اشرافیائی تسلط کی زنجیریں

80

پاکستان یکے بعد دیگرے بحرانوں کی زد میں ہے۔ یہ درست ہے کہ تمام اشاریے ایک ہی سمت نہیں جارہے، تاہم جمہوری عمل کے اندر سیاسی خلفشار کا جو ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اُس نے ملک کے اقتصادی منظرنامے پر ناامیدی اور مایوسی کا غبار ڈال دیا ہے۔ تواتر کے ساتھ حکومتی مشینری کے سامنے آنے والی غیرحوصلہ افزا خبروں کی لہرنے ملک میں سرمایہ کاری کرسکنے والے عناصر کی ہمت پست کی ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہورہا ہے کہ جب آئی ایم ایف نے چند ہفتے قبل ہی پاکستان کو اعتماد کا ووٹ دیا ہے اور معیشت کے خارجہ سیکٹر میں ذرا بہتری اور زرمبادلہ کی شرح میں قدرے استحکام محسوس کیا گیا ہے۔

حالیہ ہلچل کومدنظر رکھتے ہوئے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے حکومتی ذمہ داران و ماہرین نے اپنا اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے اپنی باتوں میں فوج کی بعض اہم شخصیات، پاکستان سے باہر مالی غبن کے الزا م میں گرفتار کیے جانے والے کچھ بااثر افراد(جیسے کہ ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی) اور غیرممالک میں موجود چند کمپنیوں کے نام بھی لیے،  پس منظر خلاصہ یہ تھا کہ حکومت کے لیے اس وقت مسائل زیادہ بڑھنے شروع ہوئے جب وہ مشکل وقت میں اس سے تعاون مانگنے والے اپنے دوستوں کے لیے کچھ نہیں کرسکی۔

بحران کی حقیقی جڑیں تو سیاسی حلقے کی پیداوار ہیں اور صورتحال کا تجزیہ اسی تناظر میں کیا جاتا ہے لیکن مسئلے کی تشخیص کا ایک پہلو معاشی بھی ہے جوقابل توجہ ہے۔ اگر اس سوال کے جواب کی نشاندہی ممکن ہوسکے کہ پاکستان میں ریاست کس طبقے کی نمائندہ ہے اور کس کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے؟ توصورتحال کی وضاحت زیادہ آسان ہوجائے گی۔

ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے منشور میں یہ درج ہے کہ وہ آزاد اور وسیع مارکیٹ بیسڈ ترقیاتی منصوبہ بندی کی حمایت کرتی ہیں اور ایک فلاحی ریاست کی تشکیل کاعزم رکھتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ملک کو اشرافیہ کے چنگل سے چھٹکارا دلانے کا نعرہ لگا کر نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اگرچہ ’اشرافیہ‘ سے ان کی مراد سیاسی مخالف طبقہ تھا جسے انہوں نے ملک کے تمام مسائل کی جڑ گردانا۔

اِس سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے، کئی مایوس تاجر حضرات موجودہ اور ماضی کی حکومتوں کو زبردست تنقید کا شنانہ بنا رہے تھے کہ ان کی پالیسیاں متضاداور کارکردگی غیرتسلی بخش ہوتی ہے۔ حیران کن طور پہ ان میں سے کسی نے بھی یہ بات نہیں کی حکومتی زمام کار ان کے ہاتھ میں تھما دی جائے، حالانکہ پہلے وہ فوراََ یہی رائے سامنے رکھ دیتے تھے۔

ہمارے ملک میں کرپشن محض سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ سماجی ہے

جب یہ مسئلہ معروف ماہرین معاشیات کے سامنے رکھا گیا تو ان میں سے بعض نے اس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ چونکہ پاکستان کے اقتصادی گرداب کی تشخیص اور اس کے ساختیاتی بنیادی مسائل کی تحلیل پر کوئی نیا کام موجود نہیں ہے اس لیے اس حوالے سے گفتگو کے لیے ڈاکٹر حمزہ علوی کے تجزیوں کی طرف رجوع کیاجاتا ہے۔

