عرب جامعات کے طلبہ میں انتہا پسندی کی وجوہات (حکمتِ عملی اور تدابیر)

337

تاریخ میں کسی عالمی یا عرب ملک کی نو جوان آبادی اتنی زیادہ نہیں رہی ہے۔ عرب خطہ دنیا میں سب سے زیادہ نو جوان نسل آبادی کا خطہ ہے، اگرچہ نو جوانوں کی تعداد 2010ء میں اپنے عروج پر تھی مگر ایک محتاط اندازے کے مطابق 2025ء میں یہ تعداد بڑھ کر 12 لاکھ ہو جائے گی۔

پروفیسر ضیاب ایم البدائینہ کا تعلق اردن سے ہے اور وہ عالمی سطح پر مانے ہوئے محقق ہیں ۔ دس سے زائد کتابیں تصنیف کر چکے ہیں ۔ ان کا یہ تحقیقی مطالعہ عرب ملکوں میں زیر تعلیم طلبا کے ذہنی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔یہی رجحانات بعد ازاں انہیں انتہا پسندی کی جانب مائل کرتے ہیں۔ پروفیسر ضیاب کی کاوش اس حوالے سے لائق تحسین ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں مختلف اندرونی اور بیرونی عوامل کا جائزہ بھی باریک بینی سے لیا ہے جس سے اس مطالعہ کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ اس قسم کے مطالعہ کی ضرورت پاکستان میں بھی ہے۔(مدیر)

انتہاپسندی کی پیدوار کے حوالے سے یونیورسٹیاں بہت زرخیز ثابت ہوتی ہیں، یونیورسٹی کا ماحول انتہا پسند ی کے فروغ کے لیے انتہائی سازگار ہوتاہے کیونکہ طلبہ عموما ًنوجوان اور پسماندہ ہوتے ہیں جو کہ نفسیاتی اور معاشرتی مسائل کے باعث جلد متاثر ہو جاتے ہیں، نوجوانوں کا انتہاپسندی کی طرف رجحان عالمی امن کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ سماجی اور معاشرتی طور پر الگ تھلگ اور احساس کمتری کے شکار نوجوان اپنی شناخت کے لئے انتہا پسندی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد کالج طلبہ کی انتہا پسندی کی وجوہات اور نقوش کا دریافت کرنا ہے۔ بطور نمونہ 2709 جامعات کے طلبہ کو کویت، متحدہ عرب امارات، عمان، اردن، تیونس، مراکش، لبنان ، مصر ، غزہ اور فلسطین سے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ سوالنامہ لٹریچر ریویو کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا۔

اس تحقیق کے مطابق جامعات کے طلبہ کے مابین خطرناک حد 57.3 تک انتہا پسندی موجود ہے، اس انحطاط کی تحلیل وتجزیہ سے انتہاءپسندی کے کئی محرکات سامنے آئے جن کی شرح تفاوت کے ساتھ 65.4 فیصد رہی جو کہ انتہائی اہم ہے۔
انتہاءپسندی کے متعین اہم محرکات درج ذیل ہیں۔

1. شخصی محرکات: عمر، مذہب، عبادات و مناجات، مذہبی اثرات، مذہبی اطاعت گزاری، غصہ، خوف، انٹرنٹ کا استعمال، امتحانات میں دھوکہ دہی، ضبط نفس کا فقدان اور طاقت کا استعمال۔

2. خاندانی محرکات: افراد خانہ کی تعداد، کنبہ کے بر سرروزگار افراد کی تعداد، والدین کی تعلیم اور والدہ کی ملازمت۔
3. معاشرتی محرکات: ریاست، قومیت، مساوات، فخر، اطمئنان اور دباو ڈالنے والے واقعات۔

نتائج سے پتہ چلا ہے کہ جامعات کا ماحول امن کے لئے خطرہ ہے اور اس کے علاوہ جامعات کے طلبہ کے درمیان انتہا پسندانہ عقائد کو فروغ حاصل ہے۔ جنس، قومیت، افراد خانہ کی تعداد، بے روزگاری، والدین کی تعلیم، اہداف کے حصول کے لئے تشدد کے استعمال، عبادات و مناجات، لڑائی جھگڑوں، مذھبی اہداف کے حصول اور انتہاءپسندی کے بیچ نہایت اہم اور مثبت تعلق پایا گیا جبکہ مذہب، عمر، والدین کی ملازمت، محنت، شہریت، اطمئنان، فرمانبرداری، غصے، انٹرنٹ کے استعمال، دھوکہ دہی اور انتہاءپسندی کے بیچ منفی تعلق پایا گیا۔ جامعات کو انتہا پسندی کے ہاتھوں میں جانے سے محفوظ رکھنے، انتہا پسندی کی مشین بننے اور انتہا پسندی کی راہ فراہم کرنے سے بچانے کے لئے ایک نظام کی تشکیل بہت ضروری ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس مقصد کے لیے مجوزہ احتیاطی تدابیر اور ممکنہ اقدامات پر بحث کی گئی ہے۔

تعارف:
عرب دنیا کی افرادی قوت کے حوالے سے زرخیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1980ء کی دہائی میں ایک عورت چھ بچے پیدا کرتی تھی، یعنی کے 1980 کی دہائی میں انہوں نے 15 سے 24 سال کے نو جوانوں کی ایک فوج ظفر موج پیدا کی، اور یہ اعداد و شمار 1980 سے اب تک دو گنا ہو چکے ہیں، اور آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اندازے کے مطابق عرب کے خطے کی آبادی کا 25 فیصد 15 سے 25 سال کے نوجوان ہیں ۔

تاریخ میں کسی عالمی یا عرب ملک کی نو جوان آبادی اتنی زیادہ نہیں رہی ہے۔ عرب خطہ دنیا میں سب سے زیادہ نو جوان نسل آبادی کا خطہ ہے،اگرچہ نو جوانوں کی تعداد 2010ء میں اپنے عروج پر تھی مگر ایک محتاط اندازے کے مطابق 2025ء میں یہ تعداد بڑھ کر 12 لاکھ ہو جائے گی۔ “عرب بہار” کے باعث خطے میں بیروزگاری میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا اور تقریبا اندازے کے مطابق عرب کی بیروزگاری پوری دنیا کی بیروزگاری سے تین گنا زیادہ ہے اور عرب خطے کو بیروزگاری سے بچانے کے لئے عرب کو نوجوانوں کے لئے 2025 میں 12 لاکھ اضافی نو کریوں کی بھی ضرورت ہوگی، جوکہ آج کے اعتبار سے30 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو گی،نو جوان عورتوں کے لئے بے روزگاری کی شرح اس کے مقابلے میں زیادہ ہے، نو جوانوں کے لیے معاشی مواقع میں کمی کو معاشی بد حالی کی اس لہر سے الگ نہیں کیا جا سکتا جو اس وقت پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔

نوجوان نسل کا پھیلاو اور زدیاتی:

نو جوان نسل کے پھیلاو کی مقدار کو عرب خطے میں نو جوانوں کی زیادتی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور یہ نقشے میں کالے رنگ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اور یہ کالا رنگ اس وقت نقشے میں نظر آتا ہے جب نو جوانوں کی زیادتی ایک جماعت کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ بے روزگاری کی زیادتی اور سیاسی رائے دہی ایک طرف ہے اور دوسری طرف سیاسی عدم استحکام، شدت پسندی، انتہا پسندی اور دہشت گردی ہے: (البدائنہ 2009ء، 2011 البدائنہ۔ الحسن اور تجزیہ نگار رئبیل الماوجد 2016، البدائنہ، خلیفہ اور الحسن 2016، انصف، 2011 ہنڈریسن 2006) مفید پہلو یہ ہے کہ یہ ممالک نو جوان نسل کو مسئلہ نہیں بلکہ اپنا اثاثہ سمجھتی ہے۔ آج کل اس زمانے میں عرب خطے میں نوجوان مرد اور عورتیں بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور یوں عرب خطے کی ترقی کے لئے ان میں مناسب صلاحیت موجود ہے۔

نوجوانوں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا:

عرب خطے کے نو جوانوں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا صرف اختیار پر مبنی نہیں بلکہ ایک فوری ترجیح ہے بلکہ اس بات کا مشاہدہ عرب اسپرنگ میں کیا جا چکا ہے کہ نو جوان مرد اور عورت کی مثبت سوچ اور صلاحیت معاشرے کو منظم کرنے اور معاشی تبدیلی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ نو جوان اپنی اور اپنے معاشرے کی تبدیلی کے لئے بہت اہم ذریعہ بن سکتے ہیں ،نو جوانوں میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے،محدود نوکریوں کے امکان اور مستقبل کی ترقی کی مدہم امید نوجوانوں کو دوسرے متبادل راستوں یعنی مجرمانہ سرگرمیوں یا مسلح تصادم میں شمولیت کی طرف لے جاتی ہے، ان کے مجرمانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے میں بے روزگاری اور نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ نہ اٹھانے کے عنصر کا بہت عمل دخل ہے، ایک بڑی تعداد مسلح اور باغی گروہوں کی شکار ہو جاتی ہے۔

