working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

وزیرستان ایک شجر ممنوعہ
سلمان راشد

2003ء کے گذرے سال میں ایک دفعہ''امپیریل گزٹ آف انڈیا''کا مطالعہ کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے حوالے سے ایک مضمون میری نظر سے گذرا جس میں ١٩٠٨ء سے لے کر موجود دور کی تاریخ پر سے پردہ اٹھایا گیا تھااسی مضمون میں جنوبی وزیرستان کے قطب میں واقع ایک پہاڑی چوٹی پیرغار کا ذکر بھی موجود تھا، میں کچھ عرصے سے ان قدیم خانقاہوں کی تلاش میں تھا جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ کبھی وہاں زرخیزی کے دیوتائوں کا مسکن تھا۔اس لحاظ سے اس مضمون نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ایک پشتون دوست نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پیر گل کے بجائے اصل لفظ پیر غار ہے جو کہ پشتو زبان میں پہاڑ کیلئے استعمال ہوتا ہے۔اس طرح سے ان الفاظ سے مراد پیر کا پہاڑ ہے۔ان دنوں مجھے جون کی گرمی ٹانک کھینچ لائی جہاں میرے دیرینہ دوست شہاب علی شاہ نے جوکہ اسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر وہاں تعینات تھا میری خاطر پیر غار کی ٣٥١٥میٹر(١١٥٣٠فیٹ)بلند چوٹی پر چڑھنے کا بندوبست کر رکھا تھا۔ہم نے سفر کا پہلا حصہ وزیرستان میں واقع جنڈولہ تک شہاب صاحب کی کار میں مکمل کیا اس کے بعد دو گھنٹے کی مسافت پر واقع لدھا تک کا سفر دوسری گاڑی میں کیا، وہاں تحصیلدار خالد محمود میرا منتظر تھا۔ میں نے اس کے اصرار پر دوبارہ ناشتہ بھی کیا۔لدھا تک کا راستہ متواتر اوپر کی سمت چڑھتا رہا جس کے دونوں جانب چیڑ کے سدا بہار درخت اگے ہوئے تھے۔ راستے میں ننھے منے خوبصورت لڑکے ہاتھوں میں جنگلی بیروں کے تھال اٹھائے گھومتے نظر آئے پشتو میں یہ بیرگُرگرے کہلاتے ہیں۔ یوں لگتا تھا کہ ان کا کاروبار مندے کاشکار ہے کیونکہ خریدار خال خال تھے اور بچے زیادہ تر پھل خود ہی پھانک رہے تھے۔اور پھر اپنی لمبی اور کالی زبانیں باہر نکال کر ہمارا منہ چڑاتے تھے جبکہ کچھ لڑکے اپنے لتھڑے ہاتھوں کو ہوا میں لہرائے ہوئے رقص کر رہے تھے۔دوسری بار ناشتہ ٹھونسنے کے بعد ہم نے اپنی گاڑی دوبارہ تبدیل کی اور ایک کھٹارہ سے چھوٹے ٹرک پر سوار ہو کر ''کافی گرام ''کی وادی سے روانہ ہوگئے۔ایک ٹرک نے مغرب کی سمت موڑ کاٹا اور دھول سے اٹے ہوئے سنگلاخ راستے پر اوپر کی جانب چڑھنے لگا۔ جنگلی زیتون کے ذخیرے نظر آرہے تھے۔ وہاں شاہ بلوط کے درختوں کی بہتات بھی تھی۔ سر سراتی ہوئی ہوا میں چیڑ کے گھنے درخت بھی جھوم رہے تھے۔ اس کے علاوہ ایسے بھی انواع واقسام کے بے شمار درخت سر اٹھائے کھڑے تھے جواس سے پیشتر ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھے تھے۔راستے میں ایک مقام ایسا بھی آیا کہ ہمارا راستہ صاف وشفاف اور ٹھنڈے میٹھے پانی کی ندی کی وجہ سے بتدریج کم ہوتا ہوا نہایت مختصر رہ گیا مگر ڈرائیور نہایت مہارت سے ٹرک کو سنبھالتا ہوا سنگلاخ اور دشوار گذار راستے پر رواں دواںتھا۔