70 اور80 کی دہائیوں کی مابعد استعماری ریاستوں کے حوالے سے اپنی وقیع کتا ب میں مارکسسٹ دانشور اور کارکن نے یہ خیال پیش کیا کہ طاقت کا محور پاکستان کی سول اور ملٹری بیوروکریسی اپنے آپ میں ایک الگ بالا کلاس ہے جو روایتی اشرافیہ(سرمایہ دار،جاگیرداراور شاہی طبقہ) کی نمائندگی یا ان کے مفادات کا تحفظ نہیں کرتی بلکہ اپنے ذاتی طبقاتی بنیاد پر مبنی مفادات کی محافظ ہے۔

ماہرمعاشیات ڈاکٹر علی چیمہ جو لاہور میں متعدد تحقیقی پراجیکٹس سے منسلک ہیں، کہتے ہیں کہ میراخیال ہے کہ ڈاکٹر حمزہ علوی کا معیاری کام اس سوال کا درست جواب فراہم کرتا ہے۔ ان کا یہ تھیسس نہایت جامع ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قومی سطح پر کمزور و ترقی پذیر ہے جبکہ اس کا ریاستی ڈھانچہ اس کے بالکل برعکس نفسیات کا حامل، مستحکم اور طاقتور ہے۔ یہ ایک خلا ہے جو ریاست اور شہریوں کے مابین ہے۔

پاکستان میں ’اشرافیائی تسلط‘ کا تاریخی تصور مستحکم و بالا نفسیات کی حامل ریاست اور اس کی اشرافیہ(سول وملٹری بیوروکریسی) میں مرتکز ہے، اس کے ساتھ شاہانہ مزاج سیاسی عناصر کا حلقہ بھی اس کا جزو سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اشرافیہ عمومی طور پہ مختلف طبقاتی مفادات کا دھیان رکھتی ہے لیکن ترجیحاََ وہ اپنے ذاتی اور خود سے وابستہ محدود حلقے کے مفادات کی محافظ ہوتی ہے۔ پاکستان کا حکومتی اسلوب و ڈھانچہ وسیع شہریت پر مبنی رجحانات کے لیے سازگار نہیں ہے۔ ڈاکشر چیمہ نے یہ نکتہ اٹھایا کہ اشرافیہ اور اس کا تسلط ہر معاشرے میں وجود رکھتے ہیں، حتیٰ کہ ان معاشروں میں بھی جو سوشلسٹ کہلاتے ہیں، آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی بالادست اشرافیہ محدودتر طبقاتی مفادات کی محافظ ہے؟

کراچی سے تعلق رکھنے والے ماہرمعاشیات ڈاکٹر اسد سعیدنے اسی سوال کا جواب کچھ یوں دیا، ان کے مطابق ریاست بذات خود منقسم ہے۔ اس کے بعض عناصر تو وہ ہیں جو اشرافیہ کی جھولی بھرتے ہیں (جیسے اراضی پر ناجائز قبضے اور ٹیکس چھوٹ وغیرہ سے) جبکہ اس کی پاپولسٹ جہت مڈل کلاس کی پریشانیوں کا مداوا کرنے کا تأثر دیتی ہے(جیسے سکول فیسوں، ادویات اور دیگرسہولیات کی قیمتوں وغیر ہ کے مسائل میں)۔ ریاست بہرحال غریب پرور نہیں ہے، اس کی توجہ غذائی ضروریات،صحت عامہ، پبلک ایجوکیشن اور صفائی جیسے مسائل میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

