کیا سوشلسٹ خوش رہ سکتے ہیں؟

جارج اورویل

104

کرسمس اور خوشی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ کرسمس کا نام ذہن میں آتے ہی اس کے ساتھ چارلس ڈکنز کا نام بھی ہماری یاد میں آجاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو اس لیے کہ ڈکنز وہ واحد انگریزی ناول نگار ہے جس نے کرسمس کے بارے میں خاطرخواہ لکھا۔ باوجودیکہ اس تہوار کوعوام میں بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہے، ادب میں اس کا ذکر قلیل ہی ہے۔ قرون وسطیٰ میں لکھے گئے کچھ گیت،روبرٹ برجز کی چند نظمیں اور پھر ڈکنزکی عبارتیں۔ تقریباََ یہی کچھ۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ چارلس ڈکنز معاصر مصنفین میں سے شاید وہ واحد فرد ہے جس میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ خوشی ومسرت کی ایسی عکسی بندی کرسکے جو”قابل فہم“ محسوس ہو۔

ڈکنز کے ادب میں دو مواقع پر کرسمس بارے بہترین پیرائے ملتے ہیں، ایک تو The Pickwick Papers میں، جبکہ دوسرے A Christmas Carol ناول میں۔ ثانی الذکر ناول لینن کے سرہانے پڑھا گیا تھا جب وہ لستر مرگ پہ تھا۔ اس کی بیوی کے مطابق اُسے اس ناول میں ”بورژوازی احساس“ نظر آیا جو بالکل بھی قابل برداشت نہیں تھا۔ ایک طرح سے وہ غلط نہیں تھا، تاہم اگر وہ بہتر وتندرست حالت میں ہوتا تو اسے اس میں سے دلچسپ معاشرتی پرتوں کا ادراک کرسکتا تھا۔ ناول میں چاہے جتنا بھی ماحول کا بھاری پن ہویا ٹِم کی رقت انگیز کیفیت ناگوار لگتی ہو، اس میں کریچٹ فیملی یہ تأثر دیتی ہے کہ وہ بہت خوش ہے۔ خوشی کا یہ احساس ہمیں ولیم مورِس کی کہانی News From Nowhere کے کرداروں میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔  ڈکنز کی یہ خوبی ہے کہ اس کے ہاں خوشی کا جذبہ یکطرفہ ویک سمت نہیں ہے بلکہ یہ احساس تقابلی حیثیت سے جنم لیتا ہے، مثال کے طور پہ یہ فیملی ایک دفعہ اس لیے بشاشت افروز ہوتی ہے کیونکہ اس کے پاس اُس وقت کا کھانا دستیاب ہوتا ہے۔بھیڑیا دروازے پر ہے مگر وہ صرف دُم ہلارہا ہے۔کچھ گروی رکھنے اور پرمشقت کام کے بعد کرسمس کی کھیر کی خوشبو سونگھی جاسکتی ہے۔کریچٹ فیملی کے لیے خوشی کا یہ جواز ہے کہ کرسمس کا تہوار سال میں ایک مرتبہ آتا ہے۔ ان کی خوشی اس بناپر قابل فہم ہے۔یہ اس لیے بھی قابل فہم ہے کہ یہ ادھوری ہے۔

مستقل وابدی خوشی کی تصویرکشی کی تمام کوششیں تقریباََ ناکام ہوئی ہیں۔  مثالیت پسندی(Utopia) پچھلے تین چار سوسالوں سے ادب کا حصہ ہے،اس کی مقبول ترین تعبیرات حقیقت میں غیرمرغوب ہیں اور ان میں تازگی کا فقدان بھی ہے۔

