ہماری جامعات کا ثمرآور کردار کہاں ہے؟

342

1876ء میں ڈینیل کوٹ گیلمین نے جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پہلے صدر کی حیثیت سے اپنے افتتاحی خطاب میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے وژن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’’ہمارا مقصد غریبوں کی مصیبتیں، اسکولوں سے جہالت، عبادت گاہوں سے تعصب، اسپتالوں سے تکالیف، کاروبار سے دھوکہ دہی اور سیاست سے حماقتوں کی کمی کرنا ہے‘‘۔

جدید جامعات کی آٹھ سو سالہ تاریخ کے دوران ان کے بنیادی مقاصدکے حوالے سے کئی مسابقتی داستانیں سننے کو ملتی ہیں۔ جامعات کے بعض بنیادی اہداف یہ بتائے جاتے ہیں، جیساکہ علم و مہارات کا حصول اوران کی ترویج و استعمال کے ذریعے معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنا۔ کمیونٹیز اور معاشرے کی بہتری کے لیے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کا حل پیش کرتے ہوئے مشترکہ بہبود کو فروغ دینا۔ مزید یہ کہ ریاست وسول سوسائٹی کے لیے سنگِ میل کی حیثیت سے تنقیدی کام کرنے کے لیے آزاد رہنا۔

مفید تحقیق اور علم کی وسعت کے حوالے سے کیمبرج یونیورسٹی کے گرافین سینٹر میں بطور سینئیر سپیس سائنٹسٹ کام کرنے والے ڈاکٹر یارجان عبدالصمد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ’’ہمارے تعلیمی اداروں میں ہزاروں ذہین دماغ موجود ہیں، اگر صحیح طریقے سے ان کی رہنمائی کر کے سہولیات دی جائیں تو بہت سا ملکی ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آئے گا۔ مگر اس کے بجائے ہمارے تعلیمی ادارے طلبہ و طا لبات سے ایسے کم معیاری تحقیقی مقالے لکھوانے میں مصروف ہیں جن کا تجرباتی سائنس سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے‘‘۔ ڈاکٹر یارجان عبدالصمد کے تجزیے کے مطابق ہم تحقیق کے نام پر بس خانہ پوری کرنے میں مصروف ہیں۔ جامعات ملک اور معاشرے کو درپیش چیلنجز کا حل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ تحقیقی مقالے حقیقی علم میں اضافہ کے لیے کم،اور ڈگریوں کے حصول اور پروموشن کے لیے زیادہ ہیں۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ایک مقصد روزگار فراہم کرنا بھی ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں طلبہ کے پاس پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں ہونے کے باوجود انہیں ابتدائی سطح کی نوکریوں کی تلاش بھی مشکل پیش آتی ہے۔ اس کامطلب ہے کہ جامعات میں تعلیم و روزگار کے درمیان تعلق میں ہم آہنگی نہیں ہے۔ ہماری صنعتوں، کاروبار اور خدمات کے شعبہ کو درکار ہنر اور ہماری یونیورسٹیوں کے ڈگری یافتہ طلبہ کی صلاحیتوں کے درمیان افادیت کاربط موجود نہیں ہے۔ پاکستان کی چند ہی جامعات ایسی ہیں جن کے ڈگری یافتہ طلبہ کو مارکیٹ میں جلد روزگار مل جاتا ہے۔ زیادہ تر سرکاری یونیورسٹیز کے گریجویٹس کو نوکریوں کی تلاش کامسئلہ درپیش آتا ہے۔نئے فارغ التحصیل گریجویٹس کو پیشہ ورانہ ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ انجیئنرز کے بارے میں تو خاص طور پہ کہا جاتا ہے کہ انہیں سارا کام تو انڈسٹری میں سیکھایا جاتا ہے۔

