working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


 
اگلا شمارہ

آزادیٔ اظہار : میڈیا تقسیم کا شکار
صبا نور


 پاکستان میں آزادیٔ صحافت کا مسئلہ ایک عرصے سے موضوعِ بحث ہے مگر الیکٹرانک میڈیا کے انقلاب کے بعد اس بحث کو نئی جہتیں بھی ملی ہیں۔ اس سے قبل آزادی اظہار اولین مسئلہ تھا مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ ''کیا یہی آزادیٔ اظہار ہے؟''۔ یہ درست ہے کہ آج پاکستانی میڈیا بہت سی ناروا حکومتی پابندیوں کے جبر سے کسی قدر آزاد ہو گیا ہے۔ مگر آزادی بھی ایک مفہوم کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر یہ مفہوم کے بغیر ہو تو اس کو ''ڈکٹیٹرشپ'' ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے نوزائیدہ الیکٹرانک میڈیا کے کردار کو بہت سے ناقدین اسی پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔ شاید یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں ان تمام ممالک کا ہے جہاں میڈیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے اس لئے ہمیں بہرحال یہ اطمینان رکھنا چاہئے کہ جیسے جیسے ہمارے دیگر بحران ختم ہوں گے میڈیا کا بحران بھی ارتقائی مرحلے سے گذرتے ہوئے ختم ہو جائے گا۔ معروف دانشور ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ ''بحرانوں پر چلنے والا میڈیا بحران کے بغیر زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ جس طرح کاروبار کے لئے کیش ٹرن اوور کی ضرورت پڑتی ہے۔ میڈیا کے لئے بھی کرائسس ٹرن اوور ضروری ہوتا ہے اور وہ بحران تشکیل دینے میں مشغول رہتا ہے۔ ایسے بحرانوں کی تشکیل کے طریقے تلاش کرتا ہے جو قابلِ قبول ہوں اور ناظرین کے لئے تماشے کا لطف مہیا کر سکیں۔ ہمیں خود کو کرائسس رپورٹنگ کے جبر سے آزاد کرانا ہو گا۔'' پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی بے مہار آزادی کے حوالے سے میڈیا میں بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے معروف انگریزی جریدے نیوز لائن نے اپنے دسمبر 2008ء کے شمارے میں اس حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے جس کی تلخیص ہم مذکورہ جریدے کے شکریے کے ساتھ نذرِ قارئین کر رہے ہیں۔ (مدیر)


خالد احمد
 پاکستانی میڈیا کے دو شعبے (الیکٹرانک اور پرنٹ) ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ ایک کا خیال ہے کہ اسے توازن قائم رکھنا چاہئے اور مزے لے لے کر خواہ مخواہ تنقید نہیں کرنی چاہئے جبکہ دوسرا شعبہ کہتا ہے کہ سارا قصور ہی ان کا ہے۔ اس پس منظر میں کچھ صحافی باہم دست و گریبان نظر آتے ہیں۔ مکالمہ اگر حقیقی بنیادوں پر ہو تو نتائج قارئین یا سامعین پر چھوڑے جا سکتے ہیں۔ بجائے اس کے کوئی یہ خواہش کرے کہ صرف اس کانقطۂ نظر ہی مانا جائے۔ امریکہ جیسے ملک میں لبرل شعبے کی اجارہ داری ہے۔ جبکہ پاکستان میں صورتحال قطعاً مختلف ہے۔ 1980ء کی دہائی میں میڈیا دباؤ میں تھا لیکن مشرف کے دور میں یہ ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ وہ جس مینڈیٹ کے ساتھ آئے اس میں انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کو معاشی میدان میںنئی نئی ترغیبات دیں جس کے بعد ہونے والی سرمایہ کاری کے بعد پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے بھی مالی ترغیبات پیدا ہوئیں کیونکہ اب وہ زیادہ اشتہارات حاصل کر سکتے تھے۔ جب میڈیا کو حاصل ہونے والی آزادی خود مشرف کے گلے پڑی تو انہوں نے اس کے خلاف سخت اقدامات کئے جس کے نتیجے میں چینل مالکان کو نہ صرف اربوں روپے کا نقصان ہوا بلکہ ان چینلوں سے وابستہ صحافی بھی بے روزگار ہو گئے۔ چنانچہ قبل ازیں میڈیا کی جانب سے مشرف کو جو حمایت حاصل تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔ مشرف اور میڈیا ایک دوسرے پر شدید تنقید کرنے لگے۔ میڈیا نے اس سے قبل صدر مشرف کے اقدامات کو ملکی آئین، مینڈیٹ اور جمہوریت اور خارجہ پالیسی کے     پس منظر میں تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تھا مگر اب ٹی وی میزبان ان کی اور ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔ جب وکلاء کی تحریک شروع ہو کر سیاسی رخ اختیار کر گئی تو ٹی وی اینکر پرسنز کو پیچھے ہٹ جانا چاہئے تھا مگر یہ نہیں ہٹے۔ ٹھیک ہے کہ وکلاء کو ٹی وی کوریج ملنی چاہئے تھی مگر ان کی طرفداری نہیں ہونی چاہئے تھی۔

 وکلاء اور صحافیوں کی تنظیم سازی بھی ملتی جلتی ہے اگر وکلاء کی بار ایسوسی ایشنز ہیں تو صحافیوں کے پریس کلب۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ججوں سے وکلاء کی جانب جو طاقت آ گئی وہ طاقت    ٹی وی مالکان سے اینکر پرسنز کے ہاتھ نہیں آنی چاہئے تھی۔ قطع نظر اس کے کہ انہیں اپنے سامعین یا ریونیو ہی کھونا پڑتا۔ وکلاء کو تشہیر چاہئے تھی جو آزاد میڈیا نے فراہم کی۔ یہ صحافیوں کا درد سر نہیں کہ حکومت آئین کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ حالانکہ صحافیوں کو اس بات کی تنخواہ ملتی ہے کہ و ہ جلسے جلوسوں کی کوریج غیرجانبدار ہو کر کریں۔ انہیں تشہیر کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ جب کوئی جلسہ یا جلوس ہوتاہے تو اس کی تشہیر خودبخود ہی ہو جاتی ہے۔

