working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


 
اگلا شمارہ

آغاز
آج کا انسان ترقی کے جس درجے پر ہے اس میں ہر لمحہ اور اس سے وابستہ حالات بہت اہم ہیں۔ آج کی دنیا کے ساڑھے چھ ارب انسان یقینا کسی ایک برگد کے پیڑ کی مانند ہیں جس کی شاخیں براعظموں پر محیط ضرورہیں مگر اس کے باوجود جب کہیں کوئی شاخ سردگرم موسم سے متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف دیگر شاخوں اور پتوں پر پڑتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں پورا درخت ہی متاثر ہوتا ہے۔ اس کی عمومی اصطلاح ''گلوبل ولیج'' کہلاتی ہے۔ گلوبلائزیشن کے مضمرات یا ثمرات سے قطع نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کی دنیا خبروں کی دنیا ہے۔ ایک خبر جو نیویارک سے چلے یا بغداد سے، کابل سے چلے یا دارفر سے، اسلام آباد سے چلے یا ممبئی سے، وہ پلک جھپکتے میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے۔ خبر حالات کی پیداوار ضرور ہوتی ہے مگر یہ جس آنے والے کَل کی صورت گری کرتی ہے اس پر کیلنڈر کا اثر کم اور خبر کا زیادہ ہوتا ہے۔ ہم خبر کی اسی ہمہ گیری کے دور میں زندہ ہیں جس میں میڈیا کو نہ صرف ایک مسلّمہ طاقت تسلیم کر لیا گیا بلکہ یہاں تک کہاں گیا ہے کہ آج کی ''یونی پولر ورلڈ'' میں اصل سپرپاور میڈیا ہے۔

 پاکستانی میڈیا، یہاں کی مخصوص معاشرتی ساخت میں طاقت کے ایک نئے عنصر کی صورت میں ظہورپذیر ہو رہا ہے جو تنقید کرتا بھی ہے اور تنقید کی زد میں بھی رہتا ہے۔ معاشرے اور ریاست کے دیگر کرداروں اور اداروں کی طرح یہ خود بھی ایک بحرانی دور کی عکاسی کرتا ہے۔ ہر بحران کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اس میں کسی واضح سمت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے اپنے نظریات کے گھوڑے اس یقین کے ساتھ دوڑائے جاتے ہیں کہ باقی سب کو اپنے پائوں تلے کچل دیا جائے۔ ایک دوسرے کو تسلیم نہ کیا جائے تو صرف لڑا جا سکتا ہے اور ایک دوسرے کو تسلیم کر لیا جائے تو بہت آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ تصادم اس وقت ہوتا ہے جب مکالمہ نہ ہو اور مکالمہ اس وقت بے اثر ہو جاتا ہے جب وہ حقیقت کا ادراک کیے بغیر حالات کی رَو میں بہ جائے۔ اس سفر میں میڈیا کا کردار کلیدی ہوتا ہے جو ذہنوں کے مقفل نظریات کو کھول کر انھیں ایک دوسرے کے لیے قابلِ قبول بناتا ہے۔ اس لیے آج کے میڈیا کا اصل کردار ''خبروں سے آگے'' شروع ہوتا ہے جہاں اسے خبروں کے مختلف جزئیات دیکھ کر ان کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ تہ در تہ چھپے ہوئے سوالات کو سامنے لا کر ان کے جوابات تلاش کرنے ہوتے ہیں، اس عمل میں جتنے زیادہ سوالات تشنہ طلب ہوں گے اتنا ہی اس قوم یا معاشرے کے لیے ''کمرۂ امتحان'' کا دورانیہ بڑھتا جائے گا اور جیسے جیسے سوالات کے جوابات ملتے رہیں گے ویسے ویسے وہ قوم یا معاشرہ ترقی کے مدارج کی ڈگریاں حاصل کرتا جائے گا۔ ہم بحیثیت مجموعی ابھی تک ایسے ہی کمرۂ امتحان میں بیٹھے ہیں۔

 اس پس منظر میں ہزاروں سوالات ہم جواب طلب ہیں اور اس کے لیے ہمیں نہ تو اپنے ذہن کی وسعت کا زعم ہے اور نہ ہی اپنی کم مائیگی سے بے خبری۔ ہم ماہنامہ ''تجزیات'' کو اس یقین کے ساتھ منظرِعام پر لا رہے ہیں کہ ہم اس تشنگی کو ختم نہیں تو حتی المقدور کم کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ ہمارا شمار لڑانے والوں میں نہیں، صلح جوئوں میں ہو گا۔ ہم جلتی پر تیل ڈالنے والے نہیں ہوں گے بلکہ اس آگ پر پانی ڈالنے والے اور اسے چراغِ راہ میں بدلنے والے ہوں گے، جہاں جہالت کے اندھیرے چھٹ جائیں اور آگہی کا کوئی ایک لمحہ ہمیں کمرۂ امتحان سے باہر لے آئے۔   

                                                          سجاد اظہر
                                                           مدیر