پلاننگ کمیشن کے سابقہ نائب چیئرمین ڈاکٹر نعیم الحق پڑھے لکھے طبقے میں مقبولِ عام رجحانات کی جانب میلان اور سماج کی سنجیدہ تحقیق سے بے اعتنائی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اشرافیائی تسلط کا تصور بہت عمدہ ہے لیکن یہ ادھورا ہے۔ انہوں نے اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے افراد سے اپنی کتاب کی طرف رجوع کرنے کامشورہ دیا۔ انہوں نے Looking Back: How Pakistan Became an Asian Tiger by 2050 میں ان اسباب کوتلاش کرنے کی کوشش کی ہے جن کی بنا پر پاکستان کی ترقی محدود رہی۔ انہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی خلل انگیز دخل اندازی اور ملک کے ماہرین و دانشور طبقے کے معقول کردار کے فقدان کی وجہ سے مقامی سطح کے وہ حل دریافت نہیں کیے جاسکے جن کے ذریعے گہرے ہوتے مسائل سے نمٹا جاسکتا۔

اسلام آباد میں مقیم ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ پاکستان کے تمام مسائل کاسبب احتساب وجوابدہی کے احساس کے نہ ہونے اور میرٹ وشفافیت کے فقدان کو بتاتے ہیں۔ ”ہمارے ملک میں کرپشن محض سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ سماجی ہے۔ لوگ جتنی بدعنوانی کرسکتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے اپنے عہدے کا بھرپور ناجائز استعمال کرتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان کا معاشرتی یا معاشی مقام وموقف کیا ہے۔ چوکیدار سے لے کر افسر تک تمام پاکستانی استحقاق کی اور غیر استحقاق کی مراعات و فوائد کے حصول کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔ وہ کتنے کامیاب ہوتے ہیں، اس کا انحصار مواقع پر ہے، اس میں اخلاقیات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی“۔

پاکستان میں شنوائی سے محروم عوام ایک ابتر زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ مڈل کلاس طبقہ کم ازکم اپنی ضروریات کے قابل دسترس دام کے مطالبے اور بعض سماجی سہولیات کے لیے اپنی آواز پہنچانے میں ایک حد تک کامیاب ہوگیا ہے۔ اشرافیہ (تاجر،صنعت کار،ٹیکنوکریٹس وغیرہ)اپنی خواہشات کی فہرست آپ کے منہ پر لہرانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ اس کے لیے حکومت کو کچھ نہ کچھ تو تگ ودو کرتے رہنا پڑتی ہے تاکہ سب کو ہمہ وقت ناخوش رکھ سکے۔ بیوروکریٹ نے کہا کہ حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے طور پہ خودبخود کارکردگی دکھائے گی خواب خیالی ہے۔ عوام کی ضروریات پوری کرنے اور پیداواری شعبوں کے مطالبات پر کان دھرنے اور اس پر حکومت کواقدامات اٹھانے پر مجبور کرنے کی غرض سے بہت زیادہ جدوجہد درکار ہے۔

”تاہم چیزیں ماٰل کار اتنی خرب بھی نہیں ہوتیں جیساکہ بعض اوقات اس کا تصور کیا جاتا ہے“۔ انہوں نے ایسے رجائیت پسند کی طرح رائے دی جو خود بھی پوری طرح سہمت نہ ہو۔ ”مخالفت میں ہر وقت شور مچانے والے طبقات کچھ افسردگی کا شکار ہیں۔ ہم ان مردوخواتین کی جدوجہد کو کیسے بھول سکتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے مستقبل کے لیے بے تحاشا قربانیاں دی ہیں؟“ ان کا اعتقاد ہے کہ باوجود رکاوٹوں اور مشکلات کے جمہوریت کا سفر بہتری کی جانب رواں ہے۔ موبائل فونز،انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا لوگوں کو جس طرح آپس میں جوڑ رہے ہیں اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ شکستگی اور رکاوٹیں ہمیشہ ناکامی پر منتج نہیں ہوتیں، ان کا ترقی اور کامیابی سے بھی ایک نوع کا ربط ہوتا ہے۔

مترجم:شفیق منصور، بشکریہ: روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...