Author: علی اکبر ناطق

ہم بھاگے ہوئے خیمے کی اور آئے، جہاں ہمارے دوست آگ جلائے بیٹھے تھے ۔ ہم آکر آگ پر بیٹھ ہی تو گئے، جس میں آکسیجن اتنی ہی تھی جتنی ہسپتالوں میں مریضوں کے منہ پر چڑھانے والے سلنڈروں میں ہوتی ہے، گویا تھی ہی نہیں ۔ گذشتہ سے پیوستہ:جیسا کہ ہم نے عرض کیا آخرِ کار پِتا پانی کر کے بڑے پانی کے پاس پہنچ ہی گئے، جہاں ایک نہردودھ سے سِوا سفید ،ہیرے سے زیادہ شفاف اور کافور سے زیادہ ٹھنڈی بہتی ہے۔ اِس کے کنارے بھی سبزے سے بھرے ہوئے تھے اور یہاں خیمے بھی بہت لگے…

Read More

لیجیئے! برابر تین گھنٹے کی مارا ماری اور جگر کاوی کے بعد ہم دیو سائی کے منہ برابر آ ہی گئے اور کھڑے ہوتے ہی سردی سے ہمارے دانت بجنے لگے۔ دلاور عباس آدھی رات تک دیو سائی کے سفر کا انتظام کرتا رہا ،اِس میں نہ تو اُس نے جنوں سے مدد چاہی نہ دوستوں سے مگر دوسرے دن ضرورت کا ہر سامان میسر تھا۔ رات بسر کر نے کے لیے خیمے ، سلیپنگ بیگ ،بسترے ، کھانے پینے کے برتن ، چولہا ،چھری کانٹے ، جیکٹیں ،مچھلی پکڑنے کے کانٹے (جو وہاں کسی کام نہیں آئے کیونکہ وہاں…

Read More