہبی معیار کو پرکھتے ہوئے جہاد کے عسکری پہلو سے بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے پاکستان کے صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے زین العابدین نے بھی یہ فتویٰ جاری کیا کہ پاکستان کے طالبان اسلام کی اصل روح سے دور ہو چکے ہیں کیونکہ وہ فساد کے مرتکب ہوئے ہیںاور اسلامی تعلیمات سے دُوری تکفیری خیالات کو بڑھاتی ہے۔ اس قسم کے بیانات نے بنیاد پرست عناصر میں تبدیلی کا تاثر دیا ہے جس سے القاعدہ کی استعداد کار اور افرادی قوت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

القاعدہ کے بنیادی مقاصد میں یہ شامل تھا کہ وہ سیاسی طاقت حاصل کرے۔ یہ تنظیم مذہبی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کے حربے بروئے کار لاتی رہی ہے۔ القاعدہ کے ایجنڈے، طریقہ واردات اور غیر یقینی مستقبل کی وجہ سے مسلم دنیا میں اس کی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے۔القاعدہ رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے پروپیگنڈے پر خطیر سرمایہ خرچ کرتی ہے اور اس طرح اسے اپنے ٹارگٹ اور وسائل حاصل کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور جونہی وہ لوگوں کو قائل کرنے میں ناکام ہوئے تو وہ عوام کی طاقت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ انتہا پسند تنظیمیں مثلاً حماس اور اخوان المسلمین وغیرہ بھی القاعدہ کی مخالف ہیں۔ سیاست دان عموماً بنیاد پرستوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں اور انہیں ایک ہی ذہن کی پیداوار قرار دیتے ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ حماس اسامہ بن لادن کے گروپ کے ساتھ تعلقات کو مسلسل رد کرتی آئی ہے اور مسلم برادری بھی کئی اسلامی ممالک میں رہتے ہوئے القاعدہ کے لیڈروں کی کارروائیوں کی مذمت میں پیچھے نہیں رہی۔ گو انہیں پاکستان ، انڈونیشیا، الجیریا، مراکش، تیونس اور دوسرے کئی ممالک کے مختلف عناصر سے تعاون ملتا رہا مگر اجتماعی طور پر تمام مسلم اُمہ نے ان کی حمایت نہیں کہ بلکہ انہوں نے مخالفت جاری رکھی مزید برآں القاعدہ کو شام، لبنان اور فلسطینی علاقوں میں کوئی پذیرائی نہیں ملی بلکہ اردن، مصر اور سعودی عرب سے بھی ان کے پائوں اکھڑ گئے ہیں مختصراً یہ کہ القاعدہ کو اپنی اخلاقی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے امریکہ اور اس کے اتحادی القاعدہ کی مشکلات میں مزید اضافہ کا باعث بن رہے ہیں جس سے ان کی معلوماتی ، آپریشنل اور دوسری کارروائیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

القاعدہ کے اپنے اندر بھی توڑ پھوڑ جاری ہے تنازعات اور بد انتظامی کی اطلاعات زبانِ زد عام ہیں مختلف ممالک سے جو دستاویزات ہاتھ لگی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ القاعدہ کے صفِ اول کے رہنمائوں میں مختلف اقسام کے تفرقات سر اٹھا رہے ہیں(یہی تمام دستاویزات اس وقت ڈیفنس ہارمنی ڈیٹا بیس کے محکمے نے محفوظ کر رکھی ہیں) ایک خط میں عبدالحلیم العادل تشویش کا اظہار کرتے ہوئے القاعدہ کے اندر پے درپے خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور ان تمام تر مسائل کی ذمہ داری اسامہ بن لادن کے کندھوں پر ڈالتا ہے۔ اس طرح تنظیم کو کمزور کرنے والے مختلف عوامل سے بھی پردہ اٹھاتا ہے جس سے ان کے اصل اسلامی اور جہادی مقاصد پر ضرب پڑتی ہے ۔ اغلب خیال ہے کہ09/11حملوں کا معمار خالد شیخ محمد بھی عیش و عشرت میں زندگی بسر کرنے والا اور جہاں گرد شخص تھا وہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں راتیں بسر کرتا تھا بالا آخر2003میں راولپنڈی سے گرفتار ہوا۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ القاعدہ کے ممبران بھی انسان ہی ہیں اور وہ بھی خوف سے مبرا تو نہیں ہو سکتے حالانکہ وہ مکمل طورپر امریکہ کے قانونی نظام ، سی آئی اے کی کال کوٹھڑیوں اور گونتاناموبے کی جیلوں سے نہیں گھبراتے مگر وہ موت اور مغربی قانونی نظام کے درمیان معلق ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ مصر، اردن ،سعودی عرب، شام، ترکی اور دوسرے کئی ممالک میں انسانی حقوق کا پہلے سے ہی فقدان ہے۔ جیسا کہ جہادیوں کی ویب سائیٹ سے پتہ چلا ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے واپسی پر ان ملکوں میں بری طرح پیش آیا جاتا ہے جس سے یہ لوگ اپنے ملکوں میں واپس جانے کو ترجیح نہیں دیتے بلکہ ان عناصر کی القاعدہ کی فکر سے ہمدردی اور جذباتی وابستگی مزیدگہری ہو جاتی ہے۔

