working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

شدت پسندی مثبت یا منفی عمل؟
وسعت اللہ خان
وسعت اللہ خان ـ بی بی سی سے وابستہ ایک معروف صحافی ہیں جن کی وسعتِ قلمی سے اردو پڑھنے اور لکھنے والے بخوبی آگاہ ہیں۔ حالاتِ حاضرہ کی تجزیاتی تعبیر کا جو قرینہ وسعت کو نصیب ہوا ہے، اس نے انھیں بہت ممتاز مقام عطا کیا ہے۔ وسعت اللہ خان کا کالم جیسے ہی بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر نمودار ہوتا ہے، اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ کسی ایسے ہاٹ کیک کی طرح جس کی چاشنی نے لاکھوں، کروڑوں کو اپنے مخصوص ذائقے کا رسیا بنا رکھا ہو۔

ریڈیکلائزیشن یعنی شدت پسندی، دراصل ہے کیا اور پاکستان کے مخصوص تناظر میں اس کی مکمل تعریف کیا ہو سکتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کے لیے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے محققین نے پاکستان کے چوٹی کے مفکرین سے مکالمے کا آغاز کر رکھا ہے۔ اسی سلسلہ میں وسعت اللہ خان کو بھی مدعو کیا گیا جنھوں نے اپنے مخصوص طرزِ فکر اور اندازِ تحریر سے شدت پسندی کی وضاحت کی جس سے یقینا ا س موضوع پر کام کرنے والوں کے سامنے فکر کے نئے زاویے آشکار ہوئے ہیں۔ ان کی تحریر کو تجزیات کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ (مدیر)

جب مجھے آپ سے گفتگوکا دعوت نامہ ملا تو اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اب تک جو لوگ آپ سے ریڈیکل ازم پر بات کر چکے ہیں وہ پاکستان کے تناظر میں بالخصوص ریڈیکل ازم کی کوئی ایسی مکمل تعریف کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے آپ لوگوں کی تشفی ہو سکے۔ لہٰذا دعوت نامے میں مجھ سے کہا گیا کہ سب پہ جس بار نے گرانی کی وہ یہ ناتواں اٹھانے کی کوشش کرے… دعوت نامے کے ساتھ جو ضمیمہ منسلک کیا گیا اس سے اندازہ ہوا کہ انیس ماہرین ریڈیکل ازم کی تشریح کے پروجیکٹ کا حصہ بن چکے ہیں اور میں غالباً بیسواں ہوں۔

آج صبح میں نے آکسفورڈ اردو ڈکشنری کھولی تو ریڈیکل کے یہ مطلب سامنے آئے۔ بنیادی تبدیلی،سماجی اصلاح کے طالب، انتہا پسندانہ سیاسی خیالات رکھنے والا، انتہا پسندانہ اصولوں پر مبنی خیالات وغیرہ وغیرہ …

ضمیمہ پڑھنے سے اندازہ ہوا کہ زیادہ تر ماہرین ریڈکلائزیشن کی وجوہات جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور ان کی آرا میں جو مشترکہ بات نکل آتی ہے وہ یہ ہے کہ غربت، عدم مساوات، انصاف کی عدم فراہمی اور بالادست طبقات کی زیردست طبقات کے مسائل سے لاتعلقی یا بے حسی کا رویہ ریڈیکل ازم کو پروان چڑھاتا ہے۔ دفاعی و سیاسی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کی یہ رائے مجھے سب سے دلچسپ لگی کہ ریڈیکلائزیشن اس بات کا مظہر ہوتی ہے کہ سماج میں ایک دوسرے سے رابطے اور ڈائیلاگ کا فقدان ہو چکا ہے۔ ریڈیکلائزیشن ایک سوچ کا نام ہے۔ اور دہشت گردی اس سوچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اہداف کا ذریعہ ہے۔ جبکہ جہاد دہشت گردی کے برعکس ایک دفاعی ہتھیار ہے۔

میں نے جنگ کی جو تعریفیں پڑھی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جنگ قومی یا گروہی مفادات کو آگے بڑھانے کا ایک انتہائی ذریعہ ہے۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ ریڈیکل ازم کی بھی کچھ اس سے ملتی جلتی تعریف متعین ہو سکے۔ جیسے ریڈیکلائزیشن قومی یا گروہی مفادات کے حصول کا ایک انتہائی ذریعہ ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اسے حتمی تعریف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ قریب ترین تعریفوں میں سے ایک گردانی جائے۔

