مرغا بنائی گئی قوم

جب سے کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے حکومتِ وقت نے وردی پوشوں کی خدمات حاصل کی ہیں ہر طرف بے جا بے جا ہو گئی ہے۔ سرکاری سرپرستی میں قوم کو شدید مہذب اور اخیر شائستہ طریقے سے کرونا اور اس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے متعلق فوری…

” جناور جگت”: شاہد شبیر کے قلم کا ایک اور کرشمہ

" اینیمل فارم" سیاسی جھانسوں کے مضمرات، نیتاؤں کی شعبدہ بازیوں، پرجا کی نادانیوں، مطلق العنانیت اور اس کے جوازی پروپیگنڈے کے عذابوں،  رعیت کی ٹوٹتی امیدوں اور بکھرتے خوابوں کو پُرفریب سادگی سے بیان کرتا جارج آرویل کا ایک ایسا ناول ہے جو…

صدیق عالم کا ناول “چینی کوٹھی”: ایک اچھوتا تجربہ

کچھ تخلیق کار ایسے سیاحوں کی طرح ہوتے ہیں جو بار بار ایک ہی مقام کوکھوجتے رہتے ہیں۔ ایسے مسافروں کا ہر سفر اسی ایک استھان کی دریافت کا عنوان بن جاتا ہے۔ لیکن کچھ ادیب ایسے جہاں گردوں کی مانند ہوتے ہیں جو رہِ یار کو قدم قدم یادگار بناتے ایسی…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا دوسرا خط

عزیزی و محبی! بہشت میں میرے شب و روز بڑے منظم انداز سے گزر رہے ہیں۔ صبح دم باغِ خلد کی سیر، وقتِ چاشت فَوَاكِهُ الجنت کا ناشتہ، دن بھر تفریح و مشاغل، شام ڈھلے مجلسِ رقص و سرور، رات ہوتے ہی آراستگیء دسترخوانِ بہشتِ بریں اور اس کے بعد کے…

ادیب نما مسخروں کا دور 

انحطاط پذیر سماج میں تحسین و تنقید، کذب و صدق، حب و بغض سمیت کوئی بھی رویہ اور فعل خالص نہیں ہوتا کہ ہر عمل کی عمارت کسی نہ کسی زاتی مفاد کی بنیادوں پر اٹھائی جاتی ہے۔ ایسے معاشرے کی اکثریت مسلسل ایک خوف تلے زندگی گزارتی ہے اور وہ ہے: منکشف…

” رنگروٹ دا قتل”: ایک عمدہ ترجمہ

پیرو ۔۔۔ 1950 کی دہائی۔۔۔ ایک نوجوان ایئر مین کا شمالی صحرا میں موجود ایئر فورس کے اڈے کے قریب بیہمانہ قتل ۔۔۔۔تفتیش، لفٹیننٹ سلوا اور آفیسر لیتوما کے سپرد ۔۔۔۔۔ اعلی افسران کا عدم تعاون اور اڈے کے کمانڈنگ آفیسر کی مسلسل مداخلت قاتل تک…

اکرام اللہ: حسابِ سود و زیاں سے بے نیاز ایک نابغہ ادیب

’’عزیزی میمن صاحب! میں کتاب پر مصنف کی تصویر چھپوانے کے حق میں نہیں ہوں، مشہور ادیبوں کے تاثرات سرِدست میسر نہیں ہیں اور میں ایسی تحریریں محفوظ نہیں رکھتا۔‘‘ اکرام اللہ صاحب نے عمر میمن مرحوم کو مندرجہ بالا جواب اس وقت دیا جب میمن صاحب نے…

لغت: مستعمل کی بازگشت

"بھائی صاحب! لغت لفظ کے معنی اور اس کے درست استعمال کی تفہیم کا واحد مستند زریعہ نہیں ہے۔ " "کیوں اور کیسے بل کہ کیوں کر؟" "عزت مآب! مجھ ہیچ مداں کی تو اس سے آگے جانے کی مجال نہیں۔ لیکن علماء لسانیات اسے فقط ثانوی درجہ دینے پر راضی ہیں۔"…

یو بی ایل لٹریری ایوارڈز کی بندر بانٹ

سو میٹر کی ایک ریس میں فقط ایک ہی اتھلیٹ نے حصہ لیا۔ اس نے مقررہ فاصلہ تقریباً دو منٹ میں طے کیا جو معیاری اتھلیٹ عموماً دس سے بارہ سیکنڈ میں طے کر لیتا ہے۔ جب نتیجے کا اعلان ہوا تو اس کی چوتھی پوزیشن آئی۔ حیران و پریشان اتھلیٹ نے ریفری سے…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا خط

عزیزی و محبی! 9جنوری 2014، میرا اس عالمِ آب و گِل میں آخری دن تھا۔ بہ وقتِ رخصت جی مضطرب بھی تھا اور مطمئن بھی۔ اضطراب یہ کہ ادب فروشوں سے جنگ ابھی جاری تھی کہ پیغامِ اجل آ گیا۔ اطمینان اس بات پر کہ ادب کی فضاؤں میں عمداً اندھیرے پھیلانے…