القاعدہ کے لیڈروں کے بیانات سے مترشح ہے کہ وہ امریکہ کو خاطر میں نہیں لاتے ایمن الظواہری اور دوسرے لیڈر امریکی معاشرے اور ان کی قدروں کے خلاف خوب پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔ القاعدہ کے کچھ لیڈر مغربی ممالک میں بھی رہ کر آئے ہیں اسی طرح یہ ثقافتی ، سماجی اور سیاسی رجحانات کو جدید ذرائع سے دیکھنا جانتے ہیں اور وہ میڈیا، انٹرنیٹ اور کتابوں کا استعمال بھی خوب سمجھتے ہیں۔

2006ء میں محمد خلیل الحکمہ کا ایک متنازعہ مضمون سامنے آیا جس میں اس نے اپنے اندازمیں امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کی استعدادِ کار پر تبصرہ کیا اور اس نے بتایا کہ یہ لوگ امریکی قانون کے تحت کہاں تک رسائی رکھتے ہیں۔ اس کی 152صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ سلفِ جہادی ویب سائیٹ پر سامنے آئی جس میں اس نے کئی غیر معروف اور نامعلوم ذر ائع کا حوالہ دیا اس لیے یہ اتنی مستند دستاویز خیال نہیں کی جاسکتی۔

القاعدہ کی اپنی علمی حدود ہی اس کی عسکری کارروائیوں کی بنیاد فراہم کرتی ہیں کسی بھی دوسری تنظیم کی طرح وہ بھی مبہم معلومات پر کوئی قدم اٹھاسکتی ہے خصوصاً جب اعلیٰ قیادت کوئی آپریشن ترتیب دے رہی ہو اور اسے کامیابی یا ناکامی کا خوف بھی دامن گیر ہو۔ جیسا کہ حالیہ دنوں میں جیوٹا نوجوالاردی کا تبصرہ سامنے آیا ہے جس میں اس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ''تنظیمی ضرورتوں کو مد، نظر رکھ کر عسکری کارروائیوں کے لیے جو منصوبہ بندی کی جاتی ہے وہ ان خفیہ معلومات کی بنیاد پر ہوتی ہے جن پر القاعدہ کا ڈھانچہ استوار ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ القاعدہ کے لیڈروں کی معلومات ان کے آن لائن گفتگو کے فورم، جہادیوں اور ان کے ہمدردوں کی گفتگو کی بازگشت پر انحصار کرتی ہے۔''

آخر میں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ القاعدہ کے مختلف شعبوں میں آپس میں ہم آہنگی پر مختلف آرأ سامنے آئی ہیں کچھ آن لائن جہادیوں نے امریکہ کے حالیہ الیکشن میں افرا تفری پھیلانے یا مکمل سبوتاژ کرنے کے عمل کو نظر اندز کرنے پر القاعدہ کے کردار پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے حالانکہ وہ خیال کرتے تھے کہ یہ جہادی خیالات کے فروغ کا بہتر موقع تھا جس سے فائدہ نہیںاٹھایا گیا۔ عسکریت پسندوں کے ہاں بے صبری کا عنصر بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ القاعدہ کی تنظیم کے ارکان اپنے مدد گاروں کو مطمئن کرنے کے لیے اپنی کارکردگی کے حوالے سے پریشانی سے دوچار رہتے ہیں۔ عرب مجاہدین کو 1989کی افغان جنگ میں بھی دیکھا گیا ہے کہ روسی دستوں کی وطن واپسی پر انہیں نظر انداز کر دیا گیا تھا لیکن انہوں نے ایک بڑی طاقت کے ساتھ جنگ کے دوران بے قاعدہ کارروائیوں میں اپنی مہارت کو خوب استعمال کیا۔ انہی میں سے تجربہ کار افراد نے صدی کے اختتام پر القاعدہ کی بنیاد رکھی اور9/11کے واقعات کی منصوبہ بندی بھی کی۔ موجودہ نئے ریکروٹس اتنی اہمیت کے حامل خیال نہیں کیے جاتے کیونکہ وہ اس قدر مہارت نہیں رکھتے مزید یہ کہ ان میں وسیع علم، خفیہ معلومات اور تجربے کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان میں محض کچھ کر گزرنے کی خواہش موجود ہے اور یہ لوگ ٹریننگ کیمپوں سے تربیت لے کر ہی کچھ کرنے کے قابل ہو سکیں گے اور زیادہ تاثر یہی ہے کہ بے روزگار لوگ عراق میں نئی بھرتیوں کے پروگرام میں شامل ہو کر اپنی عسکری مہارت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ لیکن القاعدہ کو سب سے بڑا یہ چیلنج درپیش ہے کہ کس طرح اپنی تنظیم کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ اپنے ذاتی ذرائع سے حاصل شدہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر فائدہ اٹھایا جاسکے۔

