Browsing Tag

نقاد

فارحہ ارشد کے افسانوں کا مجموعہ ’’مونتاژ‘‘ اور موسمی نقادوں کے کرتب

ایک مرتبہ منیر نیازی مرحوم مجھے اپنے ساتھ لے کر، علامہ اقبال ٹاؤن، اپنے کسی دوست سے ملنے گئے اور حسبِ معمول راستہ بّھلا بیٹھے۔ میں ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، کبھی ایک گلی میں گاڑی موڑتا تو کبھی دوسری میں۔ اور یوں جانے کتنی ہی گلیوں کی…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا چھٹا خط

عزیزی و محبی! یہ خط تمھیں قدرے تاخیر سے مل رہا ہے۔ تاخیر کی وجہ اسے لکھنے میں تساہل نہیں بل کہ۔۔۔۔۔۔ برخوردار، اب تم سے کیا چھپانا۔ اصل میں اس کا سبب فاروقی اور حنفی ہیں۔ دونوں نے وزیر آغا کے اکسانے پر ڈاک خانہء بہشت کے منصرم کو کسی طرح…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا دوسرا خط

عزیزی و محبی! بہشت میں میرے شب و روز بڑے منظم انداز سے گزر رہے ہیں۔ صبح دم باغِ خلد کی سیر، وقتِ چاشت فَوَاكِهُ الجنت کا ناشتہ، دن بھر تفریح و مشاغل، شام ڈھلے مجلسِ رقص و سرور، رات ہوتے ہی آراستگیء دسترخوانِ بہشتِ بریں اور اس کے بعد کے…

ادیب نما مسخروں کا دور 

انحطاط پذیر سماج میں تحسین و تنقید، کذب و صدق، حب و بغض سمیت کوئی بھی رویہ اور فعل خالص نہیں ہوتا کہ ہر عمل کی عمارت کسی نہ کسی زاتی مفاد کی بنیادوں پر اٹھائی جاتی ہے۔ ایسے معاشرے کی اکثریت مسلسل ایک خوف تلے زندگی گزارتی ہے اور وہ ہے: منکشف…