working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


 
اگلا شمارہ

پناہ گزینوں کا جھوٹ سچ، انٹرویو -مسعود اقبال جنجوعہ
سجاد اظہر
مسعود اقبال جنجوعہ برطانیہ کے شہر ہیلی فیکس میں ''یوکے امیگریشن ہیلپ'' کے نام سے امیگریشن سے متعلقہ امور پر مشاورت فراہم کرتے ہیں۔ انھوں نے اس حوالے سے گذشتہ 20 سالوں کے دوران لاتعداد کیسوں کو ڈیل کیا ہے۔ جس کی بنا پر انھیں تارکین وطن کے مسائل کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مسعود اقبال جنجوعہ امیگریشن لائر کے علاوہ برطانیہ کے چینل ڈی ایم ڈیجیٹل سے سیاسی و سماجی موضوعات پر ہفتہ وار پروگرام بھی کرتے ہیں۔ تارکینِ وطن، برطانیہ میں رہائش اختیار کرنے کے لیے کیا کیا حربے استعمال کرتے ہیں ، اس حوالے سے ہم نے ان کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔ یہ گفتگو معلومات افزا ء بھی ہے اور ہمارے انفرادی روےّوں کی آئینہ دار بھی کہ ہم میں سے بعض لوگ برطانیہ میں سکونت اختیار کرنے کے عوض کیا کچھ کر گذرتے ہیں۔ یہ انٹرویو ہیلی فیکس میں ان کے چیمبر میں لیا گیا۔ (مدیر)
سوال : برطانیہ میں پناہ گزینوں کے پس منظر کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: ایک زمانہ تھا جب برطانوی راج کا سورج غروب نہیںہوتا تھا ، دنیا میں انہوں نے بہت سے ممالک افریقہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ وغیرہ میں اپنی کالونیاں آباد کیں۔ دولتِ مشترکہ کے ممالک میں انہی کو نمائندگی حاصل ہے جہاں پر برطانیہ نے حکومت کی۔ لیکن جوں جوں کالونیوں کی آزادیاں حاصل ہوتی گئیں ویسے ویسے تاجِ برطانیہ سکڑتا گیا، حکومتِ برطانیہ کی آخری بڑی کالونی ہانگ کانگ تھی جس کو انہوں نے آزاد کر دیا۔ اس کے علاوہ اب بھی ان کے پاس چھوٹے چھوٹے کئی ممالک ہیں جہاں پر ان کا اپنا راج ہے۔ آج کا یونائیٹڈ کنگڈم (UK) انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، اور ناردرن آئرلینڈ پر مشتمل ہے۔ گو کہ آج یہ اپنی تمام کالونیاں آزاد کر چکے ہیں اور اب ایک چھوٹا سا ملک ہی برطانیہ کہلاتا ہے مگر اس کے باوجود یہ دنیا کی پانچویں مضبوط ترین معیشت ہے۔ اگرچہ آج یہاں کی مینوفکچرنگ یا میڈ ان انگلینڈ چیزیں کسی بھی مارکیٹ میں بہت کم ملتی ہیں۔ ان کا سب سے زیادہ پیسہ سروسز، بینکنگ اور فنانسنگ سیکٹر سے آتا ہے۔

برطانیہ میں ایک عرصے تک یہ اصول رہا کہ اس کی کالونیوں کے شہری جو بعدازاں اپنے اپنے آزاد ممالک کے شہری کہلاتے تھے مگر انہیں برطانیہ آنے اور یہاں آباد کاری کا حق حاصل تھا۔ مثلاً ١٩٦١ء سے پہلے دولتِ مشترکہ کے شہری چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو ان کو یہاں آتے ہی مستقل سکونت مل جاتی تھی۔ ١٩٦٢ء میں برطانیہ نے اپنا پہلا امیگریشن ضابطہ بنایا جس میں دولتِ مشترکہ کے ممالک کے شہریوں کی آزاد نقل و حمل بند کر دی۔ اس سے قبل دولتِ مشترکہ کا کوئی بھی ورکر یہاں آتا تو اس کو ایئرپورٹ پر ہی مستقل رہائش کا اختیار دے دیا جاتا۔ اس کے بعد انہوں نے واؤچر سسٹم شروع کیا جس کی موجودہ شکل ورک پرمٹ ہے۔ واؤچر سسٹم کے تحت فیکٹریاں ایک واؤچر بھیجتی تھیں جس پر ان کے سفارتخانے ورک ویزے جاری کرتے تھے۔ ١٩٧١ء میں انہوں نے پہلا امیگریشن ایکٹ بنایا۔ دنیا میں برطانیہ کی طرف آنے کا رجحان بہت زیادہ ہے جس کی بنیادی وجہ یہاں کا انصاف، عدالتیں، عدلیہ، ادارے اور ان کا تاریخی پس منظر ہے۔ اس ملک میں قانونی طریقے سے آباد ہونا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ یہ ایک انسانی خواہش ہے۔ پرندے بھی اچھے موسموں کی تلاش میں ہجرت کر جاتے ہیں۔ برطانیہ میں ابتدائی ہجرت تو ان کی اپنی کالونیوں سے ہوئی جن کے شہری آزادی سے قبل ہی یہاں آ کر بَس گئے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے مثلاً کینیا، یوگینڈا، افریقہ وغیرہ ان کے جو شہری آزادی کے وقت اپنے ملکوں میں نہیں تھے اور کسی وجہ سے انگلینڈ میں رہ رہے تھے انھیں اپنے ملکوں کی شہریت سے محروم کر دیا گیا۔ ان کا قانون یہ تھا کہ جو لوگ اس وقت یعنی آزادی کے وقت ملک میں موجود نہیں ہیں وہ اس ملک کے شہری نہیں کہلائیں گے۔ چنانچہ ان کو برطانیہ کی شہریت دے دی گئی۔

چنانچہ آج آپ دیکھتے ہیں کہ کینیا، یوگینڈا اور افریقہ سے کئی ایسے لوگ یہاں پر آباد ہیں جن کے آباؤ اجداد پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن چونکہ وہ آزادی کے وقت اپنے اپنے ملکوں میں نہیں تھے اس لیے ان کی شہریت وہاں پر ختم کر دی گئی تھی۔ اور جب ان کو کینیا اور یوگینڈا سے نکالا گیا تو ان کے پاس اور کوئی جگہ نہیں تھی۔ چونکہ ان کے پاس برٹش کالونی کا پاسپورٹ تھا تو انہوں نے کوٹے سسٹم کے تحت ایسے لوگوں کو برطانیہ میں آباد کیا۔ یہ وہ تاریخی پس منظر ہے جس کے تحت یہاں پر ایشیائی لوگوں کی ابتدائی آبادکاری ہوئی۔ اب ان آباد ہونے والوں کی رشتہ داریاں اپنے اپنے آبائی علاقوں سے ہیں جن کو وہ یہاں لا کر آباد کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں بہت سے قانونی طریقے ہیں جن کے تحت آپ اپنے رشتہ داروں کو بلا سکتے ہیں۔ مثلاً یہاں کوئی میاں اپنی بیوی کو یا کوئی بیوی اپنے میاں کو بلانا چاہے تو اس میں بڑی آسانیاں ہیں۔ اس کے لیے صرف یہی شرط ہے کہ آپ یہاں کے مستقل رہائشی ہوں اور کام کرتے ہوں اور آپ کی شادی حقیقی ہو۔ جس کے بعد ان کو یہاں مستقل رہائش مل جاتی ہے۔ اگر آپ کے والدین ٦٥ سال سے اوپر ہیں اور وہ آپ پر انحصار کرتے ہوں ان کی کفالت کا اور کوئی ذریعہ نہ ہو تو آپ ان کو بھی بلا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی نوکریاں جن کے لیے خصوصی مہارت درکار ہے اور وہ مہارت برطانیہ یا یورپ میں نہ ہو تو ان کے لیے بھی دوسرے ممالک سے ملازمین کو بلایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح Highly Skilled Migrant Prog. ہے جس کے تحت ایسے لوگ جو بہت زیادہ ہائی کوالیفائیڈ ہوں اور ان کا پانچ سال کا تجربہ بھی ہو ان کو بھی یہاں آنے میں سہولتیں میسر ہیں
۔
سوال: یہاں بڑی تعداد میں پاکستان اور دوسرے ممالک سے پناہ گزین آتے ہیں۔ آپ اس پس منظر میں کچھ بتائیں؟
جواب: دوسری جنگ عظیم کے بعد جب جرمنی میں یہودیوں پر مظالم ڈھائے گئے تو پناہ گزینوں سے متعلق عالمی قانون سازی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جس کے پیش نظر ١٩٥١ء میں اقوام متحدہ نے جنیوا میں ایک کنونشن کیا جس میں تمام ممبر ممالک نے شرکت کی اس میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی شخص کو اگر اپنے ملک میں سیاسی، مذہبی یا نسلی آزادی میسر نہیں ہے اور اس کو اس بنیاد پر تعصب کا سامنا ہے کہ یہ ایک مخصوص مذہب، سیاسی یا نسلی گروہ سے تعلق رکھتا ہے تو اس کو دوسرا ممبر ملک لازمی طور پر پناہ دے۔ چنانچہ اس کنونشن کے تحت ایک ملک دوسرے ملک کے شہریوں کو پناہ دیتا ہے۔

سوال: اس پس منظر میںپاکستان سے لوگ یہاں پر کب آنا شروع ہوئے؟
جواب: ایوب خان کے مارشل میں بہت سارے لوگ آئے۔ سکندر مرزا جو وزیراعظم تھے اور جن کو ایوب نے معزول کیا تھا وہ بھی یہاں پر آ کر پناہ گزین ہوئے۔ بیرسٹر افتخار جو پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رہے وہ آرمی میں میجر تھے انہوں نے صرف اس وجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ آرمی نے کیوں ٹیک اوور کیا ہے انہوں نے یہاں آ کر سیاسی پناہ کی درخواست دی اس کے بعد بینظیر بھٹو، مصطفی کھر سے لے کر حفیظ پیرزادہ تک بے شمار ایسے نام ہیںجنہوں نے یہاں آ کر سیاسی پناہ حاصل کی اس وقت واقعی مسائل بھی ایسے تھے۔ سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ آپ اپنے ملک میں واقعی زیر عتاب تھے اور پاکستان کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جہاں پر آپ جا کر اس عتاب سے بچ سکتے تھے۔ آج کل جو اکثر لوگ آتے ہیں ان کا سیاست سے دور دور تک کوئی تعلق نہیںہوتا۔ مگر سیاسی پناہ کے لیے عجیب عجیب واقعات گھڑے جاتے ہیں مثلاً آپ نے ماضی قریب میں دیکھا ہو گا کہ بلوچستان میں ایک لیڈی ڈاکٹر کا گینگ ریپ ہوا پھر پنجاب میں مختاراں مائی کا واقعہ ہوا۔ ان واقعات کو جب عالمی سطح پر بہت زیادہ شہرت ملی تو ایجنٹوں نے پاکستان میں لوگوں کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ آپ آئیں ہم آپ کو یہاں سیاسی پناہ دلوائیں گے۔ اب یہاں پر عجیب و غریب کیس سامنے آتے ہیں میاں بیوی بچوں کے ساتھ یہاں پر آتے ہیں۔ بیوی آکر یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ پاکستان میں کسی جاگیردار، وڈیرے یا فوجی نے اس کے ساتھ ریپ کیا ہے اس لیے اب پاکستان میں رہنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ بے غیرتی کی حد تو یہ ہے کہ خاوند ساتھ آیا ہوتا ہے وہ بھی یہ من گھڑت کہانی عدالت میں رو رو کر بیان کرتا ہے کہ میرے سامنے میری بیوی کے ساتھ آٹھ بندوں نے زیادتی کی۔ بعض کیسوں میں یہ بھی کہا جاتاہے کہ ہمارے بچے بھی ہمارے سامنے تھے۔ اس وقت بے شمار ایسے کیس ہیں جن کو حکومتِ برطانیہ کا ریفوجی ڈیپارٹمنٹ ڈیل کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان سے جو فنکارائیں یہاں آتی ہیں ان کو تین تین ماہ کا ورک پرمٹ ملتا ہے یہاں آ کر وہ نائٹ کلبوں میں ڈانس کرتی ہیں۔ ان کو لانے والے ان کو غلط کام پر مجبور کرتے ہیں اور جب ان کے ورک پرمٹ کا دورانیہ یہاں بڑھتا نہیں ہے تو وہ اس بنیاد پر سیاسی پناہ کی درخواست دائر کر دیتی ہیں کہ پاکستان میں ان کے والدین ان سے زبردستی دھندا کرواتے ہیں اور حکومت کے کارندے کمشنر لیول تک ان سے دھندے میں حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے اب اگر وہ یہ پیشہ چھوڑنا بھی چاہیں تو نہیں چھوڑ سکتیں کیونکہ پولیس والے پھر بھی حصة مانگیں گے اس لیے اب وہ اپنے ملک واپس نہیں جانا چاہتیں۔

اسی طرح پاکستان سے آنے والے کچھ لوگ ایئر پورٹ پر اترتے ہی یہ دعویٰ کر دیتے ہیں کہ وہ ہم جنس پرست ہیں اور پاکستان میں انہیں ہم جنس پرستی کی آزادیاں میسر نہیں ہے۔ کئی کیس ایسے بھی ہیں کہ لوگ ہم جنس پرستوں کے کلب جوائن کرتے ہیں وہاں پر جا کر گورے یا کالے جو ہم جنس پرست ہوتے ہیں ان کے ساتھ بوس و کنار کرتے ہوئے تصویریں کھنچواتے ہیں مخصوص لباس پہن کر مکروہ انداز اپناتے ہیں اور پھر یہ تصویریں ہوم آفس کو پیش کرتے ہیں کہ ہمارے اس لڑکے کے ساتھ تعلقات ہیں اور ہم یہ سب کچھ آزادی کے ساتھ کر رہے ہیں پھر ایک ایسا طبقہ بھی یہاں پر آتا ہے جب یہاں پر شادی کرنے کی اجازت تھی، میاں بیوی جو پاکستان میں شادی شدہ ہوتے ہیں یہاں آ کر وہ اپنے کسی عزیز کے پاس رہتے، دو تین ماہ کے بعد یہ کہانی گھڑی جاتی ہے کہ یہاں آ کر مجھے اپنے دوست کی بیوی سے محبت ہو گئی اور میری بیوی کو میرے دوست سے محبت ہو گئی۔ چنانچہ وہ کاغذوں میں طلاق دے کر فرضی شادی کر لیتے ہیں۔ حقیقتاً وہ ایک ساتھ ہی رہ رہے ہوتے ہیں مگر کاغذوں میں یہ دکھا دیتے ہیں کہ ہماری اس سے شادی ہو گئی ہے۔ میں ایک ایسے ہی کیس سے واقف ہوں کہ جس میں ایک بندہ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ آیا۔ یہاں آ کر اس نے اپنے کزن کی بیوی کے ساتھ اور اس کی بیوی نے اس کے کزن کے ساتھ کاغذوں میں Cross Marriage کی۔ اب جب انہوں نے ہوم آفس کو کیس بھیجا تو اس پر جو پتہ درج کیا وہ Next Door کا تھا۔ ان کو یہ خدشہ تھا کہ شاید امیگریشن حکام انہیں چیک کرنے کے لیے ان کے گھر آئیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی اپنی شادی کی تصویریں اپنے اپنے بیڈ روموں میں لگائیں۔ اسی طرح ہنی مون کو ظاہر کرنے کے لیے تفریحی مقامات کی تصویریں بنوائیں اور ایک البم بنایا۔ اب ہوتا یہ کہ صبح سات بجے دودھ والا دروازہ کھٹکھٹاتا تو ان کو یہ خدشہ ہوتا کہ شاید امیگریشن والے نہ ہوں چنانچہ بیک ڈور سے ساتھ والے گھر سے عورت آتی اور دروازہ کھولتی اور اس گھر والی عورت یہی کام (یعنی دروازہ کھولنے والا) کرنے کے لیے دوسرے گھر چلی جاتی۔ اس طرح کچھ عرصے کے بعد ان کے اپنے اپنے بچے ہو گئے اب قانونی طریقے سے ان کے خاوند تو وہ تھے جن کی بنیاد پر انہوںنے کیس اپلائی کیا ہوا ہے۔ چنانچہ بچوں کی ولدیت کا نام وہی لکھوایا۔ اس عرصے کے دوران جب ان کا کیس منظور ہو گیا تو انہوں نے پھر اپنی اپنی کاغذی بیویوں کو طلاق دے کر اپنی اپنی حقیقی بیویوں سے شادی کر لی۔ اس طرح اس عرصے کے د وران جو بچے پیدا ہوئے ان کے پیدائشی سر ٹیفکیٹ کسی کو دکھا نہیں سکتے تھے کیونکہ اصل حقیقت تو بہت کم لوگوں کو معلوم تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے بچوں کی ولدیت درست کروانے کے لیے یہ حربہ استعمال کیا اور عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گو میری قانونی طور پر شادی اس سے تھی لیکن اس کے درمیان ،میں ایک دو دفعہ اپنے پہلے خاوند سے ملی۔ اب میں نے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تو یہ جو بچہ ہے یہ اس کا ہے اِس کا نہیں۔ اس بنیاد پر انہوں نے پیدائشی سر ٹیفکیٹ میں تبدیلیاں کروائیں۔ اب سارے عمل کے دوران انہوں نے بے شمار انٹرویو دیے ، عدالتوں میںحاضر ہوئے جس میں انہوں نے قرآن پر حلف دیا کیونکہ یہاں کی عدالتوں میں بائبل، گیتا اور قرآن رکھے ہوتے ہیں اور لوگ اپنے اپنے ایمان کے مطابق حلف دیتے ہیں۔ یہ اتنا گھناؤنا فعل ہے کہ اپنی بیوی دوسرے کی بیوی بنا دینا اور بچوں کی ولدیت تبدیل کروا دینا، حیرت اس بات کی ہے کہ یہ کام وہ لوگ نہیں کرتے جو غریب ہیں بلکہ یہ کام وہ کرتے ہیں جو پندرہ پندرہ لاکھ روپے لگا کر یہاں آئے ہوتے ہیں، یہ غریب لوگ نہیں صرف لالچی ہیں۔