جیسا کہ برین جینکنز نے حال ہی میں خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ جہادی ایک ایسے پھندے میں الجھ چکے ہیں جو کہ انٹرنیٹ کی معلومات پر مبنی ہوتا ہے اور اس میں خاصا ابہام پایا جاتا ہے کیا یہی وہ دہشت گردی ہے جس سے دنیا خائف ہے۔ ایک دن اسامہ بن لادن اپنی 450واں اعلان جاری کرے گا مگر اس پر دھیان دینے والا کوئی موجود نہیں ہو گا9/11کے حملوں کا ایک نقاط کہتا ہے کہ القاعدہ کی کارروائی کا ایک مقصد مسلم دنیا کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ خبروں کا مرکز بنا رہنے کے لیے وہ عسکری کارروائیاںکرتے رہے ہیں مگر اب خفیہ رابطہ اور انٹیلی جنس میں کمزوریوں نے کافی حد تک بروقت اقدامات میں رخنہ اندازی ڈال دی ہے اور تب سے ہی اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر ایمن الظواہری نے اپنے آپ کو دنیا کے سٹیج پر مصروف اور نمایاں دکھانے کے لیے برابر آڈیو اور ویڈیو ٹیپ کے بیانات سے ہل چل مچا رکھی ہے کیونکہ یوں مارکیٹنگ کے حوالے سے مسائل بھی حل ہو جاتے ہیں اور ان کے نظریات کا پرچار بھی ہوتا رہتا ہے اور اس طرح وہ مسلم دنیا میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو مضبوط کر رہے ہیں۔

القاعدہ اپنے کل پرزوں کو بھرپور انداز میں مصروفِ عمل رکھتی ہے تاکہ اس کی مضبوط اور طاقت ور حیثیت تسلیم کی جاتی رہی اور اس کے پھیلائو ، نیٹ ورک اور روابط کا تصور نمایاں رہے۔ اس طرح حکومتیں اپنی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات اٹھاتی ہیں اور یوں خوف و دہشت سے القاعدہ کو مزید تقویت ملتی ہے اور اس طرح دہشت گردی کا کوئی حملہ جس میں درجنوں ، سینکڑوں یا ہزاروں انسان مر جائیں اس تنظیم کے مقاصد کو پورا کر دیتا ہے یوں القاعدہ کو زندہ رہنے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ امریکہ پر ہی حملہ کرے وہ دنیا میں کہیں بھی یا کسی جگہ کارروائی کرے تو مغربی میڈیا یہ خبر تمام عالم میں پھیلا دیتا ہے ۔

القاعدہ اب دہشت گردی کے مخالف اقدامات، بعض مسلم علماء کی جانب سے مخالفت اور اپنی اندرونی مسائل کے سبب توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔ وہ اس خوف کا شکار ہے کہ بے حس و حرکت رہنے سے ان کا مستقبل زوال پزیر نہ ہوجائے نتیجتاً ان کے ممبران اور ہمدردی رکھنے والے بیرونی عناصر ان سے وابستہ تمام امیدوں سے رفتہ رفتہ ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور سرمائے کی کمی ، نئی بھرتی میں رکاوٹیں اور محفوظ پناہ گاہوں میں دشواری ان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر ماضی کی مثالوں کو سامنے رکھا جائے تو تاریخ میں ہمیں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں انہی عروج و زوال کی مثالوں سے القاعدہ کے لیڈر بھی بخوبی آگاہی رکھتے ہیں۔ معلومات تک رسائی، بروقت آپریشن ، موزوں حکمت عملی، روابط اور استطاعتِ کار ہی وہ عوامل ہیں جو کسی تنظیم کی عروج و زوال کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