تنگ راستے والی وادی سے گذرتے ہوئے خوف سا محسوس ہونے لگا تھا خالد محمود کہنے لگا یہ علاقہ ''لکاتیزا'' یعنی عمودی چٹان کے نام سے پہچانا جاتا تھا شاید یہ خطہ اپنے محل وقوع کی وجہ سے اس نام سے مشہور ہوگیا تھا۔جب ہم ''لاری مائی''گائوں میں وارد ہوئے اس وقت ہمیں لدھا کو چھوڑے دو گھنٹے ہو چکے تھے جبکہ ٹانک سے روانہ ہوئے چھ گھنٹے کے قریب بیت چکے تھے۔یہ گائوں چاروں طرف سے سر مئی چٹانوں سے گھرا ہوا تھا اور پہاڑوں نے چیڑ اور شاہ بلوط کے درختوں کی سر سبز پوشاک اوڑھ رکھی تھی۔ محسود قبائل کے قلب میں واقع یہ گائوں کسی خاص اہمیت کا حامل تو نہیں تھا اور نہ ہی وہ گائوں بھی جہاں سے ہم گذر کر آئے تھے کچھ قابل ذکر تھے۔لیکن مجھ جیسے فطرت پسند شخص کیلئے یہ گائوں اور اس کے مکین جنھیں دنیا مہذب کہتے ہوئے گھبراتی ہے، میرے لیے دلچسپی کے لیے باعث تھے۔ مٹی سے لیپے پوتے ہموار ہموار چھتوں والے گھروں کے اوپر دید بان اور ڈھول مینار سر اٹھائے کھڑے تھے۔کچھ گھر ایسے بھی تھے جو کہ اس قسم کے مربع شکل کے اونچے میناروں سے یکسر عاری تھے یہ دید بان دشمن سے لڑائی کے وقت محفوظ پناہ گاہیں تھیں جن کی مضبوط دیواروں میں جگہ جگہ سوراخ بنائے گئے تھے جن میں سے دشمن تاک کر فائر کرنے میں مدد ملتی تھی بغیر میناروں والے گھر یقینا ان غرباء کے تھے جو کہ دشمنی اور لڑائی کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ مجھے ظاہر شاہ نامی راہبر نے پہاڑی کے اوپر لے کہ جانا تھا چنانچہ اسے بلوا بھیجا گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس کے ہمراہ مزید آٹھ نوجوان اور بھی تھے۔خالد نے پھلوںکا ٹوکرا بھی سرکا دیا جو وہ ''لدھا''سے ہمراہ لایا تھا ۔دوپہر کو ہمیں آگے روانہ ہوتا تھا۔ جب ہم نے سفر کا آغاز کیا تو ظاہر شاہ نے مطلع کیا کہ یہاں سے مطلوبہ مزار تک کا سفر تقریباً دو گھنٹے پر محیط ہے۔ میں سوچنے لگا کہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم جیسے اجنبی لوگ تو وہاں تک تین گھنٹوں میں ہی پہنچ پائیں گے۔ ہم نے گائوں سے گذرتے ہوئے لمبے لمبے میناروں والے گھروں کے مناظر کو آنکھوں میں محفو ظ کیا۔ وہاں آنے سے پہلے ہمیں خبردار کیا جا چکا تھا کہ قوانین سے بے بہرہ ان قبائلیوں کی تصاویرکھینچنے کی کوشش نہیں کرنی کیونکہ متعدد فوٹو گرافر قدرتی مناظر کی تصاویر اتارتے ہوئے بھی پٹ چکے تھے۔حالانکہ ان نظاروں پس منظر میں کسی خاتون کا کوئی وجود بھی نہیں تھا اور کئی دفعہ تو محض کیمرے ساتھ لانے والے لوگ بھی تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔جب ہم شاہ بلوط کے گھنے جنگل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھے تو چیڑ کا جنگل شروع ہوگیا۔چیڑ کے درختوں کی گوند کی بساندھ ہوا میں رچی بسی ہوئی تھی ظاہر شاہ ہمیں پگڈنڈی کے ساتھ لے جارہا تھا۔ٹھنڈی اور خنک ہو کے جھونکے محسوس ہونے لگے تھے۔ ہم مغرب کی سمت میں پیر غار کے چٹانی راستے کے درمیان پہنچ کر رک گئے۔بھونکتے کتوں کی آوازوں اور بچوں کے قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔مکئی کے کھیتوں میں چند گھر بھی نظر آرہے تھے کسی نے بھی ہماری جماعت کا خیر مقدم نہ کیا اور چلتے رہے۔ہم نے ایک ایسی ندی کے کنارے کی راہ لی جو بتدریج کم ہوتی ہوئی غائب ہو گئی ہمیں ''لاری مائی''سے چلے تین گھنٹے ہوچکے تھے چنانچہ ہم نے مرغی کے سالن اور روٹی سے انصاف کرتے ہوئے ظہرانہ تناول کیا۔یہ ایک پر تکلف پارٹی تھی جس کا اختتام میٹھے آموں کی غیر اعلانیہ دعوت سے ہوا جو کہ خالد صاحب کی انتظامیہ کے مرہون منت تھا۔کھانے سے سیر ہونے کے بعد خالد اور ان کے فربہ ڈرائیور نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔میں چونکہ ایک لمبا سفر طے کرکے آیا تھا اسلئے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے بے دلی سے ظاہر شاہ اور اسکے زندہ دل ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔ راہ نوردوں کی یہ جماعت جو نو افراد پر مشتمل تھی ان میں سے کوئی بھی اردو نہیں بولتا تھا وہ لوگ مسرت سے میرے آگے آگے ناچتے جارہے تھے۔ ان کے گانوں اور قہقہوں کی آوازیں وادی میں گونج رہی تھیں اور دور تک باز گشت سنائی دیتی تھی۔ یہ نوجوان کھلنڈرے اور لاابالی طبیعت کے مالک تھے۔جب ظاہر شاہ راستے میں ملنے والے لوگوں کو میرے متعلق آگاہ کرتا کہ میں پیر غار کا مہمان ہوں تو وہ بھی ساتھ ساتھ چل پڑتے ۔ان کی اچھل کود کے علاوہ ہر ایک شحض کے پاس اسلحہ اس بات کا غماز تھا کہ جیسے یہ لوگ کسی جنگی محاذ پر جارہے ہیں۔مجھے پشتو زبان سمجھنے میں مشکل پیش آرہی تھی لیکن اس کے باوجود وہ میرے اس علاقے میں آنے کو پاگل پن پر محمول کر رہے تھے۔جو نہی ہم ایک چٹان کے قریب سے گذرے مجھے اردو زبان میں خوش آمدید کہا گیا ہوا سے بچنے کیلئے دو آدمی چٹان کے نیچے بیٹھے تھے اور انہوں نے پھولوں کے گلدستے اٹھا رکھے تھے۔ان میں ایک خوش پوش شخص فیروز خان تھا جو 14سال تک بلوچستان ملیشیا میں خدمات انجام دے چکا تھا۔ میرے باقی ساتھیوں کی طرح یہ بھی محسودی تھا اور اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ پیر کے مزار پر بیٹے حاصل کرنے کیلئے دعا کرانے جارہا تھا۔ ہم اکھٹے چلنے لگے اور مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ پہاڑی بابے کی خانقاہ پر بے اولاد جوڑوں کو اولاد کی خوشخبری ملتی ہے۔لیکن زیادہ افراد ان لوگوں پر مشتمل ہوتے ہیں جوکہ بیٹے کے خواہش مند ہوتے ہیں تاکہ اپنی نسل کو آگے بڑھا سکیں۔ جب ہم لوگ پیر غارکی چوٹی پر پہنچے اس وقت ظہرانہ کیے ایک آدھ گھنٹہ بیت چکا تھا۔مزار کی عمارت پتھر جوڑ کر تعمیر کی گئی تھی اور اسکا رخ شمالاً جنوباً تھا تاکہ اگردعا مانگی جائے تو قبلہ کی سمت رخ ہو۔ قریب ہی ایک بوسیدہ ساگھر تھا جس کے دروازے پر پردہ لٹک رہا تھا۔