 صحافت جس تیزی کے ساتھ پھیلی اس رفتار سے صحافیوں کی تربیت نہیں ہوئی۔ کچھ یونیورسٹیاں صحافت کا جو نصاب پڑھا رہی ہیں وہ اُردو پریس پر تو کسی حد تک لاگو ہوتا ہے مگر انگریزی پریس پر قطعاً نہیں مگر زیادہ تر اینکر پرسنز اُردو پریس سے ہی آئے۔ پہلے مرحلے میں بڑے بڑے کالم نگاروں کو بھاری تنخواہوں پر چینلوں نے رکھ لیا۔ چونکہ اس طرف پیسہ تھا اس لئے دوسرے اور حتیٰ کہ تیسرے درجے کے کالم نگار بھی اینکر بن گئے۔ جس کا نتیجہ بسیار خرابی ہی تھا۔ اینکر پرسنز نے مقبولیت حاصل کرنے کے لئے تنقید برائے تنقید کا سہارا لیا۔ وہ اپنے فرائض یکسر بھول گئے۔ وکلاء اور صحافی ایک ہی کشتی کے سوار ثابت ہوئے۔
 اکثر چینل ایک دوسرے کو مات دینے کی دوڑ میں یہ بھی نہ سوچ سکے کہ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور وہ ایسا کر کے کس کو فائدہ اور کس کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جو لکھاری دہشت گردوں کے خلاف لکھ رہے تھے انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے وہ آزاد پھر رہے تھے۔ پھر جب وہ لکھاری جو طالبان مخالف تھے انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تو ایک معروف ٹی وی اینکر نے اپنے کالم میں ان کے خلاف بھڑاس نکالی۔ القاعدہ نے میڈیا جنگ اس لئے بھی جیت لی کیونکہ ان کے لوگوں کی اموات کو میڈیا میں تشہیر ملی اور پھر ''آزاد میڈیا'' کا سہارا لے کر اینکر پرسنز اور سیاستدانوں نے ٹی وی شوز میں آ کر حکومت کی دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

 لاہور میںہونے والے ایک حالیہ سیمینار اس نتیجے پر ختم ہوا کہ ''پاکستانی میڈیا نہ صرف شدت پسندی اور جنگجویانہ نظریات کو فروغ دینے کا موجب بن رہا ہے بلکہ ایسے نظریات پر مبنی تنظیموں کو میڈیا سے شہہ مل رہی ہے جس کے بعد پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی کے عنصر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ اگر شدت پسند طاقتیں غالب آ گئیں تو اُن کا پہلا نشانہ بھی میڈیا ہو سکتا ہے۔''

 پریشان ہونے کی کیا وجہ ہے؟ تقسیم تو پہلے سے موجود تھی۔ اُردو پریس پاکستانی قومیت کے جذبے کو پروان چڑھاتا رہا جبکہ انگریزی پریس زیادہ تر کاروبار ریاست کی دیکھ بھال پر مرکوز رہا۔ اُردو پریس نے اس وقت قومیت پرست اقدار کی حفاظت کا بیڑا اٹھائے رکھا جب باقی دنیا میں اس کا رواج ختم ہو رہا تھا۔ اوّل الذکر اپنی اخلاقی دانست میں تنگ نظر ثابت ہوا جبکہ مؤخر الذکر زیادہ معلومات تک رسائی کی وجہ سے منطقی اضافت کے قریب تر رہا۔ ماضی میں کچھ ایسے لمحات بھی آئے جب اخبارات زبان کی خندقوں میں مورچہ زن ہو کر آپس میں لڑتے رہے۔ اس لڑائی کا کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلا لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔

 ٹیلی ویژن زیادہ طاقتور ہیں اور اس کی رسائی دور دور تک ہے۔ زبان و بیان کی اب اتنی اہمیت نہیں رہی۔ چیزوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی یک رخی ذہنی تطہیر معاشرے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ نئی نسل کے لڑکے لڑکیاں جو اُردو زبان میں معیشت کے اوپر تجزیات پیش کر رہے ہیں تازہ ہوا کے جھونکوں کی طرح ہیں کیونکہ یہ مضمون ماضی میں اُردو پریس کے لئے شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہی وہ نئی صبح ہے جو حقیقت پسندانہ اور غیرمتعصب بحث پر مبنی دانائی کا رُخ متعین کرے۔ دوسری تقسیم بہرحال اپنی جگہ پرموجود رہے گی بشرطیکہ ایک طرف کی دلیل القاعدہ جیسی آئیڈیالوجی کے ہاتھوں قتل نہ ہو جائے۔

نادر حسن
 بعض صورتوں میں الیکٹرانک میڈیا پر تنقید جائز بھی ہے لیکن بہت سے موقعے آئے جب اس نے ایسی مبالغہ آمیزی کے یکسر خلاف کام کیا۔ مثال کے طور پر 2005ء کا زلزلہ جب الیکٹرانک میڈیا نے اپنی رپورٹنگ، خبروں، تبصروں اور تجزیوں کے ذریعے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی توجہ بھی زلزلہ زدہ علاقوں اور متاثرین کی جانب مبذول کروائی۔ اگرچہ اس موقع پر بعض خامیاں بھی سامنے آئیں مگر ان کو اس لئے نظر انداز کیا جانا چاہئے کہ یہ پاکستان کے نوزائیدہ الیکٹرانک میڈیا کے لئے بالکل نئی طرح کی صورتحال تھی۔ لیکن اسی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ میڈیا کوریج کی وجہ سے امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں میں بہت مدد ملی۔ حالانکہ اس سے قبل لوکل میڈیا کو ہمیشہ عالمی میڈیا کے ذریعے پاکستان کی حقیقی صورتحال کا پتہ چلتا تھا مگر زلزلے کے دوران پہلا موقع تھا جب عالمی میڈیا کو پاکستانی میڈیا کے ذریعے رہنمائی حاصل ہوئی۔ اس دوران جیو، اے آر وائی اور آج کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور جب سی این این اور بی بی سی اس کوریج کے لئے پاکستان آئے تو پاکستانی چینلوں کو ان پر برتری حاصل تھی۔ اس حوالے سے تنقید کی گنجائش بھی ہے۔ مثلاً اس سانحہ میں وفات پانے والے لوگوں کی تصویریں باربار دکھانے سے بچوں پر بُرا اثر پڑا، پھر زلزلے کے دوران انتہا پسند مذہبی سکالروں کو بہت زیادہ وقت دیا گیا جنہوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کہ زلزلہ خدا کا عذاب ہے کیونکہ پاکستان خدا کے بتائے ہوئے راستے سے ہٹ گیا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس بات کا اظہار کیا جانا چاہئے کہ پاکستانی میڈیا نے بحیثیت مجموعی اس موقع پر مثبت کردار ادا کیا۔ 

