working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

"Recovering The Frontier State"
صفدر سیال

گزشتہ تین دہائیوں سے جنگ کی ہولناکیوں میں لپٹا ہوا افغانستان ، اندرونی اور بیرونی محاذوں پر اپنے امن اور استحکام کو درپیش خطرات سے نبرد آزما ہے۔ پروفیسر رسول بخش رئیس کی 2008ء میں چھپنے والی کتاب"Recovering the Frontier State"انہی تین دہائیوں کا منظر نامہ ہے جو اس عرصہ جنگ و انتشار میں افغان ریاست اور اس میں موجود نسلی،لسانی اکائیوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتی ہے۔پوری کتاب میں اس بات کا بھرپورتاثر موجود ہے کہ جنگ نے افغان ریاست میں لسانی، قبائلی، علاقائی اور مذہبی شناختوں میں بُعد پیدا کر کے معاشرتی اور سیاسی(اکائیوں کی)قوتوں کے توازن کو بُری طرح بدل کے رکھ دیا ہے۔ تعارفی بات سے لے کر آخر تک مصنف نے افغانستان کی موجودہ صورت حال کو اِ س تاریخی پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح سوویت جنگ اور موجودہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ نے افغان معاشرے کی بنیادی بُنت کو ہی خراب کر دیا ہے جو ان جنگوں سے پہلے مختلف نسلی قومیتوں کے درمیان کسی نہ کسی طور پر توازن اور امن برقرار رکھنے میں ممد و معاون تھی۔ مصنف افغان مذہبی اور سیاسی رہنمائوں کی کم نظری اور کمزوریوں سے بھی صرفِ نظر نہیں کرتا تاہم افغانستان کی تعمیر ِ نو کے لیے ، مصنّف کے نزدیک، نسلی اورلسانی دشمنیوں ، اندرونی تنازعات ،علاقائی تقسیم اور ان سب کو بڑھاوا دینے والی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات کو مدِّ نظر رکھنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔مصنّف نے افغان ریاست کے نئے ڈھانچے میں مختلف سماجی گروہوں اور نسلی قومیتوں کے سماجی اور سیاسی مقام کے تعین کے بارے میں کئی غور طلب سوالات اٹھائے ہیں اور مختلف ادوارِ حکومت میں افغانستان میں شناختی تشکیل کے مراحل اور ان کی تقسیم پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ قاری اس بحث کے بعد افغانستان میں نسلی اور لسانی تقسیم کے خطرات کے پھیلائو یا اس تقسیم میں کمی کے حالات اور محرکات پر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مصنّف اس تقسیم کی تاریخی تناظر میں وضاحت کرتے ہوئے تشکیلِ ریاست کے عمل میں مختلف نسلی قومیتوں کے کردار کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ اُس کے نزدیک افغان ریاست میں نسلی اور لسانی تنوع بہت پرانا ہے جس سے سیاسی مشکلات بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ افغان قومیت ، جس پر پشتونیت کے اثرات بہت گہرے ہیں، چھوٹی نسلی اورلسانی قومیتوں کا مسلسل نشانہ بنتی رہی ہے۔ مختلف النوع نسلی قومیتوں کی مختلف جغرافیائی حدوں میں آبادیاں ، ان کی ہمسایہ ریاستوں سے نسلی /لسانی وابستگیاں اور سرحدوں کے آر پار آمدورفت اور پناہیں اس تقسیم کی بنیادی خصوصیات ہیں۔مصنّف کے نزدیک پشتون(آبادی کا 50سے54فیصد ) تاجک(26 سے 30فیصد)، ازبک(8فیصد)، ہزارہ(7فیصد ) ایمق (5لاکھ سے7.5لاکھ) اور ترک ، نورستانی، بلوچ اور دیگر چھوٹے نسلی/لسانی گروہ( 4فیصد) تاریخ میں اکٹھے رہتے رہے ہیں۔ ان کے درمیان ذرائع کی تقسیم یا نمائندگی کا کوئی بڑا تنازعہ نہیں تھااور اقلیتوں اور اکثریت کے درمیان توازن کی فضا موجود تھی۔تاہم مصنف اس بات کی وضاحت بھی کرتا ہے کہ افغان قومیت اور شناخت، نسلی/لسانی شناختوں کی تقسیم پر حاوی تھی۔ پشتون ولی ایک ضابطہ حیات تھا اور دیگر گروہوں کی نسبت پشتون افغان قومیت میں زیادہ بندھے ہوئے تھے۔ 1919ء میں معاہدہ راولپنڈی کے تحت ہونے والے اعلان آزادی نے افغان مشترکہ شناخت کے تین دھارے تشکیل دئیے۔
1۔ مرکزی حکومت کی انتظامی صلاحیت کی مضبوطی اور تمام معاشرتی سطحوں پر اس کا پھیلائو
2۔ یکساں نظام تعلیم
3۔ ایک مشترکہ شناخت کی ترویج

