عظمت کی تلاش میں

282

مولانا فضل الرحمن اپنا دھرنا سمیٹ چکے ہیں۔ اس وقت وہ اپنی تحریک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جسے انہوں نے ’پلان بی‘ کا نام دیا ہے۔ اس مرحلے میں ملک بھر کی بڑی شاہراہوں پر دھرنے دینے اور انہیں بند کرنے کاعمل شامل ہے۔ مولانا کے اس احتجاجی مرحلے سے زیادہ ترتجزیہ کاروں کو کچھ خاص اُمید نہیں ہے۔ مولانانے اپنے اس احتجاجی عمل سے اپنے انتخابی حلقے کے نوجوانوں کو متحرک  کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایک اہم کردار کے طورپر بھی منوایا ہے، یہ ان کی بڑی کامیابی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ مذہبی حمایت کی بنیاد مذہبی نعرہ بازی اور موجودہ سیاسی تناظرمیں اس کی تطبیق کے ذریعے ہی مستحکم ہو سکتی ہے۔ آزادی مارچ کا اولین بنیادی مطالبہ وزیرِ اعظم کے استعفے اور از سرِ نو انتخابات سےمتعلق تھا لیکن بعد ازاں بتدریج مولانا اور جمعیت علماے اسلام کے دیگر رہنما مذہبی معاملات ومسائل کو بھی  زیرِ بحث لانا شروع ہو گئے۔ قومی ذرائع ابلاغ اور سیاسی تجزیہ کاروں نے آزادی مارچ کے مقررین کی جانب سےکی گئی اس مذہبی بیان بازی  کو نظر انداز کیے رکھا، لیکن یہ بات انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ سیاسی منظرنامے کی مذہبی تفہیم شرکا مارچ کو متحد رکھنے کےلیےایک کارگر عنصر ثابت ہوئی۔

مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں مذہبی بیان بازی بنیادی طور پر دو بیانیوں کے گرد گھومتی رہی ہے: اولاً یہ کہ موجودہ حکومت قادیانی لابی کی کوششوں اور ان کی اثراندازی کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے؛ ثانیاً یہ کہ یہ لابی پاکستان کے خلاف یہودی سازش کی حصہ دار ہے۔ اس طرح کے جلسے جلوسوں میں اس طرح کی بیان بازی ایک معمولی بات ہے لیکن حالیہ دھرنے میں مولانا فضل الرحمن اور ان کی دیگر قیادت اپنے اس بیانیے کا پرچار اپنے سامعین کو مدِ نظر رکھتے ہوئےایک مخصوص مقصد کے لیے کرتی رہی ہے۔

آزادی مارچ کی اولین تقاریر میں مولانا اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی عمل میں مداخلت  کا موضوع بھی زبان پر لاتے رہے لیکن بتدریج انہوں نے اپنے اس موقف میں نرمی برتنا شروع کردی۔ مولانا عرصہ دراز سے اسٹیبلشمنٹ مخالف جذبات کو بھڑکارہے ہیں، اس عمل کی بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ اور مذہبی طبقے کے مابین بڑھتی ہوئی ناراضی ہے۔ لیکن بظاہر اسی وقت مولانا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک نئے تعلق کی  بھی خواہش رکھتے  ہیں، اور اس خواہش کا بھی ایک پسِ منظر ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے اسٹیبلشمنٹ مذہب اور رہنمایان ِ مذہب کے حوالے سے اپنے نقطہِ نظر کا ازسرِ نو جائزہ لیتی نظر آرہی ہے۔ شاید اسی مقصد کے لیے وہ مذہبی رہنماؤں کو ’تزویراتی رہنمائی‘ کی فراہمی وغیرہ کی غرض سے ان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف علما کا متفقہ اعلامیہ، ’پیغامِ پاکستان‘ اور مدرسہ اصلاحات پر اتفاقِ رائے اسی عمل کے نتیجے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو مذہبی رہنماؤں اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین اس ربط و تعلق پرتحفظات رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ان معاملات سے انہیں باہر رکھنا بھی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مولانا سمجھتے ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ اقدامات  ملک کی مذہبی قیادت کے مابین پھوٹ ڈالنے کے لیے دانستہ طور پر اٹھائے ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں ملک بھر سے 20 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کرنے والی بریلوی مکتبِ فکر کی نمائندہ متحرک جماعت تحریکِ لبیک کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے مختصررومانوی تعلق نے مولانا فضل الرحمن کی ناراضی میں مزید اضا فہ کیا ۔تاہم ان کی انتخابی شکست تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔

مولانا نے وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی حکمت عملی سےایک بات سیکھی ہے کہ سیاسی تحریک کو منظم کرنے کے لیے جائز بنیادوں کا ہونا ضروری نہیں ہے

وہ بڑی مذہبی سیاسی جماعتیں جومتحدہ مجلس ِ عمل کے نام سے انتخابی دنگل میں اتری تھیں اور 2002ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی میں موزوں نمائندگی اور دو صوبوں میں مکمل و جزوی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تھیں، وہ ایک بار پھر اسی شان و شوکت کی متلاشی دکھائی دیتی ہیں۔ 2008ء کے عام انتخابات سے متحدہ مجلس عمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی اور ساتھ ہی مذہبی جماعتیں سیاسی منظر نامے میں غیر مقبول ہو گئیں۔ اس کے بعد جماعتِ اسلامی اور جمعیت علماے اسلام (ف) نے اسٹیبلشمنٹ سے کنارہ کشی کی روش اپنائی اور بعض اوقات اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعتوں کے طور پر کردار ادا کیا۔

