ایک خاکروب سے بات چیت

249

اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں صفائی  کرنے کے شعبے سے وابستہ ایک خاکروب سے مکالمہ

سوال۔ آپ اس شعبے میں کب سے کام کررہے ہیں ؟

جواب۔ میں نے 1994 میں یہاں اس جی ٹین  سیکٹر کے صفائی کے عملےمیں ملازمت لی۔ میں اس وقت سے مسلسل یہاں کام کررہا ہوں۔ اس وقت میری تنخواہ 1200 روپے تھی۔ مجھے 25 سال ہوگئے ہیں ۔

سوال۔ اب آپ کی کتنی تنخواہ ہے ؟

جواب۔ اب ہماری تنخواہ 15000 روپے ہے۔

سوال۔ کیا آپ سرکاری ملازم ہیں ؟

جواب ۔ نہیں! ہم لوگ پرائیویٹ ملازم ہیں۔ ہم ٹھیکےدارکے ملازم ہیں ۔

سوال۔ یہ ٹھیکے داری سسٹم کیا ہے؟

جواب۔ یہاں 3 ٹھیکے دار ہیں۔ ایک الف  صاحب ہیں۔ ایک بے صاحب ہیں۔ ایک کا نام جیم صاحب ہے۔ یہ جو جیم صاحب ہیں یہ ہمارے ٹھیکے دار ہیں۔ ان کے پاس جی 9 جی 10 اور جی 11 سیکٹر ہیں۔ بے صاحب کے پاس آئی 8، آئی 9 اورآئی 10 اور الف  صاحب کے پاس بلیو ایریا ، جی 7 اور جی 8 سیکٹر ہیں۔

سوال۔ یہ ٹھیکے دار کس کے ماتحت ہیں ؟

جواب۔ یہ ٹھیکے دار کسی کے ماتحت نہیں ہیں۔ یہ لوگ سی ڈی اے سے ٹھیکہ لیتے ہیں۔ پھر ان لوگوں نے ہمیں تنخواہ پہ بھرتی کیا ہوا ہے۔

سوال۔ ایک ٹھیکے دار نے صفائی کرنے کے لئے کتنا عملہ رکھا ہوا ہے؟

جواب ۔ ہر ایک ٹھیکے دار کے پاس 150 بندے ملازم ہیں۔ 3 ٹھیکے داروں کے پاس450 بندے صفائی کے کام کے لئے ملازم ہیں۔

سوال۔ آپ لوگوں کو کوئی چھٹی بھی ملتی ہے؟

جواب۔ جی۔ ہر اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اگر کوئی قریبی عزیز فوت ہوجائے ماں باپ یا بہن بھائی یا اس کے علاوہ کوئی بہت قریبی عزیز تو ہمیں 2 چھٹیاں مل سکتی ہیں۔ کرسمس اور ایسٹر پہ بھی ایک چھٹی ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی چھٹی نہیں ہے۔

سوال۔ کیا آپ کو ایسٹر یا کرسمس کے موقع پر کوئی الاؤنس ملتا ہے تاکہ آپ لوگ عید آسانی سے منا سکیں؟

جواب۔ کوئی الاؤنس نہیں ہے۔ پہلے جب جے سالک صاحب یہاں تھے انہوں نے ہماری عیدی منظور کروائی تھی۔ اس وقت ہمیں 5 ہزار روپے عیدی ملی تھی فی ورکر، مگر اب وہ امریکہ شفٹ ہوگئے ہیں۔ ہمیں اب کوئی عیدی یا الاؤنس نہیں ملتا۔

سوال۔ آ پ لوگوں کو دونوں عیدوں پہ یہ الاؤنس ملتا تھا؟

جواب۔ نہیں۔ صرف کرسمس پہ ، جے سالک صاحب نے تو ایسٹر پہ بھی ہماری عیدی منظور کروائی تھی مگر ایسٹر پہ کبھی نہیں ملی۔ کرسمس پہ بھی ایک یا دو دفعہ عیدی ملی۔ پھر کبھی نہیں ملی۔

ہم لوگوں کو تواس بات کی فکر ہوتی ہے کہ اگر کوئی حادثہ ہوگیا تو دیہاڑی سے نام کاٹ دیا جائے گا

سوال۔ آپ لوگوں کو تنخواہ باقاعدگی سے ملتی ہے؟

جواب۔ نہیں ۔ کچھ مہینے پہلے تنخواہیں رک گئی تھیں۔ دراصل سی ڈی اے ہمارے ٹھیکے داروں کے بل ادا نہیں کررہا تھا۔ آئی سیکٹر والوں کی تین مہینے تنخواہ رک گئی تھی اور ہماری ایک مہینہ کیونکہ 2 مہینے تو ٹھیکے دار نے اپنی جیب سے تنخواہ دی۔ پھر اس نے کہا کہ اب کام روک دوجب تک سی ڈی اے بل ادا نہیں کرتا۔ ہماری تنخواہ ایک مہینہ اس وقت رکی تھی۔ اب ہمیں ایک بار پھر پچھلے  2 مہینوں سے تنخواہ نہیں مل رہی  ۔سپروائزر کہتا ہے کہ تم لوگ بس خاموشی سے کام کرو تنخواہ کا ابھی ذکر بھی مت کرو۔

