آج کا استشراق ماضی سے کیسے مختلف ہے؟

ایڈم شیٹز

117

ایڈورڈسعید کی کتاب ”استشراق“ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے ثقافتی مرحلے کی مؤثرترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کاشمار ان کتابوں میں  بھی ہوتا ہے جن کے متعلق غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ بعض مغربی قدامت پسندوں نے اسے مغربی علم ومعرفت کی مذمت کے طور پہ لیا، اس بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہ سعید نے لوئس مسائنن (کیتھولک چرچ سے وابستہ مستشرق)، جاک بیرک( فرنچ مستشرق) اور کلفرڈ گیٹس(امریکی ماہربشریات مستشرق)کو اچھے لفظوں میں یاد کیا ہے۔ ایسے ہی کچھ اسلام پسندوں نے ان اپنے نقطہ نظر سے پڑھنے کی کوشش کی حالانکہ سعید کی سیکولرسیاست سے وابستگی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

جب سے یہ کتاب شائع ہوئی ہے(1978ء) تب سے’استشراق‘ کے لفظ نے لبرل حلقے میں اس موضوع پر مزید بحث کاراستہ روک رکھا ہے۔ کوئی بھی صاحب علم خود کو مستشرق کہلوانا پسند نہیں کرتا  بالکل ویسے ہی کہ جس طرح کوئی نسل پرست یا جنس پرست نہیں کہلوانا چاہتا۔ کتاب کا مرکزی تناظر یہ ہے کہ مغرب نے عالم اسلامی کو کس طرح پیش کیا ہے، تاہم یہ تناظر مسلم دنیا کے سلگتے مسائل پر پردہ نہیں ڈالتا، جن کاسعید کو بھی تکلیف دہ حد تک احساس تھا۔

ایڈورڈسعید اس سے اچھی طرح آگاہ تھے کہ وہ جو تصنیف کررہے ہیں اس کی حیثیت ایک تاریخی دستاویز کی ہے، اور ایسی نوع کے علمی کاموں میں موجود دور کی اہمیت واثرات خاصے ہوتے ہیں۔ یہ کتاب تقریباََ چالیس برس قبل لکھی گئی تھی۔ یہ مصر اور اسرائیل کے مابین کیمپ ڈیوڈ معاہدے کاوقت تھا، لبنان میں سول وار ہورہی تھی، انقلابِ ایران وقوع پذیر ہونے کو تھا، آرئیل شارون کے لبنان پر حملے میں سبرا اور شتیلا کے فلسطینی مہاجر کیمپوں میں قتل عام سے چار برس پہلے کازمانہ تھا، مصنف فلسطینی نیشنل کونسل کے رکن تھے اور فوکو کے پرجوش قاری بھی۔ سعید نے اپنے عہد ِحاضر کی تاریخ لکھی تھی، جو اب ماضی بن چکا ہے اور اس کا چہرہ پہلے سے مختلف ہے۔

مصنف کے مطابق استشراق دراصل طاقتور کا کمزور کے بارے میں تخلیق کیا گیا بیانیہ ہے، علم و طاقت کے اجتماع کا اظہاریہ، جس کے ساتھ نرگسیت کاپہلو بھی غالب ہے۔ سعید کے نظریے میں یہ عناصر آج کے استشراق کا بھی لازمہ ہیں۔ یہ استشراق مغرب کا مسلم دنیا میں سفیر ہے جو فلسطین کے مسئلے کو بے وقعت دکھاتا ہے اور مسلم دنیا کو ایسا سماج خیال کرتا ہے جو سست رو اور اطاعت گزار نفسیات کا حامل ہے، عرب بہار کے بعد پہلی دفعہ اس نے انگڑائی لی ہے، لیکن ساتھ ہی نیک نہاد مغرب کے لیے بھی اس نے مسائل پیدا کردیے ہیں جو خود کو ایک اچھے معلم کی حیثیت میں دیکھتا ہے۔ یہ گھاگ مغرب ہے جو یورپ میں مسلم دہشت گردی کی نفسیاتی تحلیل کینے و آزردگی کی اصطلاحات سے کرتا ہے، اس وضاحت کی ضرورت محسوس کیے بغیر کہ آخر یورپ میں بسنے والے مسلم شہری خود کو اجنبی کیوں محسوس کرتے ہیں۔ پھر یہ ایک عرب نقاد کی رائے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ جذباتی ہورہا ہے اور سائنسی ومنطقی زاویہ نظر رکھنے سے قاصر ہے۔ یہ ضدی مشرقی مغرب کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

