نئے نقاد کے نام وارث علوی کا چوتھا خط

عزیزی و محبی! بھئی یہ سنیاسی نقاد تو بہت ہی اڑیل واقع ہوا ہے۔ میں نے سوچا تھا ایک دو خطوط کے بعد تمھاری گلو خلاصی ہو جائے گی، لیکن یہ عدوئے نقد جس عزمِ بالجزم سے تمھارے فہم و ادراک کا کِریا کَرم کرنے پر اُدھارُو ہے؛ ایمان کی کہوں تو مجھے اس…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا تیسرا خط

عزیزی و محبی! میرے اور  تمھارے درمیان جوگی نقاد رفتہ رفتہ ایک پُل کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سوچتا ہوں، نہ وہ تمھیں مدرسانہ پند و نصائح سے لتھڑے ہوئے خطوط لکھتا نہ مجھے خلدِ نعیم میں تمھاری فکر ستاتی۔ میرے پیارے! تم نہیں جانتے اور ہرگز…

حفیظ خان کا ناول ” انواسی”: اردو ناول کی بدقسمتی کا تسلسل

گزشتہ ہفتہ، حفیظ خان صاحب کا ناول " انواسی" مطبوعہ " بک کارنر" جہلم پڑھنے کا آغاز کیا۔ کتاب کھولی۔۔۔۔۔ کیا دیکھتا ہوں کہ: ' بے طرح توصیفِ "انواسی" کا تھا دفتر کھلا دے رہے تھے باری باری دھوکا بازی گر کھلا ' کتاب کے دونوں فلیپ اور پہلے سات…

مرغا بنائی گئی قوم

جب سے کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے حکومتِ وقت نے وردی پوشوں کی خدمات حاصل کی ہیں ہر طرف بے جا بے جا ہو گئی ہے۔ سرکاری سرپرستی میں قوم کو شدید مہذب اور اخیر شائستہ طریقے سے کرونا اور اس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے متعلق فوری…

” جناور جگت”: شاہد شبیر کے قلم کا ایک اور کرشمہ

" اینیمل فارم" سیاسی جھانسوں کے مضمرات، نیتاؤں کی شعبدہ بازیوں، پرجا کی نادانیوں، مطلق العنانیت اور اس کے جوازی پروپیگنڈے کے عذابوں،  رعیت کی ٹوٹتی امیدوں اور بکھرتے خوابوں کو پُرفریب سادگی سے بیان کرتا جارج آرویل کا ایک ایسا ناول ہے جو…

صدیق عالم کا ناول “چینی کوٹھی”: ایک اچھوتا تجربہ

کچھ تخلیق کار ایسے سیاحوں کی طرح ہوتے ہیں جو بار بار ایک ہی مقام کوکھوجتے رہتے ہیں۔ ایسے مسافروں کا ہر سفر اسی ایک استھان کی دریافت کا عنوان بن جاتا ہے۔ لیکن کچھ ادیب ایسے جہاں گردوں کی مانند ہوتے ہیں جو رہِ یار کو قدم قدم یادگار بناتے ایسی…

نئے نقاد کے نام وارث علوی کا دوسرا خط

عزیزی و محبی! بہشت میں میرے شب و روز بڑے منظم انداز سے گزر رہے ہیں۔ صبح دم باغِ خلد کی سیر، وقتِ چاشت فَوَاكِهُ الجنت کا ناشتہ، دن بھر تفریح و مشاغل، شام ڈھلے مجلسِ رقص و سرور، رات ہوتے ہی آراستگیء دسترخوانِ بہشتِ بریں اور اس کے بعد کے…

ادیب نما مسخروں کا دور 

انحطاط پذیر سماج میں تحسین و تنقید، کذب و صدق، حب و بغض سمیت کوئی بھی رویہ اور فعل خالص نہیں ہوتا کہ ہر عمل کی عمارت کسی نہ کسی زاتی مفاد کی بنیادوں پر اٹھائی جاتی ہے۔ ایسے معاشرے کی اکثریت مسلسل ایک خوف تلے زندگی گزارتی ہے اور وہ ہے: منکشف…

” رنگروٹ دا قتل”: ایک عمدہ ترجمہ

پیرو ۔۔۔ 1950 کی دہائی۔۔۔ ایک نوجوان ایئر مین کا شمالی صحرا میں موجود ایئر فورس کے اڈے کے قریب بیہمانہ قتل ۔۔۔۔تفتیش، لفٹیننٹ سلوا اور آفیسر لیتوما کے سپرد ۔۔۔۔۔ اعلی افسران کا عدم تعاون اور اڈے کے کمانڈنگ آفیسر کی مسلسل مداخلت قاتل تک…

اکرام اللہ: حسابِ سود و زیاں سے بے نیاز ایک نابغہ ادیب

’’عزیزی میمن صاحب! میں کتاب پر مصنف کی تصویر چھپوانے کے حق میں نہیں ہوں، مشہور ادیبوں کے تاثرات سرِدست میسر نہیں ہیں اور میں ایسی تحریریں محفوظ نہیں رکھتا۔‘‘ اکرام اللہ صاحب نے عمر میمن مرحوم کو مندرجہ بالا جواب اس وقت دیا جب میمن صاحب نے…