دور جدید کی جامعات کے لیے لازمی ہے کہ وہ طلبہ کو ایسا بنیادی ہنر اور تعلیم مہیا کریں جو انہیں باقی عملی زندگی میں خود سیکھنے اور بدلتی دنیا کے حالات کے مطابق ڈھلنے میں مدد فراہم کرے۔ ہائی ٹیک انڈسٹری اور نئی ٹیکنالوجی پر نظر ڈالیں تو تھری ڈی پرنٹنگ، بلوک چین، اگمنٹڈ رئیلٹی (AR) اور ورچوئل رئیلٹی (VR)، بگ ڈیٹا اور مشین لرننگ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے تیزی سے معمول کے کاروباری اداروں اور سروس کے طریقوں کو متروک بنا رہے ہیں۔ موجودہ مارکیٹ کی تکنیکی ضرورت اور مہارت پچھلی دہائی کے یونیورسٹی نصاب کا حصہ نہیں تھی، پاکستان کی کئی یونیورسٹیوں میں اس طرف ابھی تک توجہ نہیں ہے۔ ایک اچھاتعلیمی ادارہ طالب علم کی تربیت اس طور کرتا ہے کہ اس کے ذہن اور افق کووسعت ملتی ہے، اسے آزادانہ طور پر دنیا اور معاشرے کے رازوں کو پرکھنے، مسلسل علم حاصل کرنے کاڈھنگ وحوصلہ، تنقیدی سوچ،اتھارٹیز اور ٹیبوز کو چیلنج کرنے کا اعتماد دیتا ہے۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو ملازمت تلاش کرنے میں ہی معاون ثابت نہیں ہوتیں بلکہ نوکریاں پیدا کرنے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہیں۔ اس طرح کی تربیت کے لیے نصاب، مضامین، وژن، تحقیق، آزادی رائے اورگڈ گورننس کا اسٹرکچر تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

دنیا کی بہترین جامعات کے وژن میں ملک کی سب سے زیادہ ملازمت بخش یونیورسٹی بننا شامل ہوتاہے۔ وہ ہر سال اپنا ڈیٹا اپ ڈیٹ کرتی ہیں کہ ان کے کتنے ڈگری یافتہ نوجوانوں کو روزگار ملا، اگر نہیں ملا توکہاں کمی رہ گئی۔ اب موسٹ ایمپلائبل یونیورسٹیز کی بھی درجہ بندی کی جاتی ہے

دنیا کی بہترین جامعات کے وژن میں ملک کی سب سے زیادہ ملازمت بخش یونیورسٹی بننا شامل ہوتاہے۔ وہ ہر سال اپنا ڈیٹا اپ ڈیٹ کرتی ہیں کہ ان کے کتنے ڈگری یافتہ نوجوانوں کو روزگار ملا، اگر نہیں ملا توکہاں کمی رہ گئی۔ جامعات کی ترجیح زیادہ سے زیادہ ڈگریاں دینا نہی رہا، بلکہ ایسی ڈگریاں دینا ہے جس سے فارغ التحصیل طلبہ جلد از جلد برسر روزگار ہوسکیں یا اپنا کوئی کام شروع کرکے دوسروں کے لیے بھی روزگار کا ذریعہ بنیں۔ اب موسٹ ایمپلائبل یونیورسٹیز کی بھی درجہ بندی کی جاتی ہے۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں کا تیسرا بنیادی مقصد طلبہ کو معاشرے میں اچھا شہری بنانا اور عوامی پالیسی سازی کے عمل میں سول سوسائٹی کے بااثر ادارے کی حیثیت سے بروقت تنقید پیش کرنے کی ذمہ داری نبھانا ہے۔تعلیمی ادارے معاشرے کے عکاس ہوتے ہیں۔بلکہ وہ ایک صحت مند معاشرہ تخلیق کرنے میں کرداراداکرتے ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں ہماری جامعات اور کالجوں میں خیالات کا آزاد تبادلہ، تنقید اور غیر روایتی سوالات ممنوع ہیں۔ سیاست وشہریت کی مبادیات میں رہنمائی اور اقلیتوں (مذہبی،معاشی،لسانی) کے ساتھ سلوک کے حوالے سے طلبہ کی تربیت کا معیار نہایت ہی پست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں مگر معاشرے، سیاست اور اقلیتوں کے بارے میں ان کے خیالات فرسودہ ہیں۔ وہ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں یہ رویے کبھی نہی بدلتے، کیونکہ سیکھنا تو مشکل عمل ہے ہی، کسی برے سبق کو درست کرنااور زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