عرب خطے میں بد امنی:

انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے ماہر اقتصادیات نے ا پنی شائع شدہ پہلی رپورٹ میں عرب انقلاب پر تجزیہ کیا ہے اور جوتا پھینکنے والوں کی تعداد کا انڈیکس بنایا ہے تاکہ وہ یہ پیش گوئی کر سکیں کہ آئندہ کون سا عرب ملک عوامی بغاوت اور انقلابی تحریکوں کا سامنا کرے گا۔
مثال کے طور پر 25 سال سے کم آبادی 52 فیصد ،فی کس جی ڈی پی 10 فیصد ،ڈیموکریسی رینکنگ 15 فیصد، بد عنوانی کا تناسب 1.5 فیصد، آزادی صحافت 5فیصد، تعلیم بالغان 0فیصد، انٹرنیٹ صارفین 0 فیصد اس اشاریے کے مطابق نتیجہ قطعاً قابل اطمینان نہیں۔
عرب خطے کو حالیہ عدم استحکام کا اچھا خاصا تجربہ حاصل ہے۔ مثلا ً2011 میں شام ، عراق، لیبیا، مصر، سوڈان اور یمن کے حالات خراب ہوئے۔

عرب کے اندر اس عوامی بغاوت کے سبب یا تو جمہوریت آئے گی یا انتہا پسندی، لڑائی اور افراتفری عام ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ عرب کے خطے میں بڑے پیمانے پرمظاہر ے اور لڑائیاں آس پاس کے علاقوں میں آگ بھڑکا رہی ہیں اور اضطراب کا سبب بن رہی ہیں۔ یہ ایک مناسب وقت ہے ان ممکنہ وجوہات کی جانچ پڑتال کا جو اس تشدد کے پیچھے ہیں، اس خطے میں بدامنی کے پھیلنے میں بہت سارے عوامل کار فرماہیں۔ ان عوامل میں جمہوریت کا نہ ہونا بھی ،جبر، آمریت، بدعنوانی، نااہل افراد کو عہدوں پر بٹھانا، اور سماجی اور اقتصادی ترقی کا فقدان اور غریب اور غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت بھی شامل ہیں، عرب خطے کے حالیہ انقلابات کی وجوہات انتہائی پیچیدہ اور بہت زیادہ ہیں جن کو کسی ایک وجہ کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا ،عرب بہار ایک بنیادی وجہ ہے لیکن اس کے علاوہ بھی متعدد عوامل ہیں۔

عرب خطے کو حالیہ بدامنی کا خاصا تجربہ ہے۔ شام، عراق، لبنان، صومالیہ، سوڈان اور یمن کا طویل تنازعہ اپنے عروج پر ہے اور2011 کی مشہور عوامی بغاوت نے ان تمام ملکوں بحرین، مصر، لیبا، شام اور تیونس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کے ساتھ ساتھ عرب کے خطے میں بڑے پیمانے پر مظاہر اور لڑائیاں ہورہی ہیں۔

جوتا پھینکنے والوں کی فہرست:

یہ فہرست 9 فروری کوشائع ہوئی ،بحرین اور سب سے زیادہ لیبیا وہ بد امنی کا سامنا کر رہے ہیں اور حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فہرست اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ ممکنہ طور پر پورے عرب میں کہاں سب سے زیادہ مسئلے پیدا ہو سکتے ہیں، اس بات کو معلوم کرنے کے لیے سجیکٹ ویٹنگ کے ذریعہ عوامل کا پتہ لگایا جاتا ہے، مثلاً کسی بھی لیڈر کا اقتدار کا دورانیہ۔

عرب جامعات کا پس منظر:

عرب ممالک میں ماڈرن ایجوکیشن اعلیٰ تعلیم سمجھی جاتی تھی، گزشتہ عشروں میں زیادہ تر عرب طلبہ عرب دنیا میں پھیلی ہوئی عرب یونیورسٹیوں میں پڑھتے تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ ترکی، پاکستان، انڈیا، یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں۔
1940میں مشرق ِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ ممالک میں صرف دس یونیورسٹیاں تھیں2000 میں اس طرح کے 140 ادارے تھے اور2007 میں ان کی تعداد2401تک پہنچ گئی تھی۔جن میں سے دو تہائی 1980 کے بعد بنائی گئی ہیں۔

آخر میں اس تعلیمی خوشحالی میں حصہ لینے والے GCC ممالک تھے۔ 2003میں سعودی عرب میں آٹھ یونیورسٹیاں کام کر رہی تھیں لیکن اس کے بعد مجموعی طور پر100 یونیورسٹیاں اور کالج بنائے گئے اور ملک کا سالانہ بجٹ تعلیم کے لیے 15 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جو کہ 23 ملین باشندوں کے لیے تھا۔ متحدہ عرب امارات اور قطر نے اسی دوران مغربی ممالک کی یونیورسٹیوں کی40 شاخیں قائم کی۔

عرب دنیا میں اعلیٰ تعلیم ( قدیم نقوش )

عرب دنیا میں اعلیٰ تعلیم، عرب کے وسط مغرب میں اعلیٰ تعلیم تاریخ اور معاشروں میں گہرائی سے مستحکم ہوئی۔ ساتویں صدی اور اسلام کے پھیلاو کے بعد عرب دنیا میں مقامی مذہبی سکول جو کہ مدرسہ کے نام سے جانے جاتے تھے وسط مغرب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بڑے ادارے بن گئے۔ اسی دوران عرب دنیا کے دوسرے اداروں، ہسپتالوں، لائبریریوں، رصد گاہوں اور اکیڈمیوں نے قدیم یونانیوں سے متاثر ہو کر ان کے غیر مذہبی سائنس کی ترقی کی ذمہ داری اٹھائی۔

ان اکیڈمیوں میں سب سے زیادہ مشہور بغداد میں قائم بیت الحکمت تھا۔ جہاں سولہویں صدی تک کئی سائنس کے شعبے (فلکیات، فزکس ، ریاضی، ادویات، کیمسٹری اور جیوگرافی) قائم کیے گئے اور اٹلی کی نشاةثانیہ کے بعد ان سائنسی علوم کو دوسرے شعبوں کے ساتھ فروغ دیا گیا اوردوسرے ممالک نے اس کا ترجمہ کر کے اٹلی اور سپین کے ذریعہ یورپ تک پہنچا دیا۔

خطہ عرب دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں کا مرکز ہے۔ الازہر یونیورسٹی دسویں صدی میں قاہرہ میں قائم ہوئی جو کہ شرو ع میں صرف مردوں کے لیے اسلامی قانون اور دینیات کی تعلیم کا مرکز رہی ہے جبکہ اب الازہر یونیورسٹی طلبہ وطالبات دونوں کے لیے کئی تعلیمی شعبوں میں اپنی خدمات پیش کر رہی ہے۔ (برٹانیکا انسائیکلوپیڈیا ، آن لائن2014 ) جامعہ الازہر میں جدید اعلیٰ تعلیم کے علاوہ انیسویں صدی کی ابتداء میں یورپ اور امریکا کی بنائی گئی نو آبادیاتی اور مشرقی یونیورسٹیوں سے اشتراک کا سراغ بھی ملتا ہے۔