جدید استشراق لائبریریوں اور کتب خانوں سے نہیں آیا، بلکہ فیس بک، ٹویٹر اور ڈارک ویب سے آیا ہے۔ یہ بحرانوں کی پیداوار ہے۔ یہ دیواروں سے پرے جھانکنے کی بجائے دیواریں کھڑی کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے

استشراق کا موضوع مغرب کی سیاسی ذہنیت کا جزو لازم بن گیا ہے۔ اس کا اظہار مختلف طریقوں سے ہوتا رہتا ہے، کبھی جانبداری  وتعصب کے رویے کی صورت میں، کبھی دھیمے لہجے میں اور بعض اوقات بحث مباحثے کی شکل میں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ آج کا استشراق اپنی حساسیت و اثرات میں وہ نہیں ہے جوچالیس سال قبل ایڈورڈسعید نے پیش کیا تھا۔

کتاب ’استشراق‘ ویتنام کی جنگی ہولناکیوں کے بعد منصہ شہود پر آئی جب امریکا کے بہترین دماغوں نے ملک کو جنوب مشرقی ایشیا کے جنگلوں کی دلدل میں جھونک دیا تھا۔ جیساکہ سعید نے کہا، اس وقت امریکا کی اعلیٰ جامعات کی پڑھی لکھی شخصیات عرب و مسلم دنیا کے ساتھ محاذآرائی کو درست خیال کرتی تھیں۔ سعید کی فکر پر سخت ردعمل آئے اور اس پر نقد کیا گیا، تاہم سعید نظریہئ تسلسل پر یقین رکھتے تھے، نہ کہ تغیر کے نظریے پر۔ ان کے نزدیک استشراق کی تعبیرات سیاسی ادوار کے ماتحت سامنے آتی ہیں اور اپنے عہد کے مطابق عکس بند ہوتی ہیں۔

2001ء کے بعد صدر بش نے مسلم دنیا سے جس طرح کا رویہ اپنایا وہ ایک نوع کی استشراقی شوریدگی تھی۔ بش انتظامیہ نے افغانستان پر حملے کے اسباب میں ایک سبب وہاں کی عورتوں کو آزادی دلانا بھی بتایا۔ اس نے رافیل پیٹائے(ہنگری کا یہودی مستشرق) کے نظریات کو ابوغیرب جیل میں تشدد کی صورت میں عملی جامہ پہنایا۔ برنارڈ لوئس کو دی انٹلانٹک میگزین نے اس بات کا کھوج لگانے کے لیے مدعو کیا کہ مسلم سماج میں غصے کے اسباب کیا ہیں (ان کا اس موضوع مشہور آرٹیکل ہے جو انٹرنیٹ پر دستیاب ہے roots of Muslim rage)، صحافیوں کے وفد یہ جاننے کے لیے غزہ گئے کہ وہاں مسلم نوجوان خودکش حملہ آور کیوں بن رہے ہیں ۔سب سے زیادہ ہمدردانہ احساسات خواتین کے متعلق اس فکرنے جگائے کہ کس طرح مسلم خواتین کو ان کے بیہودہ اور متحکم مزاج مردوں سے آزادی دلائی جاسکتی ہے۔ کلاسیکل استشراقی نظریہ۔ بش کے دور میں استشراق کا چہرہ ہمیشہ کھلے عام نسل پرستانہ نہیں تھا، لیکن یہ زیادہ تر ایسی نسل پرستانہ جھلک پیش کرتا تھا جن کی بنیادیں ثقافتی تھیں، اسی نوع کی شوریدگی نے عسکری مخاصمت کو جنم دیا اور یہی بش انتظامیہ میں ’جمہوریت کے فروغ‘ کے نام سے ایک تہذیبی ترفیتی تحریک کی شکل بھی اختیار کرگئی۔