عصرحاضر میں مثالیت پسندی کی مشہور تمثیل ایچ جی ویلز کے ہاں ملتی ہے۔ دوجلدوں پر مشتمل کتاب The Dream and Men Like Gods میں ویلز نے مستقبل کی ویسی عکس بندی کی ہے جیساکہ وہ دیکھنے کا خواہش مند تھا۔ اس کے جہان میں لذت انگیز تنویریت اور تجسس آمیز سائنسی عنصر نظر آتا ہے۔ وہ تمام مصائب وشرور جن کا ہمیں سامنا ہے غائب ہوجاتے ہیں،  جہالت، جنگ، غربت،بیماری، فرسٹریشن اور مشقت، سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں ہم ایسا ہی جہان چاہتے ہیں، ان سب آفات سے چھٹکارا جن سے ویلز چھٹکارا چاہتا ہے۔ لیکن کیا واقعی کوئی فرد ویلز کے مثالیت پسند عالم میں جینا چاہے گا؟ اس کے برعکس، ایسے پرتعیش جہان میں آنکھ نہ کھولنے کا مقصود ایک سیاسی داعیہ بن چکا ہے۔Brave New World  کتاب سراسر عقلیت پسند و لذت انگیز سماج کی تشکیل سے جدید انسان کے خوف کو بیان کرتی ہے، ایسا سماج جسے وہ تخلیق کرنے قادر بھی ہے۔ حال ہی میں ایک کیتھولک مصنف نے کہا کہ مثالیت پسندی کی تشکیل عملاََ ممکن ہے، لیکن اب تو اس سے بچاؤ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ یہ محض بے کار نظریہ نہیں ہے۔ فاشسٹ تحریک کے ظہور کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ بہت زیادہ معقول ومثالیت پسند جہان سے اجتناب کی رغبت کے ردعمل میں جنم لیتی ہے۔

مثالیت پسند ایک بے ساختہ خوشی کا ادراک نہیں کرسکتا نہ اس سے لطف اندوز ہوسکتا ہے

مثالیت پسندی کی ادبی تشکیل کی تمام مقبول کاوشیں اوجِ کمال کی تصویرگری میں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں، لیکن یہ خوشی کا قابل فہم احساس مہیا نہیں کرتیں۔News From Nowhere  کایوٹوپیائی جہان ویلز کی یاددلاتا ہے۔ ہر فرد نرم خُو اور منطقی ہے،ہر اچھائی آزادی سے پھوٹتی ہے، لیکن کتاب مجموعی طور پہ اُکتاہٹ کاباعث بنتی ہے۔ Gulliver’s Travels  میں سوِفٹ پہلے ایک ابتر سماج کی حالت پیش کرتا ہے اور بعض ایسی پیشین گوئیاں بھی جو آج کے سیاسی دور پہ مکمل صادق آتی ہیں۔ لیکن کتاب کے آخر میں جنس ِبشری کے مثل ایک ایسی مخلوق (Houyhnhnms) کا ذکر کرتا ہے جو تمام عیوب سے پاک ہوتی ہے، یہ گھوڑے مثالیت پسند زندگی گزارتے ہیں، یہ ہر طرح کی پریشانی، حتیٰ کے اپنے شریک حیات کے انتخاب میں ’رومانوی جذبے‘ سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد کاملیت پر مبنی نسل کی پرورش کرنا ہوتا ہے۔ بلکہ وہ اپنی موت کے وقت بھی پرمسرت نظر آتے ہیں۔ کتاب کے شروع میں سوِفٹ دکھاتا ہے کہ انسان کی حماقت وکجی اسے کہاں لے جارہی ہے، لیکن اگر یہ حماقت وکجی اس سے اگر نکال دی جائے تو جو کھوکھلا وجود بچتا ہے وہ شاید جینے لائق ہی نہ ہوسکتا ہو۔

ارضی مثالیت پسندی کی طرح بہشت کی عکس بندی بھی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ جہنم کو البتہ ادب میں احترام کا مقام حاصل ہے اور اس کی جو تصویرکشی کی گئی وہ بھی نہایت باریک بینی پر مشتمل ہے اور قابل فہم بھی۔ ایمان سے دور لوگوں نے بھی بہشت کاجوتذکرہ کیا وہ بھی جاذب نہیں ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان خوشی کے جذبے کی تمثیل پر قادر نہیں، وہ اس کا تخیلاتی تصور تقابلی حیثیت میں کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مثالیت پسندی کی شکل ہر عہد میں بدلتی رہی ہے۔ جس مرحلے میں انسان کو جو مصائب درپیش ہوتے ہیں اس کے کامل برعکس ایک جہان کاتخیل باندھ لیا جاتا ہے۔ تاہم یہ ابدی ہونے کی بناپرایسی نعمتیں ہوتی ہیں جو یکطرفہ ویک سمت ہوتی ہیں، جواپنے ماحول میں تناقض کے بغیر خوشی کا احساس فراہم نہیں کرسکتیں۔