 دراصل یہی وہ تحریک تھی جس نے الیکٹرانک میڈیا کو ایک اور مرحلے پر اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور کیا۔ جب معزول چیف جسٹس کے لئے وکلاء آگے آئے تو میڈیا ان کو کوریج دینے پر مجبور تھا۔ جس کے جواب میں جب پرویز مشرف نے میڈیا پر پابندیاں لگائیں اور ایمرجنسی نافذ کی تو میڈیا کا ردّعمل فطری تھا۔ کیونکہ بہت سے مقبول ٹاک شوز پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ حامد میر، طلعت حسین جیسے میزبانوں نے سڑکوں پر اپنے اپنے پروگراموں کا انعقاد کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا۔ عوام کی ان شوز میں بھرپور شرکت کے ذریعے بعدازاں ان چینلوں اور پروگراموں کی بحالی میں مدد ملی۔ جس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ الیکٹرانک میڈیا اب ایک اہم سیاسی کردار ہے جس کو حکومتی پالیسیاں تبدیل کرانے پر بھی قدرت حاصل ہے اور پھر یہ دو دھاری تلوار ثابت ہوئی اگرچہ اس نے اپنی یہ صلاحیت مکمل فہم و فراست سے استعمال نہیں کی۔

 اس سے چند ماہ قبل لال مسجد کے واقعہ پر الیکٹرانک میڈیا نے اپنی طاقت کا ازخود ادراک کر لیا تھا کیونکہ اس سے قبل بھی میڈیا معزول چیف جسٹس کے ایشو پر پرویز مشرف کے خلاف تھا۔ اس لئے اس نے اس ایشو پر بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اپنے ہی لوگوں کو مار رہی ہے جبکہ کچھ روشن خیال صحافیوں نے کہا کہ لال مسجد والے حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے جن کا قلع قمع ضروری تھا۔

 اس موقع پر الیکٹرانک میڈیا کے کردار پر حکومت کی جانب سے تنقید کی گئی کہ اس نے صحافتی اصول و ضوابط کی خلاف ورزیاں کیں جن میں فوجی دستوں کی نقل و حمل دکھانا بھی شامل تھا جس کے ذریعے لال مسجد کے اندر موجود شدت پسندوں کو کافی مدد ملی۔

 ٹاک شوز کے میزبانوں کا کردار بھی باعثِ شرم رہا۔ جنہوں نے عبدالرشید غازی کے پے در پے انٹرویو کئے۔ حتیٰ کہ کچھ نے عبدالرشید غازی کو حکومت کے خلاف جدوجہد پر اپنے مشوروں سے بھی نوازا جبکہ دوسری طرف انہیں حکومت کی جانب سے سرنڈر پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ کچھ میزبانوں نے حکومت اور عبدالرشید غازی کے درمیان براہِ راست مذاکرات اپنے اپنے شوز میں کروائے۔ یہ پہلا موقع تھا جب الیکٹرانک میڈیا نے رپورٹنگ کی بجائے ازخود خبریں بنائیں۔
 پاکستان ٹیلی ویژن نے بھی غیرپیشہ وارانہ رویہ اپناتے ہوئے مولانا عزیز کو برقعے میں پیش کر کے ان کی اپنے شو میں نقاب کشائی کی۔ یہ تذلیل سب سے بری مثال ہے جس کے ذریعے ٹیلی ویژن سٹیشنوں نے حقیقت اور افسانے کے مابین ایک واضح لکیر کھینچ دی اور یہ کہ خبر کیا ہوتی ہے اور ایک من گھڑت افسانہ کیا ہوتا ہے۔

 بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ لال مسجد کی کوریج، میڈیا کی ناکامی تھی۔ کیونکہ اس میں میڈیا جنگجوؤں کے ٹینکوں میں بیٹھا نظر آیا۔ اس کے بعد ہونے والے مذہبی ٹاک شوز کے ذریعے پاکستانی معاشرے میں شدت پسند سوچ کو رواج ملا۔

 کئی حوالوں سے مقبول لیکن متنازعہ ڈاکٹر عامر لیاقت جو کہ جیو پر ''عالم آن لائن'' کے میزبان ہیں۔ وہ اس وقت خود خبروں کا حصہ بن گئے جب ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان سابق وزیر صاحب کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری جعلی ہے جو کہ ایک آن لائن ڈگری فیکٹری سے خریدی گئی ہے۔ مزید برآں ایک بار پولیس نے ان کی گاڑی کو روکا تو انہوں نے مکا جڑ دیا۔ انہوں نے اپنے ایک شو میں دو مذہبی سکالروں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ احمدی فرقہ والے مرتد ہیں جن کی سزا موت ہے۔ جس کے بعد کچھ احمدیوں کو قتل بھی کر دیا گیا۔ اس واقعہ پر انہیں ایم کیو ایم سے نکال دیا گیا۔

 اس طرح کی کچھ مثالیں دے کر یہ ثابت کیا جاتاہے کہ میڈیا انتہا پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا مختلف چیزوں کی حساسیت کا خیال رکھے بغیر کام کر رہا ہے۔ دراصل زیادہ سے زیادہ ناظرین کو متوجہ کرنے کے لئے الیکٹرانک میڈیا وہ کچھ کر رہا ہے جس کی اجازت صحافیانہ اصول و ضوابط نہیں دیتے۔ سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ نے الیکٹرانک میڈیا کو خبر کی تصدیق کے مرحلے سے آزاد کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر یاسر عرفات، فیڈرل کاسترو اور نصرت بھٹو کے مرنے کی خبریں اس وقت چلا دی گئیں جب وہ بسترِ مرگ پر تو تھے مگر ابھی مرے نہیں تھے۔ یہی حشر احمد فراز کے ساتھ کیا گیا۔ اس طرح دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں مرنے والے افراد کی تعداد کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ کون سی خبر کس قسم کی توجہ چاہتی ہے، کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ ایک چینل نے خبر دی کہ چکلالہ ایئرپورٹ پر ایک جہاز کھڑا ہے جو اسلام آباد کے کسی بہت اہم خاندان کو لینے آیا ہے، جو کہ اپنا سامان پیک کر چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ خبر اُس وقت کے صدر مشرف کے متعلق تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس میں حقیقت نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ اس کے بعد بھی چینل بضد تھا کہ ان کی خبر درست ہے اور مشرف مستعفی ہو رہے ہیں۔ اگرچہ اس خبر کو درست ثابت ہونے میں مزید کئی مہینے لگے۔