صدر اوباما کے دور میں روایتی استشراق کی گرفت کچھ ڈھیلی پڑگئی تھی۔ اوبامانے شروع میں یہ واضح کردیا تھا کہ وہ عرب و مسلم دنیا کے ساتھ باہمی معاونت پر مبنی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، جبری تنفیذ پر یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے ایران سے قربت بڑھائی، اسرائیل کو غزہ کی مغربی پشی پر قبضہ ختم کرنے کا کہا۔ اگرچہ 2009 میں قاہرہ میں اپنے خطاب میں انہوں نے جو لہجہ اپنایا اس میں استشراقیت کا عنصر موجود تھا۔ اس لیے مشرق وسطیٰ کے لوگوں نے اس پہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اوباما ہمیں ہمارے ملکوں کے شہری ہونے کے تشخص سے مخاطب کرتے تو زیادہ بہتر تھا، بجائے اس کے بطور مسلم ہم سے بات کی جاتی۔ اس خطاب کے محض دوسال کے وقفے کے بعد عرب دنیا میں نوجوان سڑکوں پر نکلے، وہ جمہوریت،مساوی شہریت، آزادی،قانون کی بالادستی اور روٹی کی فراہمی کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس میں مذہب کا ذکر کہیں نہیں تھا۔ان احتجاجات میں یہ استشراقی اسطورہ بکھر گیا کہ عرب و مسلم دنیا میں مذہب محور کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک نئی استشراقی فنطاسیہ نے جنم لیا جس میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ اور مسلم دنیا ’ہم‘ جیسے بننا چاہتے ہیں۔ اینگلو امریکن لبرل ازم بشری معاشروں کی غایت ہے۔ ثقافتی حدودایک آڑ ہیں جنہیں فیس بک اور گوگل بالآخر گرا دیں گے۔

جنگ کا استشراقی بیانیہ اس وقت تک باقی رہے گا جب تک کہ امریکا و یورپ مسلم دنیا کو ایک پیچیدہ انسانی معاشرے طور پہ دیکھنے کی بجائے اسے ایک ایسے برے پڑوسی کے طور پہ دیکھتا رہیں گے جہاں ملاؤں، آمروں، داعشیوں اور بنیادپرستوں کی حکومتیں قائم ہیں

اس کے بعد عرب بہار ناکام ہوئی اور داعش کا ظہور ہوا تو سلفیت کی لہر نے قدیم  جامداستشراقی نظریے کو دوبارہ زندگی دی جو اختلاف پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ مسلم دنیا کے وہ استبدادی حکمران جو انسانی حقوق کی پروا نہیں کرتے وہ بھی منطقی طور پہ جامد استشراق کی جڑوں کو پختہ کر رہے ہیں کیونکہ اسی میں ان کی مصلحت و مفاد پوشیدہ ہے۔

ٹرمپ کے عہد میں استشراق کا انسانی اور علمی تناظر مضمحل ہوگیا ہے۔ موجودہ انتظامیہ جمہوریت یا حقوق کی دیگر اقدار کی ترویج کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتی کیونکہ ان میں ایمان اب کمزور ہوگیا ہے اور یہ طاقت کے استعمال میں رکاوٹ بھی بنتی ہیں۔ یہ جدید استشراق سودے، جبر اور سرکوبی کی زبان استعمال کرتا ہے۔ یہ مسلم دنیا کے آمروں کو حکومت میں باقی رکھنا چاہتا ہے اور ناراض نوجوانوں کو جیل میں بند۔ اس کو برنارڈلوئس اور اجمل عجمی جیسے دانشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اعدادوشمار پر یقین رکھتا ہے، پولیس کی رپورٹس دیکھ کر شدت پسندی اور بنیادپرستی کی سطح کا اندازہ لگاتا ہے۔ یہ فاکس نیوز اور سٹیوبینن کا استشراق ہے جو علم و ثقافت کونہیں بلکہ سازشی تھیوریز کو اہم تسلیم کرتا ہے۔ یورپی سماج اس نفسیاتی کرب میں ہے کہ اسے مشکلات میں گھرے مسلم خطوں سے بہت خطرہ لاحق ہے۔ یہ استشراق لائبریریوں اور کتب خانوں سے نہیں پیدا ہوا، بلکہ فیس بک، ٹویٹر اور ڈارک ویب سے آیا ہے۔ یہ بحرانوں کی پیداوار ہے۔ یہ دیواروں سے پرے جھانکنے کی بجائے دیواریں کھڑی کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