پاکستان کے متنوع ثقافتی معاشرے میں جامعات اور کالج کی سطح پر زبان، ثقافت و مذہب کی پسندیدہ تشریحات کی جاتی ہیں اورمخصوص سیاسی رجحانات کو زبردستی تھونپا جاتا ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں طلبہ کے اندر باہمی رواداری کا عالم یہ ہے کہ ایک علاقے کا ثقافتی رقص دوسرے طلبہ برداشت نہیں کرتے۔دوسرے صوبوں کی جامعات میں بھی زبان اور قومیت پر جھگڑے طلبہ میں عام ہیں۔تنوع کے باوصف ایک ساتھ کیسے رہنا ہے،یہ جب تربیت کا حصہ ہی نہی ہے، تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کہنے کو پڑھا لکھا طبقہ ہوگا جسے ملک اور قوم کی قیادت کرنی ہے،لیکن ان کے لیے جدا شناخت، نظریہ، کلچراور عقائد کو ہضم کرنا نہایت ہی مشکل ہے۔ جامعات طلبہ کو بین المذاہب اوربین الثقافتی ہم آہنگی، رواداری، برداشت اور ایک اچھا شہری بننا سکھا نہیں پارہی ہیں۔طلبہ کو نہ اپنے حقوق کا ادارک ہے اور نہ ہی اس کا کہ ان پر معاشرے کے کیا حقوق واجب ہیں۔

یونیورسٹیز نے ریاستی پالیسی سازی میں شامل ہونے یا سول سوسائٹی کے بااثر ادارے کی حیثیت سے بروقت تنقید یا نئے نظریات کیا دینے ہیں، وہ تو معروضی حالات اور خود ساختہ سینسرشپ کی وجہ سے مخصوص موضوعات کے علاوہ ایک آزادانہ سیمینار تک منعقد کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسی گھٹن کی فضا میں نئی تخلیقی آکسیجن کا پیدا کرنا ایک دیوانے کا خواب اور حقیقت سے دور کی چیز محسوس ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے ذہنوں کو کھولنے کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ سوچوں اور سوالوں کو دبانے کے لیے۔

جب تک انتظامیہ میں سیاسی بھرتیاں اور گھٹن زدہ ماحول،جہاں سوال کرنے اور پوچھنے کی ممانعت ہے، کا خاتمہ نہیں ہوتا اور تحقیقی کلچر کو فروغ نہیں دیا جاتا، پرعزم طلبہ کو جدید لیبز، عمارتیں، لائبریریاں اور ایک آزاد ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، مارکیٹ، انڈسٹری، غیر ملکی ماہرین اور اداروں سے رابطہ اور مضبوط تعلقات بنانے کے ساتھ یونیورسٹیوں کے اندر گورننس کے مسائل حل نہیں کیے جاتے،تب تک پاکستانی جامعات اپنے اصل مقاصد کے حصول سے دور ہی رہیں گی۔ ثمرآوراورطویل مدتی وژن نہ ہونے کے سبب ان کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ ڈگریاں دینا رہ گیا ہے۔ چاہے وہ ڈگریاں طالب علموں اور معاشرے کی زندگیوں میں کوئی بہتری لائیں یا نہ لائیں۔ بڑھتی ہوئے نوجوان آبادی میں پاکستان کومزید نئی جامعات کی ضرورت بھی ہے۔ تاہم ان کا معیاری ہونا اہم ہے۔ اگر اگلے پانچ دس سالوں میں ایک بھی عالمی معیار کی جدید یونیورسٹی بن جائے تو یقینا ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

اگرہماری موجودہ جامعات معاشرے کے درینہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، بزنس اسکول کے طلبہ اپنا کوئی کاروبارچلا یا شروع نہیں کرسکتے، وہ اعلیٰ سائنسی تحقیق میں اپنا حصہ نہیں شامل کرپارہے، سماج میں مکالمے، مباحثے اور فنون لطیفہ کی روایت دم توڑ رہی ہو، اتنا بڑا اسٹرکچر ایک اچھا شہری تک پیدا نہ کررہا ہوتو کیا یہ سوال نہیں بنتا کہ ہماری جامعات کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ صرف ڈگریاں دینا، چند ہزار افراد کو روزگار دینا، یا نجی یونیورسٹیز کے مالکان کو امیر سے امیر تر بنانا؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...