اور پردے کے پیچھے سے خان کے گھر والوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ایک جانب تازہ ذبح کیے ہوئے بکرے کی کھال پڑی تھی اور دوسری جانب بھوسہ اور ہڈیاں دھری تھیں۔خان نے بتایا کہ قربانی کیلئے کالا بکرا ہی مناسب ہوتا ہے۔صدیوں سے محسود لوگوں کے آبائو اجداد کا یہ وطیرہ رہا تھا کہ وہ پیر غار کی قدیم دھرتی ماتا کے پاس لڑکوں ،اچھی فصل اور مویشیوں کی افزائش کی دعائیں مانگنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ وہ پہاڑی پر اپنے جانوروں کو قربانی کی غرض سے عین اس قربان گاہ پر لاتے تھے۔جہاں اب پتھروں کی دیوار بن چکی تھی۔جیساکہ موسم خزاں کے بعد بہار میں زمین سے نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔اسی طرح زمین کے حوالے سے اس کی زرخیزی کے اثرات بھی محسوس کئے جاتے تھے۔ شاید اسی لئے آج کل کالے بکروں کی قربانی کا رواج عام ہے جسکا خون زمین پر بہایا جاتا ہے۔ اسلام کی آمد کے بعد اس عبادت گاہ کی حیثیت تو مقدس ہی رہی مگر دیوی نے اپنی جون بدل لی۔ اب پیر غار پر آنے والے لوگوں کی رائے یہ تھی کہ وہ حضرت اسماعیل کی تقلید کرتے ہوئے بکرے قربان کرتے ہیں۔میں نے خان سے پوچھا کہ یہاں پر گنبد نما عمارت کیوں تعمیر نہیں کی گئی۔اس کا سادہ ساجواب تھا کہ اس کی اجازت نہیں ہے۔ میں نے اس سے دوبارہ سوال مناسب نہیں سمجھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ جب یہاں دھرتی ماں کا مزار تھا۔تب بھی وہ کھلے آسمان کے نیچے ہی تھا خان اور اسکے عزیز واقارب کو رات وہیں ٹھہرنا تھا۔لیکن مجھے اسی راستے سے واپس آنا تھا جب ہم لوگ لاری مائی واپس آئے اس وقت شام کا اندھیرا چھا رہا تھا۔میں نے ظاہر شاہ کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ دیگر خوبصورت چوٹیوں کی سیر کیلئے دوبارہ موقع ملا تو ضرور آئوں گا۔پھر ہم اندھیرے میں ہی لدھا کیلئے گاڑی میں سوار ہو گئے۔ یہ ٢٠٠٣ء تھا۔ٹھیک نو ماہ بعد پاکستانی فوج وزیرستان میں داخل ہوگئی اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ ظاہر شاہ اور اس کے دوست یہی خیال کرتے ہوں گے کہ میںجاسوسی کے مشن سے وہاں آیا تھا۔لیکن میں سنجیدگی سے سمجھتا تھا کہ اگر واقعی ان کے دل میں ایسا خیال پیدا ہوا تو میرے پاس اپنی صفائی کے لئے کیا ہو گا۔میں انہیں کس طرح یقین دلائوں گاکہ میرے پیش نظر تو سیروسیاحت کا ہی مقصد کار فرما تھا۔اور پاک آرمی سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔آج میرے اس سفرسے واپس آئے تقریباً چھ سال کا عرصہ بیت چکا ہے اور وزیرستان کو ممنوعہ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ہم لوگ رات کے اندھیرے میں تقریباً تین گھنٹوں تک محسود کے علاقوں میں اکیلے گھومتے رہے تھے۔لیکن آج کل میرے جیسا کوئی انسان وہاں جانے کا سوچے تو یقینا یہ خود کشی کے مترادف ہو گا۔ اب تو وہاں مقامی لوگ بھی رات کو سفر کرنے سے کتراتے ہیں۔