مذہبی طبقات، بالخصوص طلبہ مدارس اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے اراکین میں اسٹیبلشمنٹ مخالف جذبات کی نمو  نے ان دو جماعتوں میں اسٹبلشمنٹ سے کنارہ کشی راہ ہموار کی۔ تاہم اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ یہ جماعتیں اسٹیبلشمنٹ سے کلیتاً قطع تعلق کرنا چاہتی ہیں۔ تجزیہ کاروں میں یہ خیال بھی گردش کررہا ہے کہ دراصل مولانا قوت کے ان مراکز کو یہی پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔

معلوم نہیں مولانا ان قوتوں کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے ہیں یا نہیں لیکن ان کے موجودہ سیاسی تحرک کا مطلب  2002ء کے عام انتخابات کی عظیم کامیابی کو دوبارہ حاصل کر نا ہے۔ ان کو یقین ہے کہ اس  طرح کی کامیابی اسٹیبلشمنٹ سے بہتر شراکت داری قائم کیے بغیر ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔ انہیں یہ بھی احساس ہو چلا ہے کہ مذہبی نعرے اب اپنی وقعت کھو چکے ہیں اور تحریکِ لبیک جیسی تنظیمیں زیادہ حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔

تحریکِ لبیک جیسی تنظیمیں توہینِ مذہب قانون جیسے نسبتاً حساس مذہبی موضوعات کی بنیاد پر عوامی جذبات کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہیں، دھرنے کے دوران مولانا کا ممتاز قادری کو خراجِ عقیدت پیش کرنا بنیاد پرست مذہبی رہنماؤں سے شراکت داری قائم کرنے کا پیغام تھا، اگر وہ اس بیانیے کو صحیح طریقے سے استعمال میں لا سکتے ہیں تو وہ اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے کرنے کی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ مذہبی عناصر کے ساتھ معاملات  کرنے میں کافی مہارت حاصل کرچکی ہے تو مولانا بھی شطرنج کے مہرے چلنے کا ہنر جانتے ہیں۔

مذہبی جماعتیں دیگر سیاسی جماعتوں سے اداراتی و تنظیمی طور پر زیادہ منظم اور فعال ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنے انتخابی حلقوں کو متحرک کر نے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے پاس سٹریٹ پاوربھی  ہے اور مذہبی مقاصد بھی، لیکن مولانا نے وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی حکمت عملی سےایک بات سیکھی ہے کہ سیاسی تحریک کو منظم کرنے کے لیے جائز بنیادوں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ اسی حکمتِ عملی کی بدولت ہی پاکستان تحریکِ انصاف 2018ء کے عام انتخابات میں فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

ممکن ہے مولانا انہی بنیادوں پر کام کرنے کا سوچ رہے ہوں۔ وہ دھمکی آمیز لیجے میں کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کے مطالبات اب بھی پورے نہ ہوئے تو وہ ’پلان سی‘ کی طرف عملی بنیادوں پر بڑھنا شروع کر دیں گے۔ مولانا اس حکمتِ عملی کے تحت اپنے ووٹرز کو متحرک اور متعلق رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں، جب دیگر حزبِ مخالف جماعتیں کسی بھی طرح کی حکومت مخالف مہم پر مائل نہیں ہیں۔

ایک طویل المدتی احتجاجی تحریک کوروزانہ کے حساب سے نت نئے بیانیوں اور نعروں کی ضرورت ہوتی ہے، اور مذہبی بیان بازی سے اچھا انتخاب مولانا فضل الرحمن کے لیے اور کیا ہو سکتا ہے، لیکن اس طرح سماجی تقسیم میں اضافہ ہو گا اور یوں مولانا جمہوریت پسنداور لبرل طبقہ کی حمایت سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ طبقات سائبر دنیا میں کافی اثرانگیز مقام رکھتے ہیں اور اس طرح وہ مولانا کا مثبت چہرہ بھی متاثر کرسکتے ہیں لیکن شاید ان کی ترجیحات مختلف ہیں اور وہ مکمل طور پر مذہبی حمایت پر انحصار کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ مذہبی بنیادوں کی  نچلے متوسط طبقے میں توسیع و نمو ان کے لیے انتخابات میں قابلِ ذکر کامیابی حاصل کرنے کا مضبوط عنوان ہو سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن میں ایک عوامیت پسند یا پاپولسٹ رہنما بننے کی مکمل صلاحیت موجود ہے لیکن عمران خان کے برعکس اس حوالے سےان کے سامنے کافی رکاوٹیں موجود ہیں جو انہیں پاکستانی وکٹر آربن یا کٹر قوم پرست نریندر مودی نہیں بننے دے سکتیں۔ پاکستان میں طبقاتی تقسیم کافی حد تک بڑھ چکی ہے اور ہر طبقہ اپنے اندر سے ہی کسی عوامیت پسند رہنما کے سامنے آنے کا متمنی ہے۔ عمران خان کی حمایت کرنے والا طبقہ زیادہ تر ملازمت  پیشہ اور سول سروسز سے وابستہ طبقات پر مشتمل تھا جبکہ مولانا کم آمدنی والے قبائلی، مضافاتی اور دیہی طبقات کے نمائندہ عوامیت پسند رہنما کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔ مولانا جن بیانیوں کے حامل ہیں، وہ مذہبی کارکنوں کی ناراضی اور ان میں موجود شناختی بحران کو اپیل کرتے اور انہیں بھڑکانے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

مترجم: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...