اکرام اللہ: حسابِ سود و زیاں سے بے نیاز ایک نابغہ ادیب

’’عزیزی میمن صاحب! میں کتاب پر مصنف کی تصویر چھپوانے کے حق میں نہیں ہوں، مشہور ادیبوں کے تاثرات سرِدست میسر نہیں ہیں اور میں ایسی تحریریں محفوظ نہیں رکھتا۔‘‘ اکرام اللہ صاحب نے عمر میمن مرحوم کو مندرجہ بالا جواب اس وقت دیا جب میمن صاحب نے…

لغت: مستعمل کی بازگشت

"بھائی صاحب! لغت لفظ کے معنی اور اس کے درست استعمال کی تفہیم کا واحد مستند زریعہ نہیں ہے۔ " "کیوں اور کیسے بل کہ کیوں کر؟" "عزت مآب! مجھ ہیچ مداں کی تو اس سے آگے جانے کی مجال نہیں۔ لیکن علماء لسانیات اسے فقط ثانوی درجہ دینے پر راضی ہیں۔"…

یو بی ایل لٹریری ایوارڈز کی بندر بانٹ

سو میٹر کی ایک ریس میں فقط ایک ہی اتھلیٹ نے حصہ لیا۔ اس نے مقررہ فاصلہ تقریباً دو منٹ میں طے کیا جو معیاری اتھلیٹ عموماً دس سے بارہ سیکنڈ میں طے کر لیتا ہے۔ جب نتیجے کا اعلان ہوا تو اس کی چوتھی پوزیشن آئی۔ حیران و پریشان اتھلیٹ نے ریفری سے…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا خط

عزیزی و محبی! 9جنوری 2014، میرا اس عالمِ آب و گِل میں آخری دن تھا۔ بہ وقتِ رخصت جی مضطرب بھی تھا اور مطمئن بھی۔ اضطراب یہ کہ ادب فروشوں سے جنگ ابھی جاری تھی کہ پیغامِ اجل آ گیا۔ اطمینان اس بات پر کہ ادب کی فضاؤں میں عمداً اندھیرے پھیلانے…

خالد جاوید کا ناول ” موت کی کتاب”: ایذا رسانی کی کتاب

خالد جاوید کا ناول" موت کی کتاب" پڑھ کر امریکی ادیب سٹیفن کنگ کا یہ قول شدت سے یاد آتا ہے: " بری تحریر، زبان و کلام کی خرابی اور مشاہدے کے عیوب ہی سے پیدا نہیں ہوتی؛ بری تحریر، عموماً ایسی کہانیاں سنانے سے کڑے انکار کا نتیجہ ہوتی ہے، جن میں…

اختر رضا سلیمی کا ناول “جاگے ہیں خواب میں” : اردو ادب کا نوحہِ نم ناک

"جاگے ہیں خواب میں"مطبوعہ رمیل ہاؤس آف پبلی کیشن  کے سرورق کی آرائش, فلیپس اور بیک کور پر ناول کے بارے میں "مجددینِ ادب" اور دیگر لکھاریوں کی آراء کی نمائش دیکھ کر اردو ادب کے قارئین نہال ہو ہو جاتے ہیں کہ بالآخر وہ ناول منصہِ شہود پر آ ہی…

صدیق عالم، ایک علاحدہ رنگِ سخن کا موجد

"اسے جھکنے نہ دو؛ اور نہ ہی اس کی شدت کم کرو۔ اسے منطقی بنانے کی کوشش بھی نہ کرو؛ رواج کے مطابق اپنی روح کو مدون کرنے کی بجائے بے رحمی سے اپنے انتہائی شدید جنون کی پیروی کرو۔" صدیق عالم کے افسانوں کا انتخاب " نادر سکوں کا بکس" مطبوعہ " آج"…

علی اکبر ناطق کا افسانوی مجموعہ “قائم دین” : یو بی ایل ایوارڈ کی ساکھ پر سوالیہ نشان

علی اکبر ناطق کا افسانوی مجموعہ "قائم دین" تقریباً دو سال سے میری لائبریری میں موجود تھا۔ اسے یو بی ایل ایوارڈ اور نقادوں سے سندِ اعتبار ملنا گاہے مجھے اس کے مطالعے پر ابھارتا تھا، لیکن عدالتی مصروفیات اور وقت کی قلت آڑے آتی رہی۔ وبا کے…

جاہل عوام اور پڑھی لکھی حکومتیں

لیجئے حضور، غربت، عسرت، بے روزگاری، بھوک، سیاسی ابتری، سماجی و طبقاتی تفریق، معاشی عدم مساوات، تعلیمی و طبی پس ماندگی اور معاشرتی بدحالی اعزازنے کے بعد عوامِ پاکستان کے سینے پر حکومتِ وقت نے جہالت کا تمغا بھی سجا دیا ہے۔ ویسے تو روزانہ کی…

آمنہ مفتی کا ناول “پانی مر رہا ہے” : اردو ناول مر رہا ہے

موسمی نقادوں اور مبصروں نے عظیم، اہم، رجحان ساز، شاندار اور عمدہ ناول جیسی اصطلاحات کو ان کے بے موقع و بے محل کثرتِ استعمال سے بے وقعت اور حقیر کر دیا ہے۔  قارئین ان صاحبان کے جھوٹے تبصروں اور گمراہ کن آراء کی بدولت ناقص ادب پڑھ پڑھ کر اپنا…