working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

انٹرویو : چوہدری عبدالرشید لارڈ میئر برمنگھم
بشارت رٹوی
برطانوی مسلمانوں اور بالخصوص نوجوان نسل میں شدت پسند عناصر کی وجہ سے اکثر تارکینِ وطن اور ان کے یہاں پر عزیز و اقارب بہت مضطرب ہیں۔ کیونکہ اس سے نہ صرف ان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ اسلام کو بھی بدنام کیا جارہا ہے۔ اس پس منظر میں درج ذیل تحریر ممتاز کشمیری صحافی بشارت رٹوی نے تحریر کی ہے جو ان کے دورۂ برطانیہ کے تاثرات اور لارڈ میئر برمنگھم کونسلر عبد الرشید چوہدری کے ساتھ گفتگو پر مبنی ہے جس کو قارئین کی نظر کیا جارہا ہے۔ (مدیر)

مغرب کو یہ تشویش ہے کہ برطانیہ میں پاکستانی تارکین وطن کی تیسری نسل جو اب جوان ہو چکی ہے اور جو برطانوی شہری ہے اُس میں انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور ان ممالک کو اِن سے شدید خطرہ ہے اِن اطلاعات کے منظر عام پر آنے سے پاکستانی تارکین وطن تو پریشان ہوں گے ہی جن کی اولادیں وہاں جوان ہو چکی ہیں لیکن ایسی باتیں سامنے آنے سے پاکستان اور آزاد کشمیر میں ہزاروں خاندان بھی سخت بے چینی محسوس کر رہے ہیں جن کی روزی روٹی کا سب سے بڑا ذریعہ برطانوی پاکستانی تارکین وطن کی جانب سے آنے والا زر مبادلہ ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک سے سالانہ حاصل ہونے والے زرمبادلہ میں سب سے زیادہ حصہ ان تارکین وطن کا ہے۔ ان رپورٹوں میں جن لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ وہ اگرچہ برطانیہ میں پیدا ہوئے وہاں ہی جوان ہوئے پرورش اورتعلیم اُس سر زمین پر پائی اس کے باوجود ان کا تعلق صرف اس وجہ سے پاکستان سے جوڑا جاتا ہے کہ ان کے باپ دادا پاکستانی ہیں جو نصف صدی قبل سلسلہ روز گارکے لیے برطانیہ آ کر آباد ہوئے۔ اگر ان شائع شدہ رپورٹوں کو فرضی مان بھی لیا جائے تو بھی لندن کے سیون سیون اور ماضی قریب میں سامنے آنے والے لندن طیارہ سازش کیس میں کسی نہ کسی طرح سے ان برطانوی شہریت کے حامل نوجوانوں کا نام ہی سامنے آتا ہے جن کے والدین پاکستانی تارکین وطن ہیں۔ ہمارے لوگوں نے نصف صدی قبل وہاں جا کر جس طرح اپنی جوانیوںکو وہاں کی فیکٹریوں کی چمنیوں سے دھواں بنا کر اڑادیا اور برطانیہ کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اُس پر وہاں کی حکومت اور عوام دونوں معترف ہیں۔ ماضی میں برطانیہ اور پاکستان کی دوستی مثالی رہی ہے۔ اگر برطانوی معاشرے کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس حقیقت سے شاید انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہ رہے کہ برطانیہ کے عوام وہاں کے قانون اور معاشرے نے ہمارے لوگوں کی قدر افزائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑئی۔ قانون کے تحفظ کی چھتری ہمارے لوگوں کے سروں پر بھی اُسی طرح موجود ہے جس طرح انگریز لوگوںکے سروں پر ہے۔زندگی گزارنے کے لیے مساوی حقوق ہمارے لوگوں کے گھروں کی دہلیز پر بھی دستک دیتے نظر آتے ہیں۔ برطانیہ نے صرف ہمارے لوگوں کو چشم ماروشن دِل ماشاد کے طور پر قبول نہیں کیا بلکہ وہاں کے قانونی ضابطوں اور شہری آزادیوں نے بھی ہم کو ماں کی آغوش کی طرح آرام اور سکون کی دولت سے نوازا۔ یہ اُس ملک اُس قوم اور وہاں کے قانون کی وسعت نظری اور وسعت قلبی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے لوگوں نے اگر ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے کی ذرا سی بھی سعی کی تو وہاں ان کے راستے میں کبھی کوئی سنگ گراں حامل نہیں رہا بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب ہمارے لوگوں کو برطانیہ کی سر زمین نے وہی کچھ عطا کیا جس کی انہوں نے تمنا اور خواہش ظاہر کی ۔ آج برطانیہ کے ہر شعبہ زندگی میں ہمارے لوگ جن میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر اور اِسی طرح زندگی کے دیگر شعبوں میں فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ بات صرف یہاں آ کر ہی ختم نہیں ہو جاتی۔ بلکہ صادق خان، شاہد ملک، مرزا خالد، چوہدری سرور اور لارڈنذیر احمد جیسے ہمارے قابل فخرسپوت وہاں کے پارلیمانی اداروں میں موجود رہ کر پاکستان کی عزت افزائی کا باعث بن رہے ہیں موجودہ حالات کے تناظر میں ان نوجوانوں جن کے آباؤ اجداد پاکستانی ہیں اور جن کی انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے یہ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ برطانیہ کی اس مٹی، اور قوم سے جتنا بھی پیار کریں وہ کم ہے کہ جس مٹی نے انہیں جنم دیا۔جس معاشرے نے اُنہیں پہچان دی۔ اور جس قانون نے انھیں شہری آزادیوں سے نوازا۔ اور انگریزوں کے شانہ بشانہ آگے بڑھنے کے بھر پور مواقع فراہم کیے۔ اب یہ ان والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی اس نوجوان نسل پر گہری نظر رکھیں اور انہیں انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے والے انسانیت دشمن گروہوں سے محفوظ رکھیں۔ اس سے جہاں ان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی وہاں وطن عزیز بھی بدنامی کے بدنما دھبوں سے محفوظ رہ سکے گا۔ اس نوجوان نسل پر جس طرح یہ لازم ہے کہ وہ برطانیہ سے جی بھر کر پیار کریں کہ اس ملک میں اُنہوں نے آنکھ کھولی۔ اسی طرح وہ پاکستان کے نام کو بھی داغدار ہونے سے بچائیں جس پاکستان میں اُن کے آباؤ اجداد نے انہیں جنم دیا۔اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر برطانیہ میں ہمارے تارکین وطن کا مستقبل سوالیہ نشان بن جائے گا۔ گذشتہ دنوں یورپ کی سب سے بڑی لوکل اتھارٹی برمنگھم کے لارڈمیئر اورسٹی یونیورسٹی برمنگھم کے چانسلر کونسلر عبدالرشید چوہدری چند دنوں کے لیے پاکستان آئے تو اُنہوں نے بھی مختصر انٹرویو میں پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان مذموم کارروائیوں سے نہ صرف یہ کہ بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں ملک معاشی عدم استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے بلکہ بیرونی دُنیا میں ہمارے امیج کو بھی بے پناہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک انسان کا قتل ہمارے مذہب میں پوری انسانیت کا قتل قرار دیا جاتا ہے۔ جب کہ یہاں آئے روز جس طرح موت برسانے کا کھیل جاری ہے اُس سے اسلام اور پاکستان دونوں بدنام ہو رہے ہیں۔ لارڈمیئر برمنگھم کا یہ کہنا بھی تھا۔ کہ مجھے ایک مسلمان اورپاکستانی نثراد برطانوی لارڈمیئر ہونے پر فخر ہے۔ میں نے تیرہ برس کی عمر میں سکول چھوڑ کر برطانیہ کی سر زمین پر قدم رکھا وہاں محنت مزدوری بھی کی اور وہاں آگے بڑھنے کے مواقع سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور آج انہیں صرف برطانیہ بلکہ پورے یورپ کی سب سے بڑی لوکل اتھارٹی کا چیئرمین یعنی لارڈمیئر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آنے والا دور جدید ٹیکنالوجی اور علم کا دور ہے۔ اس کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ پاکستان میں دہشت گردی کی بڑھتی کارروائیوں سے اس وقت ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیاں اور کالجز ہمارے نوجوانوں کو داخلہ دینے سے گریزاں ہیں۔ جس سے ہماری نوجوان نسل کے لیے جدید اور اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ جو انتہائی دُکھ اور افسوس کی بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں برطانیہ سے امن اور دوستی کا پیغام لایا ہوں ہمارا برطانیہ بہت پیارا ملک ہے۔ جہاں سب انسانوں کو برابر اور مساوی حقوق حاصل ہیں۔ یہ اُس ملک اور اس قوم کا احسان ہے کہ میں گذشتہ ستائیس برس سے وہاں کی جوڈیشری کا رکن ہوتے ہوئے مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز ہوں میرا پاکستانی قوم کے نام یہ پیغام ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بھر پور حصہ لیتے ہوئے شاعر مشرق کے خوابوں کی تعبیر اور بانی پاکستان کی کاوشوں سے حاصل ہونے والی ارض مقدس کو اس آگ سے محفوظ بنائیں۔