تاجک ، ازبک ،ہزارہ اور دوسرے چھوٹے گروہ اپنے آپ کو اس مشترکہ شناخت کے آئینے سے نہیں دیکھتے تھے تاہم ان کے پاس اپنی ناراضگیوں کے اظہار اور طاقت تک رسائی کے ذرائع نہ تھے۔دوسرے یہ کہ افغانستان میں رہنے والے تمام باسی افغان تھے اور افغان قومیت کو چیلنج کرنا، خاص طور پر اقلیتوںکے لیے ممکن نہ تھا۔

باہر سے دیکھنے والوں کے لیے بھی افغان قومیت پرستی کی پہچان افغانستان کی تاریخی حیثیت اوربیرونی حملہ آورروں کے خلاف اس کے عوام کی طرف سے متحدہ دفاع کی شکل میں موجود رہی ہے۔شہری علاقوں اور تعلیم یافتہ طبقوں میں افغان قومیت کا تصّور زیادہ متحرک رہا ہے۔بہ نسبت دیہی علاقوں کے۔تاہم سیاسی عدم استحکام ،سیاسی کثر ت پزیری ،علاقائی طاقتوں کے بڑھتے اثر و نفوذ اور اندرونی محاذ آرائیوں نے نظریاتی اور نسلی بہروپوں میں افغانستان کی قومی تشکیل اور تعمیر پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔کمیونسٹ حکومتی ادوار میں نظام تعلیم دو زبانی (پشتو، فارسی) کی بجائے کثیر زبانی ہونا شروع ہوا۔ تب بھی پشتون غالب اکثریت میں تھے اور فارسی اثر پزیری کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی دور میں انتظامی دائرہ کار کو مرکزگیریت کی پالیسی کے زیر اثر لایا گیا۔ تاہم سیاسی درجہ بندی میںعلامتی شمولیت اقلیتوں کو سیاسی نمائندگی نہ دِلاسکی۔ لیکن ثقافتی سطح پر اظہار کے بڑھتے ہوئے مواقع نسلی/لسانی نہج کی نمو کرنے لگے تھے۔ مزید برآں کمیونسٹ دور میں ذرائع کی تخصیص اور مقامی فوج کی بھرتی کے لیے بھی شمالی علاقوں پر خاص توجہ دی گئی۔دوسری طرف پشتون اپنے نظریات پر بدیسی جارحیت پر کمیونسٹوں کے خلاف تھے۔ بعد میں سویت یونین نے بھی بغاوت کو کچلنے کے لیے نسلیت/لسانیت کو استعمال کیا۔ سوویت یونین کے خلاف افغانستان سے اٹھنے والی مزاحمتی تحریکیں بھی قبائلی،نسلی/لسانی اور مقامی خطوط پر منقسم تھیں۔ 1887ء میں جب ماسکو نے افغانستان سے انخلا کے اشارے دینا شروع کئے تو مزاحمتی گروہوں نے مستقبل کے افغانستان میں طاقت/مرکزکے حصول کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ حزب اسلامی اور جمعیت اسلامی جو مختلف نسلی /لسانی اور سماجی حمائتی بنیادوں پر قائم تھیں ، اس کوشش میں پیش پیش تھیں۔

