چلیں، ہم متنازعہ ہی سہی

149

وزیراعظم عمران خان کے دورہ گلگت کے موقع پر اُن کی تقریروں میں گلگت بلتستان کے مستقبل کے تعین کے حوالے سے کوئی ذکر نہ ہونے پر یہاں کے لوگوں میں تشویش اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ بھارت کی جانب سے لداخ کے نقشے میں تبدیلی کرنے اور گلگت بلتستان کو بھی لداخ میں بھارتی زیر قبضہ علاقوں میں ظاہر کرنے کے رد عمل میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے جاری کردہ موقف نے اُس پر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ بھارت نے گلگت  بلتستان کو لداخ میں ظاہرکیا تو اِس کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے بھارت کے اِس اقدام کی مذمت کے ساتھ گلگت بلتستان کو ایک بار پھر ”متنازعہ“ خطہ کہہ دیا گیا، جس سے گلگت بلتستان کے پندرہ لاکھ عوام کے جذبات مجروح ہوئے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دفتر خارجہ کا اِس خطے کے نقشوں میں یکطرفہ طور پرکی جانے والی تبدیلی کی مناسبت سے گلگت بلتستان کے تاریخی حقائق کی مطابقت میں بیان جاری کرتا۔

تاریخ تو یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے علاقے1947/48 میں جنگ آزادی کے نتیجے میں آزاد ہوئے ہیں اور اس خطے کے بعض علاقوں کا غیر مشروط اور بعض کا مشروط طورپہ پاکستان کے ساتھ الحاق عمل میں آیا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ صرف الحاق کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اِس الحاق کو نبھاتے ہوئے وطن کے دفاع اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے انہوں نے 47 سے اب تک بے شمارقربانیاں دی ہیں جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اِس وقت گلگت  بلتستان پاکستان کا انتظامی صوبہ ہے اور یہاں مزید اصلاحات کے نفاذ کا عمل جاری ہے جن کی روشنی میں یہ علاقے پاکستان کا لازمی حصہ ہیں۔ ان حقائق کے باوجود ترجمان دفتر خارجہ نے حسب سابق گلگت  بلتستان کو ”متنازعہ“ کہہ کر یہاں کے لوگوں کی دل آزاری کے ساتھ ساتھ بھارت کو گلگت  بلتستان کے معاملات میں مداخلت کا ماضی کی طرح موقع فراہم کیا۔ گلگت بلتستان سے متعلق تسلسل کے ساتھ اختیار کیے جانے والے زمینی حقائق کے منافی ایسی ہی پالیسیوں کے باعث بھارت کو گلگت بلتستان پر ناجائز دعویٰ کرنے کا ماضی میں موقع ملتا رہا۔ہماری جانب سے گلگت  بلتستان جیسے حساس خطے سے متعلق کمزور اور مصلحت آمیز پالیسیوں کے تسلسل کے باعث اب بھارت کو یہ جرأت ہوئی کہ لداخ کے میں تبدیلی کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو اپنا حصہ ظاہر کیا ہے۔

بھارت کی جانب سے نقشوں میں تبدیلی کرکے گلگت بلتستان کو لداخ میں ظاہر کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہوگا کہ سروے آف پاکستان کے تمام نقشوں میں بدقسمتی سے گلگت کو ”گلگت ایجنسی“ ظاہر کرکے پاکستان کی حدود میں ظاہر کیا ہوا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر اور بلتستان کو وزارتِ لداخ میں ایک ساتھ دکھایا گیا ہے۔

گذشتہ تیس سالوں میں وفاقی سطح پر جہاں جہاں اور جب جب اعلیٰ فورمز پر اور حکومتی اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتوں کے مواقع میسر آئے راقم اِن نقشوں کا معاملہ اُٹھاتا رہا۔ مئی 2007 ء میں انفارمیشن سروسز اکیڈمی اسلام آبادمیں میڈیا پرسنز کے لیے ہونے والی تربیتی ورکشاب شرکت کا موقع ملا۔ اس تربیت کے دوران شرکائے ورکشاب نے دیگر ادروں سمیت  ISPRکا بھی دورہ کیا توراقم نے اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل کے علم میں بھی اِن نقشوں کا معاملہ لاتے ہوئے کہا تھا کہ سروے آف پاکستان کے یہ نقشے تمام ڈائریوں، اہم دستاویزات کے ساتھ ساتھ سرکاری سکولوں کے نصاب کی کتب میں بھی شامل ہیں۔ بعد میں جنرل صاحب کے دفتر سے مجھ سے رابطہ کیا گیا کہ درسی کتب سمیت ان نقشوں کی کاپیاں فراہم کی جائیں۔ راقم نے وہ تمام نقشے اُن تک پہنچائے مگر ان نقشوں میں تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔

بھارت کی جانب سے نقشوں میں تبدیلی کرکے گلگت  بلتستان کو لداخ میں ظاہر کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہوگا کہ سروے آف پاکستان کے تمام نقشوں میں بدقسمتی سے گلگت کو ”گلگت ایجنسی“ ظاہر کرکے پاکستان کی حدود میں ظاہر کیا ہوا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر اور  بلتستان کو وزارتِ لداخ میں ایک ساتھ دکھایا گیا ہے

