Author: ناصر عباس نیر

عہد وسطیٰ کے جاگیر دارانہ عہد میں علم وادب کی سرگرمی، تفریح طبع کی خاطر ہوا کرتی تھی، اور تفریح طبع کا مفہوم بھی تفریح نہیں حقیقی ذہنی انبساط کا تھا، مگر صنعتی عہد کے ساتھ ہی Commodificationکا عمل شروع ہوا، اور آج اپنی غیر معمولی حدوں کو چھو رہا ہے۔ ان حدوں کا دوسرا نام گلوبلائزیشن ہے۔ کیا ہم آج کسی ایسی شے کی نشان دہی کر سکتے ہیں، جسے کموڈیٹی یعنی جنس ِ بازار نہ بنایا گیا ہو؟ آج کیا کچھ نہیں بِکتا! آپ ذرا اس کی نشان دہی کیجیے اور چار دنوں بعد اس کی مارکیٹنگ کا تماشا…

Read More

اردو میں روشن خیالی ، لبرل پسندی ،تکثیریت ،کثیر الثقافتیت ،مابعد جدیدیت جیسے الفاظ نہ صرف گالی کا درجہ اختیار کرتے جارہے ہیں،بلکہ ان میں یقین رکھنے والے اردو ادیب ’سماجی خوف‘ کا شکار بھی ہورہے ہیں،جو ’سرکاری خوف‘ سے کہیں زیادہ ہیبت ناک ہے۔ گلوبلائزیشن اپنے جواز، استحکام ،تشہیر اور کرہ ارض کے کونے کونے تک رسائی کے لیے ایک عالمی زبان کو ناگزیر سمجھتی ہے۔اس مقصد کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دنیا کی کوئی سات ہزار کے قریب زبانیں ہیں۔گلوبلائزیشن ان سب زبانوں میں خود کو منتقل کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا چاہتی۔چناں چہ…

Read More