پشاور معاہدے کے نتیجے میں قائم ہونے والی (مئی 1992ئ) مجاہدین کی حکومت بھی قوت کے حصول کے مقابلہ اور نسلی /لسانی ترجیحات کی زد میں آکر افغان اور اسلامی بھائی چارے کے مفروضے میں نہ سمٹ سکی۔ ریاستی سیاسی اداروں کی عدم موجودگی نے ملک کو اندرونی جنگ میں جھونک دیا۔مصنف کے نزدیک طالبان کے ظہور میں بھی دوسرے محرکات کے ساتھ ساتھ نسلی/لسانی سطح پر پشتون حمائت نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ تقسیم اس وقت مزید واضح ہو گئی جب شمالی اتحاد نے طالبان کے خلاف اپنے آپ کو امریکہ کے ساتھ لاکھڑا کیا۔ مصنف سمجھتا ہے کہ موجودہ تناظر میں جہاں افغانستان کی تعمیر نو ایک غالب خاکہ ہے غالباً اس کی شناختی سیاسیات کی تعمیر نو کی بھی ضرورت ہے جہاں اقلیتی نسلی/ لسانی قومیتوں کی حیثیت کے ادراک اورا داروں میں تمام قومیتوں کی نمائندگی میں توازن کے ساتھ ساتھ اکثریتی پشتونوں کو ایک''مرکب قومیت'' کی منطق کو بھی سمجھنا ہوگا۔

افغانستان میں طالبان کے ظہور اور خانہ جنگی سے متعلق مصنف اپنی بات یہاں سے شروع کرتا ہے کہ طالبان کے اوپر اب تک جتنی بحث ہوئی ہے یا لکھا گیا ہے اس میں دو قسم کے وضاحتی زاویے سامنے آئے ہیں۔ اوّل یہ کہ سوویت انخلا کے بعد افغانستان کا سیاسی مستقبل اندرونی مزاحمتی گروپوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جنہیں مختلف بیرونی ممالک کی آشیرباد حاصل تھی۔ افغان جہاد کے دو اہم حامی ممالک امریکہ اور پاکستان نے بالخصوص بعداز جنگ افغانستان کی سیاسی اور اقتصادی تعمیر نو سے صرفِ نظر کیا۔ طالبان کے ظہور کے بارے میں دوسری قسم کی وضاحتیں افغان ریاست اور ادروں کی تباہی کو موضوع بناتی ہیں کہ کیسے طالبان کے لیے سیاسی فضا ہموار ہوئی۔ دونوں قسم کی وضاحتوں میں طالبان کے مظہر کو ان کے مذہبی اور نظریاتی تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ مصنف کی رائے میں افغانستان کی سیاسی تاریخ کے شاہد، طالبان کے لیے اُس عوامی/سماجی حمائت کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں جو پشتون نسلی /لسانی بنیادوں پر قائم تھی۔ ایک طرف تحریک کے قائدین نے بڑی کامیابی سے اسلام اور افغانستان میں موجود عدم استحکام اور خانہ جنگی کو سیاسی ہتھیارکے طور پر استعمال کیا۔ دوسری طرف پشتون بھی ایک وحدت پزیر اور مرکز مائل افغانستان چاہتے تھے جہاں ان کی حکومت ہو اور آج بھی وہ اس مقصد پر متفق نظر آتے ہیں ۔

طالبان کے لیے پاکستانی حمائت کے حوالے سے مصنف نے بڑی مدلل اور منطقی بحث کی ہے اور زور دیا ہے کہ طالبان کی تحریک کی معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی جڑوں کو سمجھے بغیر اس موضوع پر جو بھی بات ہوگی وہ کوتاہ نظر ہوگی۔ پاکستان کی طالبان پالیسی کے حوالے سے مصنف لکھتا ہے کہ طالبان کا ظہور اس وقت ہُوا جب افغانستان جنگ میں گھرا ہوا تھا اور اس کے ہمسایہ ممالک بھی وہاں اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے تھے۔

