بعض لوگ مطلق العنان حکمرانوں کو پسند کیوں کرتے ہیں؟

ڈیوڈ سمتھ

349

کیا وجہ ہے کہ کچھ قومیں آمر اور استبدادی رویوں کے حامل رہنماؤں کا پرتپاک استقبال کرتی ہیں؟ سینکڑوں سالوں سے فلسفی اور سیاسی امور کے ماہرین اس عقدے کی توجیہ میں خامہ فرسائی کرتے آرہے ہیں کہ ہم کن اسباب کی بنا پر برضا ورغبت اپنا استحصال کرانے پر آمادہ ہوتے ہیں۔

افلاطون پہلا فلسفی تھا جس نے مطلق العنانیت کے مسئلے پر آراء دیں۔ اس نے اپنی کتاب ’Republic‘ میں لکھا ہے کہ ”جمہوری ریاستوں کا مقدر ہے کہ ان کا انجام بالآخر مطلق العنانیت پر ہوتا ہے“۔ افلاطون جمہوریت کا مداح نہیں تھا۔ شاید اس لیے کہ ایتھنز کی جمہوریت نے اس کے محبوب استاد سقراط کو زہر کا جام پلاکر موت کے سپرد کردیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جمہوری نظم کی شکلیں ایک ایسا سماج تشکیل دیتی ہیں جو بے گانہ اور غیرمنضبط ہوتا ہے، ان میں لوگ چرب زبان اور کلام کے فن میں طاق سیاستدانوں کا آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں۔ (طلال اسد کی استبداد کے طبقاتی سیاسی اختصاص کے حوالے سے سیکولر نظم پر تنقید کا پیرایہ بھی اسی طرح کا ہے کہ اس نظم میں جاذب اصطلاحات سے عوام کو ورغلانا اور ریاستی مفاد کے زیراثر انہیں اپنے حقوق سے دستبردار کرنا آسان ہوتا ہے]مترجم[)۔ افلاطون نے دوسری کتاب ’Gorgias‘میں ان رہنماؤں کاوصف کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بجائے ترجیحاََ معاشرے کی بہبود کو یقینی بنانے کے اسے غیرواقعاتی وعدوں پر ٹرخاتے ہیں۔ وہ طنزیہ کہتا ہے کہ ”باورچی، طبیب کا ماسک پہنے ہوتا ہے“ اور یہ دکھاوا کرتا ہے کہ اسے علم ہے کہ انسانی جسم کے لیے بہترین غذا کونسی ہے۔ اگر بچوں یا بچگانہ ذہنیت والے افراد کے سامنے اچھے اور برے کھانے کے درمیان فرق جاننے کے لیے کھانا پکانے کی اہلیت کی بنیاد پر مقابلہ ہو تو بقیناََ طبیب کو بھوکا مرنا پڑے گا۔

اس موضوع پربیسویں صدی کی شروعات میں علم سوشیالوجی کی بنیاد رکھنے والی شخصیت میکس ویبر نے بھی کلام کیا ہے۔ انہوں نے ’کرشماتی اتھارٹی‘ جیسی اصطلاح وضع کی جس کا مطلب فرد کا ایسی صفت کا مالک ہونا ہے جس کی بنا پروہ عام لوگوں سے الگ محسوس ہوتا ہے، اس سے ایک مافوق الفطرت ذات کی طرح سلوک کیا جاتا ہے، وہ اپنے پیروکاروں میں مقدس الہامی استعارے سے کم حیثیت نہیں رکھتا، اس کے حمایت کار ومتبعین اس سے معجزے کے صدور کا گمان رکھتے ہیں کہ وہ چاہے تو ان کی زندگی بدل کر رکھدے۔ معقول لوگ ایسے خطرناک غیرواقعاتی نظریات کی نذر کیسے ہوجاتے ہیں؟ میکس ویبر کہتے ہیں کہ یہ جاننے کے لیے گہرے غوروخوض کی ضرورت ہے۔

جب ویبر کرشماتی اتھارٹی کے نظریے کی تشکیل وتنقیح کررہا تھا، اسی وقت ویانا میں سگمنڈ فرائد ایسی ہی چیزوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس کی کتاب Group Psychology and the Analysis of the Ego کا موضوع یہی قضیہ ہے۔ وہ اس میں پیروکاروں کی نفسیاتی حرکیات کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس میں دو امور مرکزی ہیں۔ایک تو یہ کہ مطلق العنان حکام کی طرف میلان رکھنے والے افراد اس کی شخصیت کی جانچ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، وہ اسے ہیرو کی طرح اور کسی بھی بڑی برائی سے پاک سمجھتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ پیروکار اس کو ego ideal (کسی کے بارے میں کاملیت کا ایسا تصور جیسا اس کا ضمیر پیش کرتا ہے) کے مقام پر متصور کرتے ہیں۔ اس طرح یہ رہنما اپنے پیروکاروں کے ضمیر کی آواز ہوتا ہے۔ اچھائی یا برائی اپنی ذات میں کوئی تعریف یا شناخت نہیں رکھتی، رہنما کی شخصیت سے طے ہوتاہے کہ کیا اچھائی ہے اور کیا برائی۔

مطلق العنان رہنما اور پیروکاروں کے مابین ’مشترک شناخت‘ کا وجود بھی ایک اہم کردار اداکرتا ہے۔ پیروکار باہمی طور پہ خود کو ایک تحریک کا حصہ گمان کرتے ہیں۔ رہنما اس کو ہائی لائٹ کیے رکھتا ہے۔ اجتماعیت اور تحریک کا نشہ ایک بڑے مقصد کی خاطر انفرادی مفادات اور غوروفکر کی صلاحیت کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