یہ تعداد میں چند ایک ہیں اور بڑے شہروں میں رہتے اونچے طبقے کے لوگوں تک انفرادی طور پر تعلیم کی رسائی محدود ہے۔ آج کل یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم سماجی سائنس اور فلسفہ کا مطالعہ خاص طور پر عربی میں پڑھایا جاتا ہے۔ جب کہ میڈیکل سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیسن عام طور پر انگلش یا فرانسیسی میں پڑھائے جاتے ہیں۔ (جن کی ابتداگزشتہ استعمار کے دور میں ہوئی) روز مرہ کی بول چال سے تعلق رکھنے والے الفاظ کے برعکس عربی زبان میں تعلیم جدید عربی نصاب کے مطابق ہے۔ کچھ ممالک نے عربی زبان میں تعلیم کو عام کرنے کے لیے مختلف قسم کے اقدامات کیے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کی مبینہ عربنائزیشن ایک ایسا متنازعہ ایشو ہے جس پر مختلف عرب ممالک میں بیسویں صدی کے نصف تک متعدد سیاسی اور ثقافتی مباحثے ہوئے خطے میں امریکن یونیورسٹی آف بیروت (جیسے اس وقت سیرین پروٹسٹنٹ کالج کہا جاتا تھا)، سینٹ جوزف یونیورسٹی، بیروت، قاہرہ یونیورسٹی (پرانی مصری یونیورسٹی)، الجزائر یونیورسٹی، دمشق یونیورسٹی (پرانام شامی یونیورسٹی) سمیت دس یونیورسٹیاں تھیں۔ بیسویں صدی کے آخر میں عرب میں اعلیٰ تعلیم بہت تیزی سے پروان چڑھی 1998 میں تین ملین طالب علم سرفہرست تھے۔ طلبہ کی تعداد میں2007 2008,میں تیزی سے بڑھی اور تقریباً 5.7 ملین طلبہ تھے جبکہ اسی دوران یونیورسٹیوں کی تعداد میں دو گنا تین گنا اضافہ ہوگیا۔ اس خطے میں اعلیٰ تعلیم کا رجحان نجکاری کی طرف بڑھا۔ اگرچہ ممالک کے درمیان کچھ فرق ظاہر ہوا۔ بحرین و عمان و فلسطین و متحدہ عرب امارات سے بہت سارے طلبہ پرائیویٹ یونیورسٹوں میں منتقل ہو گئے جس کا تناسب 50 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ مراکش، عراق، لیبیا اور سوڈان میں پرائیویٹ طلبہ کا رجحان انتہائی کم رہا جس کا تناسب 20 فیصد سے کم ہے۔


1993 سے مشرق وسطی میں دو تہائی (تقریباً 70) نئی یونیورسٹیاں بنائی گئی ہیں جو کہ پرائیویٹ ہیں اور زیادہ سے زیادہ (تقریباً 50) ان میں سے مغرب اور امریکہ کی شاخیں ہیں۔ سعودی عرب جو کہ آٹھ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو چلا رہاتھا اس کی سرزمین میں پرائیویٹ یونیورسٹیاں اور بے شمار پرائیویٹ کالج منظور ہوئے۔ تعلیمی سرگرمیاں قائم کرنے کے لیے خاص طور پر تین ممالک، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہیں۔ تاہم ان میں سے ہر ایک ملک تعلیمی ترقی کے لیے ایک مخصوص نظام پر عمل کرتا ہے۔ قطر تعلیم کے لیے فنڈ قطر فاونڈیشن کے ذریعے حکومت فراہم کرتی ہے۔

2003ءسے اب تک قطر نے 8یونیورسٹیوں کا خیر مقدم کیاجن میں 6 امریکی، اور 2 اسرائیلی ہیں اور مزید آرہی ہیں۔ تعمیراتی لاگت کی بہت بڑی مقدار کی دیکھ بھال قطری مالی وسائل سے ہی ہوتی ہے لیکن غیر ملکی یونیورسٹیاں پرائیویٹ ادارے ہی ہیں۔
عرب یونیورسٹیوں کی تعداد 2003 میں 233 تھی اور 2006 میں 286 یونیورسٹیاں تھیں جن میں سے153 سرکاری اور133 نجی ہیں۔ طلبہ کی تعداد تقریباً 44 لاکھ اور سٹاف کی تعداد 38 ہزار ہے۔ جن میں سے 78 فیصد فلسفے اور 22 فیصد سائنس کے ہیں۔ 2013 میں یونیورسٹیوں کی تعداد600 سے زیادہ ہوگئی اور طلبہ کی تقداد تقریباً 11ملین اور سٹاف کی تعداد دو لاکھ پچاس ہزارتک بڑھی ہے۔ انتہا پسندی اور انتہا پسندوں کی بھرتی کے لیے یونیورسٹی کا ماحول ایک زرخیز جگہ ہے۔ عالمی امن کے لیے نوجوانوں میں انتہا پسندی شدید خطرہ بن رہی ہے۔ انتہا پسندی نوجوان نسل کو اپنی شناخت کے حصول کے لیے دہشت گردی پر ابھار رہی ہے۔

عرب نوجوان:

عرب خطے کی 32 فیصد آبادی نوجوان نسل پر مشتمل ہے۔ عرب دنیا کی حدود حکمرانی میں 20 ممالک شامل ہیں جو کہ عرب لیگ نے مقرر کیے ہیں۔ 15سے 25سال کی عمر کے نوجوان آبادی100 ملین سے زیادہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ 31ملین بچے جو ابھی سکول سے باہر ہیں۔ 6سے15سال کے درمیان کے ابھی سکول گئے ہی نہیں۔ عرب دنیا میں عرب آبادی مشترکہ آبادی کا 422 ملین ہے جن میں نصف کی عمر25سال سے کم ہے۔ عرب میں22ریاستیں ہیں۔ (10 افریقی، 12 ایشیائی)۔
یوینسکو کے مطابق اس علاقے میں نوجوانوں کی شرح خواندگی (15سال اور اس سے بڑے)76.9 فیصد ہے۔مشرق وسطیٰ میں اور جنوبی افریقہ میں200 ملین جوان لوگ ہیں یہ خطے کے لیے یا تو بہت ہی زیادہ فائدہ مند ہے یابہت زیادہ خطرناک ہے۔
وہ آزادی جمہوریت کی کمی ، بے روزگاری اور غربت کے دباو کا شکار رہتے ہیں اور جو اپنے سماجی ماحول کے ساتھ موافقت پیدا نہیں کر سکتے وہ سیکورٹی کے لیے خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ عرب دنیا میں 75 ملین صرف نوجوان بے روز گار ہیں۔
آٹھویں سالانہ ASD.A برنن مارسٹیلر بین الاقوامی پولنک فرم PSB نے عرب نوجوانوں کے سروے کا انتظام2016 میں کیا۔ جس میں جنوبی افریقہ اور مشرقی وسطی کے ممالک کے عرب نوجوانوں کے ووٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جس میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب ، امارات، تیونس اور یمن ، اردن، عراق، لبنان، فلسطین، اور جنوبی افریقہ، الجزائر، مصر، لیبیا، مراکش کے 3500 مردوں اور عورتوں کے آمنے سامنے انٹریو لیے گئے، جن میں 50 فیصد مرد اور اتنی ہی عورتیں تھیں جن کے عمریں 18سے 24 سال کے لگ بھگ ہیں۔ آج کا نوجوان جمہوریت پر ثابت قدمی کا قائل ہے۔ ملازمت کے مواقع کا نہ ہونا 16 ممالک میں ایک بڑا مسئلہ ہے، ووٹ ڈالنے والوں میں نصف سے کم اس بات پر متفق تھے کہ جہاں وہ رہتے ہیں وہاں نوکری کے مواقع بہت ہیں،ان ممالک میں کاروبار اور کام بہت اچھا ہے، جہاں داعش بہت تیزی سے نوجوانوں کو بھرتی کرتی تھی۔ صرف 2 فیصد یمنی نوجوان 7 فیصد لیبیائی،20 فیصد فلسطینی،21 فیصد لبنانی، 28 فیصد تیونس، 39 فیصد عراقی نوجوانوں کا یقین تھا کہ ان کے ملک میں ان کے لیے بہت اچھے نوکری کے مواقع دستیاب ہیں۔ ملازمت کے مواقع عرب دنیا کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔15سے24 سال کی عمر کے لوگ بے روزگار ہیں ،عالمی بینک کے مطابق عرب دنیا میں سب سے زیادہ نوجوان نسل کی بے روزگاری کی شرح ہے۔ 24 فیصد نوجوان نوکری کی کمی اور نوجوانوں کے لیے ملازمت کے موقع نہ ہونے کی وجہ سے داعش کی طرف راغب ہو جاتے ہیں اور ہر4 میں سے 1 (25 فیصد) نوجوانوں کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ وہ جنگجو گروہ ہیں اور کیوں داعش میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور دوسری خاص وجہ یہ ہے کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام کو دوسرے مذاہب پر برتری حاصل ہے اور 18 فیصد سنی اور شیعہ کے اختلافات کے باعث اور (17 فیصد) مغربی اقدار کے خاتمہ کے لیے داعش میں شامل ہوجاتے ہیں۔

ساتویں سالانہ برسن مارسٹیلر بین الاقوامی پولنگ فرم نے PSB2015میں نوجوانوں کے سروے کے انتظام کیا جس میں جنوبی افریقہ اور مشرقی وسطی کے 16 ممالک میں عرب نوجوان کے ووٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا PSB نے 20جنوری سے31 فروری2015 تک سے 24 سال کے مردوں اور عورتوں کا آمنے سامنے انٹرویو کا انتظام کیا اس سروے میں گلف ممالک کے 6 ملک گلف کارپوریشن کونسل سٹیٹ شامل تھے۔ جن میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب او ر متحدہ عرب امارات، الجزائر، مصر، عراق، اردن، لبنان، لیبیا، مراکش، فلسطین، تیونس اور یمن ان ممالک میں شام کو اس ملک کی افراتفری کی وجہ سے شامل نہیں کیا گیا ہے۔ سروے میں ملک کی نمائندگی کرنے کے لیے ہر ملک سے200 افراد کو مدعو کیا گیا اور UAE سعودی عرب اور مصر کے300افرادکو مدعو کیا گیا۔ عراق کے250 اور فلسطین کے150افراد تھے اور سروے مردوں کو اور عورتوں کی تعداد 50,50 تھی۔