 بعض مواقع پر الیکٹرانک میڈیا یہ تاثر بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے کردار کو ازخود بھی تنقید کی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ جیسا کہ افتخار احمد نے اپنے سابق رفیق کار ڈاکٹر شاہد مسعود کو اپنے پروگرام ''جوابدہ'' میں بلایا۔ جس میں افتخار احمد نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو آڑے ہاتھوں لیا کہ وہ کس طرح چربہ سازی کرتے ہیں، پینترے بدلتے ہیں جو انہیں ایک صحافی نہیں بلکہ ایک سیاستدان ثابت کرتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے لال مسجد کے ایشو پر کیا۔ اس طرح انہوں نے ''آج کامران خان کے ساتھ'' میں کئی مرتبہ ایسی گفتگو کی جو بعدازاں سفید جھوٹ ثابت ہو گئی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی مبالغہ آمیزی کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا کہ وہ نہ تو عشرت العباد کے ہم جماعت تھے اور نہ ہی وہ اُس وقت صدر مشرف کے ساتھ تھے جب انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے تھنک ٹینک ''ڈائیلاگ'' نے جو پروگرام دبئی اور امریکہ میں کئے اس کے اخراجات مدعوئین نے خود برداشت کئے جبکہ ''آج کامران خان کے ساتھ'' میں ایک شریک کار نے کہا کہ اس کے اخراجات ڈاکٹر شاہد مسعود نے خود ادا کئے تھے۔ لیکن اس تمام تر صورتحال کے باوجود جیو نیوز نے ایک دن اعلان کیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود ایک بار آپ سے مخاطب ہونے کے لئے آ رہے ہیں ''میرے مطابق'' میں۔

حامد میرـ اینکر پرسن
 اس سوال پر کہ ایک ٹی وی میزبان کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں، کیا اسے صرف اپنے ناظرین کو باخبر رکھنا ہوتا ہے یا پھر یہ کہ اسے کسی ایک نقطۂ نظر کا حصہ بن جانا چاہئے یا پھر غیرجانبدار رہنا چاہئے؟ اس پر حامد میر کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ 21 سال سے صحافت میں ہیں جبکہ انہیں میزبانی کرتے ہوئے صرف چھ سال ہوئے ہیں۔ میں سب سے پہلے ایک صحافی ہوں اور پھر میزبان۔ میں یہ اس لئے بھی کہہ رہا ہوں کیونکہ پاکستان میں کچھ ایسے ٹاک شوز بھی ہو رہے ہیں جنہیں صحافیانہ اخلاق و ضوابط کا کچھ پتہ نہیں۔ بعض اوقات وہ لطیفہ ثابت ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں ٹاک شوز کے میزبان کو سب سے پہلے ذمہ دار ہونا چاہئے۔ تاکہ وہ اپنے ناظرین کو مختلف پہلوؤں سے دیانتداری کے ساتھ روشناس کرا سکے۔ ناظرین خود فیصلہ کر سکتے ہیں وہ یہ باآسانی سمجھ جاتے ہیں کہ صحیح کون ہے اور غلط کون۔ بعض اوقات مجھے تحقیق کر کے اپنے ناظرین کے سامنے چھپے ہوئے سچ کو لانا ہوتاہے یہ میرا فرض بھی ہے۔ میں خود کواسلام آباد کے ائیر کنڈیشنڈ سٹوڈیو کے مقابلہ پر افغانستان، عراق، لبنان اور چیچنیا کے جنگی میدان میں زیادہ راحت سے محسوس کرتا ہوں۔  جنگ کے دوران بھی میں نے کبھی ایک نقطۂ نظر نہیں دکھایا۔ میں نے بغداد میں 2003ء کے اندر امریکی فوجیوں اور عراق کے انسانی حقوق کے لوگوں کو آمنے سامنے بٹھایا۔ میں نے کئی شوز میں طالبان اور نیٹو فوج کے خیالات کو ایک ساتھ پیش کیا۔ ٹاک شو کے میزبان کو جانبدار نہیں ہونا چاہئے لیکن بعض اوقات مَیں اچھے اور برے کے درمیان غیرجانبدار نہیں رہ سکتا۔ میںپاکستان میں آمریت کے مقابلے پر جمہوریت کی حمایت کروں گا۔ میںبااثر اور طاقتور جاگیردار کے مقابلے پر کسی مظلوم اور غریب عورت کی حمایت کروں گا۔ میں معصوم اور نہتے شہریوں کی حمایت کروں گا چاہے وہ جنگجوؤں کے ہاتھوں مارے جائیں یا فوج کے، حق پرست لوگوں کی حمایت کئے بغیر آپ شیطانی طاقتوں کو شکست نہیں دے سکتے لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ میں سیاسی جماعت بن گیا ہوں۔ مجھے گذشتہ پندرہ سالوں میں مختلف حکومتوں نے بڑی پیشکشیں کی ہیں مگر میں نے انکار کر دیا کیونکہ مجھے سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں۔ 1994ء میں جب پیپلز پارٹی حکومت میںتھی تو مجھے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے جبکہ دوبارہ 1997ء میں جب مسلم لیگ نواز کی حکومت تھی تو بھی مجھے نوکری سے نکالا گیا۔ 2007ء میں جب مشرف اقتدار میں تھا تو مجھ پر پابندی لگ گئی۔ میرا ماضی گواہ ہے کہ میں نے کسی سیاسی گروپ کی جانبداری نہیں کی۔

 ''کیا یہ کہنا مناسب ہو گا کہ آپ کے سخت گیر مؤقف کی وجہ سے حکومت جنگجوؤں کے خلاف کوئی انتہائی اقدام نہیں اٹھا سکتی''۔ اس سوال پر حامد میر نے کہا کہ قطعی ایسا نہیں ہے۔ میں کسی حکومت کے سامنے فریق نہیں بنتا۔ میں صرف سچ بولتا ہوں، ان لوگوں کے خلاف جو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں قانون اور اپنے وعدے توڑتے ہیں۔ میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ''کیپٹل ٹاک'' میں مدعو کرتا ہوں۔ میں موجودہ حکومت کے بارے میں مارچ سے اگست 2008ء تک بہت نرم رہا کیونکہ میرا خیال تھا کہ اسے وقت ملنا چاہئے۔ حتیٰ کہ سول سوسائٹی کی جانب سے آصف زرداری کے صدر بننے پر کئے جانے والے سوالات کو بھی میں نے نظرانداز کیا۔ لیکن میں نے اس وقت سوالات ضرور اٹھائے جب انہوں نے اپنے کچھ وعدے پورے نہیں کئے۔ لیکن اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ میں حکومت مخالف ہوں۔ لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اکثریت کے ساتھ ہوں۔ جس میں صدر کے جنگجوؤں کے خلاف اقدامات بھی شامل ہیں ۔میں پارلیمنٹ کی وہ قرار داد جس میں دہشت گردی کا مقابلہ شامل ہے اس کی بھرپور حمایت کرتا ہوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ تو مذہبی انتہا پسندوں کے ساتھ ہوں اور نہ ہی لبرل فاشسٹ کے ساتھ، مجھے معلوم ہے کہ ریاست کے کچھ ادارے مجھ سے خوش نہیں کیونکہ میں نے فاٹا میں ان معصوم شہریوں کے دکھوں اور درد کو سامنے لایا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ہولناک نشانہ بنے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گھر اور کاروبار تباہ ہو گئے اور وہ اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بن گئے۔