فرائڈ کے نظریے کو ہم نازی جرمنی میں الفونس ہیک کے واقعے سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ نوجوان ’ہٹلر یوتھ‘ کا ممبرتھا۔ کلاڈیا کونز اپنی تصنیف The Nazi Conscienc میں بتاتی ہیں کہ جب نازی جتھے ہیک کے گاؤں میں یہودیوں کی تلاش میں آنکلے اور انہوں نے وہاں اس نسل کے بعض افراد پکڑے تو ان میں ہیک کا دوست ہینز بھی شامل تھا۔ یہ منظر دیکھ کر ہیک نے یہ نہیں کہا کہ ’یہودیوں کو اس طرح گھسیٹ لے جانا کتنا نامناسب ہے‘۔ بلکہ اس نے کہا ’کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہینز یہودی ہے‘۔ ہیک نے بعد میں ذکرکیا کہ میں نے اُس فعل کو عین انصاف خیال کیا تھا۔

مطلق العنان رہنما اور پیروکاروں کے مابین ’مشترک شناخت‘ کا وجود بھی ایک اہم کردار اداکرتا ہے۔ پیروکار باہمی طور پہ خود کو ایک تحریک کا حصہ گمان کرتے ہیں۔ رہنما اس کو ہائی لائٹ کیے رکھتا ہے۔ اجتماعیت اور تحریک کا نشہ ایک بڑے مقصد کی خاطر انفرادی مفادات اور غوروفکر کی صلاحیت کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

مطلق العنان نظم اپنے اوپر مذہبی تقدس جیسا ہالہ چڑھائے رکھتا ہے۔The Dark Charisma of Adolf Hitler میں تاریخ دان لارنس رِیس لکھتے ہیں،ہٹلر کے گھر کی زیارت کے لیے دیوانہ وار لپکنے والے قافلے، اس کے دفتر کو بھیجی جانے والی ہزاروں چٹھیاں اور بچوں کو یہ سکھایا جانا کہ ہٹلر ایک مسیحا ہے،یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ اسے عام سیاسی شخصیت نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ سماوی نمائندہ خیال کیا جاتا تھا۔

فلسفی مونی کائرل 1932 میں اپنے دوست آرتھر ینکن جوایک سفارت کار تھا اوراسے نازیوں نے بعد میں قتل کردیا تھا، کی دعوت پر جرمنی میں نازی پارٹی کے جلسے میں گیا۔ وہاں گوئبلز اور ہٹلر دونوں کی تقریریں سنیں تو سکتے میں آگیا۔ اس نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ایسا منظرنامہ کیسے تشکیل پاتا ہے کہ جس میں ایک طرف جعل سازی ہو اور دوسری طرف انسانوں کے سمندر پر سحرطاری ہو۔اس کا جواب اس کے مضمون The Psychology of Propaganda میں سامنے آیا۔

مونی کائرل، برطانوی ماہرنفسیات ملانی کلائن سے متأثر تھے اور اسی کی فکر کے زیراثر اس مسئلے پر روشنی ڈالی۔ کلائن کے مطابق انسانوں کوہمیشہ ایک نوع کا خوف دامن گیر رہتا ہے جسے وہ نفسیاتی اضطراب (psychotic anxieties) کا نام دیتی ہے۔ انسان کا ہر اچھا یا برا فعل انہی اضطرابات کے زیراثر انجام پاتا اور اسی سے رویے کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس میں وسوسہ اور افسردگی کے داخلی احساسات نمایاں ہوتے ہیں۔ برائی کے ممکنہ طور پہ حاوی ہوجانے کا اندیشہ اور کسی اچھائی یا عزیزترین شے کے کھو جانے کی افسردگی۔

کائرل کہتے ہیں ہیں کہ سیاست میں پروپیگنڈے کی کامیابی کے ضروری ہے کہ عوام کے اندر ’بے بسی‘ کے نکتہ احساس پر پوری قوت سے انگوٹھا رکھیں، (زہر)۔ پھر ان کے سامنے ایک معجزاتی حل پیش کریں،(پیسٹری)۔ یعنی پہلے انہیں افسردگی کی کھائی میں دھکا دیں کہ ان سے کوئی بہت بڑی بھول ہوگئی یا کچھ قیمتی کھو گیا۔ اس کے بعد کے دس منٹ میں کسی ایک طبقے کو شر کا منبع اور ذمہ دار دکھائیں کہ سارے مسائل کی جڑ یہ طبقہ ہے۔ تیسرے مرحلے میں ایک جادوئی حل کا منصوبہ ان کے آگے سرکا دیں، جو ’بے بسی‘ کے زخم پر مرہم محسوس ہو۔

کائرل کا کہنا ہے، خودترحمی اور نفرت کا احساس جگانا کافی نہیں۔ پیروکاروں کو مدح و توصیف کے سنگھاسن پر بٹھائیں، اس سے وہ خبط عظمت وطاقت کے جنون میں مبتلا ہوجائیں گے۔ یہ ایک نیا نفسیاتی اضطراب ہے۔ اختلالِ عقل۔ ایک نئی’بے بسی‘۔ کرشماتی رہنما کے ہاتھ میں اب سب کچھ ہے۔ صحافی گوین گلفرڈ نے ذکر کیا کہ جب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی کوریج کررہی تھی، اس وقت کائرل کا لکھا ہر جملہ میرے ذہن میں بج رہا تھا۔

مطلق العنان رہنماؤں کے حوالے سے یہ نفسیاتی تشخیص مکمل درست ہے یانہیں، تاہم یہ ضروری ہے کہ ایسے تجزیے کیے جاتے رہیں اور نفسیاتی عقدوں کی کھوج لگائی جاتی رہے،تاکہ ہم استبدادی ذہنیت کے حامل افراد کا شکار ہونے سے محفوظ رہیں۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: ایون

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...