عرب نوجوان کا اس بات پر اعتبار نہیں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت سے کوئی کام ہو پائے گا۔
39فیصد اس بات پر متفق ہیں کہ جمہوریت اس خطے میں کام کر سکتی ہے جبکہ 36 فیصد اس کے بارے میں اس بات کے قائل ہیں کہ جمہوریت  سے کام چلے گا 25 فیصد بے یقین اور63 مثبت رویہ رکھے ہوئے ہیں کہ مستقبل میں اس خطے میں بہتری آسکتی ہے۔

داعش میں اضافہ عرب نوجوانوں کی ایک بہت بڑی پریشانی ہے۔ تقریباً ہر4 میں سے3 (73 فیصد) مذہبی طور پر شدت پسند گروہوں میں دلچسپی لیتے ہیں اور اپنا اثر بڑھا رہے ہیں۔ تقریباً 5 میں سے 7 اپنے علاقے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اسی وقت آدھے سے کم (47 فیصد) افراد گورنمنٹ پر اپنا اعتماد ظاہر کرتے ہیں کہ گورنمنٹ اس مسئلے سے نمٹ لے گی۔ جب عرب نوجوانوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں بے روزگاری کے بارے میں تو وہ اظہار کرتے ہیں اور 5 میں سے 2 (39فیصد) عرب نوجوان اگلے پانچ سالوں میں اپنے کاروبار سیٹ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

بیروزگاری:
نوجوان عموما ًسیاسی انتہاپسندی میں بڑا واضح کردار ادا کرتے ہیں، اور نوجوانوں کے انحراف کی وجہ سیاسی بحران ہوا کرتے ہیں۔ اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ اکثر وبیشتر نوجوان مرد ہی جرائم اور سیاسی انتہاپسندی میں مرکزی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں، لیکن کیا کثیر تعداد نوجوانوں پر مشتمل علاقے یاممالک سیاسی انتہاپسندی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں؟ اس معاملے نے گذشتہ دہائیوں میں آبادی میں اضافے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے امن کے فقدان کے بارے میں ہونے والے عمومی مباحثوں کے بعد کافی توجہ حاصل کی ہے۔عرب دنیا میں حالیہ عدم استحکام کی وجہ نوجوانوں کا گروہ در گروہ بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنا ہے، نائن الیون حملوں کی وجوہات جاننے کے لیے کیے گئے سروے میں نیوزویک کے ایڈیٹر فرید زکریا کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ نوجوانوں کے ریلے اور معاشی و اجتماعی تبدیلی میں سست روی نے عرب دنیا میں اسلامی نشاةثانیہ کو بنیاد فراہم کی ہے۔

نومبر 2012 میں اردن میں حکومت کی طرف سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد احتجاج میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی بیروزگاری کے عنصر کو ظاہر کرتی ہے، مزید براں شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے اردن کی طرف ہجرت کرنے والے ایک لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کی وجہ سے بھی اردن کے باشندوں کے لیے روزگار کے مواقع میں کمی آئی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اردن کے پڑوسی ممالک – جیسا کہ بحرین اور لبنان – بھی انہیں حالات کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ نومبر 2012 کے اواخر میںیہی عدم استحکام پھیل کر غزہ اور اسرائیل تک بھی پہنچا جہاں پرتشدد واقعات پیش آئے۔

شکل نمبر 4 : عرب نوجوانوں میں بیروزگاری

جیسا کہ شکل نمبر 3 میں جہاں تین عرب ممالک (قطر،امارات،بحرین) میں اوسط بیروزگاری کو بین الاقوامی سطح پر دیکھا جا سکتا ہے وہیں لبنان،الجزائر،کویت اور مراکش میں اسی تناسب کو عرب کی سطح پر دیکھا جا سکتا ہے۔باقی عرب ریاستوں میں بیروزگاری کا تناسب اس سے کہیں زیادہ تھا۔
عرب خطہ میں بیروزگاری کا مسئلہ نمایاں ہے،یہ واحد خطہ ہے جہاں 15 سال اور اس سے اوپر کے افراد 2011 میں بیروزگاری 10 فیصد سے بھی زیادہ تھی،خطے کے نوجوانوں کی بڑی تعداد کئی دہائیوں سے روزگار سے محروم ہے،2011 تک بیروزگاری کی شرح میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔عرب خطے میں پہلے سے موجود روزگار کی عدم دستیابی میں عرب بہار کے نتیجہ میں یکایک اضافہ دیکھنے میں آیا اور 2012 تک یہ تناسب 27 فیصد کے قریب پہنچ گیا جو کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور نوجوانوں کے تناسب سے دگنا ہے۔اس طرح یہ اضافہ پہلے سے موجود دس فیصد بیروزگار آبادی پر تین گنا ہو چکا ہے۔

نوجوانوں میں انتہاپسندی
نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کی عدم دستیابی سے معاشی بدحالی کے علاوہ کچھ معاشرتی نتائج بھی سامنے آرہے ہیں،معمولی نوکریاں اور مستقبل کو بہتر بنانے کی ٹمٹماتی امید بسا اوقات جرائم پیشہ گینگ اور مسلح گروہوں کو متبادل ذرائع آمدن کے طور پر دکھاتی ہے، بے روزگار نوجوان یا معمولی اور جزوقتی روزگار کے حامل نوجوانوں کے بارے میں یہ بات سامنے آتی رہتی ہے کہ وہ لڑائی جھگڑوں اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں، ایسے افراد بڑی آسانی سے مسلح اور باغی گروہوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

عرب یوتھ کا انتہاپسندی کی طرف رجحان:
آجکل نوجوانوں کے انتہاپسندی کی طرف رجحان کو سب سے بڑ اسکیورٹی رسک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اس موضوع پر قومی اور عالمی سطح پر قانونی، سماجی اور معاشرتی اعتبار سے تحقیقات ہو رہی ہیں، جن کے نتیجہ میں بننے والی تصویر کا اختلافات کے باوجود ایک قدر مشترک یہ ہے کہ نوجوانوں میں انتہاپسندی پہلی نظر میں ہی بھدی دکھائی دیتی ہے۔ انتہاپسندی ایک ایسی شے ہے جس کی روک تھام ہر صورت میں ضروری ہے، گذشتہ دس سالوں میں اس نے بم دھماکوںاور دہشتگردانہ کارروائیوں کی شکل میں جو خوفناک صورت اختیار کی ہے اس سے اس فکر کو تقویت ملتی ہے۔

زیرو سے ہیرو :

“زیرو سے ہیرو” کی اصطلاح مارین، سٹیجن اور میکا نے 2013 میں نوجوانوں کی انتہاپسندی کی طرف مائل ہونے کی قابل فہم وجوہات کے لیے استعمال کی تھی اور بتایا تھا کہ نوجوان کس طرح انتہاپسند گروپوں میں شامل ہوتے ہیں۔ انتہاپسند گروہ نوجوانوں کی نفسیاتی ضروریات پوری کرتے ہیں، نوجوانوں پر معاشرتی دباو¿ ،بے توجہی اور سماجی پابندیوں جیسے مسائل حل کر کے انہیں شناخت اور تحفظ فراہم کرتے ہیں جس سے نوجوان کو اہمیت ملتی ہے ،اس کے عوض میں انتہاپسند گروپ نوجوانوں کے عقائد ونظریات میں تعصب اور شدت پیدا کرتے ہیں اور گروپ ممبران سے اپنے نظریات کی پاسداری اور وفاداری کا عہد لیتے ہیں،اسی پر بس نہیں، بلکہ نوجوانوں کو مزید ناقابل تردید سرپلس بھی دیے جاتے ہیں۔ گروپ میں شامل ہونے والے نئے لڑکے اور لڑکیاں جب اچانک یہ صورتحال دیکھتے ہیں کہ پہلے انہیں کوئی جانتا تک نہیں تھا اور اب انہیں ایک شناخت مل گئی ہے تو انہیں پہلے سے کئی زیادہ اطمینان حاصل ہوتا ہے جس کا ان پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے اور انہیں زندگی کا نیا رخ فراہم کرتا ہے۔