ایک عام تاثر یہ بھی ہے جیسے ریڈیکلائزیشن ایک منفی عمل یا ردِ عمل ہی ہوتا ہے۔ مجھے اس تاثر سے کلی اتفاق نہیں ہے۔جب سماجی ارتقا کا پانی رک کر ایک جوہڑ کی شکل اختیار کر لے اور کچھ لوگ اپنی سوچ کے اعتبار سے اس جوہڑ سے پانی کی اپنے انداز میں نکاسی کرنا چاہیں تو یہ بھی ریڈیکلائزیشن کی ہی ایک شکل ہوگی۔مثلاً فراعنہ مصر میں یہ رسم تھی کہ قحط سالی کو دور کرنے کے لیے ہر سال دریائے نیل میں ایک کنواری لڑکی کی بھینٹ چڑھائی جاتی تھی ۔ یا وسطی امریکہ کے انڈین قبائل میں بھی انسانی قربانی کا تصور تھا۔ یا بعض عرب قبائل میں لڑکی کو زندہ دفن کرنے کا تصور تھا۔ لیکن جب کسی ایک مصری ، یا انڈین یاعرب نے ان غیر انسانی رسوم کے خلاف پہلی مرتبہ آواز بلند کی ہوگی تو یقینا اس دور میں سٹیٹس کو کے حامیوں نے ان لوگوں کو انتہا پسند، شرپسند اور سماج دشمن قرار دیا ہوگا۔ ان میں سے کئی کو زندہ جلایا گیا ہوگا۔ کچھ کے ہاتھ پائوں کاٹ کر مارا گیا ہوگا۔ اس تناظر میں کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ریڈیکل کون ہے۔ ایک زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنے والا یا اس آواز کو تشدد سے دبانے والا؟

تبدیلی لانے کے عموماً دو طریقے معروف ہیں۔ یا تو تبدیلی کے علمبردار بنیادی سچائیوں کا واسطہ دے کر لوگوں کو صحیح یا غلط کا فرق سمجھائیں۔ یا دوسرا مروج طریقہ یہ ہے کہ ایک نظام کی بساط بزور طاقت لپیٹ کر اس کی جگہ دوسرا نظام لانے کی کوشش کی جائے۔ عام طور پر جن تحریکوں نے دنیا کی تقدیر بدلی ہے ان میں یہ دونوں عناصر یکے بعد دیگرے ملتے ہیں مثلاً بیشتر مذہبی مصلحین نے ابتداً تبلیغ، سمجھانے بجھانے اور صلح جوئی کا راستہ اختیار کیا لیکن پھر قوت کے حصول کے بعد تشدد کی راہ اختیار کر لی۔ یہی کچھ مارکسزم جیسی غیر مذہبی تحریکوں کے مختلف شیڈز میں بھی نظر آتا ہے۔

ریڈیکل ازم چاہے کسی بھی شکل میں ہو۔ میرے خیال میں ہر شکل کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ چاہے وہ مثبت تبدیلی کے مشن کے لیے اٹھے یا منفی کے لیے۔ بعد میں وہ خود ایک سٹیس کو میں بدل جاتا ہے۔ اور پھر اسے بدلنے یا راہ راست پر لانے یا ختم کرنے کے لیے اندر یا باہر سے ایک اور ریڈیکل تحریک جنم لیتی ہے۔ سادہ زبان میں اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ آج کا مظلوم ہی دانستگی یا نادانستگی میں آنے والے کل کا ظالم بن جاتا ہے۔

اس لحاظ سے کبھی میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ ریڈیکل ازم بھی دکھ، صدمے ، تبدیلی کی خواہش، انتقام یا ایک پرسکون دنیا کے یوٹوپیا کی نفسیاتی تلاش جیسی انسانی نفسیات کے ملغوبے کی ہی ایک اور شکل ہے۔وگرنہ اگر ریڈیکل ہونا یانہ ہونا کوئی جامد جذبہ ہوتا تو پھر آج جو شخص نان ریڈیکل ہے وہ کل ریڈیکل دکھائی نہ دیتا اور آج جو ریڈیکل گردانا جاتا ہے کل وہ نان ریڈیکل نہ ہوجاتا۔ اس کا دارومدار اس پر ہے کہ وہ کس داخلی و خارجی دور سے کس وقت گذر رہا ہے یا نہیں گذر رہا۔