فارحہ ارشد کے افسانوں کا مجموعہ ’’مونتاژ‘‘ اور موسمی نقادوں کے کرتب

ایک مرتبہ منیر نیازی مرحوم مجھے اپنے ساتھ لے کر، علامہ اقبال ٹاؤن، اپنے کسی دوست سے ملنے گئے اور حسبِ معمول راستہ بّھلا بیٹھے۔ میں ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، کبھی ایک گلی میں گاڑی موڑتا تو کبھی دوسری میں۔ اور یوں جانے کتنی ہی گلیوں کی…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا چھٹا خط

عزیزی و محبی! یہ خط تمھیں قدرے تاخیر سے مل رہا ہے۔ تاخیر کی وجہ اسے لکھنے میں تساہل نہیں بل کہ۔۔۔۔۔۔ برخوردار، اب تم سے کیا چھپانا۔ اصل میں اس کا سبب فاروقی اور حنفی ہیں۔ دونوں نے وزیر آغا کے اکسانے پر ڈاک خانہء بہشت کے منصرم کو کسی طرح…

رحمن عباس کا ناول “زندیق”: اردو ادب کا نالہء پریشاں

رحمن عباس صاحب نے اپنے ناول " زندیق" کا اتنا ڈھول پیٹا، اتنی منادی کی اور اس قدر دھوم مچائی کہ واقعی ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ اگر اس عدیم النظیر ناول کو نہ پڑھا تو ہمارا کیا بنے گا؟ لیکن یہ اتنا ردی ثابت ہوا ہے کہ ناول پڑھ کر یہ فکر لاحق…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا پانچواں خط

عزیزی و محبی! میں جانتا ہوں کہ تمھیں شدت سے میرے خط کا انتظار ہے۔ مجھے تمھاری بےچینی کی وجہ بھی معلوم ہے۔ نقادِ تفنگ انداز اب تک تمھارے قلعہء نقد پر سات مکتوبات کے گولے داغ چکا ہے اور میں نے ہنوز اس کے پانچ عدد خطوط ہی پر بات کی ہے اور وہ…

صدیق عالم کا ناول “صالحہ صالحہ”: اسرار کی دھند میں لپٹی ہوئی کہانی

" لفظ میں پہلے سے موجود معانی کو لفظ سے خارج کرو، دماغ میں پہلے سے راسخ شدہ تصورات کو مٹائو۔۔۔ اس کے بعد ہی تم منتہائے اظہار اور منتہائے ادراک کو یک جان کر سکتے ہو۔ " صدیق عالم کا ناول " صالحہ صالحہ" مطبوعہ " آج" پڑھتے ہوئے بار بار مجھے…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا چوتھا خط

عزیزی و محبی! بھئی یہ سنیاسی نقاد تو بہت ہی اڑیل واقع ہوا ہے۔ میں نے سوچا تھا ایک دو خطوط کے بعد تمھاری گلو خلاصی ہو جائے گی، لیکن یہ عدوئے نقد جس عزمِ بالجزم سے تمھارے فہم و ادراک کا کِریا کَرم کرنے پر اُدھارُو ہے؛ ایمان کی کہوں تو مجھے اس…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا تیسرا خط

عزیزی و محبی! میرے اور  تمھارے درمیان جوگی نقاد رفتہ رفتہ ایک پُل کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سوچتا ہوں، نہ وہ تمھیں مدرسانہ پند و نصائح سے لتھڑے ہوئے خطوط لکھتا نہ مجھے خلدِ نعیم میں تمھاری فکر ستاتی۔ میرے پیارے! تم نہیں جانتے اور ہرگز…

حفیظ خان کا ناول ” انواسی”: اردو ناول کی بدقسمتی کا تسلسل

گزشتہ ہفتہ، حفیظ خان صاحب کا ناول " انواسی" مطبوعہ " بک کارنر" جہلم پڑھنے کا آغاز کیا۔ کتاب کھولی۔۔۔۔۔ کیا دیکھتا ہوں کہ: ' بے طرح توصیفِ "انواسی" کا تھا دفتر کھلا دے رہے تھے باری باری دھوکا بازی گر کھلا ' کتاب کے دونوں فلیپ اور پہلے سات…

مرغا بنائی گئی قوم

جب سے کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے حکومتِ وقت نے وردی پوشوں کی خدمات حاصل کی ہیں ہر طرف بے جا بے جا ہو گئی ہے۔ سرکاری سرپرستی میں قوم کو شدید مہذب اور اخیر شائستہ طریقے سے کرونا اور اس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے متعلق فوری…

” جناور جگت”: شاہد شبیر کے قلم کا ایک اور کرشمہ

" اینیمل فارم" سیاسی جھانسوں کے مضمرات، نیتاؤں کی شعبدہ بازیوں، پرجا کی نادانیوں، مطلق العنانیت اور اس کے جوازی پروپیگنڈے کے عذابوں،  رعیت کی ٹوٹتی امیدوں اور بکھرتے خوابوں کو پُرفریب سادگی سے بیان کرتا جارج آرویل کا ایک ایسا ناول ہے جو…