پاکستان میں تشدد کے خلاف قانون سازی کا رستہ کون روک رہا ہے؟

فرحت اللہ بابر۔ مصنف سینٹ آف پاکستان کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے سابقہ رکن ہیں

136

گزشتہ ہفتے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں ایک روزہ قومی مشاورت کا اہتمام کیا جس کا عنوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں موجود مشتبہ افراد پر تشدد اور اس کے ذمہ داروں کو حاصل قانونی استثنا تھا۔ اس مشاورت میں ارکان اسمبلی، حقوق انسانی کے کارکنان، سول سوسائٹی کے ارکان سمیت قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور اس دوران حکومت کے لئے قابل عمل سفارشات تجویز کیں۔

اس مشاورت کے دوران شرکاء نے اتفاق کیا کہ ریاست اور سماج دونوں ہی تشدد کے ذمہ دار ہیں۔ اگر ایک جانب ریاستی ایجنسیاں ملزمان سے اعتراف جرم اور دیگر مقاصد کے لئے تشدد کا استعمال کرتی ہیں تو سماج بھی اس صورتحال کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس کی جانب سے اس معاملے پر سخت احتجاج نظر نہیں آتا۔ ہماری ریاست کے نظام عدل میں تشدد کی گنجائش فی نفسہ موجود ہے کیونکہ ہمارا نظام عدل اصلاح کی بجائے  بدلے کی فطرت پر مشتمل ہے۔ مجرموں کو سرعام پھانسی کی سزا دینے  کے عوامی مطالبے جرم و سزا کے متعلق ہمارے قومی مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں ہم بحیثیت مجموعی بھی دھوکے میں رہنے کے عادی ہیں۔ اس کی ایک مثال ہماری ان سرکاری رپورٹس میں ملاحظہ کی جائے جو ہم ریاستی سطح پر اقوام متحدہ کے حقوق انسانی دفتر میں سالانہ جمع کرواتے ہیں۔ ان رپورٹس پر یقین کر لیا جائے تو ہمارے ملک میں قانونی حراست  میں تشدد کا کوئی واقعہ کبھی پیش ہی نہیں آیا۔ ان رپورٹس میں عموماََ یہ درج ہوتا ہے کہ ہمارا مذہب اور آئین دونوں ہی تشدد کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہیں اور احترام انسانی کے پامال کرنے کو جرم خیال کرتے ہیں لہذا ہمارے ہاں اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آتا۔

تاہم اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی برائے انسداد تشدد کی گزشتہ ملاقات میں حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر قائم نیشنل کمیشن آن ہیومن رائٹس کی جانب سے ایک آزادانہ رپورٹ بھی جمع کروائی گئی جس نے سرکاری سطح پر جمع کروائی گئی غیرحقیقی رپورٹ کا پردہ چاک کردیا۔ جسٹس چوہان کی سربراہی میں قائم اس ادارے کو سرکاری سطح پر بھی ایسی رپورٹ جمع کروانے کا اختیار حاصل تھا۔ یوں ان کی جمع کی گئی رپورٹ نے ساری صورتحال کو واضح کردیا۔

اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں نیشنل کمیشن آن ہیومن رائٹس کو پہلے ہی دستیاب موقع پر بے جان کردیا گیا۔ گزشتہ سال مئی میں جب اس کے سربراہ اور ارکان کی مدت ملازمت مکمل ہوئی تو نئی مدت کے لئے کوئی بھرتی نہیں کی گئی۔ جب ملازمتوں کا اشتہار دیا گیا تو سابقہ سربراہ ایک بار پھر سے امید وار تھے سو بھرتی کا سارا مرحلہ یکلخت ختم کردیا گیا ۔ اس ادارے میں بھرتیوں کے لئے ایک بار پھر سے نیا اشتہار جاری کیا گیا مگر اب کی بار میں یہاں درخواست دینے کے لئے ایک خاص عمر کی قید لگا دی گئی  جوکہ اس ادارے کے  لئے وضع کئے گئے طریقہ کار سے بالاتر معاملہ تھا۔ اس بندوبست کے ذریعے جسٹس چوہان پر اس ادارے میں شمولیت کے دروازے بند کردیئے گئے۔

 

موجودہ حکومت نے انتخابات کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ حکومت ملتے ہی انسداد تشدد کے لئے قانون سازی کریں گے۔ تاہم جب بھی حقوق انسانی کی کمیٹی میں اس معاملے کو پیش کیا گیا ان کی جانب سے ایک روایتی جواب دیا گیا۔ ’’انسداد تشدد کا بل تیار ہے۔ ہم اسے وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کردیں گے‘‘

قومی مشاورت برائے انسداد تشدد نے اس مقصد کے لئے قانون سازی کی تجویز دی۔ کیونکہ پاکستان نے سال 2008 میں اقوام متحدہ کے وضع کردہ عالمی کنونشن برائے انسداد تشدد پردستخط کئے تھے اور 2 سال کے بعد 2010 میں اس کی سرکاری سطح پر توثیق بھی کردی تھی۔ اس توثیق کے بعد داخلی سطح پر ایسے قانون کی تیاری حکومت پاکستان کی لازمی ذمہ داری تھی۔ تاہم اس معاملے پر سوائے سینٹ آف پاکستان میں ایک پرائیویٹ بل کی منظوری اور وزارت حقوق انسانی کی جانب سے اس کی تائید کے علاوہ کوئی موثر قانون سازی نہیں ہوسکی۔