سوال۔ پھرکس طرح گزارا ہورہا ہے؟ آپ لوگ کہاں رہتے ہیں؟

جواب۔ ہم لوگ ایچ /9 سیکٹر میں قائم مسیحی کالونی میں رہتے ہیں۔ گزارا مشکل سے ہورہا ہے۔ یہاں سے جو کچرا ہم لوگ اکٹھا کرتے ہیں اس میں سے جو کباڑ میں بیچنے لائق ہوتا ہے وہ ہم بیچ دیتے ہیں۔ 2 سو یا 3سو روپے بن جاتے ہیں جس سے ہم بچوں کے لئے سبزی آٹا لے جاتے ہیں

سوال۔ آپ کے بچے پڑھ رہے ہیں؟

جواب۔ جی ہمارے بچے قریب میں سرکاری سکول ہے وہاں پڑھتے ہیں۔

سوال۔ کیا آپ جہاں رہتے ہیں وہاں گیس بجلی ہے؟

جواب ۔ جی نہیں۔ ہمارے محلے میں گیس اور بجلی دونوں ہی نہیں ہیں۔ کچھ گھروں نے سولر پینل لگائے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ لالٹین وغیرہ جلا کر گزارا کرتے ہیں۔

سوال۔ صحت وغیرہ کی سہولت ہے ؟

جواب۔ ہمارے محلے میں پرائیویٹ ڈاکٹر نے کلینک بنایا ہواہے وہ کسی سے ڈیڑھ سو کسی سے اڑھائی سو لے کر انہیں دوائی وغیرہ دے دیتا ہے اس کے علاوہ تو کوئی سہولت نہیں ہے۔

سوال۔ لیکن کیا آپ یا آپ کے بچے بیمار ہوں تو آپ لوگوں کو کوئی ہیلتھ الاؤنس ملتا ہے؟

جواب۔ نہیں کوئی ہیلتھ الاؤنس نہیں ہے۔ بس یہی تنخواہ ہے 15 ہزار۔ اس کے علاوہ کوئی آمدن نہیں ہوتی۔

سوال۔اگر کوئی ورکر کام کے دوران حادثے کا شکارہوجائے تو اس کے لئے کوئی مدد وغیرہ ملتی ہے؟

جواب۔ کچھ بھی نہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جنہیں حادثے پیش آئے۔ ٹھیکے دار کہتے ہیں کہ اس بندے کی جگہ کوئی بچہ یا اور کوئی رشتہ دار بھیج دو تو اس کی جگہ اسے کام پہ رکھ لیں گے یوں تمہارے بندے کی جگہ تمہارا ہی کوئی آدمی ملازمت پہ لگ جائے گا۔ تمہارے  بندے کا نا م نہیں کاٹیں گے۔ یا اگر کسی کو حادثہ پیش آجائے اور آدھا مہینہ گزر چکا ہوتو پوری تنخواہ مل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی سہولت  نہیں ملتی۔ بندوں کو سہولت کی فکر نہیں ہوتی کیونکہ وہ تو ملنی نہیں ہے ہم لوگوں کو تواس بات کی فکر ہوتی ہے کہ اگر کوئی حادثہ ہوگیا تو دیہاڑی سے نام کاٹ دیا جائے گا۔

سوال۔ آپ اپنے بچوں کے متعلق کیا خواہش رکھتے ہیں؟

جواب۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے پڑھ لکھ جائیں کوئی بہتر ملازمت کریں اور آئندہ نسل یہ کام نہ کرے۔ ہم تو یہ کام مجبوری سے کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں کوئی اور ہنر نہیں آتا اور ہماری تعلیم نہیں ہے۔

سوال۔ کوئی پیغام جو آپ دوسرے لوگوں کو دینا چاہیئں گے؟

جواب۔ میرا پیغام یہی ہے کہ ہمارا حال دیکھ لیں ہم لوگ صبح 6 بجے ڈیوٹی پہ آجاتے ہیں۔ سڑکوں پہ جھاڑو لگاتے ہیں۔ کچھ دھول منہ پہ لگ جاتی ہے کچھ ہمارے اندر چلی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے لئے کوئی سہولت نہیں ہے۔ کوئی ہمارے بارے میں نہیں سوچتا۔ کوئی ایسا سسٹم نہیں ہے جس کے تحت ہماری تنخواہ بڑھے۔ نہ ہمیں پکی ملازمت ملتی ہے۔ نہ سی ڈی اے ہمارے متعلق کوئی پالیسی بناتا ہے۔ ہم عمران خان سے درخواست کرتے ہیں کہ ہم غریبوں کے حق میں کوئی بھلا کردے۔ ہم لوگ جے سالک صاحب کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ہماری تنخواہوں میں اضافے کے لئے کوشش کی۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ واپس یہاں پاکستان میں آئیں۔ میاں نواز شریف کے دور میں یہ اعلان ہوا تھا کہ ہماری تنخواہیں 19 ہزار روپے ہو جائیں گی مگر پھر وہ چلے گئے اور ہماری تنخواہ یہی رہی۔ ہم کسی سے کوئی توقع بھی کیسے کریں کیونکہ کسی بھی حکومت نے ہم خاکروبوں کے لئے جو کچے ٹھیکیداری سسٹم میں ملازم ہیں کوئی بھی بہتری  کا اقدام نہیں کیا ۔

(خاکروب کا نام ان کی خواہش پر ظاہر نہیں کیا گیا)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...