Author: لقمان اسد

مقتدر حلقوں نے آنے والے دنوں میں  پانی کے حوالے سے پیدا ہونے والے متوقع بحران پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا جبکہ سابقہ دور حکومت میں انڈیا کو ”پسندیدہ ملک“ کے طور پہ چنا گیا جس نے باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت آبی جارحیت کا محاذ کھول کر عالمی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے پانی پر مستقل طور پر قبضہ جمانے اور وطن عزیز کو بنجر کرنے کے لیے ان دریاؤں پر ڈیمز بنانے کا سلسلہ تاحال جاری رکھا ہوا ہے، جن دریاؤں کے پانی سے ہمارے کھیتوں کی شادابی و ہریالی…

Read More

پانی کا مسئلہ آنے والے دنوں میں جس طرح وطن عزیز کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے گا اس کا اندازہ اور ادراک ہمارے حکمرانوں کوابھی تک نہیں ہوپایا ہے۔ اس قضیے پر توجہ نہ دی گئی تو ہمارے کھیت مستقبل میں جس طرح کا منظر پیش کریں گے، اس کے تصور سے ہی خوف آتا ہے۔ بھارت سے آنے والا پانی جس پر ہمارا اولین حق ہے مودی کی پاکستان دشمنی کی نظر ہورہا ہے۔ راوی، ستلج اور بیاس کا پانی عرصہ ہوا بند ہے لیکن افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ اس حوالے سے متعلقہ حکومتی…

Read More

پاکستان ویسے تو دو قومی نظریہ کے تحت وجود میں آیا لیکن اسے سول بیوروکریسی، فیوڈل لارڈز اور سرمایہ داروں کے اشتراک سے نظریہ ضرورت کے تحت چلایا گیا۔ ون یونٹ کا تجربہ جب ناکام ہوا تو پنجاب، سندھ، سرحد بشمول بلوچستان جن کی حیثیت صوبائی نہیں تھی، انہیں صوبوں میں تبدیل کردیا گیا۔ لیکن اس معاملے پر سب سے زیادہ استحقاق رکھنے والے بہاولپور کو اس کے عوام کی خواہش کے برعکس پنجاب میں ضم کیاگیا۔ پنجاب پاکستان کی 60% آبادی کا صوبہ بنا جبکہ اس کی اتنی بڑی آبادی باقی تینوں صوبوں کیلئے قابل قبول نہ تھی۔ اس…

Read More

بظاہر جنوبی پنجاب کے آٹھ حکومتی اراکین اسمبلی کا جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام پر اتحاد ’’علیحدہ تشخص ‘‘ کے لیے وجود میں آیالیکن پسماندہ وسیب کے سرائیکی خطہ کے باسی ابھی تک یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ملک کے بڑے اپنے مخصوص اہداف کے حصول کے لیے ماضی کی طرح یہ شوشہ چھوڑ رہے ہیں یا آیا کہ وہ وقت آپہنچاشاید خطہ کے مکینوں کا دیرینہ مطالبہ اپنی منزل پالے گا۔ ایک ایسا صوبہ جس کی آبادی 11کروڑ سے زائد ہے، اس حوالے سےاگر ہم باقی دنیا کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی…

Read More

کسی بھی معاشرے، ملک اور قوم کی ترقی کےلیے ہر سطح پر چیک اینڈ بیلینس کا سسٹم اور قانون کی مکمل عملداری انتہائی لازم تصورہوتی ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں ان اہم عوامل کو کچھ اس طرز پر نظر انداز کرنے اور پس پشت ڈالنے کی ریت ڈال دی گئی ہے کہ آج جب قانون کی عملداری کا سوال اٹھتا ہے تو تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے  والے افراد کی اکثریت، جن میں بڑے تاجروں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے علاوہ مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین اور  بیوروکریٹ تک شامل ہیں، اس حوالے سے نہ صرف سخت…

Read More

انسان کی فطرت بھی عجب ہے کبھی تو کمال کے فیصلے کرتا ہے انسان اور کبھی ایسا طرز زندگی اختیار کر لیتا ہے جو اس کے شایان شان ہرگز نہیں ہوتا جدیدیت،ماڈرن ازم اور تیزرفتار ترقی نے کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں خلوص،وفا داری اور رشتوں کی مضبوطی اور تقدس اب خال خال ہی کہیں نظر آتا ہے گویا انسانی معاشرے میں یہ عوامل اب انسانی معاشرے میں دیوانے کا خواب بن چکے مادیت پرستی کی لہر نے جیسے خون سفید کردیئے ہوں چاچا،تایا اور ماما کی اولادیں ایک ہی گھر…

Read More