معاہدہ پشاور کے بعد جب افغانستان میں مجاہدین کی حکومت بنی تو وہاں پاکستان کا اثر ورسوخ ماند پڑنا شروع ہُوا۔ علاقائی طاقتوں نے مختلف گروہوں کی حمائت کے ذریعے افغانستان کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں اپنے لیے جگہ بنانا شروع کر دی تھی۔اگر مجاہدین گروپ اکٹھے رہتے تو شاید پاکستان اور دوسری ہمسایہ طاقتیں افغانستان میں اس طرح سے فعال نہ ہوتے۔ اندرونی خانہ جنگی کے اس نئے دور میں مجاہدین گروپ بھی بیرونی امداد کے متلاشی تھے۔ ان حالات میں افغانستان کی معاشی اور معاشرتی حالت ابتر سے ابتر ہوتی چلی جارہی تھی اور پاک افغان سرحدی علاقے پناہ گزینوں کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ اس تمہید کے بعد مصنف لکھتا ہے کہ پاکستان سے ملحقہ پشتون علاقوں سے اُٹھنے والی اس طالبان تحریک کے پاکستانی ریاست، معاشرے اور مذہبی جماعتوں سے روابط نے اسے پاکستان کا ایک فطری اتحادی بنا دیا۔ مصنف کے نزدیک طالبان کی آئیڈیالوجی سیاسی قوت کے حصول کے ساتھ ساتھ پشتون نسلی/لسانی قومیت پرستی،قبائلی روایات اور قبل از جدید دنیا کے تصورات پر مبنی ہے۔ اِ س طرح اس آئیڈیالوجی کی تین بنیادی خصوصیات اسلامی رسمیت ،رجعت پسندی، روائت پسندی اور پشتون قبائلیت ہیں جن کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ فرقہ وارانہ تشدّد کے حوالے سے مصنف نے طالبان پالیسی کو مذہب کے ساتھ ساتھ نسلی/لسانی قومیت پرستی اور انتقام کے تناظر میں بھی دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ طالبان کی جنگی سرگرمیوں میں تسلسل اور موجودہ اضافے کو مصنف نے افغانستان کی سیاسی تعمیر نو اور دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگی حکمتِ عملی کے تین پہلوئوں کے امتیاز کے ساتھ دیکھا ہے۔ اوّل افغانستان کی حکومت میں پشتونوں کی کم نمائندگی کا مسئلہ،دوم پشتون علاقوں پر مسلسل حملے اور سوم افغانستان کے عوام کا امریکی اور اتحادی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی کو جارحیت سے تعبیر کرنا اور اس کے خلاف لڑنے کا عزم۔مصنف کے نزدیک طالبان اور امریکہ مخالف قوتوں کو تنہا کرنے کے لیے پشتونوں کوافغانستان کے اقتصادی اور سیاسی نظام سے جوڑنا از حد ضروری ہے۔

دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی افغانستان میں موجودہ جنگ کی تفصیل میں جانے سے پہلے مصنف افغانستان اور امریکہ کے تعلقات کو وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ ملک امریکی مفادات کے لیے روایتاً ایک دور دراز ملک رہا ہے۔ اولاً سرد جنگ اور بعد میں 9/11کے واقعات نے افغانستان کو امریکی مفادات کا مرکز بنا دیا ۔دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ میں امریکہ نے علاقائی طاقتوں سے اتحاد بنانے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں شمالی اتحاد کو اپنے ساتھ جوڑا۔ ایران نے طالبان کے ساتھ نظریاتی مخالفت کی وجہ سے افغانستان میں امریکی موجودگی پر زیادہ احتجاج نہیں کیا جبکہ پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی بن کر اُبھرا۔ امریکہ نے اپنے فوجی اڈوں کے لیے ازبکستان اور کرغیزستان سے بھی روابط بڑھائے۔ مصنف اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ امریکہ یہ جنگ جیت رہا ہے اور وہ امریکہ کی یک نکاتی طالبان مخاصمت پر مبنی افغانستان پالیسی،بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتوں ، سیاسی تعمیر نو کی بجائے جنگی منطق پر انحصار اور عدم مذاکرات کی امریکی پالیسی کو اس کی اہم وجوہات سمجھتا ہے۔