بلکہ دن کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے مکمل حفاظتی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں اب تو یہ علاقہ غیر قانونی جنگجوئوں کی آما جگاہ بن چکا ہے اور کوئی بھی موت کے خوف سے آزاد نہیں ہے۔اور جنڈولہ ،کنی گورام اور لدھا کے علاقوں میں جہاں ہم کبھی بے خوف گھومتے رہے تھے اب یہ علاقے آئے دن کی خبروں کے موضوع بن چکے ہیں اور کوئی وہاں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔جنوری کے شروع میں ایک دن بری خبر نے مجھے چونکا دیا۔ وزیرستان میں کسی جگہ دو اشخاص کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔ان میں سے ایک کا نام فیروز خان تھا اور ان پر امریکیوں کیلئے جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔میرے پاس اس خبر کی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔کہ آیا یہ وجیہہ اور خوبصورت جاہ وجمال والافیروز خان تھا جس نے میرا سامان اٹھانے میں مدد کی تھی اور پیر غار تک بحفاظت پہنچایا تھا۔اگر یہ وہی تھا اور اسے اس روز مزار سے واپس آکر اولاد نرینہ کی خوشخبری مل گئی تھی۔ تو یقینا اب اس کا بیٹا چار سال کا ہوچکا ہوگا اور اس یتیم کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس کا باپ کون تھا۔اب اس کا اور تین بہنوں کا پرسان حال کون ہوگا۔اور خدا معلوم کہ جاسوس کون تھا؟
 
اگر وہ وہی فیروز خان نہیں تھا جس سے پہاڑی پر ملاقات ہوئی تھی لیکن پھر بھی وہ کسی کا باپ، بیٹا،بھائی خاوند ہونے کا حق تو محفوظ رکھتا تھا کون کیسے کہہ سکتا ہے کہ وزیرستان کا رہنے والا امریکیوں کیلئے جاسوسی کرنے کے لئے موزوں ہوگا۔کیونکہ یہ ایک ایسی سرزمین ہے جہاں دشمنی صدیوں چلتی ہے اور شیروں کی طرح بدلہ لینے کی روایت عام ہے۔اس طرح کی ظالمانہ اور بہیمانہ قتل کی وارداتیں شرم کا باعث ہیں۔اپنی خوبصورتی کے باوجود وزیرستان کبھی بھی سیاحوں کیلئے کشش کاباعث نہیں رہا سوائے چند ان لوگوں کے جو ملازمتوں کے سلسلے میں وہاں تعینات رہے۔ یا معدودے چند سیاح جو وہاں تک کبھی پہنچ سکے لیکن اگر کبھی کوئی میری طرح وہاں پہنچنے میں کامیاب بھی ہوا تواسے کسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔ محسود اور برکس کے علاقوں میںجس کا میں نے فوٹو اتارے جبکہ لدھا میں تحصیل دار کے دفتر کے ارد گرد کا ماحول بھی دوستانہ تھا اور آج کل اگر کوئی خارجی وہاں اغواء ہو جائے تو اس کے لئے بھی اسے شکر گذار ہونا چاہیے کہ اس کی جان تو محفوظ رہی۔میرے اس سفر کے اختتام پذیر ہوتے ہی وزیرستان کے راستے بیرونی دنیا کیلئے بند کر دئیے گئے ۔اور ہو سکتا ہے کہ میں ہی وہ آخری شخص تھا جس نے اس دلفریب جگہ کا نظارہ کیا تھا۔ جبکہ آج تو وہاں کے رہنے والے بھی بے حد پریشانیوں کا شکار ہیں۔یقینا یہ ان بد اعمالیوں اور بدانتظامیوں کا نتیجہ ہے جو حکومتی اداروں نے تقریباًچھ دہائیوں تک وہاں نہایت شدو مد سے برپاکئے رکھیں اور جس کا خمیازہ آج پوری قوم کو بھگتنا پڑرہا ہے۔

(بشکریہ ہیرالڈ فروری 2009ئ)
(انگریزی سے ترجمہ : مالک اشتر)