Author: ناصر محمود اعوان

ہم بچوں کو اس نظام کا حصہ بننے پر مجبور کر دیتے ہیں جو ہمارے معاشرے پر حکومت کررہا ہے۔ ایسا نظام جو یک رنگا، اتھارٹی کی عزت کرنے والا اور غلطیاں کرنے سے ڈرانے والاہے بچے کی ایک تخلیق کار سے ایک غیر تخلیق کار میں کس طرح کایا کلپ ہوتی ہے؟ اس کا مختصر جواب تو آپ کو سر کین روبنسن (Sir Ken Robinson) کی تقریر کے عنوان سے ہوجائے گا جو ان کی ویب سائٹ پر ’’سکول بچے کی تخلیقی صلاحیت کو کیسے قتل کردیتے ہیں‘‘ کے نام سے موجود ہے اور جسے اب تک 40 ملین…

Read More

سکول کا اصرار ہے کہ بچہ تو بہت چھوٹا ہے یہ تو خود کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ اسے سکھانا ہے تو صرف ہم ہی نے سکھانا ہے۔ اس لیے نصاب تشکیل دیا جاتا ہے۔ پورے نصابی خاکے میں بچہ ایک بے جان پرزہ ہوتا ہے بچہ 4 سال کے بعد جب سکول میں داخل ہوتا ہے تو سیکھنے کا ایک نیا پیٹرن اس کا منتظر ہوتا ہے۔ بالکل نیا اور الگ۔ بچہ اس کو جانتا ہے اور نہ  ہی وہ اس کی شخصیت سے تال میل کھاتا ہے۔ سکول کے پیٹرن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سکول بچے کی…

Read More

بچوں کے مستقبل کا سوال ان کے حقیقی ٹیلنٹ اور ذہانت کی دریافت سے جڑا ہوا ہے ۔ جب تک ان کی حقیقی ذہانت دریافت نہیں ہوپاتی اس وقت تک آپ ان کے کیرئیر کا درست فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ہمارا نظام تعلیم صرف دو انسانی ذہانتوں کو مخاطب کرتا ہے :ریاضیاتی ذہانت(Mathematical Intelligence) اور زبان دانی کی ذہانت (Linguistic Intelligence)۔ باقی انسانی ذہانتیں اس کے دائرہ کارسے خارج ہیں ۔ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ نظام دراصل دور حاضر کی صنعتی ضروریات کے پیش نظر تشکیل دیا گیا تھا جس کا مقصد صنعتی ضروریات کے مطابق ایک…

Read More

تعلیم کا یہ عمل یقینا منفرد نوعیت کا حامل ہوتا ہے جس کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں ۔ان خصوصیات کا مطالعہ بچے کے سیکھنے کے منفرد پیٹرن کو سمجھنے میں مدد دے گا اگر ہم (رسمی و غیر رسمی ) تعلیم کا وسیع تر مفہوم لیں توبچوں کی ان سرگرمیوں کا سادہ سا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہوتا ہے اور4 سال تک  یعنی سکول جانے سے پہلے وہ اچھا خاصا تعلیم یافتہ ہوچکا ہوتا ہے۔تعلیم کا یہ عمل  یقینا منفرد نوعیت کا حامل ہوتا ہے جس کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں ۔ان…

Read More