مزید براں، بہت سے ممالک میں نوجوانوں کی بڑی جماعت تنازعات کی بجائے معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے، شدت پسندی کی طرف جانے والے نوجوانوں کی معاشی،سیاسی اور سماجی ضروریات پر توجہ دینے سے اس خوفناک عنصر کی روک تھام ممکن ہے۔

سیاسی انتہا پسندی کا محرک معاشی بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ غربت، کسادبازاری، اور سیاسی بھی جیسا کہ جمہوریت کا فقدان،اقلیت کے نمائندوں کا نہ ہونا،نوجوانوں کے انحراف سے متعلق لٹریچر اور سیاسی شدت پسندی اکثر و بیشتر اسی روایت سے تعلق رکھتی ہے۔ مغربی انتہاپسند گروہوں میں اور ان افراد میں جنہوں نے برطانیہ اور امریکا میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں حصہ لیااعلیٰ تعلیمی سسٹم کے ظلم کی وجہ سے ایک عام تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ :یونیورسٹی میٹنگ کا ایک خاص مرکز ہے جو کہ انتہاپسندی کا بڑا محرک اور گھڑ ہے، سیاسی انتہاپسند طلبہ کی تاریخ کے علی الرغم یہ بات تسلسل سے رپورٹ کی جاتی ہے کہ یونیورسٹیوں میں انتہاپسندی پھیل رہی ہے۔

عوامی مباحثوں میں بھی انتہاپسندی کے فروغ کا ذمہ دار یونورسٹیوں کو ہی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے طلبہ کو پہچان نہیں سکتے اور ان کی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھ سکتے۔ سٹاف کی اب اس بات پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مسلمان یا ایشائی طلبہ کی مدد کو یقینی بنائیں اور کسی قسم کی انتہاپسندانہ علامات ، تحریروں، سماجی پروگراموں پر چوکنے رہیں اور یونیورسٹی کی مین سٹریم لائف سے انحراف پر نظر رکھیں۔ مسلمان علماء و سکالرز کی بھی اس بات پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ کیمپس میں انتہاپسندانہ نظریات کے فروغ کو روکیں اور مسلم طلبہ کو تحفظ فراہم کریں۔ برطانوی یونیورسٹیوں نے مختلف کمیونٹیوں کے لیے 2013ء میں محفوظ کیمپس قائم کیے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات اور تجربات سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔اس کے علاوہ یونیورسٹیوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ابتدا سے ہی انتہاپسندی کو گنجائش نہ دیں اور پہلے سے موجود نظریات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کریں تاکہ نئے آنے والے طلبہ کو انتہاپسندی سے پاک ماحول ملے، 2005ء میں وزیر تعلیم نے انتہاپسند طلبہ تنظیموں پر پابندی عائد کی تھی،2011ء میں یہی مطالبہ وزیرداخلہ کی طرف سے دہرایا گیا اور پھر 2013 میں ایک مرتبہ پھر ڈیوڈ کیمرون انتہاپسندوں سے نمٹنے کا اعلان کیا،اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے یونیورسٹیوں میں دس رابطہ کار متعین کیے۔ حکومت نے پولیس کو بھی جامعات کے تعاون کی ہدایات دیں،یونیورسٹیوں کی ان پالیسیوں اور اقدامات نے عام زندگی کے برعکس انتہاپسندی کے وجود کو ثابت کیا اور مسلمان طلبہ مشکوک ہو گئے۔

تجرباتی ادبی جائزہ
مذکورہ موضوع کے جسامت کی نشوونما کے حالیہ جائزے میںیہ بات سامنے آئی تھی کہ تجرباتی تحقیقات یہ تجویز دیتی ہیں کہ نوجوانوں میں انحراف کے پیچھے بڑھتا ہوا سیاسی شدت پسندی کا عنصر ہے، بہرحال حکومت نوجوانوں کو کچھ مواقع فراہم کر کے کافی حد تک اس خطرے کو کم کرسکتی ہے،جن میں سب سے پہلی چیز تعلیم ہے۔کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں سکینڈری تعلیم سے بہ آسانی نوجوانوں کو منحرف ہونے سے بچایا جا سکتا ہے،برطانیہ کی حالیہ پالیسی میں انتہاپسندی کی روک تھام کو اولین حیثیت دی گئی ہے، اس کا مقصد مختلف حوالوں سے شدت پسندی کو روکنے لیے اقدامات اٹھانا ہے۔

جس تجرباتی لٹریچر کا ہم نے جائزہ لیا ہے وہ ایسے تسلی بخش شواہد نہیں دیتا جن کے نتیجہ میں مثالی جمہوریت، اور تعلیم کا مروجہ نظام جمہوری رویے میں بہتری لا سکے، انتہاپسندی سے بچاو کے لیے تعلیمی سسٹم میں خلا ہے۔تجرباتی ریسرچ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ انتہاپسند نوجوانوں اور بالغوں کی تعلیم کی سطح کچھ ایسی نہیں ہے جس سے انتہاپسندی کے فروغ کو روکا جا سکے،انتہا پسند افراد میں اچھے تعلیم یافتہ افراد بھی مل جاتے ہیں اور وہ بھی جن کے پاس ڈپلومہ نہیں ہوتا،اس لیے امریکا میں یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، مثال کے طور پر جہاں انتہاپسندی اور خاص طور پر دہشتگردی سیاسی طور پر اچھی خاصی توجہ حاصل کر لیتی ہے وہاں پر تعلیم کو بہ مشکل انتہاپسندی کی روک تھام کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ بہرحال لڑکے جو تعلیم اپنے والدین اور سکولوں سے حاصل کرتے ہیں اس میں بعد کی اعلی تعلیم سے کہیں زیادہ سیکھنے کی باتیں ہوتی ہیں۔
یہ بات اہم ہے کہ گھر اور سکول میں تعلیم کے دو پہلووں پر توجہ دی جائے:ایک بچے اور طلبہ جو نصاب پڑھتے ہیں اس پر اور دوسرے وہ طریقہ جو والدین اور اساتذہ بچوں کو تعلیم دینے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ایک طرف انتہاپسند والدین یا اساتذہ بچوں میں براہ راست یا بالواسطہ انتہاپسندانہ نظریات، افکار اور اعمال منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے طلبہ میں وہی نظریات پیدا ہو جاتے ہیں جن پر آگے جا کر وہ عمل کرتے ہیں تو دوسری طرف اگر ان طلبہ کی پرورش جمہوری گھرانوں یا سکولوں میں ہو تو طلبہ میں جمہوری رویہ،دوسروں کی تعظیم و تکریم اور فعال شہری جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں۔بچوں کو دوسروں کے عقائد اور مذہب کا احترام، ان کے حقوق کی پاسبانی اور روادری کی تعلیم دی جائے،سب سے اہم چیز والدین اور اساتذہ کا طریقہ تعلیم ہے۔ آمرانہ انداز تعلیم انتہاپسندی کو جنم دیتا ہے۔

البدائنہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیاں مامون و محفوظ نہیں ہیں، یونیورسٹی کے طلبہ پر 4۔64 فیصد انتہاپسند نظریات رکھنے والے طلبہ کا تسلط اور غلبہ یونیورسٹی کو انتہاپسندی کی نرسری کے طور پیش کرتا ہے۔انتہاپسندانہ نظریات جیسا کہ :شہادت کی موت،جبراً اتحاد کی فضا قائم کرنا،دشمنیاں رکھنا،اور جہاد وغیرہ جیسے نظریات بہت زیادہ یونیورسٹی طلبہ پر چھائے رہے،جس کے نتیجہ میں یونیورسٹی کی سیکیورٹی اور انتہاپسندانہ نظریات کے طلبہ میں پھیلنے سے نمٹنے پر توجہ دی گئی ،ایسی سیکیورٹی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو کہ یونیورسٹی کو انتہاپسند ہاتھوں میں جانے، دہشتگردی کا گھڑ بننے اور انتہاپسندی کی نرسری بننے سے روک سکیں۔

سیاسی وابستگیوں اور سرگرمیوں،اور انتہاپسند زندگی پراطمینان کے تصور نے واضح طور پر یونیورسٹی طلبہ پر سیاسی وابستگیوں اور سیاسی ومذہبی انتہاپسند ی پر مبنی زندگی پر اطمینان کے تصور کی عکاسی کی ہے۔سیاسی وابستگیوں کے نتیجہ میں سیاسی شدت پسندی اور مذہبی سرگرمیوں سے مذہبی شدت پسندی نے جنم لیا۔