سینٹ کی جانب سے اس بل کو قومی اسمبلی میں بھیجا گیا جہاں اسے متعلقہ کمیٹی کے جائزے کے لئے بھیج دیا گیا تاہم اس کے بعد بھی یہ بل 90 دن کی مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود اسمبلی سے پاس نہیں کروایا گیا۔ پھر بعد ازاں جنوری 2017 میں اسے سینٹ اور قومی اسمبلی کےمشترکہ سیشن میں پیش کئے جانے کے لئے رکھ چھوڑا گیا۔  تقریباََ 3 سال گزرنے کو آئے لیکن یہ بل کبھی بھی  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش نہیں کیا گیا۔

موجودہ حکومت نے انتخابات کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ حکومت ملتے ہی انسداد تشدد کے لئے قانون سازی کریں گے۔ تاہم جب بھی حقوق انسانی کی کمیٹی میں اس معاملے کو پیش کیا گیا ان کی جانب سے ایک روایتی جواب دیا گیا۔ ’’انسداد تشدد کا بل تیار ہے۔ ہم اسے وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کردیں گے‘‘۔ گزشتہ اٹھارہ مہینوں سے وفاقی کابینہ میں ایسا کبھی کوئی موقع نصیب نہیں ہوسکا کہ جہاں اس بل کی بابت بات کی گئی ہو۔

کیا وجہ ہے کہ حکومت اپنا انتخابی عہد پورا کرنے میں ناکام ہے؟ غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس راہ میں بڑی رکاوٹ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں جو احتساب کے عمل سے خوفزدہ ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ ان کی گرفت میں تشدد اور اس کے سبب ہونے والی اموات کی تفصیلات عوام تک پہنچ جائیں۔

بیان شدہ یہ نتیجہ گزشتہ سال وزارت حقوق انسانی کی جانب سے سینٹ میں موجود حقوق انسانی کی کمیٹی کو جمع کی گئی رپورٹ سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق  انسداد تشدد کے لئے تیار شدہ بل کے مسودے کے وہ نکات جو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعلق تھے انہیں حذف کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر وزارت نے جو ایک نکتہ حذف کیا وہ یہ تھا۔ “حالت ِ جنگ، جنگ کی دھمکی، عوامی سطح پہ ہنگامی صورتحال، داخلی سطح کی سیاسی غیریقینی، یا کسی بالادست مجاز کا حکم یا افسران کا حکم، اس قانون کے تحت تشدد انجام دینے والے کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکے گا”۔

کیا وجہ ہے کہ سال 2015 میں وزارت انسانی حقوق نے مجوزہ بل کے اس نکتے پر اعتراض نہیں کیا اور اب وزارت کو اس نکتے پر اعتراض ہوگیا؟ اس تبدیل شدہ حکمت عملی سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا زیادہ مشکل تو نہیں ہے۔

حراست کے لئے سرکاری مراکز میں جیلیں، حوالات، عدالتی یا پولیس لاک اپ شامل ہیں۔ تاہم ایک نئی طرح کی اصطلاح کے ساتھ قائم ہونے والے حراستی مراکز جو اعلیٰ سطح کے قانون نافذ کرنے والے محکموں نے “انٹرنمنٹ سنٹرز” کےنام سے قائم کئے ہیں، انہوں نے زیرحراست تشدد کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ اگر چہ قوانین کتنے ہی غیر موثر اور مبہم ہوں، تاہم سرکاری سطح پہ قائم حراستی مراکز میں تشدد کے خلاف  کوئی نا کوئی قانونی شق موجود ہوتی ہے۔ لیکن سابقہ قبائلی علاقوں میں قائم یہ انٹرنمنٹ سنٹرز ہر طرح کی قانونی گرفت سے باہر ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہی ہےجیساکہ  امریکی انتظامیہ نے اپنی آئینی حدود سے باہرحراستی مراکز بنارکھے ہیں۔

ایسی کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں کہ کتنی تعداد میں لوگوں کو ان انٹرنمنٹ سنٹرز میں رکھا گیا۔ کتنوں کے خلاف  اعتراف جرم کروانے کے لئے تشدد کیا گیا اور کتنے افراد زیر حراست ایسے تشدد سے اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ اس سے بھر بدتر صورت یہ ہے کہ حال ہی میں  ایک نیا آرڈینس لایا گیا ہے جس کے تحت ایسے مراکز کو پورے خیبر پختونخوا میں قائم کیا جاسکے گا۔

اسلام آباد میں ہونے والی قومی مشاورت میں اس نکتے کو شامل کیا گیا کہ تشدد کے علاوہ بھی غیرانسانی اور غیرمحترم برتاؤ کو مجوزہ بل میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ بھی اقوام متحدہ کی سفارشات میں شامل ہے۔ اس مجوزہ قانون کوپولیس کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری اداروں پر یکساں نافذ ہونا چاہیئے۔ حکومتی سطح پر انسداد تشدد کی قانون سازی کو ابھی تک عوام میں جاری نہیں کیا گیا ۔ تاہم ایسی خبریں کہ یہ قانون سازی صرف پولیس کو اپنے حراستی مراکز میں تشدد سے باز رکھے گی، تشویش ناک ہیں۔

اس موقع پر شہریوں کا ایک ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا گیا جس کی تشکیل کا اعلان معروف کارکن انسانی حقوق آئی اے رحمان نے کیا، انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں حکومت کے اس مجوزہ اقدام پر نگاہ رکھنا ہوگی۔ کیونکہ اگر اس طرح کی قانون سازی ہوئی  تویہ  عالمی سطح پر تشدد کے خاتمے اور اس کے ذمہ داران کو حاصل استثنا کے خاتمے کی کوششوں کی روح کے منافی عمل ہوگا۔

مترجم: شوذب عسکری، بشکریہ: فرائیڈے ٹائمز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...