 ''بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کے خفیہ اداروں کے ساتھ قریبی مراسم ہیں۔'' اس سوال پر حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ بہت سے لوگ کون ہیں؟ کیا کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے؟ ایئر مارشل اصغر خان نے آئی ایس آئی سیکرٹ فنڈز کے ثبوت سپریم کورٹ میں پیش کئے جس میں کئی صحافیوں کے نام بھی ہیں، لیکن اس میں میرا نام نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ میں ہمیشہ خفیہ اداروں کا نشانہ رہا۔ جب میں اخباری صحافی تھا تو دو بار نوکری سے نکالا گیا اور جب اینکر بنا تو دو بار ''پابندی'' کا سامنا رہا۔ اگر میرے خفیہ اداروں سے روابط ہوتے تو اس موقع پر یہ میری مدد کو کیوں نہیں آئے۔ یہ سب کچھ میرے خلاف خفیہ اداروں کی مہم ہے۔ میرے کچھ صحافی دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ چیزیں رقابت پر مبنی ہیں۔ مجھے سب سے پہلے اگست 1990ء میں لاہور سے آئی ایس آئی نے اغواء کیا۔ کیونکہ میں نے 2 اگست 1990ء کو یہ خبر دی تھی کہ صدر غلام اسحق خان نے بینظیر حکومت کی برخاستگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تب یہ خبر میرے اخبار نے آخری صفحہ پر سنگل کالم میں شائع کی تھی۔ اسی شام کو مجھے آئی ایس آئی نے اٹھا لیا۔ وہ مجھ سے اس خبر کے ذرائع پوچھنا چاہتے تھے۔ میں نے انکار کیا جس پر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 1992ء میں مجھے آئی بی نے نشانہ بنایا کیونکہ نواز شریف مجھ سے خوش نہیں تھے۔ اس موقع پر بینظیر بھٹو نے میری حمایت میں پریس کانفرنس کی اور ان کے اس وقت کے سیکرٹری اطلاعات سلمان تاثیر نے میرے حق میں کئی بیانات دئیے اور آئی بی کی مذمت کی۔ 1994ء میں مجھے ایک بار پھر اُس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب میں نے ا سرائیل کے وزیر خارجہ شمعون پیریز کا سوئٹرزرلینڈ میں انٹرویو کیا۔ تب یہ کسی بھی اسرائیلی حکومتی اہلکار کا کسی پاکستانی صحافی کے ساتھ پہلا انٹرویو تھا۔ جب میں پاکستان واپس آیا تو مجھے ایک بار پھر ایجنسیوں نے اٹھا لیا۔ وہ مجھے موساد کا ایجنٹ ثابت کرنا چاہتے تھے۔ جب میں نے نومبر 2001ء میں اسامہ بن لادن کا انٹرویو کیا تو مجھے حسب معمول آئی ایس آئی نے اٹھا لیا۔ مجھے یاد ہے کہ کوئی اخبار میرا انٹرویو شائع کرنا نہیں چاہتا تھا مگر ڈان کے حمید ہارون نے ہمت کی اور تصاویر کے ہمراہ میرا انٹرویو چھاپ دیا۔ جب آئی ایس آئی اس انٹرویو کو روکنے میں ناکام ہو گئی تو میجر جنرل احتشام ضمیر بہت ناراض ہوئے۔ ایک دن انہوں نے مجھ پر یہ الزام بھی لگایا کہ میں انڈین ایجنٹ ہوں اور میں نے یہ انٹرویو ایک کروڑ روپے میں ڈان کو بیچا۔

 میں وہ پہلا اینکر ہوں جس نے خفیہ اداروں کے کردار پر پروگرام کئے۔ میں نے ''کیپٹل ٹاک'' میں جاوید اشرف قاضی، اسد درانی اور حمید گل کو مدعو کیا اور انہیں مجبور کیا کہ وہ سیاست میں اپنی مداخلت کی غلطی کو تسلیم کریں۔ اس شو کے فوراً بعد مجھے PEMRA کی جانب سے شوکاز نوٹس بھی موصول ہوا جس میں مجھ پر قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس کے بعد اکتوبر 2006ء میں خفیہ اداروں کے ساتھ ایک لمبی بحث شروع ہوئی وہ مجھے معافی مانگنے پر مجبور کرتے رہے مگر میں نے ایسا نہیں کیا۔

 ''آپ کے شو میں عموماً ایک جیسے لوگ ہی آتے ہیں کیا اس سے تکرا ریا یکسانیت کا عنصر نہیں آتا؟'' اس سوال پر حامد میر کا کہنا تھا کہ میںپھر کہتا ہوں کہ ناظرین بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی شخص کی بار بار آپ کے پروگرام میں شرکت سے آپ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ نئے چہرے اور نئے موضوعات ضروری ہیں اور اس کے لئے ہم کوشش بھی کرتے ہیں۔ مثلاً ہم نے وزیر تعلیم میر ہزار خان بجرانی کے ساتھ ہیومن رائٹس کے ماہر ثمر من اللہ کو بلایا کہ وہ قبائلی جرگہ سسٹم پر بات کریں کسی اور چینل نے یہ نہیں کیا۔ کچھ عرصہ قبل ہم نے نیویارک کی ایک مسجد میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان بین المذاہب مکالمہ کرایا۔ ہم نے پاکستانی اور افغان پارلمنٹرینز کے ساتھ کابل میں مکالمہ کرایا۔ میں نے دہلی میں پاکستانی اور بھارتی سیاستدانوں کے باہمی شو کی میزبانی کی۔ ہم نئی مثالیں اور روایات قائم کرنا چاہتے ہیں۔