عرب جامعات میں انتہاپسندی کے شکار ہونے والے طلبہ اس وقت دنیا بھر کے لیے چیلنج بن چکے ہیں، تجزیہ کاروں نے مجموعی انتہاپسندی میں سے 45 فیصد انتہاپسندی کے پانچ عوامل اور وجوہات دریافت کی ہیں: پہلی وجہ کو “سیاسی انتہاپسندی” کا عنوان دیا ہے جو کہ 18.5 فیصد انتہاپسندی کا سبب ہے،دوسری وجہ “مذہبی انتہاپسندی” ہے جو کہ 12.7 فیصد ہے،تیسری “شدت پسندانہ انتہاپسندی” 6.4فیصد، چوتھی وجہ “گروپ انتہاپسندی” ہے جوکہ 4 فیصد ہے جبکہ پانچویں وجہ “سوشل انتہاپسندی” ہے جو کہ مجموعے کا 3 فیصد ہے۔ یونیورسٹی کے جغرافیائی محل وقوع (شمال،جنوب،وسط)کی وجہ سے بھی طلبہ میں انتہاپسندی کے حوالے سے کافی تفاوت پایا گیا ہے،تاہم صنفی بنیادوں پر یا کالج کی نوعیت سے انتہاپسندی پر کوئی نمایاں فرق نہیں پایا گیا۔

عرب یوتھ کے مذہبی رویوں اور انتہاپسندی کے درمیان تعلق سے دہشتگردانہ بھرتیوں اور انتہاپسندی سے متعلق اشارے ملے ہیں، مذہبی رویوں اور کالج طلبہ میں (سیاسی، مذہبی، سماجی، شخصی) انتہاپسندی کا نمایاں تعلق نظر آیا ہے، انتہاپسندی کی افزائش میں مذہبی رویوں کا بھی بڑ اعمل دخل ہے،انتہاپسندی کا خطرہ صرف اس کے شدت پسندانہ استعمال تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے معاشرے پر دیگر کئی منفی اور مضر اثرات پڑ سکتے ہیں۔مذہبی رویے کافی حد تک سیاسی، مذہبی، سماجی اور مذہبی انتہاپسندی پر اثرانداز ہوئے ہیں۔ مذہبی التزام ما سوائے سماجی اور گروپ انتہاپسندی کے ہر قسم کی انتہاپسندی پر واضح اثر رکھتا ہے،طلبہ کے افکار و نظریات کی انتہاپسندی ان عقائد و نظریات کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی جو انہیں ان کے والدین،اساتذہ،دوستوں اور سماج سے ملتے ہیں۔

طریقہ:

کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان، اردن، مراکش، تیونس، لبنان، مصر،غزہ اور فلسطین کے 2709 یونیورسٹی طلبہ کو بطور نمونہ منتخب کیا گیا جن میں سے 7۔42 فیصد طلباءاور 3۔57 فیصد طالبات تھیں۔

ملازمت، بیروزگاری اور تعلیم :

وہ طلبہ جن کو منتخب کیا گیا تھا ان کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ دو تہائی سے زیادہ کہ خاندان کے اسے3افراد روزگار رکھتے ہیں۔ اسی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ دو تہائی کے خاندان کے1 سے 3افراد بے روزگار ہیں، یہ عرب دنیا میں بڑے خاندان کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید برآں4 فیصد باپ اور34فیصد مائیں بے روزگار ہیں۔ زیادہ افراد والدین (90فیصد) تعلیم کی مختلف سطحوں کے ساتھ تعلیم یافتہ ہیں۔
مذہب: زیادہ تر شمولیت کرنے والے نماز پڑھتے ہیں اور مذہبی اصولوں کی تعمیل کرتے ہیں اور مذہبی عقائد کے خلاف عمل نہیں کرتے۔
تحقیقی ذرائع: یہ سوالنامہ سابقہ تحقیقات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ سوالنامہ، پیدائش واموات اور امراض کی معلومات، خاندانی معلومات، سماجی تغیرات، انصاف کے احساس مساوات اور قومی فخر پر مشتمل ہے۔ یہ مذہبی تغیرات، طاقت کا استعمال جرائم سے متعلق، تشدد اور زندگی کی مشقت کے واقعات اور خود پر قابو پانے کی کمزور حالت پر مشتمل ہے اور بالآخر انتہا پسندی کا درجہ جیسے عناصرپر مشتمل ہے(کل 44 )۔
احساسات:طالب علموں نے تسکین زندگی 90 فیصد، فخر95 فیصد، مساوات 85فیصد ، انصاف 80 فیصد رپورٹ کیے ہیں جو کہ مثبت احساسات کی خبر ہے، لیکن ساتھ ہی وہ خوف ۷۷ فیصد اور غصہ91 فیصد بتاتے ہیں جس سے بڑے منفی احساسات کا اظہار ہوتا ہے۔
تشدد:تقریباً 80فیصد طالب علموں کے تشدد کے شکار ہونے کا بتایا ہے۔
تشدد کا مرتکب: تقریباً 77فیصد طالب علم ایک ہی قسم کے تشدد کے شکار ہیں اور آدھے سے زیادہ (51فیصد) لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔
جرائم سے متعلق: جرائم کو امتحان میں نقل کرنےسے جانچا جاتا ہے۔ 38فیصد طلبا امتحان میں نقل کر کے بہت اچھے گریڈ حاصل کر لیتے ہیں۔
طاقت کا استعمال:نمونے کے مطابق 58 فیصد طلبا اپنا ذاتی مقصد حاصل کرنے کے لیے طاقت استعمال کرتے ہیں۔


انتہا پسندوں کا مذہب کے بارے میں نظریہ :ریاست کو دوسرے عقیدے کے حامل شخص کے نظریات کو ظاہر کرنا چاہیے (56 فیصد) ،ریاست میں غیر مسلموں کو ہائی پوزیشن میں پہنچنے سے روکنا چاہیے (43 فیصد) ،اسلام سے ارتداد اختیار کرنے والے کو لازمی قتل کرنا چاہیے۔ (42فیصد)

گروپ سے وابستگی رکھنے والوں کی سب سے زیادہ تناسب والی رائے یہ ہے کہ کسی ہم مذہب لڑکی سے کسی کے زنا کرنے کو ہم اپنی بہن کے ساتھ زنا کے مترادف سمجھتے ہیں۔ (78فیصد) ہم مذہب کی توہین کو برداشت نہ کرنا۔ (76فیصد)

حکمت عملی اور محتاط نفاذ:

زیر نظر مقالہ کے مطابق جامعات کے طلبہ میں انتہاءپسندی کے عقائد کی چوکنا کر دینے والی اوسط شرح دیکھی گئی ہے جو کہ 57.3 فیصد ہے۔ اس انحطاط کی تحلیل وتجزیہ سے انتہا پسندی کے کئی محرکات سامنے آئے جن کی شرح تفاوت کے ساتھ 65.4 فیصد رہی جو کہ انتہائی اہم ہے۔

انتہا پسندی کے متعین اہم محرکات درج ذیل ہیں۔

4. شخصی محرکات: عمر، مذہب، عبادات و مناجات، مذہبی اثرات، مذہبی اطاعت گزاری، غص ، خوف، انٹرنٹ کا استعمال، امتحانات میں دھوکہ دہی، ضبط نفس کا فقدان اور طاقت کا استعمال۔
5. خاندانی محرکات: افراد خانہ کی تعداد، کنبہ کے برسرروزگار افراد کی تعداد، والدین کی تعلیم اور والدہ کی ملازمت۔
6. معاشرتی محرکات: ریاست، قومیت، مساوات، فخر، اطمئنان اور دباو ڈالنے والے واقعات۔

حکمت عملی کا نفاذ

عرب طلبہ کو انتہاپسندی سے بچانے کے لئے ہمہ جہت اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے کیونکہ انتہاءپسندی ایک معاشرتی اور امن عامہ سے متعلق ہمہ جہت مسئلہ ہے سو اس کے تدارک کے لئے ایک ہمہ جہت اور جامع پالیسی درکار ہے۔

ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ جامعات کے طلبہ میں انتہا پسندی کے فروغ پانے کے کئی اسباب ہیں اور اس کے اثرات بڑی حد تک افراد، خاندانوں، سکولوں اور معاشرے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو درجہ بدرجہ فروغ پاتا ہے یہ کوئی حادثاتی طور پر رونما ہونے والا مسئلہ نہیں ہے۔ انتہاء پسند خاندان انتہاءپسند بچوں کو جنم دیتے ہیں ان کو انتہاءپسندی کی تعلیم دینے والے مدارس میں بھیجتے ہیں جہاں کا نصاب بھی انتہاءپ سندی پر مبنی ہوتا ہے جو کہ انتہاءپ سند طلبہ تیار کرتا ہے پھر جامعات بھی اسی سلسلے کو جاری رکھتی ہیں سوائے اس کے کہ جامعات انتہاءپسندی کے خاتمے کے لئے احتیاطی تدابیر استعمال کریں۔ بنیاد پرست عرب طلبہ عالمی امن کے لئے خطرہ ہیں۔

