تعلیمی کاروبار اور اس کی اخلاقیات

ہمارے ہاں عوام، جن میں تعلیم یافتگان کا بھی بڑا طبقہ شامل ہے، اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم کو کاروبار بنا لینا کوئی قابل تحسین نہیں ہے۔ تعلیم کی اُجرت نہیں ہونی چاہیے یا اسے بہت کم ہونا چاہیے۔ گویا کراہت کے ساتھ اضطراری طور پر اسے…

سیاسی تبدیلی پارلیمنٹ کے راستے سے لائی جائے

مولانا فضل الرحمن کی شہرت جمہوریت اور آئین پسند منجھے ہوئے سیاست دان کی ہے۔ ان کا ایجنڈا درست ہے یا غلط، اس سے قطع نظر، ان کا حکومت گرانے کا اعلان اوراس کے لیے ان کا دھرنے دینے کے اقدام کی جمہوری نظام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کسی بھی گروہ…

سانحہ گھوٹکی: مداوا یا مزید نفرت؟

ملک میں اقلیتیں مسائل کا شکار ہیں، یہ حقیقت ہے۔ موقع پا کر ان کی جان مال آبرو پر حملے کرنے والے فسادی افراد بھی سماج میں موجود ہیں، یہ بھی سچ ہے۔ لیکن ان کے دکھ اور ان کے خوف کی وجہ سے ان سے ہمدردی رکھنے والے بھی اسی سماج میں موجود ہیں، یہ…

عام آدمی کی تاریخ کبھی نہیں لکھی گئی

کسی قوم کی تاریخ میں اس کی اشرافیہ کی تاریخ کو ہی قومی تاریخ کی حیثیت لکھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ تاریخ کے درست مطالعہ کے لیے یہ اپروچ غلط ہے۔ عوام کا بیانیہ اس میں کہیں شامل نہیں ہوتا۔ اشرافیہ اور عوام سماج کے دو مختلف دھارے ہیں جو طاقت ور کے…

قانون کی بالادستی نہ ہو تو ہر گروہ اشرافیہ مزاج بن سکتا ہے

تاریخ انسانی کے زرعی دور میں جب کہ بیشتر آبادی زراعت کے پیشے کےساتھ وابستہ  ہوتی تھی، سماج کےعام آدمی کے معاشی حالات میں بہتری لانے کا کوئی طریقہ کارموجود نہیں تھا۔ مملکت خواہ سونا اگلتی لیکن کسان اپنی فاضل فصل کو ذخیرہ کرکے کوئی دیرپا…

باپ کے لیے بیٹے اور بیٹی کے پیار میں فرق، فطری یا خودساختہ سماجی روایت؟

یہ ایک مِتھ ہے اور درست نہیں ہے کہ بیٹیاں والدین سے بیٹوں سے زیادہ پیار کرتی ہیں اور ان کی خدمت کرتی ہیں۔ اس متھ کے پیچھے صدیوں پرانا ثقافتی رویہ اور تعامل ہے۔ بیٹوں اور بیٹیوں میں محبت اور خدمت کے اظہار میں فرق پایا جاتا ہے اور یہ فرق…

رسمی تعلیم سب کے لیے ضروری نہیں ہونی چاہیے

ہمارے ہاں عمومی طور پر تعلیم کا ایک محدود تصور پایا جاتا ہے۔ سائنس اور سوشل سائنسز کو تعلیم سمجھا گیا ہے جب کہ رسمی یا غیر رسمی طور پر ہنر مندی کا حصول تعلیم میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اس مضمون میں تعلیم کا وہی عمومی تصور زیر بحث ہے جس میں ہنر…

سینٹ میں نکاح کے لیے عمر کی تحدید خوش آئند ہے

نکاح کے لیے عمر کی تحدید کا مسئلہ پاکستان میں اہم قضیے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ملکی قانون میں نکاح کے لیے لڑکے کی کم سے کم عمر 18 سال اور لڑکی کے لیے 16 سال مقرر کی گئی ہے۔ نئے بل میں لڑکی کے لیے بھی کم سے کم عمر 18 سال کرنے کی سفارش کی…

پاکستانی جامعات میں نابینا طلبہ کے لیے تعلیمی مشکلات

ہمارے ملک کی اکثر جامعات میں نابینا طلبہ کو ابتدائی سہولیات بھی میسر نہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے مطلوبہ تعلیمی معیار حاصل کرنا از حد مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس تعلیمی کم مائیگی کی وجہ سے ملازمت اور پیشہ ورانہ میدان میں بھی انھیں دوسروں…