working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


 
اگلا شمارہ

Descent into Chaos: By Ahmed Rashid
منصور خان محسود

 احمد رشید پاکستان کے معروف مصنف اور صحافی ہیں۔ وہ گزشتہ ٢٥ سالوں سے افغانستان اور وسطی ایشیا کی کوریج کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں ان کی متعددتصنیفات بھی شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی نئی کتاب Descent into chaos دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں ہے۔ جس میں انہوں نے بڑے واضح انداز میں امریکہ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ امریکہ کو افغانستان کی تعمیر نو سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کی ساری توجہ صرف اسامہ اور القاعدہ پر مرکوز ہے جس کی وجہ سے افغانستان پھر سے خانہ جنگی کا شکار ہو رہا ہے، امریکہ کے شمالی اتحاد اور وار لارڈز پر انحصار نے افغان عوام کو پھر سے طالبان کی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے طالبان کی مقبولیت اور اثرپذیری بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر پشتون آبادی کے علاقوں میں طالبان طاقت پکڑ رہے ہیں۔ کئی صوبے صرف نام کی حد تک حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور عملاً ان پر طالبان کا قبضہ ہے۔

 احمد رشید نے منشیات کے سمگلرز جو کہ کرزئی حکومت میں شامل ہیں ان کے کردار پر کافی تنقید کی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جب تک امریکی اور کرزئی حکومت پوست کی کاشت کو ختم نہیں کرتی اور اس کی سمگلنگ کی روک تھام نہیں کرتی افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ طالبان اسی منشیات کے کاروبار سے ہونے والی آمدنی کو امریکہ کے خلاف جنگ میں استعمال کر رہے ہیں۔

 احمد رشید نے کرزئی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا شمالی اتحاد پر اور وار لارڈز پر انحصار لوگوں کو ان سے اور ان کی حکومت سے متنفر کر رہا ہے۔ احمد رشید نے اپنی کتاب میںپرویز مشرف اور پاکستان کے کردار پر بھی سخت تنقید کی ہے اور تمام معروضی حقائق کو ٢٠٠١ء سے لے کر ٢٠٠٧ء تک بیان کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے اب بھی طالبان سے روابط ہیں اور پاکستانی فوج اور حکومت طالبان کو مدد فراہم کر رہی ہیں، کوئٹہ میں طالبان کے کئی اہم رہنما موجود ہیں اور پاکستان کی ان دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے اندر حکومت اور طالبان کے درمیان جنگ ہو رہی ہے جس میں ہزاروں پاکستانی شہری، فوجی اور مقامی طالبان ہلاک ہو چکے ہیں۔ طالبان اب پاکستان کے لیے بھی خطرہ ثابت ہو رہے ہیں قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ بہت کمزور ہو چکی ہے اور FATA میں عملاً طالبان کا کنٹرول ہے۔

 احمد رشید نے سینٹرل ایشیا کی نو آزاد مسلم ریاستوں کا بھی ایک جائزہ پیش کیا ہے اور ان ممالک میں برسراقتدار انتہائی جابر اور ظالم حکومتوں کا مکمل خاکہ پیش کیا ہے اور ان کی یہی ظالمانہ پالیسیاں اسلامی بنیاد پرستی اور تشدد کو فروغ دے رہی ہیں۔

 احمد رشید نے افغانستان کے پشتونوں کے امریکہ اور کرزئی حکومت کے بارے میں تحفظات کا بھی تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ مقامی پشتونوں کو حکومت میں جائز حصہ نہ دینا بھی امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کا ایک سبب ہے۔ پشتونوں میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو ا کہ امریکی اور کرزئی حکومت ان کو حکومت سے باہر رکھنا چاہتی ہے اور یہ ناراضگی طالبان کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔

 احمد رشید نے اس کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ کا بڑا ہدف عراق تھا اور افغانستان اس کے بعد آتا ہے اور اس کی ساری توجہ عراق کو کنٹرول کرنے پر ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کمزور ہو گئی ہے اور سینٹرل ایشیا کی پانچوں مسلم ریاستوں، افغانستان اور پاکستان میں اسلامی انتہا پسندی بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے جو کہ اس خطے کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

 احمد رشید نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے نیٹ ورک کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بات قابلِ یقین نہیں کہ عبدالقدیر یہ سارا نیٹ ورک خود ہی چلا رہے تھے اور کس طرح سے ان کے اس نیٹ ورک نے پاکستان کو بدنام کیا، اب دنیا پاکستان کو ایک غیرذمہ دار ملک سمجھ رہی ہے۔

 یہ کتاب افغانستان، پاکستان اور سینٹرل ایشیا کے اندر لڑی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس کے اثرات کے بارے میں بہت واضح تصویر فراہم کرتی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کا بھی اس جنگ میںجو کردار ہے اس کا بہت واضح خاکہ پیش کیا ہے۔ یہ کتاب اسلامی بنیاد پرستی کے بارے میں بڑی اچھی معلومات فراہم کرتی ہے اور اس علاقے سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے یہ ایک بہت مفید کتاب ہے جس کو پڑھنے سے آپ پر فکر و نظر کے نئے زاویے آشکار ہوتے ہیں۔ مصنف نے پوری کوشش کی ہے اور وہ اس میںکامیاب بھی رہے کہ یہ اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک مضبوط حوالہ بن جائے۔