انتہا پسندی کی تعریف:

انتہاپسندی کے تصور کی بعض مغربی ممالک کی طرف سے کی جانے والی تعریفوں مثلا طریقہ کار، غیر جمہوری، تشدد، سیاسی و نظریاتی مقاصد، دور رس معاشرتی تبدیلیاں اور شخصیت و انفرادیت کی تحلیل سے واضح ہوتا ہے کہ ان تمام تعریفوں کا ارتکاز ایک غالب تصور کے تحت انتہاءپسندی کی اصطلاح پر رہا ہے۔

تعریف: اکثر تعریفوں کا تعلق جمہوری ممالک سے ہونے کی وجہ سے ان میں سے اکثر سیاسی ہیں جس کی وضاحت تمام تعریفوں کا دائمی طور پر تصور جمہوریت پر مرتکز ہونا ہے جو کہ صرف نظریاتی پہلو پر مشتمل ہیں۔ اور یہ تعریفیں مغربی اقدار پر انگلی اٹھانے کی بجائے اس تصور کو پوری دنیا میں پھیلانے اور لاگو کرنے کے درپے ہیں قطع نظر اس بات کے کہ یہ اقدار لوکل سطح پر کس حد تک موزوں اور قابل عمل ہیں۔ تاہم انتہاءپسندی کی چند مشترک خصوصیات پر اتفاق ممکن ہے جیسا کہ سیاسی و نظریاتی مقاصد کے حصول کے لئے معاشرے کو انتہاءپسندی کے اصولوں پر تبدیل کرنا، اسی طرح انتہاءپسندی کا ایک پراسس کے طور پر تصور وغیرہ البتہ یہ بات قابل تحریر ہے کہ انتہاءپسندی کا نتیجہ تشدد کے ذرائع کا استعمال ہو سکتا ہے جیسا کہ دہشت گردی کی کاروائیاں۔

انتہاءپسندی کو ایک فرد کے ذاتی فیصلہ تک محدود نہیں کیا جا سکتا اس امر کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے نظام کو کسی کے ذاتی فیصلہ سے مختص نہیں کیا جا سکتا بلکہ انتہاءپسندی ایک غیر حتمی ، غیر مختص اور سیاق سے متعلق نظام ہے۔
انتہاءپسندی کی روک تھام کے حوالے سے حکمت عملی اور احتیاطی تدابیر کی تیاری کا اہم ترین پہلو انتہا پسندی کی جامع تعریف ہے۔ عربی زبان میں انتہاءپسندی کا تصور مبہم اور غیر واضح ہے اور عربوں کے ہاں اس طرح کی کوئی اصطلاح معروف نہیں کو انتہاءپسندی کی کما حقہ ترجمانی کر سکے۔ بلکہ کچھ اور اصطلاحات مثلا (غلو) وغیرہ ان کے ہاں رائج ہیں اور آج کل شدت پسندی کا لفظ بھی ان کے ہاں مستعمل ہے جس کا معنی کسی فیصلے کے حوالے سے شدت پسند ہونا ہے۔

سو اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ انتہاءپسندی کی کوئی جامع اور عملی تعریف کی جائے جسے قوانین و قواعد میں شامل کیا جائے۔ ایسی جامع تعریف جو انتہاءپسندی کی تمام اقسام (بنیاد پرستی، شدت پسندی، اور سیاسی انتہاءپسندی وغیرہ) کو واضح اور متمیز کردے۔ صورتحال خطرناک رخ اس وقت اختیار کرتی ہے جب انتہاءپسندانہ نظریات کا حامل ایک طالب علم معاشرتی تبدیلی اور اصلاح کی خاطر دوسرں کے خلاف طاقت کا استعمال کرتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس طرح کے سیاسی نظریات جو معاشرے کی بنیادی اقدار اور اصولوں کے مخالف ہوں انتہائی خطرناک ہیں کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح کے طالب علم آگے چل کر دہشت گردی میں سہولت کار ثابت ہوں یا پھر خود دہشت گردی کی کاروائیوں کا حصہ بن جائیں۔ انتہاءپسند اجتماعی تشدد کے واقعات میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں اور لوگوں کو ان واقعات کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔

انتہاءپسندی دہشت گردوں کے رویہ کا ایک غیر رسمی عنصر ہو سکتی ہے جو ایک محدود اور سٹیج نما پیش رفت کی شکل میں ان کے دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہونے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔ نیو مین نے انتہاءپسندی کی کچھ یوں تعریف کی ہے کہ بم پھٹنے سے پہلے جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے اسے انتہاءپسندی کہتے ہیں۔ جبکہ دوسروں کے نزدیک انتہاءپسندی ایک تحریک کا نام ہے جو شدت پسندی پر منتج ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔

طالب علموں کی انتہاءپسندی غیر مرتب نظریات کا مجموعہ ہوتی ہے جن کے بارے میں معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ یہ نظریات کیا ہیں اور وہ ان سے کس طرح کے معانی اخذ کرتے ہیں۔ یہ نظریات ان کے اندر کئی طرح کے معاشرتی تعلقات و روابط جیسا کہ والدین، اساتذہ ، ہم مکتبوں اور دیگر معاشرتی روابط کے باعث جنم لیتے ہیں۔ انتہاءپسندی چھوٹے چھوٹے حلقہ جات اور گروہوں جیسا کہ خاندان ، سکول، اور یونیورسٹی کے حلقہ جات میں پروان چڑھ رہی ہوتی ہے جہاں تعلقات، ہم مشرب کا دباو¿، اور مذہبیت رفتہ رفتہ انفرادی رویہ سے انتہاءپسندانہ رویہ کا روپ دھار لیتی ہے، کیونکہ طلبہ آپس میں بحث مباحثہ کرتے رہتے ہیں۔

بے چینی و اضطراب:

معاشرتی تعلقات کو مضبوط کرنے کی ضرورت اور خوف سے پاک اتحاد کے تصور کی حکمت عملی اس بات کی متقاضی ہے کہ ملٹری سیکورٹی کے مقابلے میں انسانی سیکورٹی پر زیادہ سرمایہ کاری کی جائے۔ عرب دنیا میں بے چینی کے حوالے سے ماہرین معاشیات کے مرتب کردہ اعدادوشمار مجموعی طور پر بہت سارے اونچے ، متوسط اور نچلے درجے کے اسباب کا شاخسانہ ہیں، عربوں کی بے چینی کے حوالے سے اعداد وشمار میں 35فیصد حصہ ایسے نوجوانوں کا ہے جن کی عمر 25 برس سے کم ہے۔ 15فیصد حصہ ان سالوں سے متعلق ہے جن میں حکومت طاقتور رہی۔ 15 فیصد حصہ کرپشن اور جمہوریت کے فقدان کا ہے ، 10 فیصد حصہ فی کس جی ڈی پی اور 5فیصد حصہ دیگر اسباب جیسا کہ آزادی اور جمہوریت کا فقدان ،زندگی کے تمام شعبوں میں روایتی سیکورٹی اور ایجنسیوں کا غلبہ کا ہے۔ جو کہ عرب معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کے لئے اشد ضروری ہے۔

بے روزگاری:

عرب خطے کو عمومی طور پر بے روزگاری کے چیلنج کا سامنا ہے، یہ وہ واحد خطہ ہے جہاں 15 برس یا اس سے زیادہ عمر کی حامل آبادی کی بےروزگاری کی شرح 2011 میں 10فیصد سے تجاوز کر گئی۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس خطے کو بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی بے روزگاری کے مسئلہ کا سامنا ہے،جس میں 2011 میں 5 فیصد تک اضافہ ہوا۔ عرب بہار تحریک کے نمودار ہونے سے پہلے سے متاثرہ اس خطے میں بے روزگاری کی شرح بڑی تیزی سے بڑھی جو کہ 2012 میں تقریباً 27 فیصد رہی۔ مزید برآں خطے میں بے روزگاری کی شرح 10 فیصد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا ہے۔

تعلیم:

انتہا پسندی کی روک تھام کے حوالے سے عوام کی تعلیم مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتر رہی، ایک جامع حکمت عملی کے ذریعہ جامعات، تعلیمی ادارے، الدین اور اساتذہ طلبہ کو انتہاءپسندی سے بچانے کے لئے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی اصول کا اطلاق سکولوں کے اساتذہ ، والدین اور طلبہ پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی جامعات کے ماحول کو خوشگوار رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ طلبہ کو انسانی حقوق کی پاسداری کی تعلیم دی جانی چاہئے اور طلبہ امور کے نگران اس مقصد کے حصول کے لئے مباحثوں کا انعقاد کرا سکتے ہیں۔ عر ب نوجوانوں کی بڑی تعداد تعلیم یافتہ تو ہے مگر ان کا نظام تعلیم موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے، سو ان کے نظام تعلیم میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