اسی طرح پاکستان کے ایجنٹوں نے حال ہی میں Highly Skilled Migrant Prog. کے تحت اَن پڑھ، نائیوں اور موچیوں کو یہاں بھیج دیا۔ برطانیہ کی یہ پالیسی ہے کہ بہت کوالیفائیڈ لوگوں کو انٹرویو کی زحمت بھی نہیں دیتے۔ اب ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پروگرام کے تحت آئے اور اب فیکٹریوں میں صفائی کر رہے ہیں۔ پھر پاکستان کے بڑے بڑے ہسپتالوں سے میڈیکل رپورٹیں چرائی جاتی ہیں کہ یہ مریض کینسر یا ایڈز کے مرض میں مبتلا ہے پھر یہ رپورٹ ایجنٹ خرید لیتے ہیں جس نام کی رپورٹ ہوتی ہے اس نام کا پاسپورٹ بنواتے ہیں او رلوگوں کو علاج معالجے کے نام پر یہاں بھیج دیتے ہیں۔ اس کھاتے میں یہاں ایک مریض آیا اور اس نے بعدازاں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی جس میں کہا کہ میں توبالکل ٹھیک ہوں ایجنٹ کو پیسے دے کر ویزا لگوایا تھا۔ چنانچہ جب ایسے کیس منظر عام پر آتے ہیں تو پاکستان کے کاغذات کی ویلیو ختم ہو جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے تمام لوگ ہی جعلی کاغذات بناتے ہیں۔

اسی طرح کئی جعلی طلباء بھی یہاں آتے ہیں جو جعلی ڈگریوں کی بنا پر داخلہ لے لیتے ہیں پھر پڑھنے کی بجائے ٹیکسیاں چلاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسے کیس سے بھی میں واقف ہوں۔ ایک سیاسی پناہ گزین یہاں آیا جو ایک طالبعلم کے ساتھ رہنے لگا۔ پھر اس پناہ گزین نے اس سٹوڈنٹس کے ساتھ زیادتی کی شاید ایسا کر کے ہم جنس پرستی کے تحت یہاں رہنا چاہتے تھے مگر مسئلہ خراب ہو گیا اور اس کو جیل ہو گئی۔ ایسے کیس یہاں بے شمار ہیں۔ ایسے ایسے بھی ہیں کہ اگر کسی لڑکے کو یہاں سیاسی پناہ ملی تو اس نے ماں یا بہن کو اپنی بیوی ظاہر کرا کے منگوا لیا۔ یہ لوگ اتنے گھٹیا حربے استعمال کر رہے ہیں کہ جس سے پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہمارے لوگوں کو شرم آنی چاہیے کہ اس طرح کی حرکتوں سے ان کے ملک کا وقار ختم ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک پاکستان عورت زینب بی بی جس کا قد سات فٹ دو انچ تھا اور جو دنیا کی دراز قد خاتون تھی وہ یہاں کسی طائفے کے ساتھ آئی اور اس نے اس بنیاد پر سیاسی پناہ کی درخواست دے دی کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی رہائشی ہے جو پسماندہ علاقہ ہے چنانچہ اس کے لمبے قد کی وجہ سے بچے اسے پتھر مارتے ہیں۔ جب اس بنیاد پر اس کو پناہ دے دی گئی تو یہاں بہت شور اٹھا اور حکومت پر تنقیدبھی کی گئی کہ وہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ اس طرح کے جعلی پناہ گزینوں پر ضائع کر رہی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے حربے استعمال کرنے والے حقداروں کا استحصال کر رہے ہیں۔