گلگت ایجنسی تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے خاتمے اور قیام پاکستان کے ساتھ ہی ختم ہوگئی تھی اور بلتستان و لداخ پر مشتمل وزارت ِلداخ بھی جنگ آزادی گلگت  بلتستان کے نتیجے میں گلگت  بلتستان کی آزادی کے ساتھ ہی تحلیل ہوگئی۔ بلتستان و لداخ کے درمیان لائن آف کنٹرول کی لکیرکھنچ گئی اور تب سے لداخ اور  بلتستان دو علیحدہ علیحدہ ممالک کے زیر انتظام خطے ہیں مگر نقشوں کو 1947ء سے پہلے کی پوزیشن میں رکھنا حماقت اور لاپرواہی کے سوا کچھ اور کیا ہوسکتا ہے جس کا خمیازہ اب ہم بھگت رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کی جانب سے مسلسل بہتر سال تک پاکستان کے ساتھ آئینی رشتوں میں جڑنے کی جاری تحریک کے جواب میں مناسب جواب نہ ملنے،بلکہ الحاق کی اس تحریک کے جواب میں خطے کو مسلسل متنازعہ ہی قرار دیے جانے کی رَٹ کے باعث گلگت بلتستان کے سیاسی و عوامی حلقوں میں سے بعض حلقوں نے اب تنگ آکر وفاق کا بیانیہ ہی دُہرانا شروع کر دیا ہے اور اپنے مطالبات کی نوعیت میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ گلگت  بلتستان سے اپوزیشن کے کئی راہنماؤں نے اب یہ موقف اختیار کرنا شروع کردیا ہے کہ 72سالوں سے پاکستان کی سلامتی و استحکام کے لیے قربانی دینے، آئینی بنیادوں پرقومی دھارے میں شامل ہونے کے لیے زبانی دعوؤں کی بجائے عملاً خون کے نذرانے دینے اور پاکستان کے آئین کا حصہ بننے پر اصرار کرنے کے جواب میں الٹا انہیں متنازعہ ہونے کے طعنے ملتے رہے تو ہم پہلی بار گلگت بلتستان کو عملاً متنازعہ خطہ تسلیم کرنے اور متنازعہ خطوں کو دیے جانے والے تمام حقوق دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس مطالبے کے بعد اب حکومت پاکستان کے پاس اس کو پورا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا کیونکہ یہ خود وفاق پاکستان کا اپنا دیا ہوا بیانیہ ہے۔

گلگت بلتستان کو بار بار متنازعہ قرار دینے والے ناعاقبت اندیش عناصر کویہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس صورت میں خطے کے لیے عبوری آئین دینا پڑے گا۔یہاں آزاد کشمیر طرز پر علیحدہ جھنڈا، صدر اور وزیر اعظم کا عہدہ متعارف کرانا ہوگا۔ اس عبوری حکومت کا اپنا قانون ہوگا۔ ایسا کرنے کی صورت اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا حقیقی معنوں میں اطلاق ہوگا جس کی روشنی میں یہاں استصواب رائے کے لیے راہ ہموار کرنی ہوگی۔ استصواب رائے سے پہلے ریاست جموں و کشمیر بھر سے دونوں ملکوں کو اپنی فوج  واپس بلانی ہوگی۔بھارتی مقبوضہ کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنے کی حد تک کچھ فورسز بھارت اور پاکستان کی طرف پاکستان کو رکھنے کی اجازت ہوگی۔ حقیقی معنوں میں جب یہاں اقوام متحدہ کی قراردادں کی روشنی میں سیلف گورننس قائم ہوگی تو یہاں کے لوگ اپنے لیے سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو بھی اپنی اسمبلی کے ذریعے بحال کروا سکتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وزارت امور کشمیر یا وزارت خارجہ میں بیٹھے یہ بابو اپنے ”متنازعہ“ والے بیانات کے نتائج کے فوری و دُور رس اثرات سے واقف ہوں گے۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان سے متعلق زمینی و تاریخی حقائق سے متصادم موقف رکھنے کے باعث گزشتہ 72 سالوں میں کشمیر کاز کو آپ کتنا فائدہ پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ اب تو بات یہاں تک پہنچی ہے کہ 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے جموں و کشمیر کو بھارت کا آئینی حصہ بنادیا گیا ہے اور پھر لداخ کے نقشوں میں تبدیلی کرکے گلگت بلتستان پر غیر آئینی وغیر قانونی دعویٰ کو بلیک اینڈ وائٹ میں لانے کی ہمت کی گئی ہے۔ بلکہ سیاچن گلیشیر سمیت  بلتستان کے کئی علاقے جو پاکستان سے الحاق کے مرحلے پر ہمارے حدود و اربعہ میں شامل تھے اب نہیں ہیں۔اس ساری صورت ِحال کے باوجود گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی آنکھ میں موجود غصے کو نہ سمجھنے کی غلطی کرکے ذمہ دار حکام ممکنہ نتائج و نمایاں نظر آنے والے اثرات پر آنکھیں بند رکھنے کی غلطی کے مرتکب ہو کر دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...