احساسات:

طلبہ کی ایک بڑی تعدادکو ناانصافی کے احساس کا سامنا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان میں سے اکثر اپنے ماحول اور اس کے اصول وضوابط میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور ان کے اندر عار کا جذبہ جنم لے رہا ہے اور وہ دوسرے افراد سے بہت کم خیر کی توقع رکھتے ہیں۔ناانصافی کا برتاو اور بدامنی انھیں انتہا پسندانہ نظریات و افعال اپنانے کی طرف راغب کرتی ہے۔ اردن یونیورسٹی میں ابتداءہی سے غیر منصفانہ بنیادوں پر طلبہ کی درجہ بندی کی جاتی ہے نتیجتاً عرب طلبہ میں ناانصافی، ہتک عزت، اور عدم مساوات کے احساسات جنم لیتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی حکمت عملی اور اس کے کامیاب نفاذ میں نوجوانوں کی شمولیت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نیز ظلم اور ناانصافی انتہاپسندی اور دہشت گردی کی بڑی وجہ ہے۔

جامعات کا ماحول

جامعات کا ماحول انتہاءپسندی اور انتہاءپسندوں کی نشو نما کے لئے ذرخیز زمین کی مانند ہے۔ طلبہ کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہوتی ہے جو طرح طرح کے معاشرتی ونفسیاتی مسائل کا شکار ہونے کے باعث باآسانی اس ماحول سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ نوجوانوں کی انتہاءپسندی عالمی امن کے لئے خطرہ ہے۔ معاشرتی اور نفسیاتی طور پر تنہائی کا شکار نوجوان شناخت، قبولیت اور مقصدیت کی تلاش میں انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ دنیا کے باقی ممالک کی طرح عرب دنیا میں بھی کالج کے طلبہ ترقی کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں اور اس مرحلہ کی بنیادی خصوصیات نفسیاتی مسائل اور ناپختگی ہیں۔ یہ نوجوان معاشرے کا ایک حساس اور ناپختہ جزو ہوتے ہیں۔ جنھیں طرح طرح کے نفسیاتی اور معاشرتی بوجھ کا سامنا ہوتا ہے اور وہ کئی طرح سے معاشرے کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہو پاتے اور ریاست کے ضوابط کے حوالے سے محرومی و ناامیدی کا شکار ہوتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں وہ بہت جلدی بیرونی مو¿ثرات کی زد میں آ جاتے ہیںمذہبی انتہاءپسند صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں سیاسی اسلام کا تصور متبادل کے طور پر اختیار کرنے پر مائل کر لیتے ہیں۔

نوجوانوں کی انتہاپسندی سے واپسی اور تحفظ

احتیاطی تنفیذ: کالج طلبہ میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو مستقبل میں دہشت گردی کی طرف جانے سے روکا جائے،دفاعی تجزیہ کار بریئن مائیکل جنکنس کہتے ہیں کہ: “دہشتگرد آسمان سے نہیں ٹپکتے۔۔۔وہ متشدد عقائد سے جنم لیتے ہیں اور پہلے بنیاد پرست ہوتے ہیں،پھر دہشتگرد بن جاتے ہیں”(58)۔مذہبی سرگرمیاں رواداری اور انسانی حقوق سے متعلق ہونی چاہییں اور ان پر نظر رکھی جانی چاہیے۔

انتہاپسندی، شدت پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بنائے گئے کسی بھی لائحہ عمل کے تین ستون یہ ہیں: (1) ہدف (نوجوان)، (2) تربیتی ادارے (سماج، تعلیمی ادارے، یونیوسٹی، مذہبی تنظیمیں) اور (3) طریقہ کار (ثقافتی ساخت)، انتہاپسندی کا محرک تربیتی ادارے (والدین،اساتذہ وغیرہ)،سیاسی جماعتیں اور مذہبی لیڈر شپ ہے،نوجوان نسل ٹارگٹ ہے جو کہ انتہاپسندانہ نظریات کی حامل ہو سکتی ہے اور پھر ان کی بنا پر عملی اقدامات اٹھا سکتی ہے،اور پھر یہی نسل ان نظریات و عقائد کو اگلی نسل تک منتقل کر سکتی ہے۔
طلبہ ہی ہر قسم کی انتہاپسندی کا شکار ہوسکتے ہیں،مذہبی انتہاپسند یونیورسٹی کے ماحول کو اپنی سیاسی جماعتوں میں بھرتیوں، حتی کہ دہشتگردانہ کاروائیوں کے لیے انتہائی سازگار سمجھتے ہیں،اس طرح یونیورسٹیاں انتہاپسندی کا گڑھ بن جاتی ہیں۔نوجوانوں کو انتہاپسندی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ گھروں میں، اور تعلیمی اداروں میں ایسا مثبت نصاب شامل کیا جائے اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے رواداری،ادب و احترام کے دائرے میں رہ کر اختلاف کرنا اور انسانی حقوق کے لیے دلوں میں جگہ بنے، انتہاپسندی کا پھیلاو مستقبل کے انسان کی سیکیورٹی اور ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

بہ ظاہر انتہاپسندی تربیتی اداروں میں پروان چڑھتی ہے جیسا کہ فیملی، سکول اور یونیورسٹی، جہاں انفرادی نقطہ نظر تبدیل ہوکر انتہاپسندانہ رنگ اختیار کر لیتا ہے، مذہبی ادارے بھی انتہاپسندی کے فروغ میں بڑا مو¿ثر کردار ادا کر رہے ہیں اور رواداری قائم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں،ان کے قول و عمل میں بہت تضاد ہے ،جس کی تبلیغ کرتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے،ان پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔
تعلیمی ادارے(سکول،یونیورسٹیاں،گھر) ایک اور انداز سے انتہاپسندی کی طرف لے جاتے ہیں،ان کا طریقہ تعلیم،نصاب اور معاشرت روایتی ہیں جن میں ایسے عناصر شامل ہیں جو انتہاپسندی کی طرف لے جاتے ہیں۔

ثقافتی ساخت تیسرا ستون ہے جو طلبہ پر اثران داز ہوتا ہے،مخصوص لائف سٹائل،افکار ،سماجی رابطے،خاص قبیلہ یا طبقہ سے تعلقات بھی انتہاپسندی پیدا کرتے ہیں،طلبہ اپنے روایتی اور قبائلی سسٹم کو یونیورسٹی میں بھی اپلائے کرتے ہیں اور ایک غیر رسمی نیٹ ورک بنا لیتے ہیں جو انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے،طلبہ یونیورسٹی کے اندر اور باہر اپنے علاقائی اور قبائلی گروپ کے ساتھ منسلک رہتے ہیں،اس طرح کے تعلقات سے مختلف سطح کی انتہاپسندی پیدا ہو سکتی ہے۔

انتہاپسندی کا خاتمہ: انتہاپسند اپنے نظریات و افکار سے آگے بڑھ کر مزید شدت پسندی والے سٹیج تک جا سکتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کی بنیادی اقدار اور اصول کے خلاف ہے، طلبہ کو جامد نظریات چھوڑنے کی تعلیم دینے سے بھی بجائے رواداری اور برداشت کے فروغ کے انتہاپسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

رجوع: یونیورسٹی اپنے سٹاف کو اجتماعی یا انفرادی طور پر انتہاپسندی پر قابو پانے کی تربیت دے سکتی ہے،انتہاپسندانہ عقائد کے متبادل کے طور پر رواداری اور دوسروں کو تسلیم کرنے کی تربیت دی جاسکتی ہے،طلبہ کو سکھایا جائے کہ قبائلی یا انفرادی طاقت کا استعمال کسی بھی صورت میں درست رویہ نہیں،ضرورت ہے کہ طلبہ میں دوسروں کا احترام اور انسانی حقوق کے احترام کا ماحول قائم کیا جائے۔
تحفظ: اس کا تعلق صرف یونیورسٹی سے نہیں ہے بلکہ ہرسطح پر طاقت کے استعمال کی نفی کی جائے اور اس کے مقابلے میں ڈائیلاگ اور بات چیت کے ذریعہ مسائل کو حل کیا جائے۔

عرب یوتھ کو انتہاپسندی کی راہ سے ہٹانا: طلبہ ایک خشک ماحول میں گھرے ہوتے ہیں جہاں وہ آزادی سے بول نہیں سکتے نہ اپنی ضروریات آزادانہ طور پر پوری کر سکتے ہیں،جس سے ان کے اندر منفی احساسات پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ غیر مناسب اور پرتشدد طریقے اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ترجمہ و تلخیص: عاطف محمود ہاشمی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...