ایسے بھی لوگ پاکستان سے آتے ہیں جو عیسائی بن جاتے ہیں۔ وہ باقاعدہ چرچوں میں جاتے ہیں ان کی سروس اٹینڈ کرتے ہیں۔ وہاں پر اپنا عہد نامہ جمع کراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مسلمان سے عیسائی ہو گئے ہیں۔ اسی طریقے سے لوگ مرزائی بنتے ہیں۔ میں ایک ایسے حاجی کو جانتا ہوں جس نے چھ سات حج کیے وہ پاکستان سے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آیا اور اس نے یہاں سکونت کے لیے مرزائی بننا قبول کر لیا۔ کیونکہ اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے اس لیے یہ لوگ اس بنیاد پر یہاں کی سکونت حاصل کر لیتے ہیں۔ ایک لڑکی پاکستان سے شادی کرکے آئی۔ اس کے پاکستان میں کسی کے ساتھ تعلقات تھے چنانچہ شادی کرنے کے ہفتے بعد ہی اس نے اپنے خاوند پر جنسی تشدد کا الزام لگا دیا ۔ کیونکہ وہ Domestic Violence کے تحت یہاں سکونت کا حق رکھتی تھی۔ اس طرح پاکستان کے ایک اعلیٰ آرمی آفیسر کی بہن آئی جو پاکستان میں شادی شدہ تھی۔ اس نے ایک بوڑھے شخص کے ساتھ شادی کر لی اور جب اسے یہاں کی سکونت مل گئی تو اس نے علیحدگی اختیار کر کے دوبارہ اپنے پاکستانی خاوند کو یہاں لانے کی درخواست دائر کر دی۔ بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو مرے ہوئے لوگوں کے Death Certificate خریدتے ہیں اور ان کے نام پر پاسپورٹ بنوا لیتے ہیں۔ کچھ لوگ پاکستان سے اپنے پاسپورٹ کی Duplicate Copy بنواتے ہیں کہ اگر بھائی کے پاس برٹش پاسپورٹ ہے تو وہ اسی نام سے پاکستانی پاسپورٹ بنوا کر اس پر اپنا فوٹو لگا لیتے ہیں۔ چونکہ دوہری شہریت ہے اس لیے وہ بھائی کے ڈیٹاپر یہاں آ جاتے ہیں اور جعلی مہریں لگوا کر کام چلاتے ہیں، کیونکہ ڈیٹا اصلی ہوتا ہے اس لیے اگرچیک ہو بھی جائے تو بندہ کلیئر ہو جاتا ہے۔ بے شمار لوگ کنواری لڑکیوں سے شادی کا ڈرامہ رچا کر یا دوسروں کی بیویوں سے شادی کر کے ان کا ویزہ لگوا دیتے ہیں۔ یہ کام رشتہ دار بھی ایک دوسرے کے لیے کرتے ہیں اور بھاری پیسے لے کر بھی ہو رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ برطانوی سفارتخانہ بالکل صحیح سختی کرتا ہے کیونکہ ہمارے بہت سارے لوگ نوسربازی کرتے ہیں۔

پاک فوج اور ریاست پاکستان کے خلاف فرضی کاغذات بنوا کر بھی لوگ سیاسی پناہ حاصل کر رہے ہیں۔

١٩٩٨ء میں ہوم آفس نے ٢٦١٥ پاکستانیوں کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور کی جبکہ ١٩٥٠ کی رَد کی۔ ١٩٩٩ء میں ٢٦٢٥ کی درخواست منظور کی جبکہ ٩٩٠ کی درخواست رَد ہوئی۔ ٢٠٠٠ء میں ٣١٦٥ کی درخواست منظور ہوئی جبکہ ٣٧٢٠ کی رَد ہوئی۔ ٢٠٠١ء میں ٢٨٦٠ کی درخواست منظور جبکہ ٣٩٩٥ کی رد ہوئی۔ ٢٠٠٢ء میں ٢٤٠٥ کی درخواست منظور جبکہ ٢٣١٠ کی رد ہوئی۔ ٢٠٠٣ء میں ١٩١٥ کی منظور جبکہ ٢٠٥٠ کی رد ہوئی۔ ٢٠٠٤ء میں ١٧١٠ کی منظور جبکہ ١٧٩٥ کی رد ہوئی۔ ٢٠٠٥ء میں ١١٤٥ کی درخواست منظور جبکہ ١٠٤٠ کی رد ہوئی۔ ٢٠٠٥ء میں ٩٦٥ کی منظور جبکہ ٦٩٠ کی رد ہوئی۔ ١٠٣٠ پاکستانیوں کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور ہوئی جبکہ ٧٧٥ کی منظور ہوئی۔

(یہ اعداد و شمار ہوم آفس یو کے کی ویب سائٹ سے حاصل کیے گئے ہیں)