working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

موسیٰ خان خیل کا قتل
ادارتی نوٹ
سوات میں جیو ااور انگریزی اخبار دی نیوز کے نمائندے موسیٰ خان خیل کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ مولانا صوفی محمد کے قافلے کی کوریج کرنے کے لئے دیگر صحافیوں کے ہمراہ مٹہ گئے ہوئے تھے۔ انہیں مسلح افراد نے پہلے اغوا کیا اور بعد ازاں گولیاں مار دیں۔

پاکستان میں جاری دہشت گردی کی لہرمیں صحافی بدترین نشانہ ہیں انٹر میڈیا کے مطابق 2008ء کے دوران 12صحافی پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ اس حوالے سے پاکستان عراق کے بعد صحافیوں کے لئے دوسرا غیر محفوظ ملک ہے۔ عراق میں 2008ء کے دوران 15صحافی ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان کے اندر صحافیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنی جان کی حفاظت کس طرح کرنی ہے اس حوالے سے انہیں ضروری آگاہی نہیں ہے۔ ''بریکنگ نیوز '' کی دوڑ اور صحافیوں کی بڑھتے ہوئے معاشی مسائل نے انہیں خوف سے لا تعلق کر دیا ہے جس کی وجہ سے ایسے سانحات رونما ہو رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافیوں کے ادارے بالخصوص پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب آگے آئیں اور شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کی تربیت کا انتظام کریں۔ ادارہ تجزیات موسیٰ خان خیل کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے موسیٰ خان خیل کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔ دعا ہے کہ خداوند کریم ان کے درجات بلند کرے ۔

مدیر