طالبان حکومت کے بعد افغانستان کی تعمیرِ نو کے حوالے سے مصنف اپنی بات 05دسمبر 2001میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہونے والے بون معاہدے سے شروع کرتا ہے۔ اس معاہدے نے افغانستان کے سیاسی مستقبل میں طالبان کے خلاف لڑنے والے افغان گروپوں کے ساتھ ساتھ افغان افراد، مختلف گروپوں، اور بیرونی طاقتوں کے مقام کا بھی تعّین کیا۔ مصنّف کے نزدیک افغانستان کی تعمیرِ نو کی پہلی خاطر خواہ کامیابی نئے آئین کی تشکیل تھی۔ ''لویاجرگہ'' نے ایک آئین ساز اسمبلی کا کام کیا اور 13دسمبر2003سے 4جنوری 2004تک اس میں آئین سازی کی بحث ہوتی رہی جو کچھ تبدیلیوں کے بعد نئے آئین کی شکل میں سامنے آئی۔9اکتوبر 2004ء میں افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخاب کو مصنف اگرچہ مکمل طور پر غیر متنازعہ نہیں کہتا تاہم اس کے نزدیک یہ انتخابات اس لحاظ سے بہت اہم تھے کہ اِس سے افغانستان کی ایک مرکزی ریاست کے طور پر اختیاری حیثیت اور اصالت قائم ہونا شروع ہوئی۔

مصنف کے بقول صدارتی انتخابات نے افغانستان میں موجود نسلی/لسانی خطوط کو مزید اجاگر کیا۔ افغان صدر حامد کرزئی کو ملنے والے 55فیصد(سے زائدووٹ) پشتون آبادی کے تناسب سے بہت مطابقت رکھتے تھے جبکہ ازبکوں نے عبدالرشید دوستم ، تاجکوں نے یونس قانونی اور ہزارہ کے لوگوں نے محمد محقق کو ووٹ دئیے۔بون معاہدہ کے مطابق پارلیمانی انتخابات، صدارتی انتخاب کے وقت ہی ہونا تھے تاہم یہ تقریباً اس سے ایک سال بعد 18دسمبر2005ء میں ہوئے ان کے نتائج ملے جلے تھے تاہم ان کی نمایاں خصوصیت قانون ساز اداروں میں خواتین کی شمولیت تھی۔ مصنف کے نزدیک صدارتی اور پارلیمانی انتخابات نے تین طرح سے مثبت نتائج پیدا کئے۔ اول طالبان سیاسی طور پر کمزور ہوئے،دوم ملک میں ایک قانونی اصالت والی حکومت بنی اور سوم یہ کہ عوامی حمائت کے بل بوتے پر صدر کرزئی جنگجو کمانڈروں کو ان کی ساختہ ریاستوں سے نکال باہر کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے۔اداروں کے قیام اور تعمیرِ نو کے حوالے سے مصنف کچھ زیادہ کامیابی نہیں دیکھتا جس کی ایک مثال یہ ہے کہ امن و امان کی بحالی کے لیے آج بھی افغانستان اقوام متحدہ کی تخلیق کردہ ایساف(ISAF)پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔مصنف کے نزدیک افغانستان کی تعمیرِ نو میں سب سے بڑے مسائل افغان جنگجو سردار، بڑھتی ہوئی بغاوت، ا فیون کی کاشت اور تجارت اور دو جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی تخریب ہے۔