انسان اس پر قدرت نہیں رکھتے کہ وہ خوشی کے جہان کی کامل تمثیل پیش کرسکیں، سوائے اس کے کہ انہیں سُکھ اور چھٹکارا چاہیے، درد اور تکلیف سے چھٹکارا۔ انسانوں کی یہ بے بسی سوشلسٹوں کابھی مسئلہ ہے کہ وہ ان سب مشکلات سے چھٹکارا تو چاہتے ہیں جن کا سامنا ہے لیکن خوشی کی تمثیل کا قابل فہم حدوداربعہ متصور کرنا ممکن نہیں۔ ڈکنز ایک مفلوک الحال فیملی کو پرندے کی چیرپھاڑ کرتے اور اسے کھاتے ہوئے خوش دکھا سکتا ہے، لیکن مثالیت پسند ایک بے ساختہ خوشی کا ادراک نہیں کرسکتا نہ اس سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی ڈکنز کے جہان میں رہنا پسندنہیں کرے گا، بلکہ اس کے تراشے ہوئے کسی جہان میں بھی نہیں۔

سوشلسٹوں کاہدف ایسا معاشرہ نہیں ہے جہاں ہر شے درست ہو، جہاں بوڑھے مہذب اُمراء غریبوں کو گوشت خیرات کرتے ہوں۔ اگر ایسا معاشرہ مقصود نہیں جہاں خیرات کی جاتی ہو تو پھر کیسے سماج کی تشکیل چاہتے ہیں؟ میراخیال ہے کہ سوشل ازم کا حقیقی ہدف ’خوشی‘ نہیں ہے۔خوشی انسانوں کے لیے ایک ثانوی چیز رہی ہے اور شاید ہمیشہ ایسے ہی رہے گی۔ سوشل ازم کا حقیقی مقصود انسانی بھائی چارہ(human brotherhood) ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ یہی احساس رکھتے ہیں لیکن وہ کہتے نہیں، یا اسے بلند آواز میں نہیں کہا گیا۔ لوگ سیاسی معرکوں اور خانہ جنگیوں میں جان کے نذرانے اس لیے پیش نہیں کرتے، نہ قیدخانوں میں اس لیے اذیتیں سہتے ہیں کہ انہیں چکاچوند، ٹھنڈی ہواؤں والی کوئی پرتعیش جنت چاہیے ہوتی ہے۔ بلکہ انہیں ایسا جہان چاہیے ہوتا ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کے لیے نرمی ومحبت رکھتے ہوں، بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کو دھوکہ دیں یا قتل کریں۔ یہ پہلے قدم پر ایسا جہان چاہتے ہیں۔ اس کے بعد کی تمثیل غیرواضح ہے اور اس کی تفصیل کی کوشش مسئلے کو الجھا دیتی ہے۔

سوشلسٹ فکر اپنے مقصود کی ایک وسیع تناظر میں توضیح کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پہ دنیا حالت جنگ میں ہے اور امن چاہتی ہے، لیکن حالتِ امن کیا ہے یہ واضح نہیں، کیونکہ انسانوں کو اس کا تجربہ ہی نہیں۔ جیسے کہ ایک محترم وحشی کے وجود کا تصور۔لوگ ایک مدھم تمثیل کووجود دینا چاہتے ہیں لیکن اس کا حدوداربعہ نہیں ماپ سکتے۔ آنے والے کرسمس پرلوگوں کی بہت بڑی تعداد رُوسی برفلیے تودوں کی بھینٹ چڑھ جائے گی، یایخ بستہ پانیوں میں ڈوب جائے گی، بحرالکاہل کے کناروں کی آبادیوں میں کتنے ہی افراد ایک دوسرے کو کاٹ ڈالیں گے،جرمنی کے شہروں میں کتنے بچے کھانے کو ترسیں گے۔ اس سب کو نہ ہونے دینے کی کوشش ایک اچھا اقدام وخواہش ہے، لیکن ایک پرامن وخوشحال دنیا ہوتی کیا ہے اس کی تفصیل و تمثیل ممکن نہیں۔

مثالیت پسندی کی تصویرکشی کرنے والے تمام لوگوں کی مثال تقریباََ اس فرد کی سی ہے جسے داڑھ کا درد ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ ’خوشی‘یہ ہے کہ یہ درد رفو ہوجائے۔ مثالیت پسندوں نے ایک ایسی قدر یا شے کو ابدی متصور کرکے مثالی جہان تخلیق کیا جس کی اہمیت بہت زیادہ تھی مگر دورانیہ مختصر۔ امکانات کی دنیا یہ ہے کہ ہم ایک بہتر دنیا کے لیے کچھ خاکے تو کھینچ سکتے ہیں، جس طرف انسان جانا چاہتے ہیں، لیکن اس کا تفصیلی حدوداربعہ ماپنا ہمارا کام نہیں ہے۔

ترجمہ و تلخیص:شفیق منصور، بشکریہ: اورویل فاؤنڈیشن

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...