 ''جب لال مسجد والے حکومت کی رٹ کی چیلنج کر رہے تھے ہم نے دیکھا کہ کئی میزبان ان کے مقصد کے لئے ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں۔'' اس سوال پر حامد میر گویا ہوئے: آپ کو بتانا چاہئے کہ وہ کون تھے۔ میرا خیال ہے کہ جنگجوؤں کے پاس کوئی سیاسی یا نظریاتی وجہ نہیں۔ یہ کہنا اتنا سادہ نہیں کہ جنگجو حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے بلکہ یہ ایک ڈرامہ رچایا گیا تھا جس کا مرکزی خیال مشرف کا تھا۔ سی ڈی اے نے جنوری 2007ء میں اسلام آباد کی کچھ مساجد کو گرایا۔ جن میں ایک مسجد امیر حمزہ بھی تھی جو کہ سو سال سے زیادہ قدیم تھی۔ اس علاقے کے لوگ مدد کے لئے لال مسجد والوں کے پاس گئے جس پر مولانا عبدالعزیز نے اس وقت کے وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کے ساتھ بات کی لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔ جس کے بعد جامعہ حفصہ کی ام حسان نے لال مسجد سے متصل ایک حکومتی عمارت پر قبضہ کر لیا۔ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا لیکن مشرف حکومت اسے اچھالنا چاہتی تھی۔ عبدالرشید غازی حکومتی عمارت پر قبضہ کرنے کے خلاف تھے۔ انہوں نے کئی بار کوشش کی کہ اس مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کر لیا جائے مگر مشرف ایسا نہیں چاہتے تھے۔ ایسا کر کے وہ دو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اول یہ کہ وہ مغرب کو یہ تاثر دے سکیں کہ اگر انہیں ہٹایا گیا تو اسلام آباد پر مولوی قبضہ کر لیں گے۔ دوسرا وہ میڈیا کی توجہ عدالتی بحران سے ہٹا کر لال مسجد کی جانب کرنا چاہتے تھے۔ میں نے مئی 2007ء میں لال مسجد کے اندر شو کیا تھا۔ میں نے سینیٹر طارق عظیم کو راضی کر لیا کہ وہ میرے ساتھ لال مسجد جائیں تاکہ حکومتی مؤقف کو پیش کر سکیں۔ یہ ایک کامیاب شو تھا جس میں مولانا عبدالعزیز مسئلے کے پرامن حل پر راضی تھے۔ 

 میڈیا 3 جولائی2007ء تک لال مسجد والوں کی حمایت نہیں کر رہا تھا۔ جب ایک ٹی وی کیمرہ مین رینجرز کی گولیوں کا نشانہ بنا تو میڈیا نے رینجرز کی کوتاہی کی شدید مذمت کی۔ جس کے ردعمل میں مشرف کے حواریوں نے آپریشن والے علاقے میں میڈیا پر پابندی عائد کر دی۔ ان کا کرفیو صرف میڈیا کے خلاف تھا۔ رینجرز کو کہا گیا کہ وہ ہسپتالوں کے اندر زخمیوں کو کور کرنے والے صحافیوں کو ماریں۔ یہ ڈرامہ اُس وقت ختم ہوا جب سات جولائی کو مولانا عبدالعزیز لال مسجد کے باہر برقعے میں گرفتار ہو گئے۔ اس روز مجھے عبدالرشید غازی نے فون کیا کہ چوہدری شجاعت کو بتاؤ کہ میں سرنڈر کے لئے تیار ہوں اگر میری تذلیل نہ کی جائے۔'' جس پر دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے۔ اسی رات مولانا عبدالعزیز کو پی ٹی وی پر پیش کیا گیا اور انہیں بھی مجبور کیا گیا کہ وہ ڈاکٹر قدیر کی طرح سب کچھ قبول کر لیں۔ یہ بہت خوفناک تھا۔ عبدالرشید غازی جو کہ مولوی نہیں بلکہ یونیورسٹی گریجویٹ تھے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بڑے بھائی کی تذلیل کے بعد عزت کے ساتھ مرنا پسند کریں گے۔ 10جولائی کو چوہدری شجاعت نے انہیں ایک بار پھر سرنڈر کرنے پر قائل کر لیا مگر مشرف نے فوجی آپریشن کا حکم دے دیا۔ یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا اسی لئے ہم نے کئی سوالات اٹھائے جس کا جواب حکومت کے پاس نہیں تھا۔ ہاں کچھ امور پر میڈیا نے حکومت کا ساتھ نہیں دیا کیونکہ حکومت بھی جنگجوؤں کی طرح قوم کے ساتھ دوہرا کھیل پیش کر رہی تھی۔

 ''کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ صحافی کارکن کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ کیا اس سے ان کی کوریج میں تعصب پیدا نہیں ہو جاتا۔''

 جب نومبر 2007ء سے مارچ 2008ء تک پرویز مشرف کی جانب سے مجھے پابندیوں کا سامنا رہا تو میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ میں احتجاج کروں۔ میں آزادی صحافت اور آئین کی حکمرانی کا کارکن بن گیا۔ میں نے ہر جگہ حکومت کو چیلنج کیا جس پر حکومت نے کوشش کی کہ وہ مخصوص کورٹ میں اپنے من پسند ججوں کے ذریعے میرا ٹرائیل کرے۔ ایک مرحلے پر میں بے بس ہو گیا۔ مجھے اس بات پر مجبور کیا گیا کہ یا میں بھاری رشوت لوں یا پیشہ چھوڑ دوں۔ شوکت عزیز نے کوشش کی میں جیوکو چھوڑ کر پی ٹی وی میں بھاری تنخواہ پر نوکری کر لوں۔ میں نے انکار کر دیا۔ ایک دن ایک وزیر نے مجھے بتایا کہ مجھے سڑک کے کسی معمولی حادثے میں ہلاک کر دیا جائے گا۔ سو میرے پاس ایک ہی راستہ بچا تھا کہ میں سڑکوں پر آ کر احتجاج کروں۔ میں نے اپنے شو بھی سڑک پر کئے۔ یہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ لیکن آپ نے دیکھا ہو گا کہ میرے شو کی بحالی کے بعد بھی بہت سے لوگ مشرف کی حمایت میںبولتے تھے۔ مجھے ان پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ یہ ان کا حق ہے۔

