Author: فاروق خالد

” میرا نظریہ ہے کہ زندہ ادیبوں کے اپنی کتابوں کے ساتھ جیتے جاگتے تعلقات ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے ہوتے ہوئے ان کے حق میں یا ان کے خلاف جدو جہد کرتے رہتے ہیں۔ کتاب کی ایک حقیقی آزادانہ زندگی اس کے مصنف کی موت کے بعد شروع ہوتی ہے ، یا اگر صحیح طور پر کہا جائے تو اس کی موت کے کچھ عرصے بعد کیونکہ یہ سرگرم لوگ اپنے مرنے کے فوراً بعد بھی اپنی کتاب کے لیے جدو جہد کا تسلسل چھوڑ جاتے ہیں۔” (فرانز کافکا کے ، میلینا جیسنیکا(Milina Jesnika)، کے نام لکھے ایک خط…

Read More