موجودہ استشراقی بیانیے میں نفرت کے غالب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مشرق، مغرب کے اندر حد سے زیادہ دخل انداز ہوا ہے۔ یہ تہذیبی تصادم نہیں ہے بلکہ دو بحرانی مظاہر آپس میں بری طرح مدغم ہوئے ہیں۔ ایک تو مغربی نیولبرل اقتصادی نظام کو جھٹکا لگا ہے اور دوسرا مشرق وسطیٰ کا سیاسی ڈھانچہ ایکدم ٹوٹ کر بکھر گیا۔ اس سے ایک طرف شناخت و پاپولزم کی سیاست کوتوانائی ملی اور دوسری طرف جہادی بنیادپرستی کا سیلاب امڈ کر آیا۔ یہ جدید استشراقی بیانیہ مغرب کے مشرق میں دخول سے نہیں بلکہ مشرق کے مغرب میں داخل ہونے سے سامنے آیا ہے۔ اور آنے والا لارنس آف عریبیہ طرز کا فرد نہیں ہے، بلکہ ڈرٹی ہیری (اسی نام سے1971 میں ریلیز ہونے والی ایک فلم کا کردار) ہے۔ مغربی شہری پستول کی لبلبی پر انگلی جمائے آنے والے کی تاک میں کھڑا ہے۔

سعید کی کتاب اپنے موضوع پر حتمی کتاب نہیں تھی، نہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا، لیکن انگیلا مرکل کا ایک ملین مہاجرین کو پناہ دینا اور پوتن کابشار اسد کا حلیف بننا سعید کے کم ازکم جرمن اور رُوسی استشراق بارے خیالات کو تو غلط ثابت کرتے ہیں۔ تاہم ایڈورڈسعید نے استشراقی بیانیے میں علم کی بہکانے والی بے مائیگی(seductive degradation of knowledge) سے خبردار کیا تھا۔ چند ہفتے قبل جب ٹرمپ ایران کو عسکری اور معاشی دھمکیاں دے رہا تھا تو ثابت ہوا کہ ’طاقت‘ کے بیانے کی تخلیق، تطبیق اور اس کا تحفظ کتنا آسان ہے۔ ٹرمپ نے جان بولٹن کی حملے کی خواہش تو پوری نہیں کی لیکن اس نے ٹویٹر پہ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کا بیان جاری کیا۔ ایسے لگتا ہے جنگ کا استشراقی بیانیہ اس وقت تک باقی رہے گا جب تک کہ امریکا و یورپ مسلم دنیا کو ایک پیچیدہ انسانی معاشرے طور پہ دیکھنے کی بجائے اسے ایک ایسے برے پڑوسی کے طور پہ دیکھتا رہیں گے جہاں ملاؤں، آمروں، داعشیوں اور بنیادپرستوں کی حکومتیں قائم ہیں۔ یہ استشراق سے انسانی و ثقافتی عنصر کے ختم ہونے کا مظہر ہے جسے ایڈورڈسعید نے بہت بڑی ناکامی سے تعبیر کیا تھا۔

ترجمہ وتلخیص: شفیق منصور، بشکریہ: دی نیویارک ریویو آف بکس

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...