 ''کیا آپ نے کبھی سوچا کہ طالبان کو اگر اقتدار مل گیا تو اس کے بعد صحافتی آزادیوں پر کیا اثر پڑے گا۔'' کے جواب میں حامد میر کا کہنا ہے کہ میں جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں اور آج کے دن تک طالبان جمہوریت کو نہیں مانتے۔ میرا خیال ہے کہ طالبان جمہوریت کے ذریعے کبھی پاکستان کا اقتدار حاصل نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے کچھ علاقوں میں طالبان کی مقبولیت فطری ہے نہ کہ ان کی فکر کی وجہ سے، کچھ علاقوں میں لوگ اس لئے ان کے حامی ہیں کیونکہ وہ امریکہ اور فوج کے مخالف ہیں مگر یہ لوگ طالبان کو ووٹ نہیں دیتے۔ وہ جانتے ہیں کہ طالبان قبائلی علاقوں میں تیز ترین انصاف مہیا کر سکتے ہیں مگر وہ ملک نہیں چلا سکتے۔ میرا خیال ہے کہ اگر طالبان بندوق کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیں تو وہ میڈیا کو کسی قسم کی آزادی نہیں دیں گے۔ وہ ٹی وی اینکرز کو ہتھکڑیاں لگا دیں گے۔ اگر طالبان ہمارے سیاسی عمل میں شامل ہو جائیں تو میں ان کو خوش آمدید کہوں گا۔ وہ اپنے نظریاتی مقاصد کے حصول کی جنگ آئین کے دائرے میں رہ کر لڑیں۔ آئین کا آرٹیکل 31 ان کی نظریاتی فکر کے بہت قریب ہے۔ میرا خیال ہے کہ انہیں ہتھیار پھینک کر سیاسی طریقے سے اپنے مقاصد حاصل کرنے چاہئیں نہ کہ تشدد کے ذریعے۔

عامر ضیاء ،ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیرز سماء ٹی وی
 ''کیا الیکٹرانک میڈیا کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے۔'' اس سوال پر عامر ضیاء کا کہنا تھا کہ الیکڑانک میڈیا ترقی کے مراحل میں ہے اور اسے ابھی بہت وقت درکار ہے۔ ہمیں کسی ایسے طریقۂ کار کی ضرورت ہے جس میں ہم غیرجانبدار اور فریق بنے بغیر کوریج کر سکیں۔ ابھی بہت سارے چینل جذباتی رو میں بہہ رہے ہیں۔ ہمارے میڈیا کے بہت سے لوگ پروفیشنل کی بجائے کسی تحریک کے کارکن جیسا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس طرح ہمیں صرف ضابطہ اخلاق کی ہی نہیں کسی ایسے قانون کی بھی ضرورت ہے جس کے تحت میڈیا سے متاثرہ افراد کو بھی انصاف مل سکے۔ اس طرح کے قوانین اکثر مہذب ممالک میں موجود ہیں۔
 ''کیا اسی طرح کے ضابطے حکومت کو بنانے چاہئیں یا پھر میڈیا کے لوگوں کو۔'' اس سوال کے جواب میں عامر ضیاء کا کہنا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز حکومت، صحافی، مالکان اور ادارہ جاتی لوگوں کو مل کر ایسا ضابطہ بنا لینا چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ اس طرف کام تو ہو رہا ہے لیکن اس پر اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے تاکہ اس کو نافذ بھی کیا جا سکے۔ میڈیا کے اداروں کو اپنے اندر بھی ایک ضابطہ بنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ صحافیوں کو معلوم ہو کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کس سے اجتناب کرنا ہے۔

 ''آپ محسوس کرتے ہیں کہ میڈیا کے کچھ چینل متعصب ہیں اور وہ جنگجوؤں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔'' اس کے جواب میں عامر ضیاء نے کہا کہ بڑے چینلوں سے وابستہ کچھ لوگ اس تعصب کا شکار ہیں جو اپنے اپنے اداروں میں ادارتی کنٹرول کی کمی کی وجہ سے انتہا پسندانہ خیالات کو فروغ دے رہے ہیں اور اپنے ناظرین کو صرف آدھا سچ بتا کر ایک طرح کی سازش کر رہے ہیں۔ یہ صرف جنگجوؤں کی حد تک نہیں بلکہ اکثر صحافی نہ صرف سیاسی نظریات پر کاربند ہیں بلکہ وہ ایک مخصوص لائن پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اس کی ایک بدترین حالت آپ نے لال مسجد ایشو اور وکلاء کی تحریک میںبھی دیکھی۔ 

 ''کیا یہ درست ہے کہ سماء کی کوریج دوسرے جینلز کے مقابلے پر مشرف کے حق میں تھی۔'' اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس قسم کا تاثر غیرپیشہ ورانہ قرار پاتا ہے۔ جس طرح ہم کل نہ مشرف کے ھق میں تھے نہ ان کے مخالف اسی طرح ہم آج بھی موجودہ حکومت کی حمایت کرتے ہیں نہ ہی مخالفت۔ بطور صحافی ہمیں غیرجانبدار رہ کر کام کرنا چاہئے تاکہ ہم اپنے ناظرین کو بالکل واضح اور درست تصویر پیش کر سکیں۔ ہمیں اپنے ناظرین کو تصویر کے دونوں رخ دکھانے چاہئیں۔ ہماری پالیسی ہے کہ ہم صرف حقائق بتائیں، غیر مسخ شدہ صورتحال سے آگاہ کریں اور پھر سنجیدہ مباحثے کریں۔

 ''ٹاک شو کے میزبان کی ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں اور کیا آج کل کے میزبان یہ ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔'' اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لازمی طور پر کسی ٹاک شو کا مقصد اپنے ناظرین کو بہتر معلومات دینا ہوتا ہے۔ سوالات اٹھا کر تہہ در تہہ چھپے معاملات کو سامنے لایا جاتا ہے اور پھر پس منظر کو سامنے رکھ کر بات آگے بڑھائی جاتی ہے۔ میزبان کو صرف گفتگو آگے بڑھانی ہوتی ہے اس گفتگو کا حصہ نہیں بننا ہوتا۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے بہت سارے اینکر اپنے جذباتی فین بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اپنا اپنا سیاسی ایجنڈا لے کر چل رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ ٹیلی ویژن کو حکومتی عہدے حاصل کرنے کے لئے وسیلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو حکومت یا اداروں کے لئے پیغام رسانی کا کام کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ پھر اُس وقت ایڈیٹوریل کنٹرول اور بھی مشکل ہو جاتاہے۔ جب کوئی اینکر پرسن چینل کا انتظامی رکن بھی ہو۔ کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ ٹی وی کے اینکر پرسن نے لال مسجد کے ایشو میں جنگجوؤں اور حکومت کے درمیان معاہدہ کرانے کی کوشش کی۔ جبکہ کچھ نے کوشش کی حکومت ان کے پراپیگنڈے کے زیراثر آ جائے۔ بعض اینکر پرسنز کا کردار ججوں جیسا ہے جو فیصلے سنا رہے ہیں اور روئے زمین پر ہر شعبے کو اپنے دائرہ کار میں سمجھتے ہیں۔ یہ ایک صحافی کو زیب نہیں دیتا۔ ہم کہانی بیان کرنے والے ہیں اس کا حصہ بن جانے والے نہیں۔ یہ اچھا ہے کہ آج ایسے سوالات خود میڈیا کے اندر سے اٹھ رہے ہیں اور ایک بحث چل پڑی ہے جس کی وجہ سے میڈیا کے کچھ لوگ ناراض بھی ہیں۔ تاہم ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہئے۔ میڈیا کو تنقیدکا حق حاصل ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ اپنا جائزہ بھی ایک ناقد کے طور پر لے۔

 ''ٹی وی چینلز پر لاشیں، تشدد اور زخمی افراد کو دکھانا چاہئے۔'' اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی ذمہ دار چینل ایسا نہیں کرتا۔ نہ ہی جدید دنیا میں اس قسم کی کوئی مثال موجود ہے۔ آپ نے 9/11 کے ہلاک شدگان یا زخمیوں میں سے کتنوں کو ٹی وی پر دیکھا۔ یا لندن دھماکوں میں مرنے والوں کو دیکھا۔ حتیٰ کہ عراق اور افغانستان کے جنگی متاثرین کو بھی نہیں دکھایا جاتا۔ لیکن پاکستان میں اکثر چینلز کو یہ معلوم ہی نہیں کہ انہیں کیا کچھ دکھانا چاہئے اور کیا نہیں۔ ہم ہسپتالوں میں دیکھتے ہیں کہ حادثہ ہوتے ہی کیمرہ مین اور رپورٹرز یلغار کر دیتے ہیں تاکہ وہ تاثرات لے سکیں یا پھر ہلاک شدگان اور زخمیوں کو کراہتے ہوئے دکھا سکیں۔

 آج کل کے خودکش حملہ آور صرف حملہ کر کے ہی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر رہے بلکہ شہرت بھی حاصل کر رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو خوف میں مبتلا کرنے اور انہیں خود کو غیرمحفوظ تصور کرنے میں کامیاب ہیں۔ میڈیا کو سوچنا ہو گا کہ وہ ان حادثوں کی کس طرح کوریج کریں تاکہ دہشت گردوں کے مقاصد پورے نہ ہوں۔ ہمیں ان لوگوں کا خیال رکھنا ہے جو کہ اپنے اپنے ٹیلی ویژن کے آگے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں معلومات چاہئیں لمحہ لمحہ اذیت نہیں۔

اظہر عباس، ڈائریکٹر نیوز جیو
 ''الیکٹرانک میڈیا کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق بنایا جا سکتا ہے۔'' اس سوال کے جواب میں اظہر عباس نے کہا کہ ہاں، کیوں نہیں، ایسا ضرور ہونا چاہئے۔ قانون، ضابطہ اور ایک طریقہ کار ہونا چاہئے بلکہ یہ سب کچھ ایک ہینڈ بک میں درج ہو جس کو پڑھ کر صحافی اس کا خیال بھی رکھیں۔

 ''کیا یہ حکومت کو بنانا چاہئے یا میڈیا کے لوگوں کو خود۔'' اظہر عباس کا اس سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ بنیادی طور پر اس کا مسودہ ہو جس کو میڈیا کے ادارے خود پر لاگو کریں۔ پوری دنیا میں اس طرح کے ادارے موجود ہیں جو میڈیا کے اداروں کے اوپر چیک رکھتے ہیں جیسا کہ یہاں پمرا ہے۔ میرا خیال ہے کہ میڈیا کا ہر ادارہ اپنے اپنے طور پر بھی یہ کر سکتا ہے۔ میں یہاں کہنا چاہتا ہوں کہ جیو واحد ادارہ ہے جس کا ضابطہ اخلاق ہے جس کو ''جیو اصول'' کہا جاتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ 17 نومبر کے اخبارات میں چھپ بھی چکا ہے۔ ہم نے ایک ضابطہ بنا کر اپنے صحافیوں کو دے دیا ہے کہ کیا کچھ کہنا ہے اور کس سے اجتناب برتنا ہے۔

 ''کیا لاشیں اور زخمی دکھانا جائز ہے اور اس طرح کر کے کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔'' اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ حالات میں یہ درست ہے حتیٰ کہ بی بی سی جیسے ادارے بھی لاشیں دکھاتے ہیں۔ لیکن عمومی طور پر چینلوں کو خون خرابہ نہیں دکھانا چاہئے۔ اب آپ نے دیکھا ہو گا کہ چینلز پر یہ چیزیں کم ہو گئی ہیں۔ اگرچہ یہ سب کچھ غیراخلاقی ہے لیکن بعض صورتوں میں اس کی اجازت ہونی چاہئے۔ لیکن جنسی زیادتی کے کیسوں میں ملوث افراد اور نوجوان مجرموں کو بھی نہیں دکھانا چاہئے۔ ہمیں ضابطہ اخلاق کے تحت کوئی متاثرہ شخص خود اجازت بھی دے تو ہم ان کے چہرے نہیں دکھا سکتے۔ جب آپ کسی مجرم بچے کو ٹی وی پر پیش کرتے ہیں تو ایک طرح سے اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہوتے ہیں۔

 ''ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بعض اوقات انتہائی غیراہم خبر کو بھی ''بریکنگ نیوز'' کے طور پر پیش کر دیا جاتا ہے۔'' اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب یہ ٹرینڈ شروع ہوا تو یہ مختلف چینلوں کے درمیان مقابلہ بازی کی دوڑ تھی۔ کسی حد تک آج بھی یہ دوڑ جاری ہے اس لئے ہر چینل ایک دوسرے کو مات دینے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا ہے۔ لیکن سال ڈیڑھ سال تک یہ مسئلہ بتدریج حل ہو جائے گا۔

 ''کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی وجہ صرف وہ چینلز ہیں جو ابھی نئے نئے ہیں۔'' انہوں نے کہا کہ کسی حد تک ایسا ہی ہے اس لئے چینلز والے سوچتے ہیں کہ اگر وہ جتنی زیادہ بریکنگ نیوز دیں گے تو وہ اتنا زیادہ اپنے ناظرین کو راغب کر سکیں گے۔ اس وجہ سے بعض اچھی سٹوریاں بھی بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔

 ''میریٹ دھماکے کے بعد جیو نے کارٹون گرافک کے ذریعے ایک ٹرک کو ہوٹل سے ٹکراتے ہوئے دکھایا۔ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ یہ اچھا ہے۔'' کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس بارے میں مختلف آرا ہو سکتی ہیں، جب آپ کو مسلسل کچھ دینا ہوتا ہے تو پھر اس طرح کی چیزیں بھی دکھانا ہوتی ہیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ درست نہیں تو ہم اس جانب غور کریں گے۔